Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Dr. Uzma Noreen
  4. Zindagi Dukh De To Kya Karen?

Zindagi Dukh De To Kya Karen?

زندگی دُکھ دے تو کیا کریں؟

زندگی ہمیشہ ایک جیسی نہیں رہتی۔ کبھی یہ بہار کی نرم ہوا کی طرح دل کو سکون دیتی ہے اور کبھی تپتے صحرا کی دھوپ بن جاتی ہے۔ انسان جب خوش ہوتا ہے تو اسے لگتا ہے کہ دنیا خوبصورت ہے مگر جب دکھ اس کے دروازے پر دستک دیتا ہے تو وہی دنیا بے رنگ محسوس ہونے لگتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ زندگی کا دوسرا نام ہی تبدیلی ہے۔ اگر خوشی مستقل نہیں تو دکھ بھی ہمیشہ قائم نہیں رہتا۔

انسان اپنی زندگی میں مختلف طرح کے دکھ جھیلتا ہے۔ کسی کو غربت کا دکھ ہوتا ہے۔ کسی کو تنہائی کا۔ کوئی اپنے پیاروں کے رویوں سے ٹوٹ جاتا ہے اور کوئی اپنی ناکامیوں کے بوجھ تلے دب جاتا ہے۔ بعض دکھ ایسے ہوتے ہیں جو زبان سے بیان نہیں کیے جا سکتے۔ وہ خاموشی سے اندر رہتے ہیں اور انسان کے چہرے کی مسکراہٹ کے پیچھے چھپ جاتے ہیں۔ دکھ انسان کو سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ آخر زندگی ہے کیا؟

مشہور فلسفی سقراط نے کہا تھا: "مشکل زندگی ہی انسان کو خود سے ملواتی ہے"۔

یہ جملہ دراصل زندگی کے گہرے فلسفے کو بیان کرتا ہے۔ انسان خوشیوں میں اکثر اپنے آپ کو بھول جاتا ہے مگر دکھ اسے اپنے اندر جھانکنے پر مجبور کرتا ہے۔ دکھ انسان کو یہ احساس دلاتا ہے کہ وہ کتنا مضبوط ہے اور اس کے اندر کتنی برداشت موجود ہے۔

قرآن پاک میں بار بار صبر کی تلقین کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے"۔

یہ آیت انسان کو امید دیتی ہے کہ ہر اندھیری رات کے بعد صبح ضرور آتی ہے۔ اگر زندگی میں صرف خوشیاں ہوتیں تو شاید انسان صبر، دعا اور احساس کی حقیقت کبھی نہ سمجھ پاتا۔

دکھ اور خوشی دراصل ایک ہی راستے کے دو مسافر ہیں۔ اگر انسان نے کبھی دکھ نہ دیکھا ہو تو وہ خوشی کی قدر بھی نہیں جان سکتا۔ جس نے بھوک دیکھی ہو وہ روٹی کی قیمت سمجھتا ہے۔ جس نے تنہائی جھیلی ہو وہ محبت کی اہمیت جانتا ہے۔ جس نے محرومی دیکھی ہو وہ چھوٹی چھوٹی نعمتوں پر بھی شکر ادا کرتا ہے۔

معروف شاعر فیض احمد فیض نے کہا تھا:

اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا۔

اس مصرعے میں انسانی زندگی کے وسیع دکھوں کی طرف اشارہ موجود ہے۔ انسان صرف ایک غم کا نام نہیں بلکہ اس کے اندر کئی خاموش طوفان چلتے رہتے ہیں۔ کبھی رشتوں کے مسائل، کبھی معاشی پریشانیاں، کبھی بیماری اور کبھی مستقبل کا خوف انسان کو اندر سے تھکا دیتا ہے۔

بعض لوگ پوچھتے ہیں کہ اگر زندگی دکھ ہی دیتی ہے تو پھر جینے کا مقصد کیا ہے۔ اس سوال کا جواب شاید یہی ہے کہ دکھ انسان کو مکمل بناتے ہیں۔ اگر ایک بیج زمین کے اندھیرے میں دفن نہ ہو تو وہ درخت نہیں بنتا۔ اگر سونا آگ میں نہ جلے تو خالص نہیں ہوتا۔ اسی طرح انسان بھی آزمائشوں سے گزر کر پختہ ہوتا ہے۔

مشہور مصنف خلیل جبران نے لکھا تھا: "تمہارا دکھ وہ خول توڑتا ہے جو تمہاری سمجھ کو گھیرے رکھتا ہے"۔

اس اقتباس کا مطلب یہ ہے کہ دکھ انسان کے اندر نئی سوچ پیدا کرتا ہے۔ بہت سے لوگ اپنی سب سے بڑی کامیابی کسی ناکامی یا دکھ کے بعد حاصل کرتے ہیں۔ دنیا کے بڑے لوگوں کی زندگی میں بے شمار تکلیفیں موجود تھیں۔ مگر انہوں نے دکھ کو شکست کے بجائے طاقت بنا لیا۔

نیلسن منڈیلا نے ستائیس سال جیل میں گزارے مگر وہ ٹوٹے نہیں۔ انہوں نے کہا تھا: "میں کبھی ہارا نہیں، میں نے جیتا یا سیکھا"۔

یہی اصل فلسفہ ہے۔ دکھ ہمیشہ انسان کو کچھ نہ کچھ سکھا کر جاتا ہے۔ اگر انسان صرف روتا رہے اور سبق نہ سیکھے تو دکھ بوجھ بن جاتا ہے۔ اگر وہ برداشت اور حکمت سیکھ لے تو یہی دکھ اس کی شخصیت کو روشن کر دیتا ہے۔

زندگی کے دکھ صرف باہر سے نہیں آتے۔ کبھی انسان اپنے خیالات سے بھی خود کو اذیت دیتا ہے۔ وہ دوسروں سے موازنہ کرتا ہے۔ اپنی محرومیوں کو بڑھا چڑھا کر دیکھتا ہے۔ اپنے اندر کی نعمتوں کو بھول جاتا ہے۔ حالانکہ سکون صرف دولت یا شہرت سے نہیں ملتا۔ سکون ایک اندرونی کیفیت ہے۔ کئی امیر لوگ بے سکون ہیں اور کئی غریب لوگ دل کے مطمئن ہیں۔

حضرت علیؓ کا قول ہے: "صبر دو طرح کا ہوتا ہے۔ ایک وہ جسے تم ناپسند کرتے ہو اور دوسرا وہ جسے تم پسند کرتے ہو"۔

یہ قول انسان کو یہ سمجھاتا ہے کہ زندگی صرف خواہشات پوری ہونے کا نام نہیں۔ بعض اوقات انسان کو وہ راستہ بھی قبول کرنا پڑتا ہے جو اس کے دل کو پسند نہیں ہوتا مگر وہی راستہ اس کی بھلائی کا سبب بن جاتا ہے۔

جدید دور میں سوشل میڈیا نے بھی انسان کے دکھ بڑھا دیے ہیں۔ لوگ دوسروں کی خوشیوں کو دیکھ کر اپنی زندگی کو ناکام سمجھنے لگتے ہیں۔ ہر شخص اپنی زندگی کا خوبصورت حصہ دکھاتا ہے مگر اپنے آنسو نہیں دکھاتا۔ اس وجہ سے بہت سے لوگ اندر ہی اندر اداسی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ہر انسان اپنی جگہ کسی نہ کسی درد سے گزر رہا ہوتا ہے۔

ماہر نفسیات وکٹر فرینکل نے اپنی کتاب Mans Search for Meaning میں لکھا کہ "انسان ہر تکلیف برداشت کر سکتا ہے اگر اسے اپنی زندگی کا مقصد معلوم ہو"۔ وہ خود جنگی قیدی رہے مگر انہوں نے دکھ کے اندر بھی امید تلاش کی۔ ان کے مطابق: "انسان کے پاس سب کچھ چھینا جا سکتا ہے مگر اپنے رویے کے انتخاب کی آزادی نہیں چھینی جا سکتی"۔

اگر زندگی میں دکھ نہ ہوتے تو شاید انسان خدا کو بھی بھول جاتا۔ اکثر لوگ خوشیوں میں غافل ہو جاتے ہیں مگر دکھ انہیں دعا کی طرف لے آتا ہے۔ انسان جب ٹوٹتا ہے تو رب کے قریب ہوتا ہے۔ آنسو کبھی کبھی انسان کے دل کو اتنا نرم کر دیتے ہیں کہ وہ پہلے سے بہتر انسان بن جاتا ہے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر دکھ ہمیشہ برا نہیں ہوتا۔ بعض دکھ ہمیں غلط لوگوں سے دور کرتے ہیں۔ بعض ناکامیاں ہمیں بڑے نقصان سے بچا لیتی ہیں۔ بعض جدائیاں ہمیں اپنی اصل پہچان دیتی ہیں۔ وقت گزرنے کے بعد انسان کو احساس ہوتا ہے کہ جس چیز کو وہ تباہی سمجھ رہا تھا وہ دراصل اس کی زندگی کا نیا آغاز تھا۔

رومی نے کہا تھا: "زخم وہ جگہ ہے جہاں سے روشنی تمہارے اندر داخل ہوتی ہے"۔

یہ جملہ انسان کو امید دیتا ہے کہ ٹوٹ جانا ہمیشہ ختم ہو جانا نہیں ہوتا۔ کبھی کبھی انسان ٹوٹ کر ہی مضبوط بنتا ہے۔

زندگی کے دکھ کم کرنے کا ایک راستہ دوسروں کے دکھ سمجھنا بھی ہے۔ جب انسان صرف اپنے غموں میں ڈوبا رہتا ہے تو اسے لگتا ہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ تکلیف اسی کے پاس ہے۔ مگر جب وہ دوسروں کی پریشانیاں دیکھتا ہے تو اسے احساس ہوتا ہے کہ ہر شخص اپنے حصے کی جنگ لڑ رہا ہے۔

سکون حاصل کرنے کے لیے انسان کو چند باتیں سیکھنی پڑتی ہیں۔ پہلی بات یہ کہ ہر چیز انسان کے اختیار میں نہیں ہوتی۔ دوسری یہ کہ وقت ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتا۔ تیسری یہ کہ شکر انسان کے دل کو ہلکا کر دیتا ہے اور چوتھی یہ کہ امید کبھی نہیں چھوڑنی چاہیے۔

زندگی ایک کتاب کی طرح ہے۔ اس میں خوشی کے صفحات بھی ہوتے ہیں اور دکھ کے بھی۔ اگر کتاب میں صرف ایک ہی رنگ ہو تو وہ بےرنگ ہو جاتی ہے۔ اسی طرح انسان کی زندگی بھی خوشی اور غم دونوں سے مکمل ہوتی ہے۔ اصل کامیابی یہ نہیں کہ انسان کبھی نہ روئے بلکہ اصل کامیابی یہ ہے کہ وہ رونے کے بعد دوبارہ اٹھ کھڑا ہو۔

کبھی کبھی خاموشی بھی علاج بن جاتی ہے۔ فطرت کے قریب رہنا دعا کرنا اچھے لوگوں کے ساتھ وقت گزارنا ہے مگر اسے ہمیشہ مایوس رہنے کا حق نہیں دینا چاہیے کیونکہ امید ہی انسان کو زندہ رکھتی ہے۔

میں سمجھتی ہوں کہ زندگی دکھ بھی دیتی ہے اور جینے کا حوصلہ بھی۔ اگر دکھ نہ ہوں تو انسان احساس سے خالی ہو جائے۔ اگر خوشی نہ ہو تو زندگی بوجھ بن جائے۔ اس لیے شاید اصل سکون اسی میں ہے کہ انسان ہر حال کو قبول کرنا سیکھ لے۔ وہ خوشی میں شکر کرے اور دکھ میں صبر۔ کیونکہ زندگی کا حُسن شاید اسی توازن میں پوشیدہ ہے۔

Check Also

Maarka e Haq, Bunyan Ul Marsoos

By Abaid Ullah Khamees