Wednesday, 29 April 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Asif Masood
  4. Kitab Tehzebon Ki Maa: Deen Mein Tarjeehat (12)

Kitab Tehzebon Ki Maa: Deen Mein Tarjeehat (12)

کتاب تہذیبوں کی ماں: دین میں ترجیحات (12)

اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے، مگر اس کی جامعیت کا تقاضا یہ بھی ہے کہ اس کے ماننے والے اس کے احکام، تعلیمات اور تقاضوں میں توازن اور ترجیح کا شعور پیدا کریں۔ یہی وہ نکتہ ہے جسے عظیم معاصر عالم علامہ یوسف القرضاوی نے اپنی شہرۂ آفاق تصنیف فقہ الاولویات میں نہایت بصیرت کے ساتھ واضح کیا ہے، جس کا اردو ترجمہ "دین میں ترجیحات" کے عنوان سے ہمارے سامنے ہے۔ یہ کتاب محض ایک علمی کاوش نہیں بلکہ امتِ مسلمہ کے فکری اور عملی بحران کا ایک سنجیدہ حل بھی پیش کرتی ہے۔ آج کے دور میں جب دین کو جزوی طور پر سمجھنے، یا غیر اہم امور کو غیر معمولی اہمیت دینے کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے، اس کتاب کی معنویت اور افادیت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔

علامہ قرضاوی اس بنیادی حقیقت کی طرف توجہ دلاتے ہیں کہ دین میں ہر حکم، ہر عمل اور ہر مسئلے کی ایک درجہ بندی ہے۔ کچھ چیزیں بنیادی ہیں، کچھ ثانوی، کچھ لازمی ہیں، کچھ اختیاری، کچھ فوری توجہ کی متقاضی ہیں، جبکہ کچھ کو مؤخر کیا جا سکتا ہے۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب یہ فطری ترتیب الٹ دی جاتی ہے۔ ہم معمولی باتوں کو مرکزِ نگاہ بنا لیتے ہیں اور بڑی ذمہ داریوں سے غافل ہو جاتے ہیں۔ یہی وہ فکری انحراف ہے جسے "فقہ الاولویات" درست کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ یہ ہمیں سکھاتی ہے کہ دین کو جزوی نہیں بلکہ کلی نظر سے دیکھا جائے اور ہر چیز کو اس کے اصل مقام پر رکھا جائے۔

قرآن و سنت کی روشنی میں ترجیحات کا تعین دراصل حکمت کا تقاضا ہے۔ خود قرآن مجید میں مختلف مقامات پر اس اصول کی جھلک ملتی ہے کہ ایمان، عدل، تقویٰ اور انسانی جان کی حرمت جیسے بنیادی اصولوں کو سب سے زیادہ اہمیت دی گئی ہے، جبکہ بعض دیگر احکام کو حالات و مواقع کے مطابق ثانوی حیثیت حاصل ہے۔ نبی اکرم ﷺ کی سیرتِ طیبہ بھی اسی توازن اور حکمت کا عملی نمونہ ہے، جہاں آپﷺ نے ہر موقع پر حالات کے مطابق اہم کو اہم تر پر مقدم رکھا۔ کبھی آپﷺ نے ایک بدو کے سخت رویے کو نظرانداز کیا تاکہ اس کا دل جیتا جا سکے اور کبھی بڑے اجتماعی مفاد کے لیے وقتی نقصان کو برداشت کیا۔ یہ سب دراصل فقہ الاولویات کی عملی مثالیں ہیں۔

علامہ قرضاوی نے اپنی اس کتاب میں نہ صرف نظریاتی بحث کی ہے بلکہ عملی زندگی کے مختلف میدانوں، عبادات، معاملات، سیاست، دعوت، تعلیم اور سماجی تعلقات، میں پائی جانے والی افراط و تفریط کی نشاندہی بھی کی ہے۔ وہ واضح کرتے ہیں کہ بعض لوگ نوافل میں تو شدت اختیار کرتے ہیں مگر فرائض سے غفلت برتتے ہیں، یا ظاہری مسائل میں الجھ کر اخلاقی اقدار کو پسِ پشت ڈال دیتے ہیں۔ اسی طرح اجتماعی سطح پر بھی امت ایسے مسائل میں الجھی رہتی ہے جو اس کی ترقی اور بقا کے لیے بنیادی نہیں ہوتے، جبکہ تعلیم، عدل، اتحاد اور کردار سازی جیسے اہم میدان نظرانداز ہو جاتے ہیں۔ یہ عدم توازن دراصل ترجیحات کے غلط تعین کا نتیجہ ہے۔

یہ کتاب ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ دین میں شدت پسندی اور بے اعتدالی دونوں نقصان دہ ہیں۔ ایک طرف وہ لوگ ہیں جو ہر چیز کو یکساں اہمیت دیتے ہوئے دین کو مشکل بنا دیتے ہیں اور دوسری طرف وہ ہیں جو آسانی کے نام پر بنیادی اصولوں کو بھی نظرانداز کر دیتے ہیں۔ فقہ الاولویات ان دونوں انتہاؤں کے درمیان ایک معتدل راستہ پیش کرتی ہے، جہاں نہ تو دین کو بوجھ بنایا جاتا ہے اور نہ ہی اس کی روح کو کمزور کیا جاتا ہے۔ یہ دراصل وہی "امتِ وسط" کا تصور ہے جس کی طرف قرآن نے رہنمائی کی ہے۔

آج کے دور میں، جب معلومات کی کثرت اور فتنوں کی یلغار نے فکری انتشار کو جنم دیا ہے، ترجیحات کا صحیح تعین پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہوگیا ہے۔ فرد ہو یا معاشرہ، اگر وہ اپنی توانائیاں غیر اہم معاملات میں صرف کرے گا تو نہ صرف اپنی ترقی سے محروم رہے گا بلکہ اپنی اصل ذمہ داریوں کو بھی ادا نہیں کر سکے گا۔ ایسے میں "دین میں ترجیحات" جیسی کتاب ایک رہنما چراغ کی حیثیت رکھتی ہے، جو ہمیں بتاتی ہے کہ کہاں رکنا ہے، کہاں آگے بڑھنا ہے اور کس چیز کو سب سے پہلے اختیار کرنا ہے۔

آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ علامہ یوسف القرضاوی کی یہ تصنیف ہر اس شخص کے لیے لازمی مطالعہ ہے جو دین کو سمجھنا اور اس پر صحیح انداز میں عمل کرنا چاہتا ہے۔ یہ کتاب محض علم میں اضافہ نہیں کرتی بلکہ سوچنے کا ایک نیا زاویہ عطا کرتی ہے، جو فرد کی زندگی کو متوازن، بامقصد اور مؤثر بنا دیتا ہے۔ اگر امتِ مسلمہ انفرادی اور اجتماعی سطح پر اس اصول کو اپنا لے کہ اہم کو غیر اہم پر اور زیادہ ضروری کو کم ضروری پر مقدم رکھا جائے، تو یقیناً اس کے بہت سے مسائل خود بخود حل ہو سکتے ہیں اور وہ ایک بار پھر اپنے حقیقی مقام کی طرف لوٹ سکتی ہے۔

Check Also

Kitab Tehzebon Ki Maa: Deen Mein Tarjeehat (12)

By Asif Masood