Tuesday, 26 May 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Muhammad Anwar Bhatti
  4. Abraham Accord Ka Jaal Ghaseb Ki Qabooliyat Ya Zameer Ka Soda

Abraham Accord Ka Jaal Ghaseb Ki Qabooliyat Ya Zameer Ka Soda

ابراہیم ایکارڈ کا جال غاصب کی قبولیت یا ضمیر کا سودا

ابراہیم ایکارڈز کے سائے میں مشرقِ وسطیٰ اور وسیع تر اسلامی دنیا میں جو نئی سیاسی و سفارتی بساط بچھائی جا رہی ہے وہ محض چند ریاستوں کے باہمی تعلقات کی بحالی کا معاملہ نہیں ہے بلکہ ایک گہرے، ہمہ گیر اور طویل المدت عالمی منصوبے کا حصہ دکھائی دیتی ہے۔ اس منصوبے کا بنیادی سرا اس سچائی سے جا ملتا ہے کہ اسرائیل کو خطے میں ایک ناگزیر اور قابلِ قبول حقیقت بنا کر پیش کیا جائے اور اس پورے منظر نامے کے سب سے بڑے روحِ رواں اور داعی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ کی سیاست، شخصیت اور ان کے بیانات کا گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو عقل حیران رہ جاتی ہے کہ ایک ہی انسان بیک وقت اتنے تضادات کو اپنے اندر کیسے سموئے ہوئے ہے۔ وہ ٹرمپ جو کبھی ایران پر کڑی اقتصادی پابندیاں لگا کر اور عسکری کارروائیوں کی دھمکیاں دے کر اسے دنیا کے نقشے سے مٹانے کا تاثر دیتے ہیں وہی ٹرمپ اچانک امن کے نوبیل انعام کے خواب دیکھنے لگتے ہیں اور خود کو دنیا کا سب سے بڑا ثالث بنا کر پیش کرتے ہیں۔ ان کی سیاست کا یہ انداز دنیا کو سخت تذبذب اور الجھن میں مبتلا رکھتا ہے کیونکہ ایک دن وہ مسلم ممالک کے ساتھ غیر معمولی قربت اور تجارتی شراکت داری کا راگ الاپتے ہیں اور دوسرے ہی دن انہی ممالک کے مقتدر حلقوں پر ہر ممکن سفارتی اور معاشی دباؤ ڈالنا شروع کر دیتے ہیں تاکہ وہ اسرائیل کو تسلیم کر لیں۔ اس طرزِ عمل سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ٹرمپ کی سیاست میں اعلیٰ انسانی اقدار، اخلاقی اصول یا بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کی اہمیت ثانوی ہے جبکہ طاقت کا استعمال اور ذاتی و گروہی مفادات کی تکمیل ہی ان کا اصل محور و مرکز ہے۔

آج عالمی برادری، دانشور اور عام انسان یہ سوال پوچھنے پر مجبور ہیں کہ آخر ٹرمپ کے کس چہرے کو حقیقی مانا جائے؟ کیا وہ چہرہ سچا ہے جو عالمی امن، جنگوں کے خاتمے اور فوجوں کی واپسی کی نوید سناتا ہے یا وہ چہرہ اصل ہے جو خطوں میں جنگ کی ہولناک آگ بھڑکاتا ہے اور پرامن حالات کو پل بھر میں انتشار کی طرف دھکیل دیتا ہے؟ کیا ان کے دوستی کے دعوے معتبر ہیں یا ان کا وہ روپ حقیقت پر مبنی ہے جس میں وہ اپنے ہی پرانے اور وفادار اتحادیوں کو شطرنج کے مہروں کی طرح استعمال کرتے ہیں اور اپنے داخلی سیاسی فائدے کے لیے انہیں داؤ پر لگا دیتے ہیں؟

حالیہ دنوں میں جب مشرقِ وسطیٰ کے افق پر یہ خبریں تیزی سے گردش کر رہی تھیں کہ امریکہ اور ایران کے مابین پسِ پردہ مذاکرات کے ذریعے کشیدگی میں کمی آ رہی ہے اور کسی ممکنہ بڑے امن معاہدے کی بنیاد رکھی جا رہی ہے تو پاکستان سمیت خطے کے چند اہم ترین ممالک کے سفارتی کردار پر عالمی حلقوں میں سنجیدہ گفتگو شروع ہو چکی تھی۔ لیکن بالکل اسی نازک موڑ پر صدر ٹرمپ کا یہ دوٹوک اور جارحانہ بیان سامنے آ گیا کہ تمام اسلامی ممالک کو ہر صورت ابراہیم ایکارڈز کا حصہ بننا ہوگا اور اسرائیل کے ساتھ سفارتی و تجارتی تعلقات قائم کرنے ہوں گے۔

یہ بیان کوئی عام سفارتی جملہ یا سرسری خواہش نہیں تھی بلکہ یہ واشنگٹن کی طرف سے دنیا کو دیا گیا ایک واضح اور تلخ اشارہ تھا کہ امریکہ اب مشرقِ وسطیٰ اور عالمِ اسلام میں ہونے والی ہر سیاسی، معاشی اور تزویراتی پیش رفت کو صرف اور صرف اسرائیل کے سیکیورٹی اور تجارتی مفادات کی عینک سے دیکھنا چاہتا ہے۔ اس حکمتِ عملی کا سادہ اور خوفناک مطلب یہ ہے کہ اب اس خطے میں امن، استحکام اور اقتصادی ترقی صرف اسی صورت میں ممکن ہونے دی جائے گی جب اسرائیل کو اس کی تمام تر جارحیت اور انسانی حقوق کی پامالیوں کے باوجود ایک جائز اور مکمل ریاست کے طور پر تسلیم کر لیا جائے۔

یہیں پر صدر ٹرمپ کی شخصیت اور ان کی خارجہ پالیسی کی گہری دورخی اور منافقت پوری شدت کے ساتھ دنیا کے سامنے بے نقاب ہوتی ہے۔ وہ دنیا کے سامنے خود کو ایک ایسے عظیم مصلح اور تاریخ ساز لیڈر کے طور پر پیش کرنے کی انتھک کوشش کرتے ہیں جو دنیا کو خونریزی سے نجات دلانا چاہتا ہے مگر جب عمل کا وقت آتا ہے تو ان کی ہر پالیسی، ہر فیصلہ اور ہر سفارتی دباؤ بالآخر اسرائیل کو یکطرفہ فائدہ پہنچانے اور معصوم فلسطینیوں کے حقوق کو پامال کرنے کے گرد گھومتا نظر آتا ہے۔

ٹرمپ کی پوری سیاسی زندگی اور صدارتی دور تضادات کا ایک ایسا مجموعہ رہا ہے جس کی مثال جدید تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔ ان کی غیر متوقع طبیعت اور لمحاتی فیصلوں نے عالمی سیاست کے مروجہ اصولوں کو تہہ و بالا کرکے رکھ دیا ہے۔ وہ ایک دن اپنے اتحادیوں کی پیٹھ تھپتھپاتے ہیں انہیں سیکیورٹی کی ضمانتیں دیتے ہیں اور اگلے ہی دن کسی ایک برقی پیغام یا پریس کانفرنس کے ذریعے انہیں شدید نوعیت کی غیر یقینی اور سفارتی تنہائی میں مبتلا کر دیتے ہیں۔

ایک طرف ان کا نعرہ یہ ہوتا ہے کہ امریکہ کو اب دوسرے ملکوں کی لامتناہی اور بے مقصد جنگوں سے باہر نکلنا چاہیے اور اپنے سرمائے کو اپنے لوگوں پر خرچ کرنا چاہیے لیکن دوسری طرف وہ عملاً ایسی نئی عالمی صف بندیاں اور جتھے بازیاں شروع کر دیتے ہیں جو نئے تنازعات اور جنگوں کا پیش خیمہ بن جاتی ہیں۔ پاکستان کے معاملے میں بھی ان کا یہی تذبذب ہمیشہ نمایاں رہا ہے۔ وہ کبھی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی لازوال قربانیوں اس کے جری جوانوں کی شجاعت اور تزویراتی اہمیت کا کھلے عام اعتراف کرتے ہیں اور کبھی اچانک پینترا بدل کر اسی پاکستان پر فنڈنگ روکنے معاشی پابندیاں لگانے اور مالیاتی جرائم پر نظر رکھنے والے عالمی ادارے جیسے بین الاقوامی اداروں کے ذریعے دباؤ بڑھانے کی دھمکیاں دینے لگتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ واشنگٹن کے سفارتی راہداریوں میں بیٹھے ان کے اپنے قریبی ساتھی، کٹر حمایتی اور ہمدرد بھی اکثر یہ سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں کہ ٹرمپ اصل میں چاہتے کیا ہیں اور ان کی حتمی منزل کیا ہے؟ ان کی سیاست میں طویل المدت اسٹراتیجک مستقل مزاجی کا دور دور تک پتا نہیں ملتا بلکہ ہر فیصلے کے پیچھے وقتی سیاسی مفاد، تجارتی طرز کی سودے بازی اور امریکی رائے دہندگان کو متوجہ کرنے کی خواہش دکھائی دیتی ہے۔ وہ بین الاقوامی الجھے ہوئے معاملات کو سنجیدگی اور پائیدار بنیادوں پر سلجھانے کے بجائے انہیں مزید الجھانے، انتشار پھیلانے اور فریقین پر حد درجے کا دباؤ بڑھانے میں مہارت رکھتے ہیں کیونکہ معاشی اور سیاسی بلیک میلنگ کو انہوں نے اپنی حکمتِ عملی کا بنیادی حصہ بنا لیا ہے۔

لیکن جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو امریکی قیادت کو یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ یہ معاملہ کسی عام سیاسی لین دین، تجارتی مراعات یا معاشی پیکیجز کا نہیں ہے بلکہ یہ نظریہ، تاریخ، عقیدہ اور کروڑوں انسانوں کے دلی اور عوامی جذبات کا ہے۔ پاکستان دنیا کا وہ واحد ایٹمی اسلامی ملک ہے جس کی جغرافیائی اور سیاسی بنیاد ہی دو قومی نظریے کے اس عظیم اصول پر رکھی گئی تھا جس کا مقصد مظلوموں کو ان کا حق دلانا اور ایک نظریاتی ریاست کا قیام تھا۔ پاکستان نے اپنے قیام کے پہلے دن سے لے کر آج تک ہر دور کی حکومت اور ہر قسم کے ملکی حالات کے باوجود اسرائیل کو ایک غاصب وجود مانا ہے اور اسے کبھی تسلیم نہیں کیا۔

یہ مؤقف کسی وقتی سیاسی ضرورت کسی بیرونی اتحاد کے دباؤ یا کسی عارضی مصلحت کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک ایسا تاریخی، اصولی اور نظریاتی مؤقف ہے جس کی جڑیں بانیِ پاکستان قائدِ اعظم محمد علی جناح کے فرمودات میں پیوست ہیں۔ پاکستان نے ہمیشہ اور ہر عالمی فورم پر فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کی غیر مشروط اور بھرپور حمایت کی ہے اور بیت المقدس کے مسئلے کو محض ایک عرب زمین کا تنازع نہیں بلکہ پوری امتِ مسلمہ کے ایمان، غیرت اور بقا کا مسئلہ قرار دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی عالمی طاقتوں یا ان کے مقامی گماشتوں کی طرف سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کی ہلکی سی بحث بھی چھیڑی جاتی ہے یا ذرائع ابلاغ کے ذریعے رائے عامہ کو ہموار کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کے عوام کے دلوں میں ایک شدید اضطراب، بے چینی اور غصے کی لہر دوڑ جاتی ہے۔ پاکستانی قوم کے نزدیک فلسطین صرف ایک جغرافیائی خطہ یا نقشے پر کھینچی گئی چند لکیریں نہیں ہے بلکہ یہ سرزمینِ انبیاء ہے یہ قبلہ اول ہے اور یہ گزشتہ کئی دہائیوں سے جاری ظلم، جبر اور لازوال مزاحمت کی وہ زندہ علامت ہے جس سے کسی بھی مسلمان کا رشتہ توڑا نہیں جا سکتا۔

یہ کہنا بالکل بجا اور حقیقت پر مبنی ہوگا کہ جو عالمی طاقتیں مالیاتی ادارے یا امریکی انتظامیہ کے کارپرداز معاشی مشکلات کا سہارا لے کر پاکستان پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں وہ دراصل پاکستان کی روح، اس کے خمیر اور اس کی تاریخ سے بالکل ناواقف ہیں۔ یہ ملک شدید ترین معاشی بحرانوں سے گزر سکتا ہے، غربت اور مہنگائی کے کوڑے برداشت کر سکتا ہے بین الاقوامی تنہائی کا سامنا کر سکتا ہے اور امریکہ جیسی سپر پاور کی سخت ترین ناراضی اور پابندیاں بھی ہنس کر سہہ سکتا ہے مگر وہ اسرائیل جیسے غاصب ملک کو تسلیم کرنے کا خائنانہ فیصلہ اپنے عوامی ضمیر، اپنے شہداء کے خون اور اپنے اساسی نظریے کے خلاف جا کر کبھی نہیں کر سکتا۔

امریکہ کی دوستی اور اس کے ساتھ سفارتی و تجارتی تعلقات اپنی جگہ اہم ہو سکتے ہیں اور پاکستان ہمیشہ برابری کی بنیاد پر امن پسند تعلقات کا حامی رہا ہے لیکن اس ملک کے غیور عوام فلسطین کے تقدس اور ان کے جائز حقوق کو کسی سفارتی سودے بازی، عالمی مالیاتی فنڈ کے قرضوں یا کسی معاشی پیکیج کا حصہ بنتا ہوا ہرگز برداشت نہیں کر سکتے۔ اگر تاریخ کے کسی بھی موڑ پر ایسا کٹھن وقت آیا کہ پاکستان کو اپنی نظریاتی بنیاد، اپنے ایمانی تشخص اور امریکی دوستی یا معاشی فوائد میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑا تو تاریخ گواہ ہے اور دنیا دیکھ لے گی کہ یہ قوم بھوکی پیاسی رہ کر بڑی سے بڑی قربانی دے کر اپنے نظریاتی حصار کی حفاظت تو کرے گی مگر اپنے ایمان اور ضمیر کا سودا کرکے اسرائیل کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کرے گی۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ شاید اپنے کاروباری پسِ منظر اور تجارتی ذہنیت کی وجہ سے یہ سمجھتے ہیں کہ دنیا کے ہر انسانی، اخلاقی اور تاریخی مسئلے کو معاشی ترغیبات، ڈالروں کی چمک، فوجی دباؤ یا تزویراتی بلیک میلنگ کے ذریعے حل کیا سکتا ہے اور ہر قوم کی غیرت کی کوئی نہ کوئی قیمت لگائی جا سکتی ہے۔ لیکن وہ اپنی اس مادی سوچ میں یہ بنیادی حقیقت بھول جاتے ہیں کہ دنیا میں کچھ قومیں اور ریاستیں ایسی بھی ہیں جو تمام تر مادی وسائل کی کمی کے باوجود اپنے اعلیٰ نظریات، راسخ عقیدے اور زندہ اجتماعی ضمیر کے سہارے جینا جانتی ہیں۔

فلسطین کا مسئلہ محض ریت اور پتھروں کے ایک ٹکڑے کا تنازع نہیں ہے بلکہ یہ انسانی تاریخ کی بدترین ناانصافی، بین الاقوامی قوانین کے کھلے مذاق اور اس کے خلاف اٹھنے والی ایک ایسی لازوال اور مقدس مزاحمت کی داستان ہے جو ہر سچے مسلمان اور انصاف پسند انسان کے دل کی دھڑکن بن چکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ابراہیم ایکارڈز کے نام پر چاہے واشنگٹن کے سفید محل میں کتنے ہی معاہدے دستخط کروا لیے جائیں، عالمی ذرائع ابلاغ پر کتنی ہی چمکدار تصویریں نشر کر دی جائیں اور کتنی ہی پرشکوہ سفارتی تقریبات سجا کر کامیابی کے دعوے کیے جائیں یہ ٹھوس حقیقت اپنی جگہ چٹان کی طرح قائم رہے گی کہ عالمِ اسلام کے کروڑوں دل آج بھی مظلوم فلسطینیوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں اور پاکستان ہمیشہ کی طرح ان تمام دلوں کی دھڑکنوں اور آوازوں میں سب سے توانا، سب سے نمایاں اور سب سے نڈر آواز بن کر دنیا کے سامنے کھڑا رہے گا جسے کوئی طاقت خاموش نہیں کرا سکتی۔

امریکی صدر کی اس تضاد بیانی، غیر سنجیدہ خارجہ پالیسی اور حد سے بڑھی ہوئی خود پسندی کی وجہ سے اگر ہم اجتماعی طور پر عالمی منظر نامے کا جائزہ لیں تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر ان تمام متضاد بیانات اور پالیسیوں کے نتیجے میں امریکہ آج خود دنیا میں کہاں کھڑا ہے؟ سچ تو یہ ہے کہ ٹرمپ کی اس بظاہر جابرانہ اور تند و تیز سیاست نے عالمی سطح پر امریکی ساکھ، اس کی اخلاقی برتری اور اس کے سفارتی بھرم کو شدید ترین نقصان پہنچایا ہے۔ وہ امریکہ جو کبھی اپنے آپ کو دنیا میں جمہوریت، انسانی حقوق، بین الاقوامی قوانین اور عالمی امن کا سب سے بڑا علمبردار اور محافظ بنا کر پیش کرتا تھا آج دنیا کی نظروں میں ایک ناقابلِ اعتبار، مفاد پرست اور خود غرض سلطنت کے روپ میں سامنے آ چکا ہے۔

ٹرمپ کی سب سے پہلے امریکہ کی پالیسی نے اس کے اپنے ہی دیرینہ مغربی اتحادیوں، یورپی ممالک اور شمالی اوقیانوسی معاہدے کی تنظیم (نیٹو) کے اراکین کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ واشنگٹن پر بحران کے وقت اندھا اعتماد کرنا اپنے پیروں پر کلہاڑی مارنے کے مترادف ہے۔ جب ایک سپر پاور کا صدر صبح کچھ اور شام کو کچھ کہتا ہو جب اس کے کیے گئے بین الاقوامی معاہدے (جیسے ایران جوہری معاہدہ یا پیرس موسمیاتی معاہدہ) ایک ہی جنبشِ قلم سے منسوخ کر دیے جاتے ہوں تو دنیا کی بڑی بڑی طاقتیں اور معیشتیں اس کے ساتھ طویل المدت شراکت داری قائم کرتے ہوئے ہزار بار ہچکچاتی ہیں۔ امریکہ کی اسی ناقابلِ اعتبار پالیسی کا نتیجہ ہے کہ آج دنیا تیزی سے کثیر القطبی نظام کی طرف بڑھ رہی ہے جہاں چین، روس اور دیگر ابھرتی ہوئی طاقتیں امریکی خلا کو پُر کرنے کے لیے مستعد کھڑی ہیں اور دنیا کے وہ ممالک جو کبھی واشنگٹن کی طرف دیکھتے تھے اب اپنے متبادل راستے تلاش کر رہے ہیں۔

امریکہ کی اس اخلاقی اور سفارتی پسپائی کا سب سے بڑا سبب یہ ہے کہ اس نے اپنے تمام تر عالمی اثر و رسوخ کو ایک ایسی ریاست کے تحفظ کے لیے وقف کر دیا ہے جو دنیا بھر میں ظلم، زمین پر قبضے اور انسانیت سوز مظالم کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ جب صدر ٹرمپ یہ کہتے ہیں کہ امن کا راستہ صرف اسرائیل کو تسلیم کرنے سے ہو کر گزرتا ہے تو وہ عملاً دنیا کو یہ پیغام دے رہے ہوتے ہیں کہ طاقتور کا ظلم ہی اصل قانون ہے اور کمزور کے حقوق کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ لیکن وہ یہ نہیں دیکھ پا رہے کہ اس ہٹ دھرمی کے نتیجے میں امریکہ خود دنیا میں اخلاقی طور پر الگ تھلگ ہوتا جا رہا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی ہو یا دیگر بین الاقوامی فورمز جب بھی فلسطین یا انسانی حقوق کا معاملہ آتا ہے پورا خطہ اور دنیا کے اکثریتی ممالک ایک طرف کھڑے ہوتے ہیں اور امریکہ محض اپنے حقِ استرداد (ویٹو پاور) کے زعم میں اسرائیل کے ساتھ اکیلا کھڑا نظر آتا ہے۔

یہ تنہائی ظاہر کرتی ہے کہ امریکہ اپنی مادی اور عسکری طاقت کے بل بوتے پر دنیا کو ڈرا تو سکتا ہے انہیں عارضی طور پر خاموش تو کر سکتا ہے لیکن وہ دنیا کے دلوں پر راج نہیں کر سکتا اور نہ ہی اپنے لیے وہ احترام پیدا کر سکتا ہے جو کسی بھی حقیقی عالمی قائد کا مایہ ناز سرمایہ ہوتا ہے۔ ٹرمپ کے متضاد اور انتہا پسندانہ بیانات نے خود امریکی دفاعی و سفارتی مقتدرہ اور دانشوروں کے اندر ایک گہری خلیج پیدا کر دی ہے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ یکطرفہ پالیسیاں طویل مدت میں خود امریکہ کے اپنے وسیع تر قومی اور اسٹراتیجک مفادات کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہو رہی ہیں اور اس کی وجہ سے پوری دنیا میں امریکہ مخالف جذبات میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔

پاکستان کی تاریخ، اس کا سیاسی سفر اور اس کی عوامی نفسیات کا اگر گہرے دل سے مطالعہ کیا جائے تو یہ واضح ہو جاتا ہے کہ یہ ملک کسی مادی لالچ یا دنیاوی خوف کے تحت اپنے بنیادی اصولوں سے انحراف کرنے والی قوموں میں سے نہیں ہے۔ پاکستان کا بچہ بچہ اس بات سے واقف ہے کہ جب تحریکِ پاکستان اپنے عروج پر تھی اور برصغیر کے مسلمان اپنے لیے ایک علیحدہ وطن کی جدوجہد کر رہے تھے اس وقت بھی قائدِ اعظم محمد علی جناح اور علامہ اقبال کی نظریں فلسطین کے مظلوموں پر لگی ہوئی تھیں۔

قائدِ اعظم نے برطانوی حکومت کی طرف سے فلسطین کی تقسیم اور وہاں صہیونی ریاست کے زبردستی قیام کی سازشوں کے خلاف نہ صرف سخت بیانات دیے بلکہ برصغیر کے مسلمانوں کو متحرک کرکے فلسطینیوں کے حق میں فنڈز اور سیاسی حمایت کی تحریکیں چلائیں۔ یہ وہ تاریخی ورثہ ہے جو نسل در نسل ہر پاکستانی کو منتقل ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں جب بھی کوئی داخلی بحران آئے، سیاسی انتشار پیدا ہو یا معاشی تنگی کا سامنا ہو لیکن جیسے ہی فلسطین کا نام آتا ہے پوری قوم تمام تر اختلافات کو بھلا کر ہر قسم کی سیاسی و مسلکی وابستگی سے بالاتر ہو کر ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جاتی ہے۔ یہ وہ رشتہ ہے جو صرف سیاست دانوں کی مصلحتوں یا حکومتوں کے بدلنے سے تبدیل نہیں ہو سکتا کیونکہ یہ رشتہ دلوں کا ہے یہ رشتہ ایمان کا ہے اور یہ رشتہ اس مظلومیت کے احساس کا ہے جو ہر اس انسان کے اندر بیدار ہوتا ہے جس کا ضمیر ابھی زندہ ہے۔

بندن میاں کا کردار، جو ہماری روایتی دانش، گہرے مشاہدے اور عوامی ضمیر کی عکاسی کرتا ہے اس پورے منظر نامے کو بڑی دردمندی اور دور اندیشی کے ساتھ دیکھ رہا ہے۔ بندن میاں چوک میں بیٹھ کر جب اپنے حقے کا کش لیتے ہیں اور دنیا کے حالات پر نگاہ ڈالتے ہیں تو ان کی آنکھوں میں فکرمندی اور عزم کی ایک عجیب سی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میاں دنیا بدل گئی ہوگی بڑی بڑی سلطنتیں اور ان کے حکمران ڈالروں کے ترازو میں ایمان اور غیرت کو تولنے لگے ہوں گے لیکن یاد رکھو کہ کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں جن کی کوئی قیمت نہیں لگائی جا سکتی۔

بندن میاں اپنی دھیمی مگر پرکشش آواز میں سمجھاتے ہیں کہ یہ جو واشنگٹن کا حاکم ہے جو کبھی امن کا لبادہ اوڑھتا ہے اور کبھی جنگ کی ہولناکیاں پھیلاتا ہے یہ اصل میں سوداگر ہے۔ یہ ہر رشتے کو، ہر معاہدے کو ایک کاروبار کی طرح دیکھتا ہے۔ اسے کیا معلوم کہ عقیدہ کیا ہوتا ہے اسے کیا پتا کہ جب ایک مظلوم بچہ ملبے کے نیچے سے ہاتھ نکال کر آسمان کی طرف دیکھتا ہے تو اس وقت ایک سچے مسلمان کے دل پر کیا گزرتی ہے؟ بندن میاں اپنے تجربے کی روشنی میں یہ بات پورے وثوق سے کہتے ہیں کہ ٹرمپ کی یہ دورخی اور متضاد پالیسیاں دراصل اس بات کا ثبوت ہیں کہ اندر سے وہ خود خوفزدہ ہیں اور انہیں معلوم ہے کہ مادی طاقت کے ذریعے دلوں کو فتح نہیں کیا جا سکتا۔ وہ اپنے قریبی لوگوں سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ لوگ کہتے ہیں پاکستان غریب ہے پاکستان قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے پاکستان عالمی برادری کا دباؤ کیسے سہے گا؟ تو میں ان سے کہتا ہوں کہ تم نے پاکستان کے حکمرانوں کو دیکھا ہوگا تم نے چند مصلحت پسند اشرافیہ کو دیکھا ہوگا تم نے اس ملک کے غیور اور غیرت مند عوام کی روح کو نہیں دیکھا۔ یہ وہ قوم ہے جو لکڑیوں کے چولہے پر روٹی پکا کر کھا لے گی، جو پیٹ پر پتھر باندھ لے گی لیکن جب بات قبلہ اول کی حرمت اور فلسطینی بھائیوں کے خون کی آئے گی تو یہ قوم کبھی اپنے قائد کے اصولوں سے غداری نہیں کرے گی۔

بندن میاں کا یہ گہرا اور دل سوز تجزیہ دراصل اس حقیقت کا عکاس ہے کہ بین الاقوامی تعلقات صرف طاقت اور معیشت کے اصولوں پر نہیں چلتے بلکہ ان کے پیچھے اخلاقی قوانین اور انسانی ضمیر کی طاقت بھی کارفرما ہوتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی فرعون یا نمرود نے اپنی مادی طاقت کے زعم میں کمزوروں کو کچلنے اور حق کو مٹانے کی کوشش کی تو بظاہر وہ کتنا ہی ناقابلِ شکست کیوں نہ دکھائی دیتا ہو بالآخر اس کا انجام زوال اور رسوائی ہی ٹھہرا۔ آج امریکہ اور اس کے حواری جس طرح اسرائیل کی پشت پناہی کرکے تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور ابراہیم ایکارڈز کے ذریعے ایک مصنوعی اور غاصبانہ امن کو خطے پر مسلط کرنا چاہتے ہیں وہ دراصل ریت کے اوپر ایک ایسا محل تعمیر کر رہے ہیں جو عوامی بیداری اور حق کی ایک ہی تند و تیز لہر سے زمین بوس ہو جائے گا۔ آپ دنیا کے چند حکمرانوں کو دھمکا کر یا لالچ دے کر ان سے کاغذ کے ٹکڑوں پر دستخط تو کروا سکتے ہیں لیکن آپ ان ممالک کے عوام کے دلوں سے فلسطین کی محبت اور اسرائیل کے خلاف نفرت کو کبھی نہیں نکال سکتے۔ یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جہاں ٹرمپ اور ان کے مشیروں کی تمام تر جدید تزویراتی، سائنسی اور سیاسی حساب کتاب فیل ہو جاتے ہیں کیونکہ وہ انسان کو محض ایک مادی وجود سمجھتے ہیں اور اس کے اندر چھپی ایمانی طاقت اور اخلاقی جذبوں کا اندازہ لگانے سے بالکل قاصر ہیں۔

پاکستان کا مؤقف اس پورے منظر نامے میں ایک روشن مینار کی طرح قائم ہے۔ جب دنیا کی بڑی بڑی اور امیر ریاستیں اپنے تجارتی مفادات اور سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے اصولی مؤقف سے پیچھے ہٹ رہی ہیں جب کچھ عرب ممالک نے خاموشی سے یا علانیہ طور پر غاصب صیہونی وجود کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے ہیں ایسے کٹھن اور تاریک دور میں پاکستان کا اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کا مضبوط فیصلہ پوری امتِ مسلمہ کے لیے حوصلے اور استقامت کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے۔ پاکستان نے دنیا کو یہ دکھایا ہے کہ ایک حقیقی اسلامی ریاست کا شیرازہ صرف معاشی خوشحالی یا بیرونی امداد کے سہارے نہیں جڑتا بلکہ اس کا اصل شیرازہ اس کا وہ اساسی نظریہ ہوتا ہے جس کے لیے اس کے اسلاف نے بے پناہ قربانیاں دی ہوتی ہیں۔ اگر پاکستان اپنے اس مؤقف سے پیچھے ہٹ جائے تو وہ نہ صرف اپنے بانی قائدِ اعظم کی روح کے سامنے گنہگار ہوگا بلکہ وہ دنیا بھر کے مظلوموں کے اس اعتماد کو بھی ٹیس پہنچائے گا جو وہ اس ملک کی ایٹمی طاقت اور اس کے غیور عوام سے وابستہ کیے ہوئے ہیں۔ اس لیے یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ پاکستان پر چاہے کتنا ہی دباؤ کیوں نہ ڈالا جائے چاہے ٹرمپ انتظامیہ اپنے بیانات اور اقدامات کے ذریعے کتنے ہی جال کیوں نہ بچھائے مگرپاکستان کا فیصلہ ہمیشہ وہی رہے گا جو اس کی روح کا فیصلہ ہے یعنی فلسطین کی مکمل آزادی اور بیت المقدس کی واگزاری تک اسرائیل کو کبھی بھی کسی بھی قیمت پر تسلیم نہیں کیا جائے گا۔

آج جب ہم اس پورے منظر نامے کا اختتامی اور گہرا جائزہ لیتے ہیں تو دل کی گہرائیوں سے یہ صدا آتی ہے کہ دنیا کی مادی طاقتیں چاہے کتنی ہی صف بندیاں کر لیں چاہے کتنے ہی نئے اتحاد اور معاہدے متعارف کروا لیے جائیں سچائی اور انصاف کا جو پودا فلسطینیوں نے اپنے خون سے سینچا ہے وہ ایک دن ضرور بارآور ہوگا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دورخی اور تضادات سے بھری سیاست تاریخ کے صفحات میں ایک ایسے عبرت ناک باب کے طور پر درج ہوگی جہاں ایک سپر پاور نے اپنے عارضی اور ذاتی مفادات کے لیے عالمی امن اور اخلاقی اقدار کا جنازہ نکال دیا۔ امریکہ آج جس نہج پر پہنچ چکا ہے جہاں اس کی سفارتی ساکھ خاک میں مل چکی ہے اور وہ اپنے ہی پیدا کردہ تضادات کے جال میں پھنس چکا ہے وہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ ظلم اور منافقت کی بنیاد پر کھڑی کی گئی خارجہ پالیسی کبھی پائیدار نہیں ہو سکتی۔

دوسری طرف پاکستان کی نظریاتی اساس اور اس کا فلسطینیوں کے ساتھ لازوال رشتہ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ ملک آج بھی اپنے اجتماعی ضمیر کے ساتھ زندہ ہے اور اس کی روح کو خریدنا کسی بھی عالمی طاقت کے بس کی بات نہیں ہے۔ بندن میاں کے الفاظ میں، میاں تاریخ کا پہیہ جب گھومتا ہے تو وہ بڑے بڑے مغروروں کے غرور کو خاک میں ملا دیتا ہے جیت ہمیشہ حق اور صبر کرنے والوں کی ہوتی ہے اور پاکستان کا نام تاریخ میں ہمیشہ مظلوموں کے ہمدرد اور حق کے علمبردار کے طور پر سنہری حروف سے لکھا جائے گا کیونکہ یہ قوم سولی پر تو چڑھ سکتی ہے مگر اسرائیل جیسے غاصب ملک کو تسلیم کرکے اپنے ایمان کا سودا کبھی نہیں کر سکتی۔

Check Also

Do Nuqat Par Atka Hua America Aur Iran Ka Mamla

By Nusrat Javed