Wednesday, 29 April 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Abdul Hannan Raja
  4. Khoon Behta Hai To Tehzeeb Hai Matam Karti

Khoon Behta Hai To Tehzeeb Hai Matam Karti

خون بہتا ہے تو تہذیب ہے ماتم کرتی

خبر کے مطابق اقوام متحدہ کی ڈپٹی سیکرٹری جنرل آمنہ جے محمد نے کہا ہے کہ دنیا پر درندوں کا قبضہ ہے۔ بین الاقوامی برادری کی بے حسی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر سکوت اور عالمی قوانین کی ناکامی کو بھی انہوں نے سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ ماتم کننداں تہذیب ہے اور درندگی کی نئی امثال۔ اسی تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے ہی شاید امریکی صدر نے تاریخ کا سب سے بڑا دفاعی بجٹ 81 کھرب 27 ارب مانگ لیا۔

ظاہر ہے امریکی بجٹ کا یہ حصہ انسانیت کی فلاح پر تو خرچ ہونا نہیں اس کے لیے اس نے نئے محاذ ڈھونڈنے ہیں اور امریکی اسلحہ کی کھپت کے انتظام بھی کرنا ہے کہ ہر صدارتی مہم میں اسلحہ ساز کمپنیاں ہی فنڈ ریزنگ مہم میں پیش پیش، پھر دفاعی بجٹ کا بڑا حصہ دنیا میں فتنہ و فساد کی جڑ اسرائیل کے لیے بھی تو مختص کیا جانا مقصود کہ جس کی وجہ سے ایک طرف عربوں کو ڈرا دھمکا کر دفاع کے نام پر ان سے اربوں بٹورنا تو دوسری طرف ان پر اپنا دبدبہ قائم رکھنا۔

اسرائیل تو اقوام عالم کا وہ بگڑا لاڈلا کہ وہ جب چاہے جہاں چاہے عالمی قوانین کی دھجیاں بکھیرے مگر مجال کہ دنیا کی بڑی اور نام نہاد جمہوریتوں کو اس کی مذمت تک کی توفیق ہو۔ برکس جیسے عالمی فورم کا حال ہی دیکھ لیں گزشتہ روز نئی دلی میں ہونے والے اجلاس میں کوشش کے باوجود اسرائیلی جارحیت کی مذمت نہ کی جا سکی کہ میزبان بھارت اور یو اے ای آڑے رہے۔

آمنہ جے محمد کا کہنا درست مگر جس تنظیم کی وہ ڈپٹی سیکرٹری ہیں اسی نے تو اسرائیل کو Licence to Kill جاری کر رکھا ہے اور امریکہ کو اس کی سرپرستی کا۔ اسرائیلی وجود کے بعد تو ہلاکو اور چنگیز خان کی روحیں شرمانے لگی ہیں۔ چنگیز خان نے تو رحم دلی کی ایک مثال ڈوبتے بچے کو نیزے کی نوک سے بچا کر قائم کی تھی مگر اقوام متحدہ کے قیام کی صدی میں اسرائیل اس طرح کی 50 ہزار سے زائد مثالیں پیش کر چکا مگر مجال کہ اقوام عالم کا ضمیر اسرائیل کی کسی ایک رحم دلی پر جاگا ہو۔

افسوسناک کردار تو مسلم ممالک کی واحد اور غیر فعال تنظیم او آئی سی کا ہے کہ وہ خون مسلم سے یکسر لاتعلق ہو چکی۔ اب تو تقسیم واضح کہ تین سے چار مسلم ممالک اسرائیل اور بھارت سے تعلقات کی نوعیت دفاعی معائدہ کی حد تک لے جانے کو بے چین۔ مسلم ملک ایران پر اسرائیل اور امریکہ کی جارحیت پر مشترکہ لائحہ عمل تو درکنار ہنگامی اجلاس میں رسمی مذمت کا اہتمام بھی نہ ہو سکا۔ غزہ اور کشمیر کو تو یہ بھول ہی چکے۔ لبنان بھی لہولہان مگر ہر دو تنظیمیں مسلم دنیا پر برسنے والے قہر سے لاتعلق۔ اقوام متحدہ کے بعد اب OIC کی تطہیر واجب۔ یا مسلم ممالک کا ایسا دفاعی اتحاد کہ جو مسلم ممالک پر اسرائیلی جارحیت کو روکے۔

پاکستان اور ترکیہ اس کے لیے کوشاں جبکہ سعودی عرب اور مصر کی شمولیت نے گو کہ تقویت دی مگر جب تک یہ عملا دفاعی اتحاد میں نہیں بدلتا گفتن نشستن کے سوا کچھ نہیں۔ تیسری عالمی جنگ رکوانے کے لیے اقوام متحدہ اور برادر اسلامی ملک پر جارحیت کے خلاف OIC کو متحرک ہونا چاہیے تھا مگر صد شکر کہ ہر دو فورمز کے جرم ضعیفی کا بار گونا گوں مشکلات کے باوجود پاکستان نے اٹھا کر انسانیت کا بھرم رکھ لیا۔ OIC بطور مسلم دنیا کی نمائندہ تنظیم کے طور پر چین اور روس کو جنگ رکوانے کے لیے مشترکہ حکمت عملی کے لیے لائحہ عمل پیش کرتی تو نہ صرف جنگ کو فوری طور پر روکنا ممکن ہوتا بلکہ یہ مسلم ممالک اور چین کے مابین تعلقات کے نئے دور کا نکتہ آغاز بھی بن سکتا تھا کہ جس کا خواب پاکستان سمیت کئی ممالک مدت سے دیکھ رہے ہیں۔ مگر حقیقت تو یہ ہے کہ او آئی سی عملا اپنا وجود کھو چکی اب نئے اتحاد جنم لے رہے ہیں جس میں فعال پاکستان۔ جبکہ دو خلیجی ممالک اسرائیل اور بھارت کے ساتھ اتحاد میں بندھے جانے کو تیار اور اس کے اثرات شر سے مسلمانوں کو بچانے کے لیے چار مسلم ممالک کے اتحاد کو وسیع البنیاد اور نیٹو کی طرز پر قائم کرنا لازم ہو چکا۔

ایران امریکہ اب اپنے داخلی مسائل کے باعث معائدہ کی راہ پر کہ براہ راست بات چیت ان کی عوام کو مضطرب کر رہی ہے۔ دونوں ممالک جنگ سے واپسی کے محفوظ راستے کی تلاش میں ہیں اور معاملہ فہم پاکستان اس میں ان کا معاون۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ امریکی صدر کو کانگریس کی منظوری کے لالے ہیں اور عوامی دباو الگ، تو ناکہ بندی ایرانی معیشت پر کاری ضرب لگانے لگی جبکہ ایران میں سیاسی حکومت اور پاسداران کے مابین عدم ذہنی ہم آہنگی ثالث اور دوست ممالک کے لیے درد سر کہ وہاں حکومت پورے اعتماد اور ضمانت سے فیصلہ کی پوزیشن میں نہیں۔ افزودہ یورینیم امریکہ کی بجائے کسی پڑوسی ملک کے پاس اور پابندی کی مدت 05 سال پر اتفاق کی شنید ہے۔

منجمند اثاثہ جات کے معاملہ پر ایران کی مانگ 50 بلین ڈالر، امریکہ 20 بلین پر راضی جبکہ ایران پر اقوام متحدہ اور امریکی پابندیوں پر کوئی زیادہ تفاوت نہیں۔ ہاں البتہ آبنائے ہرمز کو ایران مستقلا ترپ کے پتہ کے طور پر استعمال میں لانے پر مصر بالخصوص پاسداران۔ یورینیم اور آبنائے کے معاملہ پر پاسداران سیاسی حکومت کو ٹف ٹائم دے رہے ہیں۔ جبکہ ایرانی حکومت کے پیش نظر 45 سالہ پابندیوں اور جنگ کی تباہ کاریوں سے ہونے والی بربادی اور عوامی زبوں حالی بھی ہے۔ اسی لیے وہ جنگ کے خاتمہ کے لیے کوشاں کہ مرگ بر امریکہ کے نام پر وہ مزید کتنی مدت ملک اور عوام کو دنیا سے الگ تھلگ اور مقید رکھ سکتے ہیں۔ یہ تو حقیقت ہے کہ وہاں میڈیا آزادہے اور نہ اختلاف کی زیادہ گنجائش۔

ابن خلدون کے بقول "جنگ کا خوف حکمرانوں کے طویل اور مضبوط اقتدار کا ذریعہ" ابن خلدون کے اس فلسفہ کو امریکہ کس طرح بروئے کار لا رہا ہے اور ایران میں کون اس فلسفہ پر عمل پیرا۔ اس کا جواب قارئین پر چھوڑتے ہوئے اختتام ان اشعار کے ساتھ۔

زندگی رب کا ہے سب سے بڑا تحفہ لوگو
اس کو نفرت کی نہ سولی پہ یوں قربان کرو

خون بہتا ہے تو تہذیب ہے ماتم کرتی
یہ گناہ سب سے بڑا ہے کسی عنوان سے ہو

پاکستان پائندہ باد۔

Check Also

Khaleeji Sifarat Karon Ke Badalte Zawiye

By Muhammad Mohsin Khan