Kal Raat Khwab Mein Char Dahaiyon Baad Wo Makan Dekha
کل رات خواب میں چار دہائیوں بعد وہ مکان دیکھا

خانیوال میں وہ مکان بلاک 12 میں گرلز کالج کے سامنے والی لائن میں تھا۔ پرانا سا دو منزلہ مکان۔ گراونڈ فلور پر ایک چھوٹا برآمدہ، تین چھوٹے کمرے اور ایک لمبا سا ڈرائنگ روم۔ پہلی منزل پر دو بڑے کمرے اور صحن۔ کمروں کی چھت پر جانے کے بھی لیے سیڑھیاں تھیں لیکن ان پر قدم رکھنے والے کو سخت ڈانٹ پڑتی تھی۔
اس مکان میں قائداعظم پبلک اسکول قائم تھا۔ اسی گلی کے نکڑ پر حسنین چیمبرز کی عمارت تھی، جو ان دنوں میں، بقول میرے پرائمری اسکول کے دوستوں کے، خانیوال کی سب سے بلند عمارت تھی۔ گراونڈ فلور ملاکر اس کی صرف تین منزلیں تھیں۔ اس کی درمیانی منزل بھی اسکول کے پاس تھی۔ بلکہ اسکول کا آغاز وہیں سے ہوا تھا۔
میرا داخلہ حسنین چیمبرز والی شاخ میں ہوا تھا۔ کے جی، پہلی اور دوسری وہیں پڑھیں۔ میڈم پروین کلاس ٹیچر تھیں۔ تیسری جماعت میں دو واقعات ہوئے۔ میڈم پروین استعفا دے کر اپنے والدین کے ساتھ کراچی چلی گئیں۔ میڈم شگفتہ قادری نئی کلاس ٹیچر بن گئیں۔
دوسرا واقعہ یہ ہوا کہ طلبہ اور کلاسوں کے سیکشن بڑھنے کی وجہ سے ہمیں اس مکان میں منتقل کردیا گیا جو کل رات میں نے 42 سال بعد خواب میں دیکھا۔
میرے خواب ریلز جیسے مختصر اور ادھورے نہیں ہوتے۔ پورے افسانے کی عکس بندی ہوتی ہے۔ بعض اوقات قسط وار کہانی چلتی ہے۔ کل میں نے دیکھا کہ خانیوال وزٹ پر گیا ہوں۔ گپی کے چوک سے حسنین چیمبرز تک کتابوں کی وہی دکانوں موجود ہیں جو میرے بچپن میں تھیں۔ میں نے ایک دکان پر ٹھہر کے آٹھ آنے والی کہانیوں کی کتابیں دیکھیں۔ ایک رنگ کے حاشیے والی وہ کتابیں شیخ غلام علی اینڈ سنز پبلشرز چھاپتے تھے۔
حسنین چیمبرز پر پتا نہیں کیوں تالا لگا ہوا تھا۔ میں اندر گلی میں مڑ گیا۔ اس مکان تک پہنچا تو دروازہ کھلا ہوا تھا۔ ایک شخص باہر کھڑا تھا۔ میں نے پوچھا، آج کل اس گھر میں کون رہتا ہے؟ اس نے جواب دیا، ڈاکٹر صاحب۔ پھر اس نے انھیں آواز دی۔
ڈاکٹر صاحب بھاری بھرکم ادھیڑ عمر آدمی تھے۔ آنکھوں پر چشمہ تھا۔ میں نے انھیں بتایا کہ کسی زمانے میں یہ میرا اسکول تھا۔ کیا اندر سے دیکھ سکتا ہوں؟ انھوں نے اندر بلا لیا۔ گھر میں کچھ رنگ و روغن یا صفائی کا کام ہونے کے آثار تھے۔
گھر ویسے کا ویسا تھا جیسا میں نے آخری بار 1984 میں دیکھا۔ چھوٹا سا صحن جس کے ایک طرف باتھ روم تھا، جو میں نے کبھی استعمال نہیں کیا۔ اس کے پاس گھنٹا لٹکا رہتا تھا۔ اسکول کی مائی اسے صبح، آدھی چھٹی اور پھر چھٹی کے وقت بجاتی تھی۔ صبح کے گھنٹے میں اداسی ہوتی تھی۔ گیارہ بجے آدھی چھٹی کا گھنٹا مسکراتا تھا۔ پوری چھٹی کا گھنٹا کھلکھلا کر ہنستا تھا۔
میں صحن سے آگے بڑھا اور برآمدے میں پہنچا۔ وہاں بھی ایک کلاس ہوا کرتی تھی۔ پھر تین چھوٹے کمرے۔ درمیان کا کمرا مس کلثوم کا تھا جو کرار حیدر کی ٹیچر تھیں۔ کرار اسکول سے باہر بھی میرا دوست تھا۔ ہم امام بارگاہ اور جلوس میں ملا کرتے تھے۔ بعد میں گورنمنٹ ہائی اسکول میں ہم جماعت رہے۔
میں بائیں جانب والے کمرے میں گھسا جو ہماری کلاس تھی۔ خواب کے دوران بچپن کی یادیں آرہی تھیں۔ ایک طرف میڈم شگفتہ کی پیلی پلاسٹک کی پٹیوں سے بنی ہوئی کرسی اور میز ہوتی تھی۔ پھر ایک ڈیسک، جس پر میں، ملک نثار احمد خان اور عبدالنعیم بیٹھتے تھے۔ میں جب بھی خانیوال گیا، ان دونوں دوستوں سے ضرور ملا۔ اب بھی واٹس ایپ گروپ بنایا ہوا ہے۔ نثار اب ایک موبائل فون کمپنی میں ایگزیکٹو اور نعیم پولیس افسر ہے۔
ہمارے پیچھے والے ڈیسک پر فیصل رفیق، عمر احمد خان نیازی اور عبدالوحید بیٹھتے تھے۔ فیصل رفیق فوج میں میجر جنرل ہے۔ وہی سب سے اچھا نکل گیا۔ عمر بیرون ملک کہیں جاب کررہا ہے۔ عبدالوحید کا گھر اسکول والی گلی میں تھا۔ ایک دن میں اس کے گھر گیا تو وہاں وہ صاحب نظر آئے، جن کی کچہری بازار میں سروس شوز کی دکان تھی اور جن سے میں نے کبھی اسکول کے جوتے خریدے تھے۔ وحید سے ایک بار لاہور میں ملاقات ہوئی تو اس نے بتایا کہ وہ کنسٹرکشن کا کام کرتا ہے۔ وہ تب بھی ویسا ہی بلا کا گورا چٹا تھا جیسے بچپن میں ہوا کرتا تھا۔
ہمارے دائیں طرف ڈیسک پر فیصل حمید، فاروق احمد اور اسد ہوتے تھے۔ فیصل حمید اور فاروق کزن تھے۔ انھوں نے اپنے خاندان کا گروسری بزنس سنبھالا۔ اسد کا پورا نام یاد نہیں۔ اس نے کسی اور کلاس میں ٹرانسفر کروالیا تھا۔ اتنا یاد ہے کہ اس کا گھر اگلی گلی میں تھا اور اس میں فون لگا ہوا تھا۔ تب کسی کسی گھر میں فون ہوا کرتا تھا۔ فون والی بات اس لیے یاد ہے کہ میڈم پروین یا میڈم شگفتہ نے کوئی فون کروایا تھا۔
ان کے عقب میں اسد اللہ، مرید عباس اور عبدالقیوم ہوتے تھے۔ اسداللہ روزانہ کچا کھوہ سے بس میں آتا تھا۔ اسے دیر ہوجاتی اور بے چارہ ڈانٹ سنتا۔ مرید عباس زمیندار تھا۔ اس کی شادی بہت تاخیر سے ہوئی اور وہ بہت جلدی مرگیا۔ مجھے یاد ہے کہ ایک دن انگریزی کا ایک مضمون ریڈیو کے بارے میں پڑھا۔ میڈم شگفتہ نے کہا، ریڈیو۔ اس نے پڑھا، ریڈوا۔ میڈم نے بار بار کوشش کی لیکن اس کے منہ سے ریڈیو نہ نکلا۔ عبدالقیوم بلاک 14 میں رہتا تھا جہاں ہمارا گھر تھا۔ لیکن اس کا گھر مینار والی مسجد کے سامنے تھا۔
کلاس روم کے چھوٹے سے کمرے میں بائیں جانب ڈیسک رکھنے کی جگہ نہیں تھی۔ وہاں آگے پیچھے پانچ کرسیاں ہوتی تھیں جن پر لبنی، سحر افشاں، نجمہ، خدیجہ اور اسد مہدی بیٹھا کرتے تھے۔ اسد مہدی ہائیکورٹ کا وکیل بن گیا ہے۔ سحر افشاں ایجوکیٹر ہیں اور لندن سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد دبئی اور بحرین میں پڑھاتی رہی ہیں۔ ایک اسکول خود بھی قائم کیا ہے۔
میں نے ایک مختصر سے خواب میں اس کلاس روم کے ایک ایک کونے کو دیکھا اور ان سب دوستوں کو یاد کیا۔ میڈم شگفتہ کو سب سے زیادہ، جن کا انتقال ہوچکا ہے۔
خواب والے ڈاکٹر صاحب مجھے ڈرائنگ روم میں لے گئے جو اسکول کے مالک اور پرنسپل باری صاحب کا کلاس روم ہوا کرتا تھا۔ اس میں سے مین روڈ کی طرف دروازہ کھلتا تھا۔ آدھی چھٹی میں سب بچے وہیں سے باہر جاتے۔ حسنین چیمبرز اور حسن ماڈل اسکول کے درمیان ٹھیلے والے ان کے منتظر ہوتے۔ وہیں بھاگم دوڑ اور کھیل کود ہوتا۔
میں ڈاکٹر صاحب کے ساتھ باہر نکلا۔ اسی وقت ان کے کوئی دوست اپنے کتے کو ٹہلاتے ہوئے گزرے۔ دونوں باتیں کرنے لگے۔ میں اجازت لے کر رخصت ہوا۔ دن کے گیارہ بج رہے تھے۔ میں نے جیب میں وہ سکے کھنکھنائے جن سے ایک ٹھیلے والے سے گول گپے کھانے کا ارادہ تھا۔ لیکن آنکھ کھل گئی۔

