1.  Home
  2. Blog
  3. Shams Muneer Gondal
  4. Youm e Mazdoor: Jado Jehad, Qurbani Aur Huqooq Ki Dastan

Youm e Mazdoor: Jado Jehad, Qurbani Aur Huqooq Ki Dastan

یومِ مزدور: جدوجہد، قربانی اور حقوق کی داستان

ہر سال یکم مئی کو دنیا بھر میں یومِ مزدور منایا جاتا ہے۔ یہ دن محنت کشوں کی جدوجہد، قربانیوں اور ان کے حقوق کی یاد دہانی کے طور پر منایا جاتا ہے۔ بظاہر یہ ایک عام تعطیل کا دن محسوس ہوتا ہے، مگر اس کے پس منظر میں ایک طویل، پُرآشوب اور تاریخ ساز داستان پوشیدہ ہے۔

یومِ مزدور کی ابتدا انیسویں صدی کے آخر میں امریکہ سے ہوئی، جب صنعتی انقلاب نے پیداوار میں اضافہ تو کیا مگر انسان کو مشین کا پرزہ بنا دیا۔ کارخانوں میں مزدوروں سے طویل اوقات کار لیا جاتا تھا، 12 سے 16 گھنٹے تک مسلسل مشقت، مگر نہ مناسب اجرت تھی اور نہ ہی انسانی وقار کا خیال رکھا جاتا تھا۔ ایسے میں مزدوروں نے اپنے وجود کو منوانے کے لیے آواز بلند کی اور آٹھ گھنٹے کے اوقات کار کے مطالبے کے ساتھ ایک انقلابی تحریک کا آغاز کیا۔

یکم مئی 1886 کو شکاگو کی سڑکیں مزدوروں کے نعروں سے گونج اٹھیں۔ یہی وہ لمحہ تھا جب تاریخ نے کروٹ لی۔ "ہے مارکیٹ واقعہ" نے اس تحریک کو خون سے سینچا اور اگرچہ کئی جانیں ضائع ہوئیں، مگر انہی قربانیوں نے مزدور حقوق کی بنیادوں کو مضبوط کیا۔ یوں دنیا نے پہلی بار یہ اصول تسلیم کیا کہ انسان مشین نہیں، اسے کام کے ساتھ آرام اور زندگی کا بھی حق حاصل ہے۔

یومِ مزدور ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ حقوق کبھی عطا نہیں کیے جاتے، بلکہ انہیں جدوجہد کے ذریعے حاصل کرنا پڑتا ہے۔ یہ دن صرف ماضی کی یاد نہیں بلکہ حال کا آئینہ بھی ہے، جو ہمیں دکھاتا ہے کہ ترقی کے دعووں کے باوجود مزدور آج بھی کئی مسائل کا شکار ہیں۔

آج کی دنیا میں اگرچہ ٹیکنالوجی نے ترقی کے نئے دروازے کھول دیے ہیں، مگر مزدور کے مسائل نے بھی نئی شکلیں اختیار کر لی ہیں۔ کہیں کنٹریکٹ سسٹم نے تحفظ چھین لیا ہے، کہیں مہنگائی نے اجرت کی قدر کم کر دی ہے اور کہیں جدید غلامی کی صورت میں جبری مشقت اب بھی زندہ ہے۔ یہ حالات ہمیں جھنجھوڑتے ہیں کہ کیا ہم واقعی ایک منصفانہ معاشرہ تشکیل دے سکے ہیں؟

پاکستان میں یومِ مزدور سرکاری طور پر منایا جاتا ہے، تقاریب منعقد ہوتی ہیں، بیانات دیے جاتے ہیں، مگر اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ سب عملی تبدیلی میں ڈھلتا ہے؟ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم رسمی نعروں سے آگے بڑھ کر مزدوروں کو تعلیم، صحت اور محفوظ روزگار کی ضمانت دیں۔ ایک ایسا نظام تشکیل دینا ہوگا جہاں محنت کو عزت ہی نہیں بلکہ انصاف بھی ملے۔

حقیقت یہ ہے کہ مزدور صرف معیشت کا پہیہ نہیں گھماتے بلکہ وہ سماج کی روح کو زندہ رکھتے ہیں۔ ان کے ہاتھوں کی محنت میں قوموں کی تقدیر لکھی جاتی ہے۔ اگر ہم ایک روشن مستقبل چاہتے ہیں تو ہمیں مزدور کو محض ایک طبقہ نہیں بلکہ ایک طاقت سمجھنا ہوگا، ایسی طاقت جو اگر سنبھل جائے تو قوم کو بلندیوں تک لے جا سکتی ہے۔

آخر میں، یومِ مزدور ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ انصاف، برابری اور انسانی وقار کے بغیر ترقی محض ایک سراب ہے۔ ایک حقیقی ترقی یافتہ معاشرہ وہی ہوتا ہے جہاں مزدور کو اس کا حق، اس کی محنت کا صلہ اور اس کی زندگی کا احترام دیا جائے۔

Check Also

Eteraf: Mustafa Zaidi

By Asif Masood