Thursday, 07 May 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Javed Ayaz Khan
  4. Aah, Mian Muhammad Nawaz Jhander

Aah, Mian Muhammad Nawaz Jhander

آہ، میاں محمد نواز جھنڈیر

رہنے کو سدا دہر میں آتا نہیں کوئی
تم جیسے گئے ایسے بھی جاتا نہیں کوئی

زندگی کے ہنگاموں میں کچھ انمول لوگ ایسے ہوتے ہیں جو محض اچھے انسان ہی نہیں رہتے، ایک ادارہ، ایک روشنی، ایک کردار بن جاتے ہیں۔ آج میں اپنے ایک ایسے ہی دیرینہ اور بھائیوں جیسے دوست کی یاد میں قلم اٹھا رہا ہوں، جن کے ساتھ بینک کی تیس سالہ رفاقت محض پیشہ ورانہ تعلق نہ تھی بلکہ ایک طویل روحانی و اخلاقی سفر بھی تھا۔ جی ہاں! حاجی میاں محمد نواز جھنڈیر مرحوم بھی ایسے ہی نایاب اور ہردلعزیز دوستوں میں سے ایک تھے جو اچانک اپنوں سے بچھڑ کر جدائی کا صدمہ دے گئے۔ ان کی ناگہانی اور اچانک موت کی المناک خبر پر اور پھر گذشتہ روز ان کے جنازئے اور رسم قل خوانی پر آنسو روکنا مشکل ہوگیا تھا۔ بےشک وہ دولت شہرت اور سجدوں کے درمیان ایک درویش صفت انسان تھے۔ جو دوستوں کے غموں پر افسردہ اور نم ناک اور خوشیوں میں بھی آگے آگے نظر آتے تھے۔ آج ان کی جدائی میں ہر آنکھ پر نم ہے اور ہر دل افسردہ ہے۔ دل کو یقین سا نہیں آتا کہ واقعی وہ اب ہم میں نہیں رہے؟

ہماری دوستی اور تعلق کی بنیاد بھی محض اتفاق نہ تھی بلکہ تین مضبوط ستونوں پر قائم تھی۔ پہلی وجہ تو ذاتی تعلق اور محبت تھی، جو وقت کے ساتھ ایک خالص اور بے لوث رفاقت میں ڈھل گیا۔ دوسری وجہ بینک کی ملازمت، جہاں ہم نہ صرف ساتھی تھے بلکہ ایک دوسرے کے سہارے بھی رہے اور ان کی بےپناہ مہمانوازی کے گرویدہ رہے اور تیسری، سب سے خوبصورت وجہ، عشقِ رسول ﷺ، نعت خوانی سننے اور محافلِ نعت منعقد کروانے کا مشترکہ شوق، جس نے ہماری دوستی کو ایک روحانی رنگ دے دیا تھا۔ ہر محفل نعت میں شرکت کے لیے ساتھ لے جانا اور راتوں کا لمبا سفر کرنا کب بھول سکتا ہوں۔

اسی عشق کا ایک لازوال لمحہ وہ تھا جب ایک عمرہ کے دوران ہمیں روضۂ رسول ﷺ پر مشترکہ حاضری اور سلام پیش کرنے کی سعادت نصیب ہوئی۔ وہ لمحہ محض ایک عبادت نہ تھا بلکہ روح کی گہرائیوں میں اتر جانے والا ایک ایسا تجربہ تھا جس نے ہماری دوستی کو ہمیشہ کے لیے ایک مقدس رشتے میں بدل دیا۔ وہاں کھڑے ہو کر ان کی آنکھوں سے بہنے والے آنسو، لبوں پر درود اور دل میں موجزن عقیدت، یہ سب آج بھی میری یادوں میں تازہ ہیں۔ بظاہر وہ کام تو بینک میں کرتے تھے مگر ان کا دل حرم پاک میں ہی اٹکا رہتا تھا۔

وہ بظاہر ایک کامیاب بینکار اور بڑے زمیندار تھے، کامیابی، دولت، عزت اور شہرت ہمیشہ ان کے قدم چومتی تھی، مگر ان کی اصل پہچان ان کا عاجزانہ اور محبت بھر ا مزاج تھا۔ اس دور میں جب معمولی کامیابی بھی انسان کو غرور کی دہلیز پر لا کھڑا کرتی ہے، وہ تمام تر دنیاوی کامیابیوں کے باوجود وہ وضع داری، عاجزی، انکساری، غریب پروری اور محبت کی ایک زندہ مثال تھے۔ وہ ہر نیکی اور بھلائی کے کام میں آگے آگے رہتے اور ہر مشکل معاملے میں نہایت دانشمندانہ انداز میں مددگار ثابت ہوتے۔ لوگوں کے مسائل کو وہ اپنا مسئلہ سمجھتے اور ان کے حل میں ایسا خلوص دکھاتے کہ سامنے والا خود کو تنہا محسوس نہ کرتا۔ ان کی ایک دلآویز مسکراہٹ دوستوں کے سارے دکھ بھلا دیتی تھی۔ ان کے دو میٹھے بول لوگوں کے حوصلے بڑھاتے اور ان کے سارے غم بھلا دیتے تھے۔ ان کی بے پناہ مہمان نوازی ہمیشہ ان کی خاندانی روایت کی عکاسی کرتی تھی۔

مجھے آج بھی خوب یاد ہے، بینک ملازمت کے مصروف ترین دنوں میں بھی ان کی پیشانی پر کبھی شکن تک نہ آتی۔ وہ ہر مسئلے کو تحمل سے سنتے اور مسکرا کر حل پیش کرتے۔ ان کے نزدیک کام صرف روزگار یا شوق نہ تھا، عبادت تھا۔

مگر ان کی زندگی کا اصل مرکز دنیا نہیں، دین تھا۔ نماز اور مسجد سے ان کا تعلق ایسا تھا جیسے مچھلی کا پانی سے اور جب بھی موقع ملتا، ان کے قدم مکہ و مدینہ کی طرف اٹھ جاتے۔ نعت کی محفلوں میں ان کی آنکھوں کی نمی اور آواز کی عقیدت دلوں کو چھو لیتی تھی۔

ان کی اچانک وفات کی خبر ایسے تھی جیسے کسی نے دل کے اندر خاموشی سے ایک چراغ بجھا دیا ہو۔ آج رفاقت، محبت، عبادت اورعاجزی کا ایک مکمل باب بند ہوگیا ہو۔ شاید کچھ لوگ دنیا سے صرف جاتے ہی نہیں بلکہ اپنے ساتھ بہت کچھ لے جاتے ہیں، اپنی خوبصورت مسکراہٹ، اپنی لازوال نیکی، اپنی خوشبو اور اپنے ہونے کا سکون اور شاید احسا س بھی۔۔ ان کے جانے کے بعد یہ احساس ہوا ہے کہ اصل دولت بینک بیلنس، زمین جائداد، عہدہ نہیں، بلکہ وہ حساس دل ہوتے ہیں جو آپ کے لیے دھڑکتے ہیں۔ اصل شہرت وہ نہیں جو اخباروں میں چھپے، بلکہ وہ ہے جو لوگوں کی دعاؤں میں زندہ رہے۔۔ ایک درویش مزاج بینکار ایک نرم گو زمیندار اور ایک پر خلوص دوست جو ہماری یادوں میں ہمیشہ زندہ رہے گا۔

خاموشی سے بچھڑنے والے ہم سفر، نیکیوں کے مسافر، یادوں کے امین، عشق رسول میں ڈوبا ہوا انسان، بلند کردار، محبتیں اور روشنی بانٹنے والا چراغ، وہ کہ جسکی زندگی خود ایک دعا تھی آج جب میں ان کے لیے دعا کے لیے ہاتھ اٹھاتا ہوں تو دل گواہی دیتا ہے کہ انہوں نے اپنی زندگی کا حق ادا کردیا۔ وہ اس دنیا سے گئے تو ضرور ہیں مگر اپنی خوشبو چھوڑ گئے ہیں۔ ایسی خوشبو جو ہمیشہ زندہ رہتی ہیں۔ وہ میرے لیے صرف ایک بھائیوں جیسے دوست ہی نہیں تھے، ایک سبق تھے، یہ خوبصورت سبق کہ انسان کتنا بھی بڑا کیوں نہ ہو جائے، اگر اس کے اندر عاجزی باقی ہے اور دل میں عشق رسول موجزان ہے تو وہی اس کی اصل عظمت ہے۔ میری دلی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے، ان کی مغفرت کرے اور ان کی اولاد کو اور ہمیں ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق دے اور اس عظیم صدمے کو برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی
اک شخص سارئے شہر کو ویران کرگیا

Check Also

Sach Ka Tanha Musafir Aur Jhoot Ki Patriyon Par Dagmagati Pakistan Railway

By Muhammad Anwar Bhatti