Dilchasp Haqaiq
دل چسپ حقائق

مردوں اور عورتوں کی قمیصوں کے بٹن مختلف سمتوں میں ہوتے ہیں۔ مردوں کی قمیص میں بٹن دائیں جانب اور عورتوں کی قمیص میں بائیں جانب ہوتے ہیں۔ سترہویں صدی میں بٹن امارت کی علامت تھے۔ مرد عموماً خود لباس پہنتے تھے جبکہ عورتوں کو خادمائیں تیار کرتی تھیں۔ چونکہ زیادہ تر خادمائیں دائیں ہاتھ سے کام کرتی تھیں، اس لیے عورتوں کی قمیص میں بٹن بائیں طرف رکھے جاتے تھے تاکہ پہناتے وقت آسانی ہو۔ مردوں کے لیے دائیں طرف بٹن رکھنا اس لیے بھی مناسب سمجھا جاتا تھا کہ تلوار نکالتے وقت قمیص میں ہاتھ نہ الجھیں۔
شاپنگ مالز میں خوشبوئیں عموماً داخلی دروازے پر رکھی جاتی ہیں۔ پرانے وقتوں میں سڑکوں پر گھوڑے چلتے تھے اور ان کے فضلے کی بدبو عام تھی۔ تب ہی سے دکانوں کے دروازوں پر خوشبو رکھنے کا مقصد یہ تھا کہ اندر داخل ہوتے ہی ماحول خوشگوار محسوس ہو۔
ایک شہد کی مکھی کو ایک پاؤنڈ شہد بنانے کے لیے تقریباً بیس لاکھ پھولوں سے رس لینا پڑتا ہے۔ شہد طویل عرصے تک خراب نہیں ہوتا۔ مصر کے اہرام میں ملا ہوا قدیم شہد بھی قابلِ استعمال پایا گیا۔ (اگر آپ کے گھر میں رکھا شہد خراب ہو جائے تو سمجھ لیجیے کہ وہ خالص نہیں)۔
1853 میں ایک گاہک نے شکایت کی کہ اس کے فرینچ فرائز موٹے ہیں۔ شیف جارج کرم نے انہیں بہت باریک کاٹ کر تلا اور یوں آلو کے چپس وجود میں آئے، جو خشک حالت میں پیکٹوں میں ملتے ہیں۔ (ہمارے پاکستان میں چپس کے ایک بڑے پیکٹ میں چپس کم ہوتے ہیں، ہوا زیادہ)۔
ایک ایئرلائن نے ہر سلاد میں سے ایک زیتون کم کرکے سالانہ چالیس ہزار ڈالر بچائے۔ جہاز کا بلیک باکس سیاہ نہیں بلکہ نارنجی رنگ کا ہوتا ہے تاکہ حادثے کے بعد آسانی سے دیکھا جا سکے۔ پائلٹ اور معاون پائلٹ کو الگ الگ کھانا دیا جاتا ہے تاکہ اگر ایک کھانا خراب ہو جائے تو دوسرا محفوظ رہے۔
کچے ناریل کا پانی ہنگامی صورت میں خون کے پلازما کے متبادل کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔
گھڑ سوار مجسموں کے بارے میں روایت ہے کہ اگر گھوڑے کی دونوں اگلی ٹانگیں فضا میں ہوں تو سوار جنگ میں مارا گیا، اگر ایک ٹانگ بلند ہو تو وہ زخموں سے مرا اور اگر چاروں زمین پر ہوں تو اس کی موت طبعی تھی۔
ایران کے قالین ساز جان بوجھ کر اپنے قالین میں ایک معمولی خامی چھوڑتے ہیں کیونکہ ان کے عقیدے کے مطابق کامل صرف اللہ ہے۔
ملاحوں کی گھنٹی نما پائنچوں والی پتلون اس لیے بنائی گئی تھی کہ اسے گھٹنوں تک موڑا جا سکے اور ہنگامی صورت میں ہوا بھر کر عارضی لائف پریزرور کے طور پر استعمال کیا جا سکے۔
ہندوستانی ریلوے کے قیام کے بعد کئی دہائیوں تک ٹرینوں میں بیت الخلا موجود نہیں تھے۔ 1909 میں اوکھل چندر سین کے خط کے بعد ٹرینوں میں بیت الخلا نصب کیے گئے۔

