Thursday, 23 April 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Syed Mehdi Bukhari
  4. Hum Sub Rewar Ka Hissa Hain

Hum Sub Rewar Ka Hissa Hain

ہم سب ریوڑ کا حصہ ہیں

کبھی کبھی یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہم سب ریوڑ کا حصہ ہیں۔ چل تو رہے ہیں، مگر یہ جانے بغیر کہ کہاں جانا ہے۔ راستہ اپنا نہیں، سمت اپنی نہیں اور سوچ بھی اپنی نہیں۔ بس ایک شور ہے، ایک ہجوم ہے اور اس ہجوم کے اندر ایک عجیب سا قرار بھی ہے۔ وہ قرار جو اپنی ذمہ داریوں سے فرار میں ملتا ہے۔

یہ وہی مقام ہے جہاں انسان اپنے اندر جھانکنا چھوڑ دیتا ہے اور دوسروں میں جھانکنا شروع کر دیتا ہے۔ جہاں دلیل کی جگہ آواز اونچی ہونے لگتی ہے اور جہاں برداشت ایک ناپید شے ٹھہرتی ہے۔ صبح سے شام تک روزگار کی الجھنوں میں الجھا انسان، رات کو سوشل میڈیا کی پناہ میں آ جاتا ہے۔ وہاں وہ تھکن نہیں اتارتا، بلکہ اپنے اندر کی کڑواہٹ انڈیلتا ہے۔ دو چار جملے کسی پر اچھال دیے، کچھ طنز کے تیر چلا دیے، چند ویڈیوز پر ہنس لیا اور یوں اسے محسوس ہوتا ہے کہ اس نے دن کا حساب چکا دیا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ صرف وقت کا قرض بڑھا رہا ہوتا ہے۔ ہر نیا دن ایک نئے ایشو کے ساتھ طلوع ہوتا ہے اور ہر رات اسی ایشو کے شور میں ڈوب کر ختم ہو جاتی ہے۔ یہ ایک ایسا چکر ہے جس میں نہ سوچ بدلتی ہے، نہ زندگی۔ بس الفاظ بدلتے ہیں، چہرے بدلتے ہیں اور موضوعات بدل جاتے ہیں مگر ذہن وہی رہتا ہے، بند، تھکا ہوا اور منتشر۔

ہمیں شاید یہ احساس ہی نہیں رہا کہ قومیں گالم گلوچ سے نہیں، محنت سے بنتی ہیں اور ترقی شور سے نہیں، شعور سے آتی ہے۔ یہ کائنات ایک سادہ اصول پر چلتی ہے جس کو قرآنی آیت نے بیان کر دیا ہے۔ "ہر انسان کے لیے وہی ہے جتنی اس نے سعی کی"۔ مگر ہم نے سعی کو چھوڑ کر صرف شکایت کو اپنا شعار بنا لیا ہے۔ ہم مواقع تلاش نہیں کرتے، بہانے تلاش کرتے ہیں۔ ہم ہنر نہیں نکھارتے، دوسروں کی خامیاں گنتے ہیں اور سب سے بڑھ کر ہم اپنی قدر پہچاننے سے قاصر رہتے ہیں۔ حالانکہ ہر انسان کے اندر کوئی نہ کوئی صلاحیت ضرور ہوتی ہے۔ کوئی لفظوں سے دنیا جیت لیتا ہے، کوئی تصویروں سے، کوئی ہنر سے اور کوئی محض اپنی مستقل مزاجی سے۔ فرق صرف یہ ہے کہ کچھ لوگ اپنی صلاحیت کو پہچان لیتے ہیں اور کچھ ساری عمر اسی تلاش میں گزار دیتے ہیں۔

زندگی دراصل ایک آئینہ ہے۔ جب تک ہم دوسروں کو دیکھتے رہیں گے، اپنا عکس دھندلا ہی نظر آئے گا۔ جس دن نگاہ اپنے اندر اترے گی اسی دن راستہ بھی صاف ہونے لگے گا۔ یہ سچ ہے کہ وقت بہت تیزی سے گزر رہا ہے اور یہ بھی سچ ہے کہ ہم میں سے اکثر لوگ اسے صرف گزرتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔ استعمال نہیں کر رہے۔

وسائل قلیل ہوں یا نہ بھی ہوں تو بھی وقت کو وسائل کا متبادل بنایا جا سکتا ہے۔ وقت کو سرمایہ سمجھنے والی قوموں میں باقاعدہ حساب رکھا جاتا ہے کہ قوم نے اجتماعی طور پر کتنے پیداواری گھنٹے برتے یا ضائع کیے اور اس اسراف کو اگلے ہفتے، مہینے یا برس میں کیسے کم سے کم کیا جا سکتا ہے۔ آپ نے کبھی غور فرمایا کہ انگریز نے برِصغیر کے ہر اہم شہر میں گھنٹہ گھر کیوں بنوائے تھے؟ جب پہلی جماعت میں داخل ہوئے تو کلاس روم کی دیواروں پر موٹا موٹا خوشخط لکھا پاتے تھے کہ گیا وقت پھر ہاتھ آتا نہیں، وقت کی قدر کرو، وقت بڑی دولت ہے، آج کا کام کل پر نہ ٹالو وغیرہ وغیرہ۔

ہو سکتا ہے یہود و ہنود خصوصی طور پر پاکستانیوں کے ازلی دشمن ہوں مگر کیا یہ بھی اغیار کی سازش ہے کہ ہم اپنے ذمے لگا کام بھی وقت پر مکمل نہ کر پائیں؟ کسی بھی شادی غمی میں وقت پر پہنچنے کو بے وقوفی سمجھیں؟ کسی بھی بڑے یا چھوٹے منصوبے کی ڈیڈ لائن ہمارے لیے مقدس نہ ہو؟ امپورٹ ایکسپورٹ کا کوئی بھی آرڈر یہ جانے بغیر لیتے چلے جائیں کہ یہ بر وقت مکمل نہ ہو سکا تو بے عزتی ہوگی۔ یہ بھی ہماری سوچ نہیں کہ زیادہ سے زیادہ سرگرمی اور کاروبار دن کی روشنی میں کریں تاکہ توانائی اور وسائل اگلے روز کام آ سکیں اور دنیا بھر میں ڈے لائٹ سیونگ جیسا ایک عمل بھی مہذب قوموں نے اپنایا ہے یہ بھی کسی چڑیا کا نام ہوتا ہے۔

آپ کسی سے بھی وقت مانگ کے دیکھ لیں اکثر یہی سننے کو ملے گا شام کے بعد جب چاہے مل لو، صبح آجاؤ۔ وزیر سے پوچھیں یہ منصوبہ کس تاریخ تک مکمل ہوگا، وہ کہے گا سال چھ مہینے میں۔ اگر اصرار کریں کہ اندازاً کس تاریخ تک؟ تو وہ الٹا آپ سے پوچھ سکتا ہے کہ پاکستان میں رہتے ہو یا فرانس میں؟ قوم کے غم میں مرا جانے والا ہر رہنما کیسی آسانی سے کہہ کر جان چھڑا لیتا ہے کہ ہمارے پاس الہ دین کا چراغ نہیں کہ راتوں رات سب ٹھیک ہو جائے۔ مگر کتنے لوگ جانتے ہیں کہ وقت ہی دراصل الہ دین کا چراغ ہے اور یہ چراغ سب کے پاس ہے لیکن شعور کم کم ہے۔ چونکہ وقت ہی سیدھا نہیں ہو پا رہا اس لیے کچھ بھی سیدھا نہیں ہو پا رہا۔

حیرت ہے جس ملک کی آدھی آبادی خطِ غربت سے نیچے ہو، جہاں افرادی قوت کی کمی نہ ہو، وہاں اکثریت کے پاس فرصت ہی فرصت ہے۔ یہ کوئی المیہ ہی نہیں کہ صبح سے رات تک ہر قصبے اور بستی کے چائے خانے اپنا کام کسی اور پر ڈالنے والے ویہلے لوگوں سے کچھا کھچ بھرے رہتے ہیں۔ دن باتوں، تبصروں، موبائل اور غیبتوں میں گزر جاتا ہے اور رات کی قبر سے اٹھنے والا ایک نیا دن پھر سے سب کو دبوچ لیتا ہے۔ دن دبے پاؤں مہینوں اور برسوں اور عشروں میں بدلتے جاتے ہیں اور خواب میں ترقی کے عادی لوگوں کی اکثریت سے قبرستان بھرتے جاتے ہیں۔

Check Also

Great Game (4)

By Javed Chaudhry