1.  Home
  2. Blog
  3. Fahad Ali Khan
  4. Youm e Majboor

Youm e Majboor

یومِ مجبور

ترقی یافتہ ممالک میں آج کے دن مزدور کو "سٹیٹ گیسٹ" کا درجہ دیا جاتا ہے، ناروے، جرمنی اور کینیڈا جیسے ممالک میں آج کے دن محنت کشوں کی مراعات، ان کی صحت کی سہولیات اور کم از کم اجرت میں اضافہ کیا جاتا ہے۔

وہاں ریاست فخر سے بتاتی ہے کہ اس کی ترقی میں ریڑھی بان سے لے کر فیکٹری ورکر تک کا کتنا خون پسینہ شامل ہے۔ وہاں مزدور کو احساس دلایا جاتا ہے کہ وہ معاشرے کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ لیکن ذرا نظر گھمائیے اور اپنے پیارے پاکستان کی طرف دیکھیے، جہاں یومِ مزدور پر ریاست نے اپنے محنت کشوں کو "خراجِ تحسین" پیش کرنے کے لیے ایک نیا "پیٹرول بم" تحفے میں دے دیا ہے۔

پاکستان میں مزدور کی ویلیو کیا ہے؟ مجھے لگتا ہے کہ پاکستان میں مزدور کی ویلیو صرف "لیموں" کی ہے، حکومت اسے ہر بجٹ اور آئی ایم ایف ڈیل کے بعد نچوڑ کر رکھ دیتی ہے۔ آج کا پاکستانی مزدور سڑک پر کھڑا یہ سوچ رہا ہے کہ وہ شکاگو کے شہداء کو یاد کرے یا اپنے گھر میں بھوک سے بلکتے بچوں کے چہروں کو دیکھے۔

اپریل 2026 کا مہینہ پاکستانی عوام خصوصاً دیہاڑی دار طبقے کے لیے کسی ڈراؤنے خواب سے کم ثابت نہیں ہوا۔ پہلے پیٹرولیم لیوی میں 55 روپے کا ہوشربا اضافہ کرکے قیمت کو 458 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچایا گیا اور پھر 25 اپریل کو ایک بار پھر 26 روپے 77 پیسے کا لیوی ٹیکس بم گرا دیا گیا۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ آپ جو پیٹرول ڈلواتے ہیں، اس کی اصل قیمت تو کچھ اور ہے۔ ایک لیٹر پیٹرول پر آپ تقریباً 157 روپے صرف ٹیکس کی مد میں دے رہے ہیں۔ اس میں 107 روپے 38 پیسے کی پیٹرولیم لیوی، 24 روپے 12 پیسے کسٹم ڈیوٹی اور دیگر مارجنز شامل ہیں۔

حکومت صرف اس نام نہاد ٹیکسز کی مد میں ماہانہ 120 ارب روپے غریب کی جیب سے بٹور رہی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ یہ 120 ارب روپے مزدور کی زندگی میں کتنی آسانی لائے؟ جواب ہے "صفر"۔

حکومت کہتی ہے کہ پیٹرول صرف گاڑی والوں کا مسئلہ ہے، لیکن یہ سفید جھوٹ ہے۔ پیٹرول کی قیمت کا بڑھنا ایک ایسی لہر ہے جو پوری معیشت کو غرق کر دیتی ہے۔ جب پیٹرول اور ڈیزل مہنگا ہوتا ہے تو ٹرکوں اور مال بردار گاڑیوں کے کرائے بڑھ جاتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ منڈی میں آنے والا آٹا، چینی، دالیں اور سبزیاں مہنگی ہو جاتی ہیں۔

ایک مزدور جو پہلے ہی سوکھی روٹی کھا رہا تھا، اب وہ اس سے بھی محروم ہو رہا ہے۔ پاکستان کی کئی صنعتیں اور بجلی پیدا کرنے والے کارخانے ایندھن پر چلتے ہیں۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھتے ہی بجلی کے ٹیرف کو پر لگ جاتے ہیں۔

فیکٹری کی پیداواری لاگت بڑھتی ہے، تو مالکان پہلا وار مزدور کی تنخواہ پر کرتے ہیں یا اسے نوکری سے نکال دیتے ہیں۔ ایک عام مزدور جو موٹر سائیکل یا چنگچی پر سفر کرکے کام پر جاتا ہے، اس کی آمدن کا 30 سے 40 فیصد حصہ اب صرف سفر کی نذر ہو رہا ہے۔

حکومت 1468 ارب روپے کا سالانہ ہدف پورا کرنے کے لیے پیٹرولیم لیوی کو 100 روپے سے اوپر لے گئی ہے۔

یہ پیسہ ریفائنریوں کی بہتری کے نام پر لیا گیا، لیکن آج تک پاکستان کی ریفائنریوں کی حالت نہیں بدلی۔ ستم ظریفی دیکھیں کہ آئی ایم ایف کی ہر شرط کا بوجھ مزدور پر ڈالا جاتا ہے، لیکن سرکاری پروٹوکول، مفت پیٹرول اور اشرافیہ کی مراعات پر کوئی کٹ نہیں لگتا۔

آج یومِ مزدور پر پاکستان کا عام شہری اور محنت کش طبقہ ایک ہی سوال پوچھ رہا ہے کہ "جب حکومت کی آمدن ریکارڈ سطح پر پہنچ رہی ہے، ٹیکسوں کی وصولی اربوں میں ہو رہی ہے، تو ریلیف صرف کاغذوں تک کیوں محدود ہے؟

اگر ریاست نے اپنی روش نہ بدلی اور پیٹرول کو صرف "ٹیکس وصولی کی مشین" بنائے رکھا، تو وہ دن دور نہیں جب ملک کا معاشی پہیہ پوری طرح جام ہو جائے گا۔

یومِ مزدور پر تقریریں نہیں، سستا پیٹرول اور سستی روٹی چاہیے، کیونکہ خالی پیٹ سے "زندہ باد" کے نعرے نہیں لگائے جا سکتے۔

Check Also

Dunga Gali Ka Pani Aur Murree Hazara Bhai Chara: Aik Wazahat

By Muhammad Idrees Abbasi