Youm e Mazdoor
یوم مزدور
"یومِ مزدور" ہر سال آتا ہے اور گزر جاتا ہے مگر محنت کش طبقے کے مسائل وہیں کے وہیں رہتے ہیں۔ عصرِ حاضر میں دنیا کی آبادی کا بڑا حصہ مزدور طبقہ پر مشتمل ہے، کہیں کچھ پڑھے لکھے افراد بھی سفید پوشی میں جسم و جان کا ناطہ برقرار رکھنے کی خاطر تگ و دو میں لگے رہتے ہیں، آپ انھیں ورکنگ کلاس کہہ سکتے ہیں یا پھر مڈل کلاس۔ اگر آپ کے پاس ایک احساس رکھنے والا دل، کیمرے جیسی آنکھ اور غور وفکر کرنے والا دماغ ہے تو اپنے اردگرد ایسے بہت سے افراد دکھائی دیں گے جو اس شدید مہنگائی کے دور میں محنت مشقت کرکے رزقِ حلال کما رہے ہیں۔
ایک مزدور جب گھر سے نکلتا ہے تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ وہ پسینہ بہانے کے لئے نکلا ہے اس نے دھوپ کا سامنا بھی کرنا ہے، وہ صبرو برداشت کے ساتھ جسم و جان کی توانائیاں خرچ کرنے کے لئے نکلا ہے کیوں کہ اس کے کندھوں پر اس کے گھر کی سب ضرورتیں پوری کرنے کا بوجھ لدا ہوا ہے۔ اسے بیوی بچوں اور والدین کے لئے دو وقت کا کھانا مہیا کرنا ہے، مکان کا کرایہ اور بل بھی ادا کرنے ہیں اور دیگر ضروریات کا انتظام بھی اسی نے کرنا ہے۔
پس مبارک ہیں وہ ہاتھ جو اپنے ہاتھ سے کما کر کھاتے ہیں، وہ یقیناً معاشرے کا جوہر ہیں اور مستقبل کے معمار ہیں۔ قومیں محنت سے ہی عظمت پاتی ہیں۔ اس محنت کش طبقے کی ایک قسم وہ بھی ہے جو ہمیں گروسری اسٹورز، ریسٹورنٹس اور پوش علاقوں میں سیکیورٹی گارڈز کی صورت میں نظر آتی ہے۔ موسم سے بے نیاز موٹا کھردرا یونیفارم پہنے، ایک پرانی گن اٹھائے، اپنی ناتواں جان پر سیکیورٹی کی ذمہ داری اٹھا کر سارا دن کھڑے رہتے ہیں۔ ان میں بعض بہت ضعیف افراد بھی نظر آتے ہیں جنہیں دیکھ کے خیال آتا ہے کہ ان کی جوان اولاد کو اب اپنا بوجھ خود اٹھا کے اپنے والد کو آرام کا موقع دینا چاہئیے۔ اس عمر میں بھی باپ اگر سارا دن کھڑے ہوکے ڈیوٹی دیتا ہے تو وہ صرف اپنے لئے نہیں بلکہ پوری فیملی کے لئے اپنی جان داؤ پر لگائے ہوئے ہے۔
سچ کہا ہے کسی نے کہ "روٹی بندہ کھا جاتی ہے!"۔ حکومت سے گزارش ہے کہ محنت کش طبقے کی حالتِ زار کو بدلنے کے لئے خاطر خواہ اقدامات کئے جائیں، مہنگائی کو کم کیا جائے، مزدوروں، سفید پوشوں اور مڈل کلاس کے لئے کم سے کم معاوضے اور تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے، انھیں علاج معالجہ اور تعلیم مفت فراہم کی جائے۔ پٹرول کی قیمت اور دیگر ٹیکسوں میں کمی کی جائے تاکہ عوام کو سکھ کا سانس لینا نصیب ہوسکے۔

