Tuesday, 21 April 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Dr. Uzma Noreen
  4. Urdu Zuban Ke Firogh Mein Aurat Ka Hissa

Urdu Zuban Ke Firogh Mein Aurat Ka Hissa

اُردو زبان کے فروغ میں عورت کا حصہ

اردو زبان میرے لیے صرف اظہار کا وسیلہ نہیں، ایک احساس، ایک شناخت اور ایک مسلسل جدوجہد کا نام ہے۔ اس زبان کی تاریخ میں عورت کا حصہ خاموش ضرور رہا، مگر غیر موجود کبھی نہیں رہا۔ اگر ہم اردو کی موجودہ صورت حال کا جائزہ لیں تو ایک طرف یہ زبان تعلیمی، سرکاری اور ٹیکنالوجی کے میدان میں چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے، تو دوسری طرف ادب، میڈیا اور سوشل پلیٹ فارمز پر ایک نئی توانائی کے ساتھ زندہ بھی ہے۔ اس نئی توانائی میں عورت کی آواز نمایاں طور پر شامل ہے۔

پاکستان میں اردو کو فروغ دینے کے حوالے سے عورت کا کردار محض تخلیقی سطح تک محدود نہیں رہا بلکہ تدریس، تحقیق، تنقید اور صحافت میں بھی اس نے اپنی جگہ بنائی ہے۔ اگر ہم ماضی کی طرف دیکھیں تو رشید جہاں جیسی ادیبہ نے نہ صرف لکھا بلکہ سماجی جمود کو توڑنے کی جرات بھی کی۔ ان کی تحریریں اس بات کا ثبوت ہیں کہ عورت نے ابتدا ہی سے اردو ادب میں اپنا حصہ ڈالنا شروع کر دیا تھا، چاہے اسے کتنی ہی مخالفت کا سامنا کیوں نہ کرنا پڑا ہو۔

اردو شاعری میں عورت کی آواز ایک الگ شناخت رکھتی ہے۔ پروین شاکر کا نام اس حوالے سے نمایاں ہے۔ ان کا مجموعہ "خوشبو" صرف ایک کتاب نہیں بلکہ عورت کے داخلی احساسات کا آئینہ ہے۔ انہوں نے محبت، تنہائی، شناخت اور معاشرتی پابندیوں کو جس سادگی اور شدت سے بیان کیا، وہ اس سے پہلے بیان نہ ہوا تھا۔ اسی طرح کشور ناہید کی نظموں میں مزاحمت اور خود آگاہی کا رنگ غالب ہے۔ ان کی تحریریں عورت کو محض موضوع نہیں بلکہ ایک سوچ اور ایک طاقت کے طور پر پیش کرتی ہیں۔

فکشن کے میدان میں بھی عورت نے اپنی الگ پہچان قائم کی۔ قرۃ العین حیدر کا ناول "آگ کا دریا" اردو ادب کا ایک سنگِ میل ہے۔ اس میں تاریخ، تہذیب اور انسان کی شناخت کو جس انداز میں پیش کیا گیا، وہ کسی بھی بڑے ادیب کے شایانِ شان ہے۔ اسی طرح بانو قدسیہ کا "راجہ گدھ" انسانی نفسیات اور اخلاقیات پر ایک گہرا تبصرہ ہے۔ ان خواتین فکشن نگاروں نے ثابت کیا کہ عورت صرف جذباتی موضوعات تک محدود نہیں بلکہ فکری اور فلسفیانہ سطح پر بھی بھرپور اظہار کر سکتی ہے۔

موجودہ دور میں دیکھیں تو عورت کی شرکت اور بھی زیادہ متحرک نظر آتی ہے۔ یونیورسٹیوں میں اردو کی طالبات کی تعداد زیادہ ہے، تحقیق کے میدان میں خواتین اسکالرز نمایاں ہیں اور سوشل میڈیا نے انہیں ایک آزاد پلیٹ فارم فراہم کیا ہے جہاں وہ بغیر کسی ادارتی دباؤ کے اپنی بات کہہ سکتی ہیں۔ بلاگنگ، آن لائن میگزینز اور ڈیجیٹل پبلشنگ نے عورت کی آواز کو مزید مضبوط کیا ہے۔

لیکن اس سفر میں مشکلات بھی کم نہیں رہیں۔ پدرسری معاشرے نے طویل عرصے تک عورت کی تحریر کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔ برسوں عورت کے لکھے ہوئے ادب کو "جذباتی" اور "کمزور" قرار دے کر نظر انداز کیا گیا۔ مرد ناقدین نے عورت کی تحریروں کو اسی پیمانے پر پرکھنے کی کوشش کی جو خود مردانہ تجربات پر مبنی تھا۔ اس سے عورت کے مخصوص تجربات اور احساسات کو وہ اہمیت نہیں مل سکی جس کے وہ حق دار تھے۔

مثال کے طور پر ابتدائی دور میں جب عورت نے محبت یا جسمانی احساسات پر لکھا تو اسے تنقید کا نشانہ بنایا گیا، جبکہ یہی موضوعات مرد ادیبوں کے لیے قابل قبول تھے۔ یہ ایک واضح ناانصافی تھی۔ عورت کو نہ صرف لکھنے کے لیے بلکہ اپنے موضوعات کے انتخاب کے لیے بھی جدوجہد کرنی پڑی۔

اس کے باوجود عورت نے ہمت نہیں ہاری۔ اس نے خاموشی کو توڑا، اپنی کہانی خود لکھی اور اپنے لیے جگہ بنائی۔ عصمت چغتائی کا افسانہ "لحاف" اس کی بہترین مثال ہے۔ اس افسانے نے نہ صرف ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی بلکہ عورت کے ان پہلوؤں کو بھی سامنے لایا جن پر بات کرنا معیوب سمجھا جاتا تھا۔ اس جرات نے آنے والی نسلوں کے لیے راستہ ہموار کیا۔

عورت کی اس جدوجہد میں تعلیمی اداروں اور ادبی تنظیموں کا کردار بھی اہم رہا ہے۔ آج خواتین نہ صرف لکھ رہی ہیں بلکہ ادبی میلوں، سیمینارز اور ورکشاپس میں بھی فعال کردار ادا کر رہی ہیں۔ وہ نئی نسل کو اردو زبان سے وابستہ کرنے میں بھی اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔

اردو زبان کی موجودہ صورت حال اگرچہ کچھ تشویشناک ہے۔ خاص طور پر تعلیمی نظام میں اس کی کم ہوتی اہمیت کے باعث، مگر عورت کی موجودگی اس کے لیے ایک امید کی کرن ہے۔ وہ نہ صرف اس زبان کو زندہ رکھے ہوئے ہے بلکہ اسے نئے موضوعات، نئے انداز اور نئی جہتیں بھی دے رہی ہے۔

آخر میں یہی کہنا چاہوں گی کہ اردو زبان کی خدمت میں عورت کا حصہ کسی رعایت کا محتاج نہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے جسے تسلیم کرنا ضروری ہے۔ عورت نے اس زبان کو صرف الفاظ نہیں دیے بلکہ احساس، جرات اور شناخت بھی دی ہے۔ آج اگر اردو زندہ ہے، تو اس میں عورت کی خاموش مگر مضبوط آواز بھی شامل ہے۔

Check Also

Aalmi Sifarat Kari Aur Pakistan Zindabad

By Rizwan Ahmad Qazi