Wednesday, 29 April 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Fahad Ali Khan
  4. Americi Bhaag Gaye

Americi Bhaag Gaye

امریکی بھاگ گئے

دنیا کے نقشے پر موجود خود کو "سپر پاور" کہلوانے والا امریکا درحقیقت اس خطے کا وہ بدمعاش ہے جس کی اصلیت اب اس کے اپنے ہی شہریوں پر کھُل کر واضح ہو چکی ہے۔ یہ وہ نام نہاد عالمی امن کا ٹھیکیدار ہے جو برسوں سے انسانی حقوق اور جمہوریت کا لبادہ اوڑھ کر دوسروں کو اخلاقیات کا درس دیتا رہا، مگر آج اس کے اپنے گھر کی دیواریں اس قدر بوسیدہ ہو چکی ہیں کہ وہاں کے باشندے اس سرزمین سے بھاگنے کے لیے ایڑیاں رگڑ رہے ہیں۔

بڑا آیا یہ خطے کا بدمعاش بننے والا، جس سے اپنے ملک کے داخلی بحران سنبھالے نہیں جاتے، جس کی معیشت قرضوں تلے دبی ہے اور جس کا سماجی نظام نفرت کی آگ میں جل رہا ہے۔ مگر فرعونیت کا عالم یہ ہے کہ اب بھی زبان پر صرف جنگوں کی دھمکیاں اور دوسرے ملکوں کی تباہی کا راگ الاپا جاتا ہے۔ دوسروں کو آگ اور خون میں دھکیلنے والا یہ ملک آج خود اپنے ہی لوگوں کے لیے ایک جہنم بنتا جا رہا ہے۔

گزشتہ ایک سال میں آئرش شہریت کی درخواستوں میں 63 فیصد اضافہ اور 2025 میں اس تعداد کا 18,910 تک جا پہنچنا اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکی عوام اب اپنے ہی پرچم تلے سانس لینے کو موت کا پیغام سمجھنے لگے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے جابرانہ صدارتی احکامات، ٹیرف کے نام پر معاشی دباؤ اور مخصوص طبقات کو دیوار سے لگانے کی پالیسیوں نے اس آزاد ملک کو ایک ایسی جیل میں بدل دیا ہے جہاں انسانی اقدار کی کوئی وقعت نہیں۔

یہ عالمی سطح پر کسی مذاق سے کم نہیں کہ جو ریاست دوسروں کو سیاسی پناہ دینے کے دعوے کرتی تھی، آج اسی کے شہری برطانیہ اور آئرلینڈ جیسے ممالک میں پناہ لینے پر مجبور ہیں۔ برطانیہ کی جانب ہجرت میں 42 فیصد اضافہ اس حقیقت کو عیاں کرتا ہے کہ اب امریکی پاسپورٹ فخر کی علامت نہیں بلکہ ایک بوجھ بنتا جا رہا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ جب کسی ملک کی سیاست انسانی بحران کی شکل اختیار کر لے اور ریاست اپنے ہی شہریوں کے لیے مسائل پیدا کرنے لگے، تو اس کا انجام رسوائی کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ یہ طاقت کا وہ مینار ہے جو انصاف کے بجائے تکبر پر کھڑا ہے اور ایسے مینار زیادہ دیر قائم نہیں رہتے۔

اپریل 2025 تک ہزاروں امریکیوں کا مستقل ہجرت کر جانا اس نام نہاد ترقی یافتہ معاشرے کے لیے ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ یہ دراصل اس ریاستی بیانیے کی شکست ہے جو دہائیوں تک دنیا کو متاثر کرتا رہا۔ جب قیادت اپنی تمام تر توانائی بیرونی مداخلت اور جنگی جنون پر صرف کر دے، جبکہ اندرونی طور پر بے روزگاری، گن وائلنس اور سماجی ٹوٹ پھوٹ بڑھ رہی ہو، تو ایسی ریاست کا زوال ناگزیر ہو جاتا ہے۔

یہ کھلا تضاد اب امریکی عوام کی برداشت سے باہر ہو چکا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ اپنی شناخت اور مستقبل کو نئے سرے سے ترتیب دینے کے لیے دوسرے ممالک کا رخ کر رہے ہیں۔ امریکا کے لیے یہ محض ایک سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ اس کی ساکھ کا بحران ہے، جس کی بازگشت پوری دنیا میں سنائی دے رہی ہے۔

Check Also

Khoon Behta Hai To Tehzeeb Hai Matam Karti

By Abdul Hannan Raja