To Aap Zinda Hain
تو آپ زندہ ہیں

اگرآپ کو برطانوی راج دَور کے دُور افتادہ جنگلوں، جھاڑ جھنکاڑ سے اَٹے ویرانوں میں قائم قدیم ڈاک بنگلوں، ریسٹ ہاؤسوں اور کینال کالونیوں میں لبالب نہروں کے قرب میں واقع کوٹھیوں سے لگاؤ ہے، ایسی نہریں جن کے کناروں پر نیم، پیپل برگد اور جامن کے درخت ایستادہ ہوں، اُن کی ٹہنیاں سکون سے بہتے پانی میں جھکی ہیں، خود رولمبی گھاس ان پانیوں سے سیراب ہوتی ہواورجنگلی جھاڑیوں میں نیولے، سیسہ، چوہے، خرگوش اور لومڑ پِھرتے ہوں، ان چھتناور درختوں کی شاخوں میں گلہریاں اُچھلتی کودتی ہوں، ہُدہُد، فاختائیں، توتے، مینائیں، چڑیاں، اُلّو اور چمگادڑیں بسیرا کرتی ہوں، اونچی شاخوں پر چیلیں دم سادھے بیٹھی رہتی ہوں اور کوئل کی کُوک میں چلتی چکی کی ہُوک گھلتی ملتی ہو اور آپ کی روح کو ایسا ماحول شانت کرتا ہو تو آپ زندہ ہیں۔
اگر آپ کو لمبے چوڑے برآمدوں، اونچے، ڈوری سے کھلنے والے روشن دانوں، چونے بُھوسے اور اینٹ کی موٹی دیواروں، لمبے ڈنڈوں سے لٹکتے پنکھوں، بلند شہتیروں پر قائم چھتوں والے بنگلوں اور آتش دانوں پر بنے کارنس پر دھری گرد آلود مِٹی مِٹی پرانی بلیک اینڈ وائٹ تصویروں، بڑے باغوں میں کُھرپا قینچی تھامے کام کرتے بوڑھے مالیوں اور کمر پر چمڑے کی مشک رکھے گملوں اور پھولوں کی کیاریوں کو پانی دیتے ماشکی، اَن جانی منزلوں کو جاتے راستوں پر چلتی بیل گاڑیوں کی گھنٹیوں کی جل ترنگ، آہستہ رو اونٹ گاڑیوں پر دھری تُوڑی کا نظارہ، کبوتروں کی غڑغوں کا وِرد، جھینگروں کاشور، پرانے کائی زدہ تالابوں کے سبز پانیوں میں ڈُبکی لگاتے بڑے جنگلی مینڈکوں کی غڑپ، مٹی کی کنالیوں میں رکھے پانی سے سیر ہوتی اپنی چونچیں بھگوتی پرپھڑپھڑا کر پُھرر اُڑ جاتی چڑیوں اور فاختاؤں کی من موہنی اُڑان اچھی لگتی ہے تو آپ زندہ ہیں۔
اگر آپ کو پرانی انڈین آرٹ فلمیں پسند ہیں، ان میں کھنڈر ہوتے قلعوں محلوں کی حدود میں قائم کوٹھڑیوں کے مکین، شکستہ عبادت گاہوں کے پرانے تالاب، ننگے پیروں اور واجبی شکلوں والے لوگ دیکھے بھالے، اپنے اپنے لگتے ہیں، بانسری کی سُریلی دُھن، کنوؤں کے گرد بیلوں سے چلتے رہٹ کی آواز اور پن چکی کی کُوک وجود کو سرور وسکون عطا کرتی ہے توآپ آج زندہ ہیں اور شاید پہلے بھی تھے۔
اور اگر آپ کو ہر دوسرے شخص پر غصہ آتا ہے، ان دیکھے مستقبل کا تصور ہمہ وقت بے چین رکھتا ہے، دنیا کو اپنی آرزوؤں اور خواہشات کے مطابق ڈھلتا ہوا نہ دیکھ کر اضطراب اپنے بازوؤں میں جکڑے رکھتا ہے، اپنا عقیدہ، اپنے نظریات، اپنا راہ نُما برتر نظر آتا ہے، دیگر لوگ ہیچ، کم تر، سراسرناقابلِ رحم نظر آتے ہیں اور اگر آپ سارا دن ڈیزل پیٹرول کا دھواں پیتے ہیں اور رات کو لوہے، سیمنٹ اور اینٹوں کے قید خانے میں ارادتاً قید ہونے آجاتے ہیں، ایک ایسا قید خانہ جس کی کنڈی کوئی دربان باہر سے نہیں لگاتا، آپ خود اندر سے لگاتے ہیں اور آپ خوش ہیں تو آپ زندہ توہیں، مگر آپ کے اندرکچھ مرچکا ہے، بہت کچھ!

