Wednesday, 29 April 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Shair Khan
  4. Youm e Mazdoor

Youm e Mazdoor

یوم مزدور

پسینے سے جو لکھتا ہے زمیں پر اپنی تقدیر
وہی مزدور ہے جو وقت کا سلطان ہوتا ہے

یکم مئی کی صبح تھی شہر کے بڑے ہال میں یومِ مزدور کی تقریب سج چکی تھی اسٹیج پر سفید کپڑوں میں ملبوس معززین بیٹھے تھے اور ہال میں تالیوں کی بازگشت گونج رہی تھی ایک مقرر مائیک پر آیا آواز میں درد بھی تھا اور الفاظ میں انقلاب بھی مگر یہ درد چند لمحوں پر مشتمل تھا ایک روایت پر مبنی تھا مزدور اس ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہے اس کے بغیر ترقی ممکن نہیں۔

یوم مزدور کا دن تالیاں بجیں، کیمرے چمکے اور نعرے لگے مگر اسی لمحے شہر کے کسی صنعتی علاقے میں ایک مزدور اپنی جیب میں ہاتھ ڈال کر خالی انگلیاں گن رہا تھا۔

یہ پاکستان ہے جہاں یومِ مزدور ایک دن کا جذبہ ہے اور مزدور کی محرومی پورے سال کی حقیقت میں نے ایک مزدور سے پوچھا آج تمہارا دن ہے خوش ہو وہ مسکرایا، وہی مسکراہٹ جو آنکھوں تک نہیں پہنچتی بولا سر دن تو ہمارا ہے مگر مہینہ کسی اور کا ہے تین مہینے سے تنخواہ نہیں ملی آج بھی کام پر جانا ہے ورنہ نوکری بھی چلی جائے گی یہ جملہ کسی ایک مزدور کا نہیں ایک پورے طبقے کا نوحہ ہے۔

گدون امازئی کی فیکٹری ہو یا رائے ونڈ کی ٹیکسٹائل ملز یا فیصل آباد کی فیکڑیاں کہانی ایک جیسی ہے صرف کردار بدلتے ہیں مشینیں چلتی رہتی ہیں مال تیار ہوتا رہتا ہے برآمدات کے اعداد و شمار بڑھتے رہتے ہیں مگر مزدور کی جیب ویسی کی ویسی خالی رہتی ہے یہاں ایک عجیب مساوات قائم ہے منافع اوپر جاتا ہے اور مزدور نیچے گرتا ہے۔ حکومت کم از کم اجرت کا اعلان کرتی ہے اخبارات میں سرخیاں لگتی ہیں ٹی وی پر بحث ہوتی ہے اور فائلوں میں دستخط ہو جاتے ہیں مگر فیکٹری کے اندر ایک الگ دنیا آباد ہے جہاں قانون دروازے پر ہی رک جاتا ہے اور انصاف گیٹ پاس کے بغیر اندر داخل نہیں ہو سکتا۔

میں نے ایک فیکٹری مالک سے پوچھا آپ مزدور کو وقت پر تنخواہ کیوں نہیں دیتے وہ مسکرایا چائے کی چسکی لی اور بولا کاروبار میں اتار چڑھاؤ آتا رہتا ہے۔

یہ اتار چڑھاؤ ہمیشہ مزدور کے حصے میں کیوں آتا ہے۔۔

کبھی مالک کے بنگلے میں کیوں نہیں پہنچتا کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی ایک اور کردار بھی ہے انسپکٹر صاحب آتے ہیں فائلیں دیکھتے ہیں سر ہلاتے ہیں اور پھر خاموشی سے چلے جاتے ہیں۔ مزدور سمجھتا ہے شاید انصاف ہونے والا ہے مگر کچھ دن بعد اسے پتہ چلتا ہے کہ انصاف بھی کسی لفافے میں بند ہو کر کہیں اور جا چکا ہے یہ نظام ہے جہاں قانون موجود ہے مگر بے اثر ادارے موجود ہیں مگر بے حس اور مزدور موجود ہے مگر بے بس۔

یکم مئی ہمیں شکاگو کے ان مزدوروں کی یاد دلاتا ہے جنہوں نے آٹھ گھنٹے کام کے لیے جانیں دیں اور ہم، ہم نے ان کی قربانی کو ایک چھٹی میں بدل دیا سوال یہ نہیں کہ یومِ مزدور کیوں منایا جاتا ہے سوال یہ ہے کہ مزدور کیوں روتا ہے جب تک مزدور کو اس کی محنت کا پورا صلہ وقت پر نہیں ملتا جب تک اس کی عزت صرف تقریروں میں زندہ ہے جب تک قانون کتابوں میں قید ہے تب تک یکم مئی ایک تقریب اور چند جوشیلے تقریروں تک محیط رہیگا۔

اگر ہم اپنے اردگرد نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ مزدور آج بھی استحصال کا شکار ہے کہیں اسے مناسب اجرت نہیں ملتی کہیں اس کے کام کے اوقات غیر انسانی ہیں کہیں اس کے لیے کوئی سوشل سیکیورٹی نہیں اور کہیں اس کی آواز دبائی جاتی ہے۔ یومِ مزدور ہمیں محض ماضی کی داستان نہیں سناتا بلکہ حال کا آئینہ بھی دکھاتا ہے اور مستقبل کا راستہ بھی متعین کرتا ہے یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ معاشرے کی ترقی کا پہیہ مزدور کے ہاتھوں سے ہی گھومتا ہے اگر مزدور خوشحال ہوگا تو معاشرہ خوشحال ہوگا اور اگر مزدور محروم ہوگا تو ترقی محض ایک فریب بن کر رہ جائے گی یہ دن ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ محنت صرف جسمانی مشقت کا نام نہیں بلکہ یہ انسانی عظمت کا ستون ہے مزدور صرف ایک طبقہ نہیں بلکہ پوری معیشت کی بنیاد ہے۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم یومِ مزدور کو صرف ایک رسمی دن نہ بنائیں بلکہ اس کے پیغام کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنائیں مزدور کے حقوق کا تحفظ کریں اس کی عزت کریں اور اس کے لیے ایسا نظام قائم کریں جہاں انصاف صرف کتابوں میں نہیں بلکہ زمین پر نظر آئے آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ یکم مئی صرف ایک دن نہیں بلکہ ایک عہد ہے ایک وعدہ ہے کہ ہم اس دنیا کو ایسا بنائیں گے جہاں محنت کرنے والا سر اٹھا کر جی سکے اور اس کے پسینے کا ہر قطرہ عزت و وقار میں ڈھل جائے۔

Check Also

Youm e Mazdoor

By Shair Khan