Chand Yaadein, Chand Sabaq
چند یادیں، چند سبق

کلفٹن کراچی کے الائیڈ بینک میں ایک نفیس مزاج، سلجھے اطوار اور خوب صورت شخصیت کے مالک بینک منیجر ہوتے تھے۔ پاکیزگی چہرے کا ہالا کیے رہتی تھی۔ گوراچِٹا چہرہ تھا، کلین شیو تھے اور مسکراتے رہتے تھے۔ اُن کے ماتھے پر محراب کا نشان تھا اور کام سے فراغت کے اوقات میں منہ ہی منہ میں غالباً مقدس کلام کا وِرد جاری رکھتے۔ چند لوگ ہوتے ہیں، بہت کم، جن کے قرب میں آدمی کو سکون اور ٹھیراؤ کا احساس ہوتا ہے۔ وہ بینک منیجر بھی ایسے ہی ایک انسان تھے۔
ایک مرتبہ میں کسی کام سے اُن کے پاس بیٹھا تھا۔ میرا کام متعلقہ سیکشن میں ہو رہا تھا سُو میں نے اپنی ایک ذاتی پریشانی کا اُن سے تذکرہ کیا۔ میری بات سن کر انھوں نے دریافت کیا۔ "عرفان صاحب، آپ ایک معمولی سی بات پر اتنا پریشان ہیں۔ کیا آپ کی اولاد ہے؟"
میں نے اثبات میں سر ہلایا تو انھوں نے پوچھا۔
"وہ صحت مند ہے؟"
میں نے ہاں میں جواب دیا تو انھوں نے چند سوال کیے اور مسکرا کر کہنے لگے۔
"آپ کو صحت کا کوئی سنجیدہ مسئلہ لاحق نہیں، کسی فوری معاشی آزمائش کا سامنا نہیں، یہ فکر نہیں کہ آج رات کس چھت کے نیچے گزرے گی، قریبی اعزا ٹھیک ہیں، تو آپ کا مسئلہ تو کچھ بھی نہیں۔ زندگی کی پوری تصویر دیکھیں، ایک حصے کو دیکھ کر فیصلہ نہ کریں۔ یہ زندگی ترازو کی طرح بیلنس میں گزرتی ہے۔ اگر کسی کو ایک جانب زیادہ دیا ہے تو یقین رکھیں کسی دوسری جانب ضرور کم دیا ہوگا۔ میں نے ارب پتی کلائنٹس کو دیکھا ہے، عام لوگ اُن جیسی زندگی کی خواہش کرتے ہیں۔ دس دس ملازم ساتھ ہوتے ہیں، مہنگی ترین گاڑیوں میں سفر کرتے ہیں، دنیا بھر کی سیر کرتے ہیں مگر جب آپ کو اُن کی نجی زندگیوں میں جھانکنے کا موقع ملے تو آپ حیران پریشان رہ جائیں گے۔ اُن کے گھروں میں ایسے ایسے دکھ ہیں جو ناقابلِ بیان ہے۔ میں نے اپنی گناہ گار آنکھوں سے اُن میں سے ایک آدمی کے بیٹے کو باپ کا گریبان پکڑتے دیکھا ہے، ایک اور آدمی کی اکلوتی بیٹی ہے جس سے وہ بے تحاشا محبت کرتا ہے، بیٹی کو دومرتبہ طلاق ہو چکی ہے، ایک اور آدمی کے دونوں بچے ذہنی طور پر صحت مند نہیں، دو آدمی تو ایسے ہیں جن کی اپنی بیویوں سے ایسی ناچاقی ہے کہ برسوں سے آپس میں بات نہیں ہوئی اورایک بڑے ہوٹل کا مالک تو ایسا ہے کہ ٹھوس غذا نہیں کھا سکتا، مائع پر زندہ ہے"۔
وہ ادراک حقیقت کا ایسا لمحہ تھا کہ اُن بینک منیجر کی بات میرے دل پر ایسا اثر کر گئی اور آنکھیں کھل گئیں کہ کئی برس گزرنے کے بعد بھی وہ مکالمہ خوب یاد ہے۔
پندرہ بیس برس پہلے معاش کے سلسلے میں مَیں ایک صنعتی شہر میں مقیم تھا۔ میری رہائش گاہ کے برابر میں اپنے وقت کے ایک معروف سیاست دان کا بنگلا تھا۔ اُس کے گھر کے باہر ہر وقت گاڑیوں کی قطار لگی رہتی تھی۔ صنعت کار، وزرا، مذہبی اسکالر، غرض یہ کہ معروف و معزز شخصیات کا اُس بنگلے میں آنا جانا لگا رہتا تھا۔ کئی مرتبہ رات گئے اُس گھر میں سے رونے کی آوازیں آیا کرتی تھیں۔ خاصا دل گرفتہ کرنے والا معاملہ لگتا تھا۔ جس رات، بالخصوص سردیوں کی خاموش راتوں میں جب آواز زیادہ گونجتی ہے، اُس گھر سے رونے واویلا کرنے کی آوازیں سننے کے بعد رات کے کئی پہرنیند نہیں آتی تھی۔
اُس بنگلے میں کام کرنے والی مہتراتی میرے گھر بھی صفائی کرنے آتی تھی۔ بالآخر اُس سے صورتِ حال معلوم ہوئی تو دل تھم ساگیا۔
اُس سیاست دان کا سب سے چھوٹا بیٹا باپ کا سب سے زیادہ لاڈلا تھا۔ باپ اُس کی کوئی خواہش رَد نہیں کرتا تھا۔ وہ شہر کے سب سے مہنگے اسکول میں پڑھتا تھا جہاں اشرافیہ کی اولادیں زیرِ تعلیم تھیں۔ ایک مرتبہ اُس بچے کا اسکول ٹووُر چند ہفتے کے لیے سیّاحتی مقامات کی سیر پر گیا۔ وہاں اُس بچّے کو کسی نے ہیروئن کی لَت لگا دی۔
جب ماں باپ کو معلوم ہوا تو پانی سر سے اوپر نکل چکا تھا۔ باپ نے بچے کو اسکول سے اٹھا لیا اور اُس کا علاج کروا رہا تھا اور بدنامی کے خوف سے کسی سے تذکرہ نہیں کرتا تھا۔
اب یہ عالم تھا کہ لَت چھرائے نہ چھوٹتی تھی۔ نتیجتاً باپ بیٹے کو عقبی کمرے میں باندھ دیتا تھا، جب بیٹے کی طلب بڑھتی تھی تو وہ چیختا تھا، جب بچہ چیختا تھا تو باپ اُسے مارتا تھا۔ جب باپ اُسے مارتا تھا تو بچہ اور اُس کی ماں دونوں روتے تھے۔ جب دونوں روتے تھے تو انھیں دیکھ کر سیاست دان باپ بھی روتا تھا۔ سواُن کے رونے کی آوازیں اُن کے بنگلے سے ملحقہ میری خواب گاہ تک آتی تھیں۔
مجھے اس واقعے نے برسوں سوگ وار رکھا، آج یہ واقعہ رقم کرتے وقت بھی میں دکھ کی ایک مہین چادر اوڑھے ہوئے ہوں۔
ہر خوش حال گھرانے میں ایسے مسائل نہیں ہوتے، البتہ ان کا تذکرہ ظاہراً اورحقیقی کا موازنہ کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔
دوسری جانب، ایک واقعہ میرے بچپن کا ہے۔
میرے خالو ایروناٹیکل کمپلیکس کامرہ میں ایرفورس آفیسر کے طور پر تعینات تھے۔ والد صاحب کی ملازمت راول پنڈی میں تھی۔ سو ہر دوسرے ہفتے راول پنڈی سے کامرہ جانے کا موقع ملتا رہتا تھا۔ تب کامرہ میں کوئی خاص سیکیورٹی تھی اور نہ ہی دہشت گردی اور خوف کے حالات۔ وہاں سے منسلک بچپن کی بہت سی یادیں ہیں جن کا تذکرہ بعد میں سہی۔ خالہ خالو کا ایک بیٹ مین تھا، غالباً مردان یا نوشہرہ سے اُس کا تعلق تھا۔ حد درجہ ملن سار اور محبتی آدمی تھا۔ گھر کی جھاڑ پونچھ، جوتے پالش، کپڑے استری، کھانا پکانے اور برتن دہلائی وغیرہ میں اُس کا دن نکل جاتا تھا۔
ہم بھائی کھیلتے کھیلتے اُس کے سرونٹ کوارٹر میں چلے جاتے تھے۔ کوارٹر کو اُس کی بیوی نے ایسا سلیقہ مندی سے سنوارا ہوتا تھا کہ سادگی میں صحیح معنوں میں حُسن نظر آتا تھا۔ بیٹ مین کی بیوی اَن پڑھ تھی لیکن بلا کی سُگھڑ اور سمجھ دار۔ گو وہ خود پڑھی لکھی نہ تھی مگر اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کو نہلا دھلا کر، سُرمہ تیل لگا کر، صاف ستھرے کپڑوں میں پڑھنے بٹھایا ہوتا تھا، اُن کی خوب نگرانی کررہی ہوتی تھی۔
آج جب میں اُن دِنوں کا، اُس بااخلاق آدمی، سلیقہ شعار بیوی اور اُس پرُسکون چھوٹے سے دو کمروں کے کوارٹر کا سوچتا ہوں تو میرے ذہن میں ایک مثالی گھرانے کا تصور آتا ہے۔
کئی برس گزر گئے، دہائیاں نِکل گئیں۔ اپنے خالو سے اُس کا پوچھا تو بتانے لگے کہ وہ ریٹائر ہوکر اپنے قصبے کو لوٹ گیا تھا، ایک بیٹے نے آرمی میں اعلیٰ ترین اعزاز سوورڈ آف آنر لی تو دوسرے نے ایئرپورس میں وظیفے پر امریکا سے پی ایچ ڈی کی۔ باپ کو انھوں نے سر کا تاج بنا کر رکھا تو ماں کو دل کی دھڑکن۔ یوں ایک غریب لیکن نیک دل آدمی کی سُگھڑ بیوی نے اُس کے گھر کو جنت نظیر بنا دیا تھا۔
اچھی بیوی مل جائے تو مرد کی زندگی جنت اور برُا شوہر مل جائے تو عورت کی زندگی جہنم بن جاتی ہے۔ اِس کی مثال اپنے اقارب میں دیکھی۔ ایک حد درجہ ذہین اور خوب صورت لڑکی تھی۔ بااخلاق ایسی کہ ہر کسی کا من موہ لیتی۔ دیکھنے والے کہتے کہ یہ جس گھر میں جائے گی وہ گھر خوش نصیب ہوگا۔ یعنی قدرت نے اس لڑکی کو حُسن، ذہانت کے ساتھ بہترین خاندان سے بھی نواز رکھا تھا۔ لڑکی نے لاہور کے ایک میڈیکل کالج سے گولڈ میڈل کے ساتھ ایم بی بی ایس کیا تو اس کے لیے رشتوں کی قطار بندھ گئی۔ ایک کھاتے پیتے گھرانے میں اُس کی شادی ہوگئی۔ اُس کا شوہر اکلوتا بیٹا تھا اور اچھے مزاج و کردار کا تھا۔ عموماً اکلوتے بیٹوں کی بیویوں کو نسبتاً زیادہ آزمائش کا سامنا رہتا ہے۔ بہرحال لڑکی کی ساس اور نندیں سخت مزاج رکھتی تھیں۔ بیاہ کے بعد انھوں نے لڑکی کے ملازمت کرنے پر پابندی لگا دی اور گھر میں ملازمین و معاونین ہونے کے باوجود لڑکی کو پابند کیا کہ وہ کھانا پکانے سے لے کر سب امور خانہ داری چابک دستی سے کرے گی۔ ساس اور نندیں آرام کرتیں اور لڑکی کام میں جُتی رہتی۔ یہاں تک کہ حمل کے آخری دنوں میں بھی اُسے سارا دن باورچی خانہ سنبھالنا پڑتا۔
جب چند برس بعد اُسے دیکھا تو اپنے ماں باپ کی لاڈلی لڑکی تھوڑے سے سالوں میں بوڑھی ہوچکی تھی۔ اُس کے حُسن و صلاحیت جسے دیکھ کر لوگ رشک و حسد کرتے تھے ماند پڑ چُکے تھے۔
یہ نوے کی دہائی کا معاملہ ہے کہ میں نے انگریزی اخبار دی نیوز، میں پہلا انگریزی مضمون لکھا۔ تب یہ اخبار نیا شروع ہوا تھا اور ڈاکٹر عابدی اس کے ایڈیٹر تھے۔ میں طالب علم تھا اور ہر قسم کا ادب رغبت سے پڑھتا تھا، البتہ نوجوانی میں پلپ فکشن پڑھنے کا زیادہ شوق تھا۔ سو میرا پہلا انگریزی مضمون سڈنی شیلڈن کے ایک ناول کا ریویو تھا۔ سڈنی شیلڈن ایک حیران کن مصنف تھا۔ اُس نے اپنا پہلا ناول پچاس برس کی عمر کے بعد لکھا تھا۔ وہ کمرشل فکشن لکھتا تھا اور ایسا لکھتا تھا کہ ادھیڑ عمری میں قلم تھامنے والا وہ شخص اتنا کام یاب ٹھیرا کہ ایک وقت میں دنیا کا سب سے زیادہ پڑھا جانے والا مصنف بن گیا، اُس کے ناولوں پر ہالی ووڈ میں فلمیں بنیں اور اُس کی کتابوں کی اشاعت کا لوگ شدت سے انتظار بھی کرتے تھے۔ میں بھی اُن لوگوں میں سے ایک تھا۔ جب اُس کی خودنوشت سوانح پڑھی تو اُس میں ایک ایسی بات تھی جو دماغ پر ایسی نقش ہوئی کہ اپنے ایک عزیز دوست اور معروف کالم نگار سے اس کا تذکرہ کیا تو انھوں نے اس پر پورا کالم لکھ ڈالا۔
سڈنی شیلڈن پر ڈپریشن کا ایک ایسا دورہ بھی پڑا تھا کہ وہ خود کشی کرنے پر اُتر آیا تھا۔ بعد میں اُس نے زندگی کو ایک ناول کی طرح پایا۔ اُس نے تحریر کیا تھا کہ میں اپنی زندگی ایسے پرُشوق تجسس کے ساتھ گزارتا ہوں جیسے ایک قاری سسپنس بھرا ناول پڑھتا ہے۔ اُسے نہیں معلوم اگلے صفحے یا اگلے باب میں کیا غیر متوقع واقعہ یا حیران کُن موڑ ہوگا۔ یہی تجسّس قاری کو آگے بڑھنے پر مجبور کرتا ہے۔ زندگی بھی ایک سسپنس بھرے ناول کی طرح ہے۔ ایک صفحے پر دکھ اور ٹریجڈی ہے تو آدمی کو تب تک معلوم نہیں ہوسکتا کہ اگلے صفحے پر کامیڈی اور مزاح ہے جب تک وہ اگلے صفحے تک پہنچ نہ جائے۔
ایک دوست ہیں، دانش مندہیں اور متوازن سوچ کے مالک۔ ایک روز کہنے لگے کہ جو صحت مند اور ذہین آدمی خودکشی کرتا ہے، بڑی بے وقوفی کرتا ہے۔ بلکہ موت اُس کی بے وقوفی کی سزا ہے۔ وہ اتنا قلیل النظر ہے کہ ایک لمحے یا زندگی کے ایک موقع کا قیدی ہوکر رہ گیا اور اُس نے اپنی جان لینے کا فیصلہ کرلیا۔ اُسے کیا معلوم مستقبل اُس کے لیے اپنے اندر کتنے روشن امکانات رکھتا ہے۔ جو آدمی صحت مند ہے اور اُس کا دماغ بھی کام کرتا ہے اُسے تو ہرگز مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ زندگی، جسم اور دماغ کے باہم اور پیہم ارتباط ہی کا تو نام ہے، یعنی انسانی زندگی، ذہن اور بدن کے خوب صورت ملاپ ہی کا تو نام ہے۔ جو بے وقوف اس بات کو نہیں سمجھ پاتا اُسے اپنی بے وقوفی کی سزا خودکشی سے موت کی صورت میں بھگتنا پڑتی ہے اور جو سمجھ جاتا ہے اُس کا آیندہ آنے والا کوئی دن، کبھی نہ کبھی، روزِ عید ضرور ہوتا ہے۔
دوستوں کو عید سعید کی بہت مبارک باد۔

