Soo e Madina, Kash Waqt Tham Jaye
سوئے مدینہ، کاش وقت تھم جائے

میرا حج بیت اللہ کے موقع پر خصوصی اور خوبصورت ایڈیشن روزنامہ سرزمین لاہور میں شائع ہوا تو میری تحریر کے ساتھ ساتھ اس کی شاندار کمپوزنگ کو بھی بے حد سراہا گیا۔ میرئے قارئین نے میری حوصلہ افزائی کرتے ہوئے اسے سال کا بہترین اور خوبصورت ترین ایڈیشن قرار دیا ہے جبکہ میں نے تو سادہ سے لفظوں میں اپنے دلی جذبات ہی پیش کئے تھے۔ میں روزنامہ سرزمین لاہور کے چیف ایڈیٹر جناب رانا صفدر علی خان کی اور اس ادارئے کے تمام دوستوں کا اس مقدس کاوش پر تہہ دل سے شکرگزار ہوں جن کی محنت اور توجہ نے مجھ جیسے ناچیز کے لفظوں کو اس خوبصورتی سے پیش کیا۔
میرے ایک قاری نے یہ ایڈیشن پڑھ کر مجھ سے پوچھا کہ حج کے بعد مدینے کا سفر ابھی باقی ہے اس لیے اپنے قلم کا رخ سوئے مدینہ کرلیں تو اس سفر کا لطف دوبالا ہو جائے گا۔ یہی وجہ ہے جس نےآج مجھے " لبیک اللہم لبیک" سے "لبیک یا رسول اللہ" کہنے اور لکھنے کی سعادت بخشی ہے۔ مجھے یاد ہے کہ جب میں پہلی مرتبہ عمرہ کے لیے گیا تھا تو لوگ مجھ سے پوچھتے تھے کہ وہاں کی روداد بتاو تو میں کہتا تھا کہ کعبہ پر پہلی نظر اور روضہ رسول پر آخری نظر بس یہی سب کچھ ہے۔ نہ آنسوں وہاں رکتے ہیں اور نہ آنسوں یہاں رکتے ہیں۔ یہ دونوں لمحات ایک ایسی روحانی کشش پیدا کرتے ہیں جسے الفاظ میں مکمل طور پر بیان کرنا مشکل ہے۔ مسجد الحرام انسان کو بندگی سکھاتی ہے جبکہ مسجد نبوی محبت، ادب، انسانیت اور نسبت رسول ﷺ کا درس دیتی ہے۔ شاید اسی لیے حج مکمل ہونے کے بعد دل کہتا ہے کہ اب اس بستی رسول ﷺ میں بھی حاضر ہوں جن کی تعلیمات نے حج کا مفہوم سمجھایا اور پھر حجاج کے زبان اور دل بے ساختہ پکار اٹھتے ہیں الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلَیُکَ یَا رَسُولَ اللہِ ﷺ
"اللہ کی رحمتیں، برکتیں اور سلامتی آپ پر ہوں، اے اللہ کے رسول ﷺ"۔
محمد ﷺ کی محبت دین حق کی شرط اول ہے
اسی میں ہو اگر خامی تو سب کچھ نامکمل ہے
حج کے میدانوں میں گونجنے والی صدا "لبیک اللہم لبیک" بندۂ مومن کے اس عہد کی تجدید ہے کہ اے اللہ! میں حاضر ہوں، تیرے حکم پر حاضر ہوں، تیری بندگی کے لیے حاضر ہوں۔ یہ اطاعت، عاجزی اور کامل سپردگی کا اعلان ہے اور یہ کامل سپردگی اور بے خودی اس محسن انسانیت کی جانب سے ملتی ہے جس نے اپنے رب کا پیغام انسان تک پہنچا یا۔ یہی بے خودی حجاج کو عبادات کی لذت کے بعد عشق رسول میں سرشار ہوکر سوئے مدینہ کی جانب کھینچ لیتی ہے اور جب عاشقِ رسول ﷺ "لبیک یا رسول اللہ" کہتا ہے تو اس کا مفہوم یہ ہوتا ہے کہ یا رسول اللہ ﷺ! آپ جو پیغام لے کر آئے، ہم اس پر چلنے کے لیے حاضر ہیں، آپ کی سنت سے محبت اور آپ کی تعلیمات پر عمل کے لیے حاضر ہیں۔
یہ نعرہ دراصل محبت، وفاداری اور اتباعِ رسول ﷺ کا اظہار ہے، عبادت کا نہیں، کیونکہ عبادت صرف اللہ تعالیٰ کی ذات کے لیے ہے۔ یوں کہا جا سکتا ہے لبیک اللہم لبیک" بندگی کا اقرار ہے اور "لبیک یا رسول اللہ" محبت و اطاعتِ رسول ﷺ کا اظہار۔ ایک لبیک میں ربِ کائنات کے حضور حاضری ہے، دوسرے لبیک میں اُس عظیم ہستی ﷺ سے وفاداری کا اعلان جس نے انسانیت کو رب تک پہنچنے کا راستہ دکھایا۔
خدا کا ذکر کرئے ذکر مصطفیٰ ﷺ نہ کرئے
ہمارئے منہ ہو ایسی زباں خدا نہ کرئے
لبیک یاخدا سے دل میں ایمان جگا رہے ہیں جبکہ لبیک یا رسول اللہ ﷺ سے ہم اپنے پیارئے نبی ﷺ سے رشتہ نبھا رہے ہیں۔ راہ خدا بھی وہی عشق نبی بھی وہی ہم دین محمد ﷺ کا پرچم اٹھا ئے سوئے مدینہ رواں ہوتے ہیں۔ دیدار روضہ رسول ﷺ کی زندگی بھر کی خواہش اور ارمان لیے دیوانہ وار طیبہ کی سرزمین پر قدم رکھنے کا سوچ کر ہی دل مچلنے لگتا ہے۔ کہتے ہیں کہ مدینہ منورہ کا سفر دنیا کا حسین ترین سفر ہوتا ہے جہاں اپنی زندگی بھر کی عبادتوں کو عشق محمدﷺ کی سرشاری سے مکمل کرنے کی خواہش گنبد خضراء کو تصور ہی تصور میں سامنےلے آتی ہے۔ مدینہ کی جانب سفر صرف جغرافیائی سفر نہیں بلکہ ایک روحانی اور جذباتی سفر ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں عاشقان رسول ﷺ کی آنکھوں کو ٹھنڈک اور دلوں کو قرار ملتا ہے۔ بے شک کائنات بھر میں امن وسلامتی اور انسانی وقار کی ضمانت درگاہ مصطفیٰ سے وابستہ ہے۔
جب تصور میں نبی کا رخ زیبا دیکھوں
عبد کے روپ میں معبود کا چہرہ دیکھوں
مدینہ منورہ کائنات ارض و سماوات کا وہ نگینہ ہے جہاں ہر لمحہ آسمان سے رحمت کی رم جھم ہوتی رہتی ہے۔ درود و سلام کی آوازیں وہاں کی فضاوں کو معطر رکھتی ہیں۔ عشاق کے قافلے اور فرشتے جوق درجوق آنسوں اور آہوں کے ساتھ اس بارگاہ عرش آستاں پر حاضری دینے کا شرف حاصل کرتے ہیں اور دہلیز رسول پر تعطیم وتکریم سے بوسے کی سعادت حاصل کرتے ہیں۔ میلوں دور سے ہی عاشقان رسول کی آنکھیں مسجد نبوی کے میناروں کودیکھنے کی کوشش کرتی ہیں۔ جوں جوں مدینہ قریب آتا ہے دلوں کی دھڑکن بڑھنے لگتی ہے۔
محبت و عقیدت کی ایک عجیب سی کشش اپنی جانب کھنچے چلی جاتی ہے۔ بےشک یہ راہ حق ہے یہاں سنبھل کر چلنا ہے۔ یہاں دین ودنیا کے سکون کا قیمتی سرمایہ انسان کی آمد کا منتظر ہوتا ہے۔ روضہ رسول پر حاضری اور بےقراری کی کیفیت میں آنسوں سے لبریز سلام اور پھر ریاض الجنہ میں دورکعت نماز کی سعادت ان لمحات میں سے ایک ہے جنہیں حجاج اپنی زندگی کا سب سے قیمتی روحانی تضربہ قرار دیتے ہیں۔ جب کوئی شخص روضۂ رسول ﷺ کے سامنے کھڑا ہو کر "السلام علیک یا رسول اللہ" عرض کرتا ہے تو اکثر اس کی برسوں کی تمنائیں، دعائیں اور محبتیں ایک لمحے میں سمٹ آتی ہیں۔ بہت سے لوگ جو عام حالات میں اپنے جذبات پر قابو رکھتے ہیں، وہاں پہنچ کر بے اختیار اشک بہانے لگتے ہیں۔ زبان پر سلام ہوتا ہے مگر دل میں شکر، عقیدت، محبت اور اپنی کوتاہیوں کا احساس موجزن ہوتا ہے۔
اسی طرح ریاض الجنہ میں دو رکعت نماز ادا کرنا بھی دلوں میں ایک منفرد کیفیت پیدا کرتا ہے۔ حدیثِ مبارکہ میں اسے جنت کے باغوں میں سے ایک باغ قرار دیا گیا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ جیسے دل پر برسوں سے جمی گرد دھل گئی ہو۔ اس نسبت کی وجہ سے نمازی خود کو ایک غیر معمولی روحانی ماحول میں محسوس کرتا ہے۔ وہاں نماز کے دوران اکثر لوگوں کے دل نرم ہو جاتے ہیں، دعاؤں میں خشوع بڑھ جاتا ہے اور انسان دنیا کی مصروفیات اور پریشانیوں سے کٹ کر اپنے رب کے سامنے حاضر ہونے کا احساس کرتا ہے۔ مسجد نبوی میں کم از کم چالیس باجماعت نمازیں ادا کرنے کے ساتھ ساتھ ہر نماز کے بعد روضہ رسول پر حاضری اور سلام کا شرف اور پھر مدینے کی زیارات اور تاریخی مقامات کی زیارت کا شرف بھی حاصل ہوتا ہے۔
اس دوران البتہ ہر شخص کی کیفیت ایک جیسی نہیں ہوتی۔ کوئی اشکوں میں ڈوب جاتا ہے، کوئی خاموشی میں گم ہو جاتا ہے، کوئی شکرکے سجدوں میں اپنے رب سے راز و نیاز کرتا ہے اور کوئی اپنے والدین، اہلِ خانہ اور پوری امت کے لیے دعائیں مانگتا ہے۔ لیکن ایک بات اکثر مشترک ہوتی ہےکہ وہاں سے اٹھتے وقت دل یہ محسوس کرتا ہے کہ وقت تھم جاتا تو کتنا اچھا ہوتا۔ نخلستان مدینہ کی کھجوریں اور مدینے کے باسیوں کی مہمان نوازی کی روایت دل موہ لیتی ہے۔ حجاج کو مدینے کا قیام اپنے طویل حج کا قدرت کی جانب سے ایک خوبصورت انعام محسوس ہوتا ہے۔
بےشمار لوگوں کو میں نے سبز گنبد کو بس دیکھتے ہی پایا ہے شاید وہ اس منظر کو اپنی آنکھوں اور دلوں میں نقش کرنا چاہتے ہیں اور پھر حضور ﷺ کی بارگاہ سے جدائی کا لمحہ آپہنچتا ہے۔ الوداعی سلام کے دوران ایک عجیب سے سی رقت طاری ہو جاتی ہے۔ ہر زائر اس دعا اور امید کے ساتھ رخصت ہوتا ہے کہ اللہ اسے ایک مرتبہ پھر حاضری کو موقعہ ضرور دے گا۔ وہ مڑ مڑکر دور تک روضہ رسول اور مسجد نبوی کو دیکھتا جاتا ہے اور روتا جاتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ حج بندئے کو اللہ کے قریب کرتا ہے اور مدینہ اسے رسول اکرم ﷺ کی محبت سے سرشار کر دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حجاج کرام کے لیے حج کا یہ مقدس سفر مدینے کی حاضری پر جاکر ایک روحانی تکمیل محسوس کرتا ہے۔ یہ وہ کیفیت ہے جسے پڑھا جاسکتا ہے، سنا جاسکتا ہے مگر محسوس صرف وہی کر سکتا ہے جسے مدینے کی حاضری نصیب ہو تی ہے۔

