Friday, 10 April 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Irfan Javed
  4. Kya Aap Jante Hain?

Kya Aap Jante Hain?

کیا آپ جانتے ہیں؟

جب صدام حسین کی لاش اُن کی پھانسی کے بعد عوام کو دکھائی گئی تو چند لوگ آئے اور اُن کے جسم پر تھوکا، یہ سب عراقی شہری تھے، جب کہ اُن کی حفاظت پر مامور بارہ امریکی فوجیوں میں سے بیشتر کی آنکھیں نم تھیں۔

لیبیا کے قذافی (جن کو یاد کرکے اب لیبیا کے لوگ اشک بار ہو جاتے ہیں)کو ان کے ہم وطنوں ہی نے، جن میں ان کے سابق رفقا بھی شامل تھے، ذلیل کرکے مار دیا تھا۔

اندرا گاندھی کا انجام اس سے بھی زیادہ المناک تھا۔ وہ دشمن کی گولی سے نہیں، بلکہ اپنے ہی محافظ کی گولی سے ماری گئیں۔

شیخ مجیب الرحمن کے والد، شیخ لطف الرحمٰن کی میت قبر میں اتارنے والا شخص، وہی آدمی جو اُن کی والدہ کے انتقال پر زمین پر بیٹھ کر رویا تھا، وہی جو شادی میں وکیل بنا، وہی جس نے 14 اگست 1975 کی دوپہر اپنے گھر سے سالن پکا کر بنگابندھو کو کھلایا اور وہی شخص جس نے 15 اگست کو اُنہیں اُن کے اپنے گھر میں قتل کیا، ایک ہی شخص تھا، اُس کا نام خندکر مشتاق احمد تھا۔

بھُٹو کو جب پھانسی ہوئی تو اُن کے قریبی ترین ساتھی شادیاں کر رہے تھے، رنگ رلیاں منا رہے تھے، ایوب خان کے خلاف ان ہی بُھٹو نے تحریک چلائی جو اُنہیں "ڈیڈی" کہتے تھے، ایوب خان اسی آدمی کو ہٹا کر سامنے آئے جس نے انہیں عہدہ دیا تھا، نواز شریف کے خلاف فوجی انقلاب تب ہی آیا جب ان کے قریبی رفیق، ان کے تقریر نویس صحافی نے مشرف کی برطرفی کی خبر مقتدرہ کو لِیک کر دی تھی، ماضی قریب کے ایک سب سے بڑے صوبے کے سابق وزیراعلیٰ اپنے اس راہ نما کے خلاف گواہی دینے سب سے پہلے حکام تک خود پہنچے جس راہ نما نے اپنی سیاسی ساکھ داؤ پر لگا کر ان کا دفاع کیا تھا۔

تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ سلطنتیں اکثر اپنے قریب ترین لوگوں کے ہاتھوں زوال کا شکار ہوئیں۔

جب شاہ فیصل بن عبدالعزیز نے اپنے بھتیجے کو گلے لگانے کے لیے بازو پھیلائے تو اُس نے اچانک جیب سے پستول نکالی اور یکے بعد دیگرے تین گولیاں چلا دیں۔

تفتیش کرنے والے ماہرین ملزم کو پہچاننے کے لیے کئی طریقے اختیار کرتے ہیں، جن میں سے ایک یہ ہے کہ ہر شخص کو شک کی نگاہ سے دیکھا جائے۔

سب سے زیادہ مشکوک وہی شخص ہوتا ہے جو سب سے کم مشکوک دکھائی دے۔

بہت سے (نامعلوم) قاتل اپنے مقتولین کے جنازوں میں گریہ کرتے بھی شامل ہوتے ہیں۔

تاریخ بار بار یہی سبق دیتی ہے کہ انسان کی زندگی کا سب سے بڑا دشمن اکثر پہچانا نہیں جاتا، وہ قریبی دوست بن کر سامنے آتا ہے۔

آپ کی اپنی زندگی میں بھی یہی ہوتا ہے۔ آپ کو سب سے زیادہ دھوکا اُن لوگوں سے ملتا ہے جو آپ کے سب سے قریب ہوتے ہیں۔ اگر آپ اُن لوگوں کی فہرست بنائیں جنہوں نے آپ کو سب سے زیادہ دکھ پہنچایا ہے، تو اُس میں مخالفین کے نام نہیں بلکہ اپنے لوگوں کے نام ہوں گے۔

دشمن غدار نہیں ہوتے، غداری ہمیشہ اپنے ہی کرتے ہیں اور یہی افسوس ناک حقیقت ہے۔

Check Also

Sanu Nehr Walay Pul Te Bula Ke

By Arif Anis Malik