Dunga Gali Ka Pani Aur Murree Hazara Bhai Chara: Aik Wazahat
ڈونگا گلی کا پانی اور مری-ہزارہ بھائی چارہ: ایک وضاحت

کبھی کبھی الفاظ اپنا سفر خود طے کرتے ہیں اور لکھنے والا پیچھے رہ جاتا ہے۔ میرے حالیہ مضمون "مری والو، ڈونگا گلی پانی کے پیسے دو (مزمل اسلم)" کے بعد جو بحث چھڑی، اس نے میرے اس خدشے کو سچ ثابت کر دیا کہ کہیں ایک تکنیکی معاملہ ہمارے درمیان فاصلے نہ پیدا کر دے۔ آج، میں اسی لیے قلم اٹھا رہا ہوں، وضاحت کے لیے بھی اور اپنے ہزارہ کے بھائیوں سے دل کی بات کرنے کے لیے بھی۔
میرے لاتعداد جگری دوست ہزارے سے ہیں، جن میں سر فہرست کیری رائیکی (نتھیا گلی) سے انجنئیر عبدالرزاق ہیں، جن سے چالیس سالہ رفاقت ہے، مضمون کی اشاعت کے بعد دیگر دوستوں کے ساتھ ان کا گلہ بھی انباکس میں موصول ہوا، جس سے یہ وضاحت ضروری ہوگئی۔
سب سے پہلے، میں ہزارہ کے تمام بھائیوں سے معذرت خواہ ہوں اگر میرے کسی لفظ سے دل آزاری ہوئی۔ میرا مقصد ہرگز یہ نہیں تھا کہ ہم صدیوں پر محیط اپنے رشتوں کو کسی بحث کی نذر کر دیں۔ ہمارا تعلق محض جغرافیہ کا نہیں، خون، محبت اور قرابت داری کا ہے۔ ہم واقعی "دو جسم، ایک جان" ہیں اور رہیں گے۔
میرا اصل نقطہ ایک "پینڈورا باکس" تھا، ایک ایسا دروازہ جو اگر کھل جائے تو پھر بحثیں دلیل سے نکل کر جذبات کی نذر ہو جاتی ہیں۔ بدقسمتی سے، میرے اپنے صفحے پر ہونے والی گفتگو (لاتعداد تلخ کمنٹس) نے یہ ثابت کر دیا کہ یہی خطرہ حقیقی تھا۔ ایک انتظامی اور تکنیکی معاملہ، دیکھتے ہی دیکھتے، ہزارہ اور پنجاب کے درمیان ایک غیر ضروری اور غیر موزوں بحث میں بدل گیا۔
حقیقت یہ ہے کہ پانی کوئی سادہ معاملہ نہیں۔ یہ صرف ایک وسیلہ نہیں بلکہ زندگی ہے اور ایک اصول جس سے انکار ممکن نہیں: جہاں سے پانی نکلتا ہے، پہلا حق وہاں کے باسیوں کا ہوتا ہے۔ اگر اوپر کے علاقے کے لوگ خود پانی سے محروم ہوں تو نیچے کے علاقوں میں اس کے استعمال کا اخلاقی جواز کمزور پڑ جاتا ہے۔ یہ اصول نہ صرف انصاف کا تقاضا ہے بلکہ فطرت کا بھی۔
مگر اس کے ساتھ ایک اور حقیقت بھی اتنی ہی اہم ہے۔۔ ریاست کا کردار۔ پاکستان ایک وفاق ہے اور اس کی مرکزی حکومت ایک باپ کی حیثیت رکھتی ہے۔ ایک ایسا باپ جو اپنے تمام بچوں کو برابر دیکھے، چاہے وہ کسی بھی صوبے میں رہتے ہوں۔ خیبر پختونخوا گزشتہ چار دہائیوں سے جن حالات سے گزر رہا ہے، دہشت گردی، سرحدی کشیدگی اور مسلسل عدم استحکام۔۔ وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ ایسے میں اس صوبے کے وسائل، خصوصاً این ایف سی ایوارڈ کے تحت واجب الادا حصے، بروقت اور مکمل طور پر فراہم کرنا نہ صرف آئینی ذمہ داری ہے بلکہ اخلاقی فرض بھی۔
لہٰذا مسئلے کا حل یہ نہیں کہ ہم ایک دوسرے کو بل بھیجیں، بلکہ یہ ہے کہ ہم ایک دوسرے کا بوجھ بانٹیں۔ مرکزی حکومت کو چاہیے کہ خیبر پختونخوا کے لیے خصوصی گرانٹ کا اعلان کرے، تاکہ وہاں موجود تمام چشموں اور آبی وسائل کو جدید طریقے سے ترقی دی جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ، ڈونگا گلی کے پانی کے حوالے سے ایک باہمی، باعزت اور روایتی سمجھوتہ کیا جائے، جس میں مقامی آبادی کے حقوق کا مکمل خیال رکھا جائے اور مری و گردونواح کی ضروریات بھی متاثر نہ ہوں۔
اس کے ساتھ ہی ہزارہ اور کے پی کے کی طرف گندم کی ترسیل کے حوالے سے بھی پنجاب اور کے پی میں کوئی موئثر میکنزم ہونا چائیے۔ پنجاب واحد زرخیز خطہ ہے، یہاں کی زرعی زمینیں تیزی سے ہاؤسنگ سوسائٹیاں کھاتی جا رہی ہیں۔ پنجاب حکومت کو گندم کی فصل اگانے اور کسانوں کو تسلی بخش معاوضہ دینے کی طرف توجہ دینی ہوگی۔
یہ وقت تقسیم کا نہیں، تدبر کا ہے۔ یہ وقت الزام کا نہیں، احساس کا ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ اگر ہم نے پانی یا گندم جیسے حساس مسئلے کو بھی تنازع بنا لیا تو کل کو ہمارے درمیان بہت کچھ بٹ سکتا ہے اور شاید وہ بھی، جو کبھی نہیں بٹنا چاہیے۔
میں ایک بار پھر اپنے ہزارہ کے بھائیوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہوں۔ ہمارا رشتہ کسی ایک چشمے، ایک پائپ لائن یا آٹے کی بوری سے کہیں بڑا ہے۔ ہمیں اسے اسی طرح بڑا رکھنا ہے۔
آخر میں، یہ یاد رکھیں، پانی زندگی دیتا ہے اور ہم سب ایک ہی زندگی کے امین ہیں۔ اگر ہم نے اسے پیسوں میں تولنے کا ذریعہ بنا لیا، تو نقصان سب کا ہوگا۔ لیکن اگر ہم نے اسے بھائی چارے کا وسیلہ بنا لیا، تو یہی پانی ہماری آنے والی نسلوں کے لیے رحمت بن سکتا ہے۔

