Saturday, 25 April 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Dr. Uzma Noreen
  4. Zehra Nigah Ki Shayari Ke Mozuat

Zehra Nigah Ki Shayari Ke Mozuat

زہرا نگاہ کی شاعری کے موضوعات

اردو شاعری میں خواتین کی آواز ہمیشہ موجود رہی ہے تاہم اسے حقیقی معنوں میں شناخت اور وقار بعد کے ادوار میں عروج حاصل ہوا۔ اس سلسلے میں زہرا نگاہ کا نام نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ ان کی شاعری نہ صرف نسائی احساسات کی نمائندہ ہے بلکہ انسانی جذبات، سماجی حقیقتوں اور اخلاقی اقدار کی عکاسی بھی کرتی ہے۔ زہرا نگاہ کی شاعری کے موضوعات میں سادگی، گہرائی اور تاثیر کا حسین امتزاج ملتا ہے۔

زہرا نگاہ کے ہاں محبت ایک مہذب اور باوقار جذبے کے طور پر سامنے آتی ہے۔ ان کی نظموں میں رومانوی احساسات میں ایک ٹھہراؤ اور شائستگی ہے۔ وہ جذبات کو چیخ و پکار کی بجائے خاموشی اور تہذیب کے ساتھ بیان کرتی ہیں:

یہ جو تم مجھ سے گریزاں ہو مری بات سنو
ہم اسی چھوٹی سی دنیا کے کسی رستے پر

اتفاقاً کبھی بھولے سے کہیں مل جائیں
کیا ہی اچھا ہو کہ ہم دوسرے لوگوں کی طرح

کچھ تکلف سے سہی ٹھہر کے کچھ بات کریں

ان اشعار میں محبت کی ایک ایسی صورت سامنے آتی ہے جو خودداری اور احترام سے وابستہ ہے۔ یہ انداز زہرا نگاہ کو دیگر شاعرات سے ممتاز کرتا ہے۔

ان کی شاعری کا ایک اور اہم موضوع یاد اور ماضی کی کسک ہے۔ وہ انسانی تعلقات کی نزاکت اور بکھراؤ کو نہایت خوبصورتی سے بیان کرتی ہیں:

ایک پل کے لئے وہ ساعت نازک آ جائے
ناخن لفظ کسی یاد کے زخموں کو چھوئے

اک جھجکتا ہوا جملہ کوئی دکھ دے جائے
کون جانے گا کہ ہم دونوں پہ کیا بیتی ہے

یہ مصرعے انسانی دل کی گہرائیوں میں چھپی ان کہی کہانیوں کو اجاگر کرتے ہیں، جہاں یادیں زخم بھی دیتی ہیں اور زندگی کا حصہ بھی بنی رہتی ہیں۔

زہرا نگاہ کی شاعری میں ایک نمایاں پہلو ماں کا کردار ہے۔ انہوں نے ماں کے جذبات، اس کی قربانی اور اس کے درد کو بڑی شدت کے ساتھ بیان کیا ہے۔ ان کی نظم میں ایک ماں اپنے بیٹے کو ایک غیر متوقع اور تکلیف دہ حالت میں دیکھتی ہے:

کل رات مرا بیٹا مرے گھر
چہرے پہ منڈھے خاکی کپڑا

بندوق اٹھائے آ پہنچا
نو عمری کی سرخی سے رچی اس کی آنکھیں

میں جان گئی
اور بچپن کے صندل سے منڈھا اس کا چہرہ

پہچان گئی

یہ نظم نہ صرف ماں کی محبت کو ظاہر کرتی ہے بلکہ معاشرتی بگاڑ، تشدد اور حالات کی ستم ظریفی کو بھی بیان کرتی ہے۔

اردو شاعری میں نسائیت کی روایت پر نظر ڈالیں تو ادا جعفری اور کشور ناہید جیسی شاعرات نے عورت کے احساسات کو جرات مندی سے بیان کیا۔ ان کے ہاں عورت صرف محبوبہ نہیں بلکہ ایک مکمل انسان کے طور پر سامنے آتی ہے جو اپنے دکھ، خواہشات اور حقوق کا شعور رکھتی ہے۔ زہرا نگاہ نے اس روایت کو ایک نرم اور متوازن انداز میں آگے بڑھایا۔

زہرا نگاہ کی شاعری میں زبان کی سادگی اور اظہار کی شفافیت خاص اہمیت رکھتی ہے۔ وہ مشکل استعاروں اور پیچیدہ علامتوں کی بجائے سادہ الفاظ میں گہری بات کہنے کا ہنر رکھتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری عام قاری کے دل تک آسانی سے پہنچ جاتی ہے۔

ان کے ہاں امید اور مثبت سوچ کا عنصر بھی نمایاں ہے۔ وہ زندگی کے اندھیروں میں روشنی تلاش کرنے کا درس دیتی ہیں:

اس خموشی کے اندھیروں سے نکل آئیں چلو
کسی سلگے ہوئے لہجے سے چراغاں کر لیں

چُن لیں پھولوں کی طرح ہم بھی متاعِ الفاظ
اپنے اجڑے ہوئے دامن کو گلستاں کر لیں

یہ مصرعے زندگی کی تلخیوں کے باوجود امید اور حوصلے کا پیغام دیتے ہیں۔

میرا ذاتی احساس یہ ہے کہ زہرا نگاہ کی شاعری انسانی جذبات، نسائی احساسات، سماجی مسائل اور اخلاقی اقدار کا حسین امتزاج ہے۔ انہوں نے اردو شاعری میں عورت کے نرم مگر مضبوط لہجے کو متعارف کروایا۔ ان کی شاعری نہ صرف ادب کا قیمتی سرمایہ ہے بلکہ معاشرے کے لیے ایک آئینہ بھی ہے، جس میں ہم اپنی حقیقت کو دیکھ سکتے ہیں۔

Check Also

Pakistan Aur Khurak Ka Ziyaa

By Hameed Ullah Bhatti