Wednesday, 29 April 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Mohsin Khalid Mohsin
  4. Kya Ustad Hona Qabil e Sharam Hai?

Kya Ustad Hona Qabil e Sharam Hai?

کیا اُستاد ہونا قابلِ شرم ہے؟

یہ سوال سُننے میں جتنا تلخ ہے حقیقت میں اس سے کہیں زیادہ کربناک ہے۔ وہ اُستاد جسے کبھی قوم کا معمار کہا جاتا تھا آج اپنے تعارف میں جِھجک محسوس کرتا ہے۔ جو شخص نسلوں کی آبیاری کرتا ہے وہ خود معاشی بدحالی اور سماجی بے توقیری کا شکار ہے۔ پاکستان میں اُستاد کا مقام کتابوں اور تقریروں میں تو بہت بلند دکھایا جاتا ہے مگر عملی زندگی میں اس کی حالت ایسی ہے جیسے چراغ تلے اندھیرا۔

حضرت علیؓ سے منسوب قول ہے: "جس نے مجھے ایک حرف بھی سکھایا میں اس کا غلام ہوں"۔ یہی تصور ہماری تہذیب کی بنیاد تھا۔ اُستاد کو روحانی باپ سمجھا جاتا تھا۔ دیہات میں ماسٹر صاحب کا نام عزت سے لیا جاتا تھا اور شہر میں پروفیسر صاحب کی مجلس کو وقار حاصل ہوتا تھا۔

آج صورت حال بدل چکی ہے۔ اب دولت عزت کا پیمانہ بن گئی ہے اور شو آف نے کردار کو نِگل لیا ہے۔ جس کے پاس بڑی گاڑی اور بڑا بنگلہ ہے وہی مُعتبر سمجھا جاتا ہے چاہے علم سے اس کا کوئی تعلق نہ ہو۔

ڈاکٹر علامہ اقبال نے کہا تھا:

اَفراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے مِلّت کے مقدر کا ستارہ

افسوس! وہ فرد جو قوم کا مقدر سنوارتا ہے آج خود بے بسی کی تصویر بن چکا ہے۔ اُستاد کی تنخواہ اتنی کم ہے کہ گھر کا چولہا جلانا بھی مشکل ہو چکا ہے۔ مہنگائی آسمان سے باتیں کر رہی ہے اور تنخواہ زمین سے چِپکی ہوئی ہے۔ ایک اُستاد جب اپنے بچوں کی فیس ادا نہیں کر پاتا، جب بیمار ماں کی دوا خریدنے سے پہلے جیب ٹٹولتا ہے تو اس کے اعتماد کی دیوار میں دراڑ پڑ جاتی ہے۔

پاکستان میں حکومتی پالیسیوں نے بھی تعلیم کے شعبے کو کمزور کیا ہے۔ سرکاری سکولوں کی نجی کاری نے ہزاروں اساتذہ کو غیر یقینی صورتِ حال میں دھکیل دیا۔ مستقل ملازمت کا خواب ریت کی دیوار ثابت ہوا۔ فنڈز کی بندش نے سکولوں کو ویران کر دیا۔ ترقی کے مواقع ختم کر دیے گئے۔ الاونس روک دیے گئے۔ نئی بھرتیاں کم ہوگئیں۔ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں داخلے محدود ہو گئے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے تعلیم نہیں بلکہ تعلیم دُشمنی ریاستی ترجیح بن گئی ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارے UNESCO کی متعدد رپورٹس اس بات پر زور دیتی ہیں کہ کسی بھی ملک کی ترقی کا انحصار مضبوط تعلیمی نظام اور باعزت اُستاد پر ہوتا ہے۔ Finland جیسے ممالک میں اُستاد کو ڈاکٹر اور انجینئر کے برابر عزت دی جاتی ہے۔ وہاں اُستاد بننا فخر کی بات ہے کیونکہ حکومت بھی اسے اہم سمجھتی ہے اور معاشرہ بھی۔ ہمارے ہاں اُلٹی گنگا بہتی ہے۔ یہاں اُستاد کو اکثر یہ سُننا پڑتا ہے کہ "کچھ اور نہ ملا تو ٹیچر بن گئے"۔

یہ جملہ صرف ایک طنز نہیں بلکہ پورے معاشرتی زوال کی علامت ہے۔ جب ایک نوجوان اُستاد اپنے رشتہ داروں میں اپنا پیشہ بتاتے ہوئے ہچکچاتا ہے تو مسئلہ صرف اس کی ذات کا نہیں بلکہ پورے نظام کا ہے۔ اُستاد کو معلوم ہے کہ لوگ اس کی آمدنی کو دیکھیں گے اس کے علم کو نہیں۔ وہ جانتا ہے کہ اس کے بچوں کے کپڑے اس کے وقار کا فیصلہ کریں گے نہ کہ اس کے شاگردوں کی کامیابی۔

فیض احمد فیض نے کہا تھا:

نثار میں تری گلیوں کے اے وطن کہ جہاں
چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اُٹھا کے چلے

یہ شعر آج استاد کی حالت پر صادق آتا ہے۔ وہ سر اُٹھا کر چلنا چاہتا ہے مگر حالات اس کے کندھوں پر بوجھ بن گئے ہیں۔ وہ بچوں کو حوصلہ اور عزم کا سبق دیتا ہے مگر خود قرض اور فکرکے دلدل میں پھنسا ہوا ہے۔ اُستاد اگر گھر کا خرچہ نہ نکال سکے تو وہ نئی نسل کو خود اعتمادی کا سبق کیسے دے گا؟ خالی برتن کب تک دوسروں کو پانی پلائے گا؟

سرکاری تعلیمی اداروں کے برعکس نجی سکولوں میں صورتحال اور بھی سنگین ہے۔ وہاں اُستاد کو کم تنخواہ پر زیادہ کام کرنا پڑتا ہے۔ چُھٹی مانگنا جُرم بن جاتا ہے۔ عزتِ نفس داؤ پر لگ جاتی ہے۔ کالج اور یونیورسٹی کے لیکچرر بھی وقتی کنٹریکٹ اور غیر یقینی مستقبل کے سائے میں جیتے ہیں۔ اب تو پی ایچ۔ ڈی کرنے کے بعد بھی روزگار کی ضمانت نہیں۔ پاکستان میں یہ صورتحال نوجوان نسل کو تعلیم کے شعبے سے دور کر رہی ہے۔

ستم یہ کہ ہمارے سیاست دان اپنی جھولیاں بھرنے میں مصروف ہیں۔ بجٹ میں تعلیم کا حصہ مسلسل گھٹایا جا رہا ہے۔ تعلیم کے نام پر بڑے بڑے دعوے تو کیے جاتے ہیں مگر زمینی حقیقت کھوکھلے بانس کی طرح ہے۔ سیانے کہتے ہیں اگر ایک قوم اپنے اُستاد کو بھلا دے تو وہ خود بھی تاریخ کے اندھیرے میں کھو جاتی ہے۔ ابن خلدون نے لکھا تھا: "قوموں کا عروج علم سے اور زوال جہالت سے ہوتا ہے"۔ ہم شاید اسی زوال کے دہانے پر کھڑے ہیں۔

اس معاملے میں معاشرہ بھی اپنی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں۔ ہم بچوں کو ڈاکٹر، انجینئر اور افسر بننے کا خواب تو دکھاتے ہیں مگر اُستاد بننے کی ترغیب نہیں دیتے۔ ہم تقریبات میں اُستاد کی تعریف کرتے ہیں مگر عملی طور پر اسے کمتر سمجھتے ہیں۔ یہ دوغلا پن زہر کی طرح نسلوں میں سرایت کر چکا ہے۔

یہ کہنا غلط ہوگا کہ اُستاد ہونا قابلِ شرم ہے۔ اصل شرم تو اس نظام کو ہونی چاہیے جس نے اُستاد کو شرمندہ کر دیا۔ قابلِ شرم وہ پالیسیاں ہیں جنہوں نے علم کے چراغ بجھانے کی کوشش کی۔ قابلِ شرم وہ معاشرہ ہے جو اُستاد کے ہاتھ چومنے کی بجائے اس کی جیب ٹٹولتا ہے۔ قابلِ شرم وہ سیاست گردی ہے جو سڑکوں کے افتتاح پر تالیاں بجاتی ہے مگر سکول کی ٹوٹی چھت پر خاموش رہتی ہے۔

احمد فراز کا شعر یاد آتا ہے:

سُنا ہے لوگ اُسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں
سو اُس کے شہر میں کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں

کاش ہم بھی اُستاد کو آنکھ بھر کے دیکھیں۔ اُس کی خاموش قربانیوں کو سمجھیں۔ اُس کی سفید پوشی کے پیچھے چُھپی محرومیوں کو محسوس کریں۔ اُستاد دراصل درخت کی مانند ہے جو خود دُھوپ میں جلتا ہے مگر دوسروں کو سایہ دیتا ہے۔ اگر یہی درخت سوکھ گیا تو آنے والی نسلیں بنجر زمین پر کھڑی ہوں گی۔

اُستاد ہونا شرم نہیں فخر ہے مگر شرط یہ ہے کہ ریاست اسے فخر کے قابل بنائے۔ جب تک تعلیم کو ترجیح نہیں دی جائے گی، جب تک اُستاد کو معاشی تحفظ اور سماجی احترام نہیں ملے گا تب تک یہ سوال زندہ رہے گا۔

قومیں اُستاد کے ہاتھوں بنتی ہیں اور جب اُستاد ٹوٹ جاتا ہے تو قوم بھی بکھر جاتی ہے۔

وقت آ گیا ہے کہ ہم اس سوال کا جواب بدل دیں۔ اُستاد کو یہ احساس دلایا جائے کہ وہ محض ملازم نہیں بلکہ مستقبل کا معمار ہے۔

یاد رکھیئے! اگر ہم نے آج اُستاد کو عزت نہ دی تو کل ہماری نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔

Check Also

Kya Aurat Mard Ki Mulazmat Kha Rahi Hai?

By Dr. Uzma Noreen