Eteraf: Mustafa Zaidi
اعتراف: مصطفٰی زیدی

اردو شاعری میں بعض نظمیں محض الفاظ کا مجموعہ نہیں ہوتیں بلکہ ایک مکمل زندگی، ایک پورا رشتہ اور ایک انسان کی اندرونی ٹوٹ پھوٹ کا آئینہ بن جاتی ہیں۔ مصطفٰی زیدی کی نظم "اعتراف" بھی ایسی ہی ایک تخلیق ہے، جو بظاہر چند اشعار پر مشتمل ہے مگر اپنے اندر ایک پوری ازدواجی زندگی کا نوحہ سمیٹے ہوئے ہے۔ یہ نظم صرف محبت کا اظہار نہیں بلکہ محبت میں کوتاہیوں، غفلتوں اور ندامت کا ایک گہرا اعتراف ہے۔ شاعر اپنی شریکِ حیات ویرا زیدی کے سامنے جیسے اپنے دل کی عدالت میں خود کو کھڑا کرتا ہے اور اپنی کمزوریوں کا اقرار کرتا ہے۔ اس نظم کی سب سے بڑی خوبی اس کی سچائی ہے، کیونکہ یہاں شاعر اپنے آپ کو بری الذمہ قرار دینے کی کوشش نہیں کرتا بلکہ اپنی ناکامیوں کو پوری دیانت داری سے تسلیم کرتا ہے۔
پہلا شعر ہی اس نظم کی بنیاد رکھ دیتا ہے جہاں شاعر کہتا ہے کہ تمہاری مہربانی نے مجھے قبول تو کر لیا، مگر میں اپنے جنون کے باوجود محبت کا حق ادا نہ کر سکا۔ یہاں "جنون" ایک دلچسپ لفظ ہے، یہ محبت کی شدت کا بھی اظہار ہے اور بے اعتدالی کا بھی۔ گویا شاعر یہ تسلیم کر رہا ہے کہ اس کی محبت میں شدت تو تھی مگر توازن نہیں تھا اور یہی بے توازن محبت اکثر رشتوں کو کھوکھلا کر دیتی ہے۔ محبت صرف جذبے کا نام نہیں، بلکہ ذمہ داری، توجہ اور مسلسل موجودگی کا تقاضا بھی کرتی ہے اور یہی وہ پہلو ہے جہاں شاعر خود کو ناکام محسوس کرتا ہے۔ اس اعتراف میں ایک درد ہے، ایک ایسا درد جو شاید بہت دیر سے محسوس ہوا۔
دوسرے اور تیسرے اشعار میں یہ احساس اور گہرا ہو جاتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ تم نے میری ہر خوشی کو اپنے غم کے تناظر میں سمجھا، مگر میں تمہارے غم کو اپنی خوشی سے جوڑ نہ سکا۔ یہ ایک نہایت باریک مگر اہم نکتہ ہے، رشتے صرف خوشیوں کی شراکت سے نہیں بلکہ غموں کی ہم آہنگی سے مضبوط ہوتے ہیں۔ شاعر کی لغزشیں بھی اسی تناظر میں سامنے آتی ہیں، وہ مانتا ہے کہ اس کے قدم بارہا لڑکھڑائے، مگر اس کی شریکِ حیات کا استحکام ایسا تھا کہ کوئی حادثہ رونما نہ ہوا۔ یہاں عورت کا کردار ایک مضبوط، صابر اور سنبھالنے والی ہستی کے طور پر ابھرتا ہے، جو نہ صرف خود کو بلکہ رشتے کو بھی ٹوٹنے سے بچاتی ہے۔
چوتھے اور پانچویں اشعار میں شاعر اپنی عدم موجودگی کا اعتراف کرتا ہے، جو شاید جسمانی سے زیادہ جذباتی ہے۔ وہ کہتا ہے کہ جب تم نے مجھے پکارا تو میں قریب نہ تھا، مگر جب میں نے آواز دی تو فاصلے ختم ہو گئے۔ یہ تضاد دراصل مردانہ خود غرضی کی ایک جھلک بھی ہو سکتا ہے، جہاں انسان اپنے دکھ کو زیادہ اہمیت دیتا ہے اور دوسروں کے دکھ کو نظر انداز کر دیتا ہے۔ اسی طرح وہ اپنے لہجے کی سختی کا بھی اعتراف کرتا ہے، کہ اس کی زبان میں خنجر اور دشنہ تھے، مگر تمہاری زبان پر کبھی کوئی تلخ لفظ نہ آیا۔ یہ ایک ایسا اعتراف ہے جو صرف محبت ہی نہیں بلکہ شرمندگی سے بھی لبریز ہے اور قاری کو یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ ہم اپنے قریبی رشتوں میں کس قدر بے احتیاط ہو جاتے ہیں۔
آخری اشعار میں نظم اپنے عروج پر پہنچتی ہے، جہاں شاعر اپنی بے وفائیوں یا کم از کم جذباتی انتشار کا ذکر کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ وہ ہزار شمعوں کا پروانہ بنتا رہا، مگر تمہارے دل میں میرے سوا کسی اور کا گھر نہ بنا۔ یہ ایک طرف شاعر کی بے قراری کو ظاہر کرتا ہے تو دوسری طرف عورت کی یکسوئی اور وفاداری کو۔ پھر وہ اپنے سیاہ دامن کی بات کرتا ہے، جو شاید اس کی غلطیوں، لغزشوں یا گناہوں کی علامت ہے اور کہتا ہے کہ اسے دیکھنے کے باوجود تمہارے سفید دوپٹے کا دل برا نہ ہوا۔ یہاں "سفید دوپٹا" پاکیزگی، معصومیت اور معافی کی علامت بن جاتا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں نظم محض اعتراف نہیں رہتی بلکہ ایک خراجِ تحسین بن جاتی ہے اس عورت کے لیے جو ہر حال میں نبھاتی رہی۔
یہ نظم دراصل ایک آئینہ ہے جس میں ہر قاری اپنا عکس دیکھ سکتا ہے۔ مصطفٰی زیدی نے جس سچائی سے اپنے آپ کو بے نقاب کیا ہے، وہ اردو شاعری میں کم ہی دیکھنے کو ملتی ہے۔ یہ نظم ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ محبت صرف دعووں سے نہیں بلکہ عمل سے ثابت ہوتی ہے اور اگر ہم اس میں کوتاہی کریں تو ایک نہ ایک دن ہمیں خود اپنے سامنے جواب دہ ہونا پڑتا ہے۔ ویرا زیدی کا کردار اس نظم میں خاموش مگر مضبوط ستون کی طرح ہے، جو نہ صرف شاعر کی زندگی بلکہ اس نظم کی روح کو بھی سہارا دیتا ہے۔ "اعتراف" دراصل ہر اس انسان کی کہانی ہے جو محبت تو کرتا ہے مگر اسے نبھانے میں کہیں نہ کہیں پیچھے رہ جاتا ہے اور پھر ایک دن اسے یہ ماننا پڑتا ہے کہ محبت صرف محسوس کرنے کا نہیں بلکہ ادا کرنے کا بھی نام ہے۔

