Wednesday, 29 April 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Muhammad Idrees Abbasi
  4. Murree Walo, Dunga Gali Pani Ke Paise Do

Murree Walo, Dunga Gali Pani Ke Paise Do

مری والو، ڈونگا گلی پانی کے پیسے دو

صبح صبح ہمارے دوست انجنئیر ارشد ایچ عباسی نے دل دہلا دینے والی خبر سنائی۔ خیبر پختونخوا کے مشیرِ خزانہ، مزمل اسلم نے پنجاب کو ایک خط بھیجا جس میں ڈونگا گلی واٹر سپلائی کی مد میں دئیے جانے والے پانی کے عوض پنجاب سے 64.62 ارب روپے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ آبی امور کے ماہر ارشد عباسی صاحب نے پھر مجھے مشیر خزانہ کی اس بے حکمت چال کے مضمرات سے تفصیلی آگاہ کیا۔

قوموں کے زوال کی تاریخ میں کچھ لمحات ایسے آتے ہیں جب ایک چھوٹا سا کاغذ، ایک نوٹس، یا ایک میمو پوری قوم کی تقدیر پر سوالیہ نشان بن جاتا ہے۔ یہ اس لیے نہیں کہ وہ تحریر خود میں کوئی بہت بڑی بلا ہے، بلکہ اس لیے کہ وہ بکھری ہوئی جہالت اور دریدہ دامنی کی علامت ہے۔ وہ حقوق اور قانون کی چادر اوڑھ کر اس تاریخ کو روند رہی ہے جسے وہ خود اپنے دفاع میں پیش کرنے کا ڈھونگ رچا رہی ہے۔

مری کی ان ٹھنڈی، دیودار کی خوشبو میں بسی پہاڑیوں میں یہ پانی ہمیشہ کی طرح خاموش رواں ہےبغیر کسی بل، بغیر کسی انوائس کے۔ یہ پانی تب سے بہہ رہا ہے جب مزمل پیدا بھی نہ ہوئے ہوں گے اور شاید تب سے بھی، جب برطانوی حکمرانوں نے اپنے نقشوں پر ان پہاڑوں کی سرحدیں کھینچی بھی نہیں تھیں۔

1891 سے 1894 کے درمیان، سیکرٹری آف سٹیٹ برائے انڈیا نے مری چھاؤنی کے لیے پانی کی یہ پائپ لائن بچھائی تھی۔ ماخذ کیا تھا؟ گلیات کے وہ پہاڑی چشمے اور ندی نالے۔ یہ کوئی تجارتی سودا نہیں تھا، نہ ہی دو دشمن ریاستوں کے درمیان کوئی سفارتی معاہدہ۔ یہ تو ان انسانوں کو حیات کا پانی فراہم کرنا تھا جو چھاؤنی میں بستے تھے، وہ سپاہی، ان کے گھر والے، ملازم اور بچے، جنہیں جینے کے لیے گھونٹ بھر پانی کی ضرورت تھی۔ گلیات کا یہ پانی ان دہائیوں میں کبھی کسی صنعت کی بھینٹ نہیں چڑھا۔ اس نے کبھی کپاس کے کھیتوں کو سیراب نہیں کیا، کبھی گنے کی فصلیں نہیں پلائیں۔ یہ تو قدرت کے منشا کے مطابق مری کے باسیوں اور مسافروں کی پیاس بجھاتا رہا ہے۔ روزانہ پانچ لاکھ گیلن پانی، سوئمنگ پول بھرنے کے لیے نہیں، کارخانے چلانے کے لیے نہیں، بلکہ صرف سانسیں بحال رکھنے کے لیے نکلتا ہے اور اب، سال 2025 میں، خزانے کا ایک رکھوالا اٹھا ہے اور اس نے اس پانی کا بل بھیج دیا ہے۔

مانتے ہیں، مزمل اسلم ایک ماہر معاشیات ہیں، لیکن انھوں نے ایسا پنڈورا باکس کھولا ہے جس کی ہولناکیوں سے وہ خود بھی ناواقف ہیں۔ انہوں نے شاید اقوامِ متحدہ کے 1991 کے 'واٹر کورس کنونشن' کے آرٹیکل 6 کو پڑھنے کی زحمت نہیں کی، جو پانی کے منصفانہ اور معقول استعمال کا درس دیتا ہے اور تاکید کرتا ہے کہ پانی کے تاریخی استعمال، خاص طور پر انسانی بقا کے لیے، کو ہر تنازع میں فوقیت حاصل ہے۔

شاید انہوں نے 1 دسمبر 2022 کو عالمی عدالتِ انصاف (ICJ) کا وہ فیصلہ نہیں پڑھا جو 'سلالہ تنازعہ' (چلی بمقابلہ بولیویا) پر سنایا گیا تھا۔ وہ دریا جو بولیویا سے نکل کر چلی میں بہتا ہے، اس پر عدالت نے واضح کیا کہ پانی کے قدرتی بہاؤ کو 'اپ اسٹریم' والا فریق محض ایک جنس بنا کر بیچ نہیں سکتا۔ یہ صدیوں پرانے بین الاقوامی قانون کا نچوڑ ہے: وہ پانی جو ایک مشترکہ قدرتی نظام کا حصہ ہے، وہ قانون اور انصاف کی رو سے کسی ایک حکمران کی ملکیت نہیں ہے۔

انہیں شاید یہ خبر بھی نہیں کہ بین الاقوامی قانون میں، پینے کے پانی کا تاریخی استعمال انسانی حقوق کے سب سے مقدس درجے پر فائز ہے۔ 1977 کی مار ڈیل پلاٹا کانفرنس ہو یا 2010 کی اقوامِ متحدہ کی قرارداد، سب اس بات پر متفق ہیں کہ پینے کا پانی انسان کا آفاقی حق ہے۔

یہ دونوں جہتیں ایک ہی نقطے پر ملتی ہیں: انسانی بقا کے لیے پانی کا ایک گھونٹ ہر دوسرے تجارتی یا مالی دعوے سے بالاتر ہے۔ مری کو پانی کی فراہمی گلیات پر کوئی نیا بوجھ نہیں، یہ 130 سال پرانا تسلسل ہے جو پاکستان کے وجود سے بھی قدیم ہے۔ اس پر معاوضہ مانگنا کوئی قانونی دلیل نہیں، یہ ایک ایسی شرمندگی ہے جس نے قانون کا لباس اوڑھ رکھا ہے۔

سوچیں اس فعل کی سنگینی۔ فرض کریں اس خط کو اگر ایک جائز دستاویز مانا گیا، تو کل کو بھارت چناب، جہلم اور سندھ کے پیسے مانگے گا اور افغانستان کابل دریا کے۔

جناب مزمل اسلم صاحب، پانی دو بھائیوں کے درمیان کوئی جنس نہیں ہے۔ یہ ایک ہی دکھ جھیلتی قوم کے صوبوں کے درمیان کوئی انوائس نہیں ہے۔ یہ، جیسا کہ بین الاقوامی قانون مانتا ہے اور جیسا کہ انسانی ضمیر جانتا ہے، ایک حق ہے ازلی، غیر متنازعہ اور زندگی سے الگ نہ ہونے والا۔

لہذا پہلی فرصت میں آپ یہ خط واپس لیں اور اس جن کو فوراً واپس بوتل میں بند کر دیں، یہ فتنہ پھیل گیا تو قابو نہیں آئے گا، آپ کی بڑی مھربانی ہوگی۔ یہ نہ ہو کہ ہم مری والوں کے دماغ میں بھی فتور آ جائے کہ اسلام آباد والو، ہمیں بھی سملی ڈیم سے 35 ملین گیلن روزانہ لئیے جانے والے پانی کا بل دو۔

پس نوشت: جناب ڈپٹی کمشنر مری صاحب، یہ خط گھوم گھما کے آپ کی ٹیبل پہ آئے گا، جب جواب ڈرافٹ کیجئے گا، تو ذرا ہم دونوں سے رابطہ کر لیجئے۔ ہم اس کا شافی اور مدلل جواب آپ کو بنا کے دیں گے۔

About Muhammad Idrees Abbasi

Engineer Muhammad Idrees Abbasi is former advisor world bank and writes on politics and social topics.

Check Also

Waham, Rad e Amal Aur Bikharta Muashra

By Saadia Bashir