Dosti, Harvard Review, Hammad Hussain Aur Shakeel Adilzada
دوستی، ہارورڈ ریویو، حماد حسین اور شکیل عادل زادہ

جدید زندگی میں ایک رشتہ سب سے زیادہ خاموشی سے کم زور ہو رہا ہے، دوستی۔ یہ وہ تعلق ہے جسے خون کی نسبت چاہیے اور نہ ہی یہ کسی کاغذی معاہدے کا محتاج ہے۔
میری زندگی کے تجربے اور مشاہدے کا نچوڑ ہے کہ بچپن اور دورِ طالب علمی کی دوستی سب سے زیادہ بے تکلفانہ اور پائیدار ہوتی ہے، شفاف اور سچے جذبات کے باوجود عورت مرد کے بیچ دوستی کم کم پائیدار (اور رومان کے امکانات سے بے نیاز) ہوتی ہے، عموماً مرد آپس میں، عورتوں کی بہ نسبت زیادہ طویل اور مضبوط دوستی برقرار رکھ پاتے ہیں، سب سے زیادہ مضبوط دوستی ان لوگوں میں ہوتی ہے جنہوں نے مشکل وقت اکٹھے دیکھا ہوتا ہے بھلے وہ میدانِ جنگ ہو یا زندگی کی آزمایش (مجھے جھمپا لہری کی ایک کہانی یاد آگئی جس میں ایک ایسے میاں بیوی کو، جن میں طویل سرد مہری در آتی ہے، ان کے بچے کی موت قریب کر دیتی ہے کہ ان کا دُکھ سانجھا ہوتا ہے)، ایک جگہ کام کرنے والوں کی دوستی عموماً مجبوری کا تعلق ہوتا ہے، ملازمت چھوڑنے والے کم ہی لوگ بعد میں بھی دوستی کا ویسا تعلق برقرار رکھ پاتے ہیں، اہم تر بات تو یہ ہے کہ مئے نوش، عاصی اور امورِ دیگر کے ساتھی بھی آپس میں گہرے دوست ثابت ہوتے ہیں۔
ہارورڈ بزنس ریویو میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق 1990ء کے بعد امریکا میں اُن لوگوں کی تعداد چار گنا بڑھ گئی ہے جو کہتے ہیں"میرا کوئی قریبی دوست نہیں"۔ یہ شرح 3 سے بڑھ کر 12 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ اسی عرصے میں وہ لوگ جن کے دس یا اس سے زیادہ بے تکلف دوست تھے، ایک تہائی کم ہو گئے ہیں۔
سوشل میڈیا اور جدید مواصلات کے باعث جان پہچان کے دائرے وسیع ہوئے ہیں، مگر دلوں کی قربت گھٹ گئی ہے۔
یہ صورتِ حال صرف مغرب تک محدود نہیں۔ ترقی پذیر ایشیائی ممالک کے شہری علاقوں میں بھی یہی رجحان دیکھا جا رہا ہے۔ تقریبات میں اور سوشل میڈیا پر رابطے بڑھ رہے ہیں، مگر سچی رفاقت کم ہوتی جا رہی ہے۔
پہلے لوگ بارز، پبز، کیفے اور محفلوں میں اجنبیوں سے بھی بات کر لیتے تھے، اب لیے دیے رہتے ہیں۔
امریکا میں گزشتہ دو برسوں میں اکیلے کھانا کھانے والوں کی تعداد میں 29 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
یہ آنے والے وقت کی ایک اہم علامت، بلکہ وارننگ ہے۔ یہ معاملہ امریکہ تک محدود نہ رہے گا، آہستہ آہستہ سب جگہ سرایت کر جائے گا۔
اسی پس منظر میں اسٹینفورڈ یونیورسٹی نے "دوستی" پر باقاعدہ کورس متعارف کروایا ہے۔
جو رشتہ کبھی فطری تھا، اب درس و تدریس کے ذریعے باقاعدہ پڑھایا جا رہا ہے۔
تحقیقی مطالعات بتاتے ہیں کہ مستقل تنہائی دل کی بیماری، ڈیمنشیا اور قبل از وقت موت کے خطرے کو بڑھاتی ہے۔
اس کے اثرات روزانہ پندرہ سگریٹ پینے کے برابر قرار دیے گئے ہیں۔
سب سے معتبر حوالہ ہارورڈ کی 80 سالہ تحقیق (Harvard Study of Adult Development) ہے۔ اس طویل مطالعے کا خلاصہ نہایت سادہ ہے"خوشی اور طویل صحت مند زندگی کی اصل بنیاد مضبوط اور بااعتماد تعلقات ہیں"۔
میرے بچپن کے دوستوں میں ایک ذہین ترین دوست حماد حسین ہیں، وہ گزشتہ پچیس برس سے امریکہ میں مقیم ہیں، سیلف میڈ ہیں، ہارورڈ کی ہم سر کولمبیا یونی ورسٹی سے امتیازی اسناد کے ساتھ جنرل الیکٹریک جیسے بین الاقومی سطح کے ادارے کے منتظمِ اعلیٰ رہے ہیں، ایک بڑی فیکٹری کے مالک ہیں جہاں سیکڑوں امریکی کام کرتے ہیں، ان کی سب سے بڑی خوبی جدید و کلاسیکی اردو ادب سے لگاؤ ہے، ہر برس درجنوں آپ بیتیاں اور ناول اپنے ساتھ امریکہ لے جاتے ہیں اور ہفتوں میں حفظ کر لیتے ہیں۔ بہر حال اصل موضوع کی جانب آتے ہوئے، میں پُرذہانت اور متوازن مشورے کے لیے سب سے پہلے ان کی جانب دیکھتا ہوں اور کبھی مایوس نہیں ہوا۔
ان سے گزشتہ دنوں دوستی کے موضوع پر بات ہو رہی تھی۔ کہنے لگے "میرے ایک ماموں ہیں، کینیڈا میں رہتے ہیں، بہت کامیاب زندگی گزاری ہے اور خوش حال ہیں، کینیڈا میں ان کا بڑا بنگلہ ہے اور ہر آسائش میسر ہے، لیکن اُداس اور بُجھے بُجھے رہتے ہیں۔ گزشتہ دنوں ماموں کے بچپن کے لنگوٹیے دوست فیصل آباد سے آئے ہوئے تھے، ماموں کا بچپن بھی فیصل آباد میں گزرا ہے۔ ممانی بتا رہی تھیں کہ دوست کو دیکھ کر ماموں یوں کِھل اُٹھے تھے جیسے دوبارہ جوان ہو گئے ہوں۔ ان میں انرجی اور زندگی عود کر آئی تھی۔ انہوں نے اعصاب کو سکون دینے والی کوئی دوا کھائی اور نہ ہی نیند کی گولی۔ دونوں دوست رات بھر جاگتے رہے اور گھر میں قہقہے گونجتے رہے"۔ حماد نے توقف کرکے کہا "سچی گہری دوستی کسی بھی نشہ آور شئے سے زیادہ سرور دیتی ہے اور کسی بھی مشغلے سے زیادہ سکون اور کیتھارسس"۔
اگر ذرا اور پیچھے چلے جائیں تو دوستیاں ایسی ہوتی تھیں کہ سِکھ دوست اُدھر بھارتی پنجاب میں بیٹھا، بٹوارے کے بعد اِدھر آجانے والے مسلمان پاکستانی دوست کو عُمر بھریاد کرتا مر جاتا تھا۔
شکیل عادل زادہ سُناتے ہیں کہ تقسیم سے پہلے، متحدہ ہندوستان میں اُن کے والد، کوکب مراد آبادی اور رئیس امروہوی، دوستوں کی ایک مثلث تھی۔ اُن کے والد نے کوکب صاحب کے ساتھ مل کر رسالہ "مسافر" نکالا تھا اور رئیس صاحب کو باقاعدہ صحافت کی جانب لے کر آئے تھے۔ کوکب صاحب اور شکیل صاحب کے والد بہت گہرے دوست تھے، گویا یک جان دو قالب۔ ابھی شکیل چھوٹے بچے تھے کہ ان کے والد اچانک فوت ہو گئے۔ اس شدید، یک دم سانحے کا کوکب صاحب پر ایسا اثر ہوا کہ وہ حواس کھو بیٹھے تھے۔
ایسی ہوتی تھیں تب کی دوستیاں اور اُس دور کے دوست۔ آج ایسے نہیں کہ ادھر خلافِ مزاج بات ہوئی، اُدھر بلاک!

