Kya Insaniyat Mar Chuki Hai?
کیا انسانیت مر چکی ہے؟

یہ سوال جذباتی بھی ہے اور فکری بھی۔ اس کا جواب ہاں یا نہ میں دینا آسان نہیں کیونکہ معاشرے زندہ لاشوں کی طرح نہیں ہوتے بلکہ وہ مسلسل بدلتے رہتے ہیں۔ کہیں انسانیت دم توڑتی نظر آتی ہے اور کہیں اسی معاشرے کے اندر کوئی شخص چھوٹی سی بھلائی کرکے اُمید کو زندہ رکھ دیتا ہے۔ پاکستان کی موجودہ صورتحال میں انسانیت ایک شدید دباؤ میں ضرور ہے مگر اسے مکمل طور پر مُردہ کہنا حقیقت سے زیادہ ایک تاثر ہے۔
پاکستان میں عام آدمی کی زندگی مہنگائی کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے۔ آٹا، چینی، بجلی، گیس اور روزمرہ کی اشیاء کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کی رپورٹس بارہا یہ نشاندہی کرتی ہیں کہ ترقی پذیر ممالک میں مہنگائی کا براہ راست اثر معاشرتی اخلاقیات پر پڑتا ہے۔ جب پیٹ خالی ہو تو اُصول کمزور پڑنے لگتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگ یہ سوال اُٹھاتے ہیں کہ کیا انسانیت صرف ایک نظریہ رہ گئی ہے۔
بے روزگاری نے نوجوانوں کو شدید ذہنی دباؤ میں ڈال دیا ہے۔ یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل نوجوان نوکری کی تلاش میں در بدر ہیں۔ جب اُمید ختم ہونے لگتی ہے تو انسان صرف بقا کے بارے میں سوچتا ہے۔ اسی کیفیت کو سماجی ماہرین ایمیل دورکائم نے "انومی" کہا تھا یعنی ایسا معاشرہ جہاں اخلاقی ڈھانچہ کمزور ہوجائے اور فرد خود کو تنہا محسوس کرنے لگے۔
نفسانفسی کا عالم یہ ہے کہ ہر شخص اپنی بقا کے لیے دوسروں سے آگے نکلنے کی دوڑ میں ہے۔ زگمنٹ باؤمن نے جدید معاشرے کو "مائع معاشرہ" کہا تھا جہاں رشتے اور اُصول مستقل نہیں رہتے۔ پاکستان میں بھی یہی کیفیت دکھائی دیتی ہے جہاں تعلقات مفاد کے تابع ہوتے جا رہے ہیں۔
مفاد پرستی اور منافع خوری نے معاشرتی اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ عام آدمی یہ سمجھنے لگا ہے کہ ہر نظام اس کے خلاف کھڑا ہے۔ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹس میں کرپشن انڈیکس بارہا یہ اشارہ دیتا ہے کہ اداروں پر اعتماد کم ہو رہا ہے۔ جب اعتماد ختم ہوتا ہے تو انسانیت صرف ایک لفظ رہ جاتی ہے۔
پیسے کے لالچ نے معاشرتی بیانیہ بدل دیا ہے۔ پہلے عزت، کردار اور اخلاق کو برتری حاصل تھی، اب دولت کو پہچان سمجھا جانے لگا ہے۔ یہ تبدیلی صرف پاکستان تک محدود نہیں بلکہ عالمی سرمایہ دارانہ نظام کا حصہ ہے جہاں انسان کو صرف پیداوار اور کمائی سے جانچا جاتا ہے۔
سوشل میڈیا نے اس صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ایک طرف اس نے آواز کو طاقت دی ہے اور دوسری طرف نفرت اور مقابلے کی دوڑ کو بڑھا دیا ہے۔ لوگ اپنی زندگی کو مصنوعی خوشی کے ساتھ منسوب کرتے ہیں جس سے حقیقی زندگی کی محرومی اور بڑھ جاتی ہے۔ نفسیاتی ماہرین کے مطابق یہ عمل ڈپریشن اور احساسِ کمتری کو بڑھاتا ہے۔
خون کے رشتوں میں بھی دراڑیں آ رہی ہیں۔ خاندان جو کبھی مضبوط اکائی ہوا کرتے تھے، اب بکھرتے دکھائی دیتے ہیں۔ میاں بیوی کے درمیان فاصلے بڑھ رہے ہیں، والدین اور اُولاد میں غلط فہمیاں بڑھ رہی ہیں اور اُستاد شاگرد کا رشتہ بھی پہلے جیسا احترام کھو رہا ہے۔
یہ کہنا کہ سیاست دان، فوج اور کاروباری طبقہ اصل انسانیت کے دُشمن ہیں، ایک عمومی تاثر ہے، جو پورے نظام کو ایک ہی رنگ میں رنگ دکھاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر طبقے میں اچھے اور بُرے لوگ موجود ہیں۔ سماجیات کے ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اداروں کو افراد سے الگ کرکے دیکھا جائے تاکہ تجزیہ زیادہ متوازن ہو۔
اگر ہم عالمی منظرنامہ دیکھیں تو انسانیت کا بحران صرف پاکستان تک محدود نہیں۔ امریکہ، یورپ اور کئی ترقی یافتہ ممالک میں بھی خاندانی ٹوٹ پھوٹ اور ذہنی دباؤ بڑھ رہا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کی رپورٹس کے مطابق دُنیا بھر میں ڈپریشن ایک بڑی بیماری بن چکی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ مسئلہ عالمی ہے نہ کہ صرف مقامی۔
ادب اور فلسفے میں انسانیت کو ہمیشہ ایک مسلسل جدوجہد کے طور پر دیکھا گیا ہے۔ البرٹ کامیو نے کہا تھا کہ "انسان ایک ایسا وجود ہے جو بے معنی دُنیا میں معنی تلاش کرتا ہے"۔ یہ جملہ ہم پاکستانیوں پر بہت حد تک صادق آتا ہے جہاں لوگ مشکلات کے باوجود معنی اور اُمید تلاش کرنے میں یاسیت کا شکار ہیں۔
اگرچہ حالات مشکل ہیں لیکن انسانیت مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔ ہم آج بھی دیکھتے ہیں کہ سیلاب، زلزلے یا کسی بھی آفت کے وقت لوگ ایک دوسرے کے لیے نکل کھڑے ہوتے ہیں۔ چیریٹی ادارے، فلاحی تنظیمیں اور عام شہری مدد کے لیے آگے آتے ہیں۔ یہ رجحان اس بات کا ثبوت ہے کہ انسانیت ابھی زندہ ہے مگر زخمی ضرور ہے۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم منفی واقعات کو زیادہ دیکھتے ہیں اور مثبت پہلوؤں کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ سوشل میڈیا بھی زیادہ تر انہی خبروں کو نمایاں کرتا ہے جو سنسنی خیز ہوں جس سے یہ تاثر مزید گہرا ہو جاتا ہے کہ معاشرہ پوری طرح بگڑ چکا ہے۔
انسانیت کا مطلب صرف اخلاقی اُصول نہیں بلکہ دوسروں کے دُکھ کو محسوس کرنا اور اس پر ردِعمل دینا بھی ہے۔ جب تک معاشرے میں چند لوگ بھی ایسے موجود ہیں جو دوسروں کا درد محسوس کرتے ہیں تب تک انسانیت مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکتی۔
ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ پاکستان ایک بحران سے گزر رہا ہے لیکن اس بحران کا مطلب مایوسی نہیں بلکہ تبدیلی کا موقع ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ قومیں مشکل وقت سے گزر کر بہتر بنتی ہیں۔ شرط یہ ہے کہ ہم اپنی سَمت درست کرنے کی کوشش کریں۔
مذکورہ تمہید سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ ابھی انسانیت مری نہیں ہے بلکہ امتحان سے گزر رہی ہے۔ کچھ لوگ اسے کمزور کر رہے ہیں اور کچھ لوگ اسے بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ فیصلہ ہمارے اجتماعی رویوں پر ہے کہ ہم کس سَمت جانا چاہتے ہیں۔

