Wednesday, 29 April 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Shaheen Kamal
  4. Do Bhoore Kanche

Do Bhoore Kanche

دو بھورے کنچے

ہم بیسویں صدی والوں کا بھی عجیب ہی المیہ ہے۔ یہ اکیسویں صدی اس قدر برق رفتار کہ اس کی کوئی اور چھور ہی سمجھ میں نہیں آتی۔ ہم پرانے وقتوں کے لوگ اس تیز بہاؤ میں، شہر میں آئے کسی نو وارد دیہاتی کی طرح حق دق منہ کھولے حیران پریشان کھڑے کے کھڑے رہ جاتے ہیں۔ اکیسویں صدی کا تحیر ہی کیا کم تھا کہ کووڈ نے اور ہی ہلواڑہ کر دیا۔ سیکڑوں، ہزاروں کا روزگار گیا اور دلکی چال پر رواں زندگی نے گویا ایک دم رفتار ہی بدل ڈالی۔

محکمہ ڈاک بھی اس بدلتی صدی کی دستبرد سے بھلا کب محفوظ! شکر کہ تھکا تھکا ہی سہی پر چل تو رہا ہے۔ ذاتی خطوط کی ترسیل تو اب برائے نام ہی رہ گئی ہے۔ لے دے کر سرکاری خطوط، بل اور پارسل پر گزاران ہے۔ میرے ادارے میں بھی خوب چھانٹی ہوئی، رب کی رضا کہ میری بچت ہوگئی۔ اب چار سال بعد میری ریٹائرمنٹ ہے، جو میں زندگی سے ریٹائر نہ ہوا تو اس فرصت کا مزہ ضرور لوں گا۔

اس تمہید سے تو آپ نے اندازہ لگا ہی لیا ہوگا کہ میں ڈاکیہ ہوں۔ اب نہ میری وہ پہلے جیسی توقیر ہے اور نہ ہی انتظار، ہائے کیسا نتھرا ستھرا زمانہ گزارا ہے ہم نے بھی۔ پوسٹ کارڈ، ایرو گرام، نیلے، پیلے لفافے۔ کبھی کبھار خوشبو میں بسے پھول دار گلابی اور کاسنی لفافے، حتیٰ کہ وہ بے مایا بیرنگ لفافے بھی اپنائیت رکھتے تھے۔ بھاری بھرکم سرکاری خاکی لفافے، منی آڈر، پرائز بانڈ اور سوغاتیں۔ کیسا شاندار ماضی ہے ہم ڈاک بابوؤں کا۔ لوگ باگ عزت سے مخاطب کرتے تھے۔ جس دروازے پر ہم محبت نامے ڈالتے، وہاں وصول کنندہ کی آنکھوں میں ممنونیت کے ساتھ ساتھ رازداری کی لجاجت بھی ہوتی۔ خاکی وردی کی نرالی شان تھی، گلیوں میں سائیکل کی گھنٹی کے ساتھ ہی چلمنیں سرکنے اور در وا ہونے لگتے تھے۔ کوئی آج جیسا حال تو نہ تھا

پھرتے ہیں میر خوار کوئی پوچھتا نہیں

لو میں بھی سٹھیا ہی گیا ہوں، قصہ کچھ سنانا تھا پر ایران توران کی کہانی لے بیٹھا۔ ڈاک میں کمی تو انٹرنیٹ کے بعد ہی آ گئی تھی مگر واٹساپ نے تو گویا بھٹا ہی بیٹھا دیا۔ اس سے پہلے کہ میں مزید بھٹک جاؤں، سیدھے سبھاؤ کہانی پر آ جاتا ہوں۔ کیا کروں ڈاکیہ ہوں نا سو، سو سو کہانیاں میرے ہم رکاب۔

یہ کہانی ہے شمس الدین کی۔ شریف آباد میں شمس منزل کا شریف النفس رہائشی "شمس الدین"۔

شمس الدین سے میری علیک سلیک ان کے ریٹائرمنٹ کے بعد ہوئی تھی۔ شریف آباد کی گلی نمبر آٹھ کا دوسرا مکان، جس کے کالے گیٹ کے ساتھ ہی گل مہر کا درخت کسی چاق و چوبند سپاہی کی طرح ایستادہ تھا۔ نیچی چار دیواری کے پیچھے، اُسی درخت کی گھنیری چھاؤں تلے آرام دہ کرسی پر اخبار پڑھتے ہوئے شمس الدین۔ یہ منظر میں نے تواتر سے دو ڈھائی برس دیکھا۔ میں ہر دوسرے چوتھے دن تقریباً گیارہ بجے اس گلی میں وارد ہوتا اور تقریباً یہی وہ وقت ہوتا جب شمس الدین کی زوجہ چائے کے ساتھ انہیں بسکٹ یا آلو کے گرما گرم کٹلٹ پیش کیا کرتی تھیں۔ کچھ ہی دنوں میں، اندر سے بجائے ایک، چائے کے دو کپ آنے لگے۔ میں تھڑے پر بیٹھ کر دس پندرہ منٹ گپ شپ کرتا، پھر سائیکل اٹھا کر چل دیتا۔

اس تمام منظر میں دو بھوری کنچے جیسی آنکھیں میری نگران رہتیں۔ یہ شمس صاحب کا بھورا دھاری دار بلا "شیرا" تھا۔ کھلتی نارنجی رنگت، بڑے بڑے ریشم جیسے ملائم بال۔ چوڑے پنجوں اور غیر معمولی جسامت والا بلّا، واقعی چھوٹا سا شیر ہی لگتا۔ اس کا ایک کان پھٹا ہوا تھا، غالباً کسی لڑائی کی نشانی۔ میں شیرا کو سہلانا چاہتا تھا مگر اس کی بے نیازی اجازت نہ دیتی۔ میں جتنی دیر شمس صاحب کے پاس بیٹھا رہتا وہ مجھے اپنی نظروں کے ریڈار تلے رکھتا، چوکنا اور محتاط جیسے شمس صاحب کی حفاظت پر مامور ہو۔ وہ اور شمس صاحب لازم و ملزوم تھے۔

نا مراد کووڈ نے کئی گھر اجاڑے اسی میں ایک شمس منزل بھی تھی۔ بیگم صاحبہ کے وصال نے شمس صاحب کو بالکل تنہا کر دیا۔ ایک سو بیس گز پر بنایا گیا منتوں مرادوں والا "شمس منزل" جو پہلے گھر تھا، اب مکان بھی نہ رہا۔ سچی! بوڑھے رنڈوے سے زیادہ مظلوم اور بے بس، دنیا میں کوئی دوجا نہیں۔ اُس کے سر پر نہ تو چھت رہتی ہے اور نہ ہی پیروں تلے زمین، بس ایک خلا۔ دو وقت کی روٹی اور بے وقت کی چائے، سب کے لیے ترستا ہوا، کرلاتا بڑھاپا۔ میں کووڈ کے دنوں میں بھی میں ان کے تھڑے پر کچھ دیر ضرور بیٹھ کر ان کا حال احوال لیا کرتا تھا۔ بیگم کی رحلت کے بعد میں نے انہیں بجھتے اور مرجھاتے دیکھا۔ شیرا اب دیوار کے بجائے ان کی گود میں بیٹھنے لگا تھا، جیسے ان کی تنہائی کم کرنا چاہتا ہو۔ کبھی اپنے سر سے ان کی تھوڑی سہلا رہا ہے تو کبھی اپنا سر ان کے سینے پر رکھے آنکھیں موندے بالکل شانت سو رہا ہوتا۔ شمس صاحب کھوئے کھوئے سے ہوں ہاں میں جواب دیتے ہوئے اس کے بدن پر ہاتھ پھیرتے رہتے۔

میں خود بھی کہاں کم تنہا تھا، نہ جورو نہ جاتا، اللہ میاں سے ناتا۔ چالیس برس سے ایک بوسیدہ کوارٹر، جس کی شور زدہ دیواریں اور ان پر بنتی بگڑتی شکلیں، یہی میرے ساتھی تھے۔ اب تو یوں لگتا تھا کہ سایہ بھی ساتھ چھوڑنے لگا ہے۔ ڈیوٹی سے واپسی کے بعد میں خود ہی ہانڈی روٹی کرتا کہ اس عمر میں بازارو کھانے ہضم نہیں ہوتے۔ میری تنہائی بڑی بوجھل اور جو سچ کہوں تو اب مجھ سے سہاری بھی نہیں جاتی۔

شمس صاحب تنہائی کا بوجھ فقط تین سال ہی جھیل سکے۔ ان کی بیماری کی اطلاع، میں نے ان کے چاروں بچوں کو دے دی تھی۔ شکر کہ ان کی مرگ سے پیشتر ہی چاروں پہنچ گئے۔ تینوں بچے تیجہ نپٹا کر واپس چلے گئے۔ چھوٹے بیٹے نے گارے چونے سے بنے گھر کو ٹھکانے لگاتے ہوئے پیسہ جیب میں ڈالا، پر جیتا جاگتا، باپ کا دلارا شیرا، اسی ڈھنڈر پڑے مکان کی نیچی چار دیواری پر بیٹھے کا بیٹھا چھوڑ دیا گیا۔ اب گلی نمبر آٹھ کی ڈاک نہ ہونے کے باوجود بھی میں روزانہ وہاں جاتا اور چار دیواری پر بیٹھے، نروٹھے شیرا کو راتب اور پانی ڈالتا۔ کبھی وہ تھوڑا بہت کھا لیتا ہے ورنہ اکثر منہ پھیر لیتا۔ میں جب اسے پیار کرنے کے لیے اس کے سر پر ہاتھ رکھتا تو وہ اپنا جسم سکیڑ لیتا، جیسے اسے شمس الدین صاحب کے علاوہ کسی غیر کا لمس گوارا نہیں۔

اب وہ شیر جیسا بلّا، مٹی دھول میں اٹا، الجھے بالوں والا لاغر شیرا اپنی پرچھائی بھی نہیں رہا تھا۔ شمس الدین صاحب کو گزرے سات مہینے ہو چکے تھے۔ سنا کہ اس گھر کے نئے مالک گھر کو توڑ کر نئے سرے سے دو منزلہ گھر بنوانے والے ہیں۔ اس خبر سے میں متفکر ہوا، شیرا کا کیا بنے گا؟

جب شمس صاحب کے گھر کی مسماری شروع ہوئی تو پہلی ضرب گل مہر پر پڑی۔ اس روز شیرا کہیں نہیں تھا۔ میں نے اسے آوازیں دیں، دیوانہ وار ڈھونڈتا پھرا مگر اس کا کوئی پتہ نشان نہ تھا۔ اگلے پانچ چھ روز تک مجھے شیرا کہیں نظر نہیں آیا یہاں تک کہ شمس منزل ملبے کا ڈھیر بن گئی۔

اس دن بھی میں کام سے واپسی پر شیرا کو ڈھونڈنے گلی نمبر آٹھ آیا مگر نامراد ہی رہا۔ شام پڑتے ہی گہرے بادل پھوٹ پڑے اور موسلا دھار بارش شروع ہوگئی۔ میرا دل جیسے کسی نے مٹھی میں بھینچ لیا، مجھے کسی پل قرار نہ تھا۔ میں نے اپنی گھسی ہوئی برساتی اوڑھی اور شریف آباد کی گلی نمبر آٹھ کی طرف دیوانہ وار پیڈل مارنے لگا۔ گہرے بادل اور برستی بارش نے شام کو رات کا پیرہن پہنا دیا تھا۔ خلاف معمول اسٹریٹ لائٹس روشن تھیں، اس کی نقرئی روشنی میں، میں ملبے کو آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھ رہا تھا اور ساتھ ہی ساتھ شیرا کو آوازیں بھی دیتا رہا۔ پر شیرا کا کہیں اتا پتا نہ تھا۔ میں مایوس ہو کر پلٹنے ہی والا تھا کہ ایک نحیف سی میاؤ سنائی دی۔ ملبے کے پیچھے سے پانی میں شرابور، کانپتا ہوا لاغر شیرا نکلتا نظر آیا۔ میں نے اسے بھاگ کر اٹھایا اور اپنی برساتی میں چھپا لیا۔ گھر پہنچ کر اسے تولیہ سے خشک کیا اور گرم دودھ پلایا۔ اس رات، پہلی بار میرا کمرہ خالی نہیں لگا۔

اب میری دوئی سرشار کہ ڈیوٹی سے واپسی پر کھڑکی کی سلاخوں کے پیچھے دو بھورے کنچے میرے منتظر ہوتے ہیں۔

Check Also

Khoon Behta Hai To Tehzeeb Hai Matam Karti

By Abdul Hannan Raja