Masnoi Kokh
مصنوعی کوکھ

بالی وڈ ہو یا ہالی وڈ، آج کل ایک نیا رجحان زور پکڑ رہا ہے جسے Gestational Surrogacy (کرائے کی کوکھ) کہا جاتا ہے۔ شاہ رخ خان کے بیٹے ابرام خان ہوں، عامر خان کے بیٹے آزاد راؤ خان، پریانکا چوپڑا کی بیٹی مالتی میری یا پھر دنیا کے امیر ترین انسان ایلون مسک کی بیٹی ایگزا ڈارک سیڈریل، ان تمام نامور شخصیات نے اپنی اولاد کے لیے روایتی حمل کے بجائے سائنسی متبادل کا سہارا لیا۔ یہ مثالیں ثابت کرتی ہیں کہ اب انسانی تخلیق کے لیے "ماں کی کوکھ" کا متبادل ڈھونڈنا ایک عام سماجی حقیقت بن چکا ہے۔
انسانوں پر اس ٹیکنالوجی کے باقاعدہ اطلاق سے پہلے، سائنس دان دہائیوں سے جانوروں پر کامیاب تجربات کر رہے ہیں۔ 1996 میں Somatic Cell Nuclear Transfer (SCNT) کے ذریعے "ڈولی" بھیڑ کی کلوننگ نے ثابت کیا کہ پیدائش کے روایتی طریقے بدلے جاسکتے ہیں۔ 2017 میں فلاڈیلفیا کے سائنسدانوں نے "Biobag" (مصنوعی کوکھ) میں بھیڑ کے بچے کو کامیابی سے پروان چڑھایا۔ حال ہی میں اسرائیل کے ویز مین انسٹی ٹیوٹ نے چوہے کے جنین (Embryo) کو مکمل طور پر ماں کے رحم سے باہر تیار کرکے اس مفروضے کو حقیقت کے قریب کر دیا ہے۔
ہیومنائیڈ روبوٹ: قانونی "ریپ" کا متبادل
تصور کریں، اگر یہی ٹیکنالوجی ایک خوبصورت Humanoid Robot (انسان نما روبوٹ) کے اندر منتقل کر دی جائے۔ موجودہ دور میں Marital Rape (ازدواجی ریپ) یا بیوی کی مرضی کے بغیر تعلق کو جرم قرار دینے والے قوانین سخت ہو رہے ہیں۔ جہاں شادیاں محض ایک "لیگل کنٹریکٹ" بن رہی ہیں، وہاں یہ خوبصورت ہیومنائیڈ روبوٹ ایک "بفر" یا متبادل ثابت ہو سکتی ہے۔ یہ شوہر کی جذباتی اور جنسی تسکین کا ذریعہ بن کر اسے قانونی پیچیدگیوں، ذہنی تناؤ اور زبردستی کے جرم سے بچائے گی، جس سے گھر کا سکون برقرار رہے گا۔
مصنوعی کوکھ اور جینیاتی تطہیر
اگر جینیاتی مواد (Egg and Sperm) اصل والدین کا ہی ہو، تو اس روبوٹک جسم کے اندر نصب نظام Clustered Regularly Interspaced Short Palindromic Repeats (CRISPR) جیسی جین ایڈیٹنگ ٹیکنالوجی کے ذریعے کسی بھی موروثی بیماری یا جسمانی نقص کو حمل کے آغاز میں ہی ختم کر سکے گا، جس سے والدین کو معذور بچے کی پیدائش کی ذہنی کوفت سے نجات ملے گی۔
2017 میں سعودی عرب نے Sophia نامی روبوٹ کو شہریت دے کر یہ ثابت کیا کہ اب مشینیں صرف ٹولز نہیں رہیں۔ شہریت کا مطلب ہی "حقوق" ہیں۔ کل کو اگر یہ مشینیں گھروں میں "مصنوعی حمل" کی ذمہ داری اٹھاتی ہیں، تو انہیں قانوناً ایک "ڈیجیٹل نرس" یا "سرپرست" کا درجہ حاصل ہوگا۔
قرآن پاک میں مدتِ حمل اور دودھ پلانے کا مجموعی عرصہ 30 ماہ بتایا گیا ہے (سورۃ الاحقاف: 15)، جس سے کم از کم مدتِ حمل 6 ماہ نکلتی ہے۔ جدید میڈیسن کے مطابق 24 سے 26 ہفتوں کا بچہ انکیوبیٹرز میں زندہ رہ سکتا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی اسی 6 ماہ کی مشقت (حملتہ امہ کرھا) کو مشین کے سپرد کرکے عورت کو تکلیف سے نجات دلانے کا ایک حل پیش کرتی ہے۔
خلاصہ و نتائج
اس بحث کا نچوڑ ان نکات میں ہے:
جدید عورت اور پروفیشنل ذمہ داریاں: آج کی عورت پائلٹ، فوجی اور ڈاکٹر کے طور پر مشکل ترین فرائض سرانجام دے رہی ہے۔ مستقبل کی ورکنگ ویمن کے لیے یہ روبوٹک ٹیکنالوجی ایک "آیا نما سہولت" ہوگی جو اسے کیریئر کی ذمہ داریاں نبھانے میں مدد دے گی، جبکہ بچہ محفوظ مشینی نگرانی میں پروان چڑھے گا۔
قرآن کا تصورِ "خلقِ جدید": قرآن کا تصورِ "خلقِ جدید" انسان کو قیامت تک آزماتا رہے گا۔ جس طرح قدیم انسان پودوں کی پیوند کاری کرتا تھا، مستقبل میں یہ "ڈیجیٹل تولید" بھی ایک عام علم بن جائے گا۔
وقت کا اجتہاد: یہ آنے والے وقت کا ایک بڑا فقہی مسئلہ ہوگا۔ جس طرح کرونا نے "صفوں میں فاصلے" کا اجتہاد کرایا، اسی طرح خاندانی نظام کو بچانے کے لیے لوگ گھر میں روبوٹ رکھنا پسند کریں گے تاکہ بے وفائی اور قانونی جنگ سے بچا جا سکے۔
سائنسی مفروضہ بمقابلہ عقیدہ: یہ تمام باتیں سائنسی مفروضے ہیں جو اے آئی (AI) کی بالادستی میں ابھر رہے ہیں۔ بحیثیتِ مسلمان، میرا اللہ کی ذات اور دینِ اسلام پر مکمل یقین ہے اور میں ان تمام کاموں کو حرام سمجھتا ہوں۔ لیکن مستقبل کی جو تصویر ابھر رہی ہے، اسے بیان کرنا ضروری تھا تاکہ ہم آنے والے فکری چیلنجز کو سمجھ سکیں۔

