1.  Home
  2. Blog
  3. Rashid Ahraz
  4. Khoon e Rag e Mazdoor

Khoon e Rag e Mazdoor

خون رگ مزدور

دنیا بھر میں آج مزدوروں کا عالمی دن منایا جا رہا ہے جس میں محنت کش شکاگو کے شہیدوں کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔ جن کی قربانیوں اور ہڑتالوں کی وجہ سے آخرکار مزدوروں کا مطالبہ مان لیا گیا۔ صنعت کاروں اور حکمرانوں کو گھٹنے ٹیکنے پڑے اور 1886 میں بیس گھنٹے مشقت کی بجائے آٹھ گھنٹے ڈیوٹی لینے کا حکم جاری ہوا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ شکاگو کے مزدوروں نے مزدوروں کے حقوق کیلئے بہت بڑی قربانی دی اور مزدوروں پر ہونے والے ظلم اور استحصال کو ختم کرنے کی نوید سنائی۔ جبکہ ان امریکی سرمایہ داروں، صنعت کاروں اور حکومت نے مزدوروں کی تحریک کو کچلنے کیلئے بے دریغ طاقت کا استعمال کیا اور نہتے مزدوروں پر گولیاں برسادیں۔ بے شمار مزدور موقع پر شہید ہوگئے، مزدوررہنماوں کو سولی پر لٹکا دیا گیا۔

دنیا بھر میں یکم مئی کو لیبر ڈے کے طور پر منایاجاتا ہے۔ مزدوروں کیلئے جلسے جلوسوں اور کانفرنسز کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ مزدوروں کے حق میں تقاریر کی جاتی ہیں اور اس دن سرکاری اور غیر سرکاری دونوں اداروں میں چھٹی ہوتی ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد امریکا کے شہر شکاگو کے محنت کشوں کی جدوجہد کو یاد کرنا ہے۔ مگر اس واقعہ کے ڈیڑھ صدی گزر جانے کے بعد بھی پاکستان کے محنت کشوں کا طبقاتی نظام پر احسان بھی کچھ کم نہیں جو انتہائی کم اجرتوں پر مہنگائی سے لڑتے لڑتے روز جیتے اور روز مرتے ہیں۔

پاکستان میں مزدور پالیسی کا آغاز 1973 میں ہوا اور یکم مئی کو قانونی طور پر لیبر ڈے کا نام دے دیا گیا۔ پاکستان آج انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کا ممبر ہے جس کا مقصد مزدوروں کو معاشی حقوق دینا اور انہیں ان کے حق کے بارے میں آگاہ کرنا ہے۔ پاکستان ایک ترقی پذیر ملک ہے اور محنت کش ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس ملک کی پیداواری عمل کو تیز کرنے کیلئے مزدوروں کا احترام بے حد ضروری ہے۔ حکومت کے بیشتر اقدامات کے باوجود آج بھی مزدور کی تنخواہ بہت کم ہے، مہنگائی نے مزدور کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔

یہ مزدور آج بھی جب شام کو گھر لوٹتا ہے تو نہ تو اس کے پاس بچوں کا پیٹ بھرنے کیلئے آٹا ہوتا ہے اور نہ ہی وہ بچوں کی ماں کی دوائی بازار سے خریدکرلاسکتا ہے۔ یہ غریب مزدور اپنے اور گھر والوں کا پیٹ پالنے کیلئے سردی، گرمی، بارش، دھوپ کسی چیز کی پرواہ نہیں کرتا یہاں تک کہ آخری سانس تک محنت کش مزدور ہی رہتا ہے جس کے نتیجے میں اس کا دامن ہمیشہ خالی ہی رہتا ہے۔

پاکستان میں بھٹہ مزدور تو سامنے کی بات ہے۔ پھر کھیت مزدوری کرنے والے، فیکٹریوں میں کام کرنے والے بچے اور دیہی علاقوں میں سلائی کڑھائی کرنے والی خواتین کا جو استحصال ہورہا ہے اس نے ثابت کردیا ہے کہ مزدور حقوق کی تحریک نے جو بھی حقوق حاصل کیے تھے وہ آج دوبارہ سلب ہوچکے ہیں۔ معاشی غلامی اس عہد کی اپنی طرز کی غلامی ہے۔ جس نے افراد کے ساتھ ساتھ اقوام کو بھی اپنی گرفت میں لے رکھا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک کے مزدور کے مقابلے میں پسماندہ ملکوں کے مزدور اپنے حقو کی جد وجہد سے کہیں زیادہ آگاہ ہیں پھر بھی ان کا استحصال جاری رہتا ہے۔

پاکستان میں مزدور کی جو حالت ہے اسے صرف مزدور ہی سمجھ سکتا ہے۔ ہر سال یکم مئی کے موقع پر مزدوروں کے حقوق کے بارے میں پروگرام نشر ہوتے ہیں، مزدوروں کے حقوق پر پروگرام کرنے والے بڑے بڑے ہوٹلوں میں سیمینار کرنے والے جن کے بچوں کے علاج بھی دوسرے ممالک میں ہوتے ہیں، مزدور کے روز و شب سے واقف نہیں۔ جن کو مزدوروں کے حالات کا علم بھی نہیں ہوتا، حکمران طبقہ ان کے ذریعے مزدوروں کیلئے کچھ اعلانات کرتا ہے۔

آج ٹریڈ یونین، تحریک اور محنت کشوں کے موجودہ حالات ایک تشویش ناک مسئلہ ہیں۔ ملک بھر میں ہزاروں ٹریڈ یونین اور سینکڑوں لیبر فیڈریشن موجود ہیں لیکن آج بھی محنت کش انتہائی نامساعد حالات سے دوچار ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق ملک بھر میں محنت کش طبقہ کی تعداد دس کروڑ کے لگ بھگ ہے، جن میں سے اکثر و بیشتر مزدور کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ پرائیویٹائزیشن اور ٹھیکیداری نظام نے مزدوروں کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ ایسے محسوس ہوتا ہے کہ شاید آج پھر دوبارہ 1886 کی طرح ملک بھر میں مزدور کا استحصال جاری ہے۔

ہم موجودہ دور میں کتنے نازک مراحل سے گزر رہے ہیں۔ لیکن کبھی کسی نے غور نہیں کیا کہ بچوں سے جو محنت مزدوری کروائی جاتی ہے وہ کس زمرے میں آتی ہے اور نہ ہی کبھی کسی نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ ہمارے ملک میں موجود کتنے ہی بچے محنت مزدوری کرکے اپنا گزر بسر کررہے ہیں۔ نہ جانے کتنے ہی معصوم بچے ہیں جن کے نرم اور نازک ہاتھوں میں کتابیں کھلونوں کی جگہ وزن اور اوزار ہوتے ہیں۔ ان کا دل بھی کرتا ہے کہ ہم اچھا لباس پہنیں، اچھا کھانا کھائیں، خوشی سے رہیں، پڑھائی لکھائی کریں مگر کوئی ان کا پرسان حال نہیں۔

دوسری طرف حکمران طبقہ ہے کہ ملک میں جب بے روز گاری کی انتہا ہے عوام کو نوکریوں سے بھی نکالا جا رہا ہے۔ نرسیں ہوں یا ریلوے مزدور تنخواہ جب بھی رکتی ہے غریب ملازمین کی ہی رکتی ہے۔ دوسری طرف ممبرانِ اسمبلی، وزرا ئے اعلیٰ، سینیٹرز کی تنخواہوں میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ ملک بھر میں بہت بڑی تعداد میں ایسے مزدور بھی ہیں جو یومیہ اجرت پر کام کرتے ہیں اور ان کے حالات تنخواہ دار مزدوروں سے بھی بدتر ہیں کیونکہ انہیں کبھی کام ملتا ہے اور کبھی پورا دن انتظار کے بعد بھی خالی ہاتھ اپنے گھر واپس لوٹنا پڑتا ہے۔ مہنگائی کے ہاتھوں عملی طورپر اس وقت غریب بلکہ متوسط طبقہ بھی زندگی کی بنیادی ضرورتوں سے محروم ہے۔ دنیا اس وقت امریکا، ایران جنگ کے باعث مختلف معاشی بحرانوں میں گھری ہوئی ہے۔

اس گلوبلائزیشن کے دور میں ملٹی نیشنل کمپنیوں کا تسلط ہے۔ یہ یہودیوں کا ایک پروگرام ہے کہ پوری دنیا کا معاشی استحصال کرنا ہے لیکن ان کی سکیم بڑی پیچیدہ اور دلچسپ ہوتی ہے جس کا عام لوگوں کو پتہ نہیں چلتا کیوں کہ انہیں ان کی معقول مزدوری مل جاتی ہے۔ یہ ملک کے دانشور اور تعلیم یافتہ طبقے کا فرض ہے کہ وہ ان پوشیدہ عزائم کو بے نقاب کریں اور ملکی پراڈکٹ کو فروغ دیں۔ ان حالات میں اپنے ملک میں اعلیٰ وارفع نہ سہی مگر آئین کے مطابق مزدور کے حقوق پر عمل کرنے کیلئے قانون کی حکمرانی کویقینی بنایا جائے۔ اسی طرح سرمایہ اور محنت، کارخانے دار اور مزدور، لیبر یونین اور ان کے لیڈروں کے حقوق و فرائض کا تعین ہونا چاہئے۔ علامہ اقبال نے مزدووں کی زبوں حالی کی بہت عمدہ تصویر کشی کی ہے اور وہ اللہ سے گلہ کرتے ہیں۔

خواجہ از خونِ رگِ مزدورسازد لعل ناب
از جفائے دہ خدایاں کشتِ دہقانانِ خراب

سرمایہ دار نے مزدور کی رگوں میں دوڑنے والے خون سے سرخ شراب کشید کی ہے اور جاگیرداروں کے ظلم وستم سے دہقان کی کھیتی خراب ہے اس کے بچے بھوکے ہیں اور اس کی کھیتی سے ان کی غذا کا اہتمام نہیں ہو رہا۔

Check Also

Youm e Mazdoor: Tateel Ke Pas e Parda Mehroomi Ki Kahani

By Muhammad Mohsin Khan