Wednesday, 22 April 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Dr. Uzma Noreen
  4. Parveen Shakir Ki Nasri Nazm Buri Aurat Ka Mukhtasir Tajzia

Parveen Shakir Ki Nasri Nazm Buri Aurat Ka Mukhtasir Tajzia

پروین شاکر کی نثری نظم "بُری عورت" کا مختصر تجزیہ

پروین شاکر اردو ادب کی ایک نمایاں اور حسَاس شاعرہ تھیں جنہوں نے جدید نسائی شعور کو نئی آواز دی۔ ان کی شاعری میں محبت، تنہائی، خودی اور عورت کی داخلی کیفیات نہایت لطیف انداز میں بیان ہوئی ہیں۔ وہ سادہ مگر پُراثر زبان استعمال کرتی ہیں جس میں جذبات کی سچائی نمایاں ہوتی ہے۔ ان کا پہلا مجموعہ "خوشبو"بے حد مقبول ہوا۔ انہوں نے عورت کے احساسات، سماجی پابندیوں اور مردانہ رویّوں کو نہایت جرات سے موضوع بنایا۔ ان کی شاعری میں نزاکت کے ساتھ ساتھ ایک مضبوط نسائی شناخت بھی واضح نظر آتی ہے۔

پروین شاکر کی نظم "ایک بُری عورت" اردو شاعری میں نسائی شعور کی ایک نہایت طاقتور اور پیچیدہ مثال ہے۔ اس نظم میں شاعرہ نے عورت کے اُس تصور کو چیلنج کیا ہے جو صدیوں سے مردانہ سماج نے تشکیل دیا ہے۔ یہاں "بُری عورت" دراصل وہ عورت ہے جو سماجی اقدار کے بنائے ہوئے سانچوں میں فِٹ نہیں بیٹھتی۔ یہ نظم صرف ایک عورت کی کہانی نہیں بلکہ پورے معاشرے کے منافقانہ رویّوں کا آئینہ ہے۔

نظم کے آغاز ہی میں شاعرہ عورت کی ظاہری شناخت کو چیلنج کرتی ہیں:

"وہ اگرچہ مطربہ ہے
لیکن اُس کے دامِ صورت سے زیادہ

شہر اُس کے جسم کا اسیر ہے"

یہاں "مطربہ" کا لفظ ایک خاص سماجی لیبل ہے جو عورت کو کمتر ثابت کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ مگر شاعرہ فوراً اس تاثر کو توڑ دیتی ہیں اور بتاتی ہے کہ مسئلہ عورت کا پیشہ نہیں بلکہ مردانہ نگاہ ہے جو اسے محض جسم تک محدود کر دیتی ہے۔ "شہر اُس کے جسم کا اسیر ہے" ایک نہایت معنی خیز مصرع ہے جو اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ معاشرہ خود اس کشش کا قیدی ہے جسے وہ بظاہر بُرا کہتا ہے۔ پروین شاکر عورت کے حُسن کو غیر معمولی انداز میں پیش کرتی ہیں:

"وہ آگ میں گلاب گوندھ کر کمالِ آزری سے پہلوی تراش پانے والا جسم"

یہاں حُسن کو تخلیقی اور فنکارانہ انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ "آگ میں گلاب گوندھنا" شدت اور نرمی کا حسین امتزاج ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ عورت محض جسم نہیں بلکہ ایک فن پارہ ہے۔ یہی حُسن اس کے لیے عذاب بن جاتا ہے کیونکہ معاشرہ اسے برداشت نہیں کر پاتا۔ نظم میں ایک اہم پہلو یہ ہے کہ عورت کے حُسن کو خوف میں بدل دیا گیا ہے:

"کیا عجیب حُسن ہے۔
کہ جس سے ڈر کے مائیں اپنی کوکھ جائیوں کو۔

کوڑھ صورتی کی بد دُعائیں دے رہی ہیں"

یہ اشعار معاشرتی ذہنیت کی عکاسی کرتے ہیں جہاں خوبصورتی کو نعمت کے بجائے خطرہ سمجھا جاتا ہے۔ مائیں اپنی بیٹیوں کے لیے بدصورتی کی دعا کرتی ہیں تاکہ وہ محفوظ رہیں۔ یہ ایک انتہائی کربناک حقیقت ہے کہ عورت کی حفاظت کے لیے اس کی خوبصورتی کو ختم کرنے کی خواہش کی جاتی ہے۔ اسی طرح شادی شدہ عورتوں کا خوف بھی نمایاں کیا گیا ہے:

"بیاہتا دِلوں میں اس کا حُسن خوف بن کے یوں دھڑکتا ہے
کہ گھر کے مرد شام تک نہ لوٹ آئیں تو

وفاشعار بیبیاں دُعائے نور پڑھنے لگتی ہیں"

یہاں شاعرہ نے مرد کی بے وفائی کے خدشے کو عورت کے حُسن سے جوڑ دیا ہے۔ گویا قصور مرد کا نہیں بلکہ اُس عورت کا ہے جسے "بُری" کہا جا رہا ہے۔ یہ سماج کی وہ منافقت ہے جسے پروین شاکر بے نقاب کرتی ہیں۔ نظم کا ایک اور اہم پہلو مذہبی اور اخلاقی طبقے کی منافقت ہے:

"وہ نہر جس پہ ہر سحر یہ خوش جمال بال دھونے جاتی ہے

اُسے فقیہِ شہر نے نجس قرار دے دیا"

یہاں مذہب کے نام پر عورت کو بدنام کرنے کا عمل دکھایا گیا ہے۔ فقیہ شہر اس نہر کو نجس قرار دیتا ہے کیونکہ عورت وہاں جاتی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عورت کے مذہبی اختیار کو بھی دبانے کے لیے مذہب کے کارندے استعمال ہوتے ہیں۔ اسی طرح مردوں کے رویّے پر طنز کیا گیا ہے:

"تمام نیک مرد اس سے خوف کھاتے ہیں"

یہ "نیک مرد" دراصل اپنی کمزوریوں سے خوفزدہ ہیں۔ وہ عورت کو برا کہہ کر خود کو نیک ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ نظم کا بیانیہ اچانک ایک ذاتی تجربے میں بدل جاتا ہے جہاں شاعرہ خود کو ایک جنگل میں کھوئی ہوئی پاتی ہیں۔ یہ حصہ علامتی ہے اور عورت کی داخلی کیفیت کو ظاہر کرتا ہے:

"میں راہ کھوجتی ہی رہ گئی
اس ابتلا میں چاند سبز چشم ہو چکا تھا"

یہاں خوف، تنہائی اور غیر یقینی کیفیت کو بیان کیا گیا ہے۔ جنگل دراصل وہ معاشرہ ہے جہاں عورت خود کو غیر محفوظ محسوس کرتی ہے۔

پھر اچانک ایک بھیڑیا سامنے آتا ہے جو مردانہ درندگی کی علامت ہے۔ عین اس وقت "بُری عورت" نمودار ہوتی ہے:

"وہی بلا، وہی نجس، وہی بدن دریدہ فاحشہ
تڑپ کے آئی___اور__

میرے اور بھیڑیے کے درمیان ڈٹ گئی"

یہ نظم کا سب سے طاقتور لمحہ ہے۔ جس عورت کو پورا معاشرہ برا کہتا ہے وہی دراصل محافظ بن کر سامنے آتی ہے۔ وہ اپنی جان خطرے میں ڈال کر دوسری عورت کو بچاتی ہے۔ یہاں پروین شاکرنے عورت کے بارے میں روایتی تصورات کو مکمل طور پر الٹ دیا ہے۔

فنی لحاظ سے یہ نظم نہایت مضبوط ہے۔ اس میں استعارے، تشبیہات اور علامتوں کا بھرپور استعمال کیا گیا ہے۔ "بلا"، "بھیڑیا"، "جنگل"، "روشنی کے الاؤ" سب علامتی ہیں اور گہرے معنی رکھتے ہیں۔ زبان شاعرانہ ہونے کے باوجود سادہ اور رواں ہے۔ کہیں بھی تصنع محسوس نہیں ہوتا۔ نسائی لب و لہجہ اس نظم کی سب سے نمایاں خصوصیت ہے۔ پروین شاکرنے عورت کی داخلی دنیا کو نہایت حساس انداز میں پیش کیا ہے۔ وہ عورت کو مظلوم بنا کر پیش نہیں کرتیں بلکہ اسے ایک مضبوط اور باوقار ہستی کے طور پر دکھاتی ہیں۔ "بُری عورت" دراصل وہ عورت ہے جو سماج کے بنائے ہوئے اصولوں کو چیلنج کرتی ہے اور اپنی شناخت خود قائم کرتی ہے۔

پاکستانی سماج میں عورت کا بیانیہ اکثر مردوں کے نقطہ نظر سے تشکیل دیا گیا ہے۔ پروین شاکر اس بیانیے کو بدلتی ہیں اور عورت کو اپنی آواز دیتی ہیں۔ وہ دکھاتی ہیں کہ جس عورت کو برا کہا جاتا ہے وہ دراصل زیادہ سچی، زیادہ بہادر اور زیادہ انسان ہے۔ یہ نظم اس بات کی بھی نشاندہی کرتی ہے کہ اخلاقیات کا معیار یکساں نہیں ہوتا۔ مرد کے لیے جو عمل قابلِ قبول ہے وہی عورت کے لیے جُرم بن جاتا ہے۔ پروین شاکر اس دوہرے معیار کو بے نقاب کرتی ہیں اور قاری کو سوچنے پر مجبور کرتی ہیں۔

مختصریہ کہ "ایک بُری عورت" محض ایک نظم نہیں بلکہ ایک سماجی دستاویز ہے جو عورت کے وجود، اس کی شناخت اور اس کے خلاف ہونے والی ناانصافیوں کو اُجاگر کرتی ہے۔ پروین شاکرنے اس نظم کے ذریعے نہ صرف عورت کے حق میں آواز اٹھائی ہے بلکہ پورے معاشرے کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کی کوشش کی ہے۔ یہ نظم آج بھی اتنی ہی متعلقہ ہے جتنی اپنے وقت میں تھی کیونکہ عورت کے بارے میں سماجی رویّے اب بھی مکمل طور پر تبدیل نہیں ہوئے۔

Check Also

Kya Jore Asmano Par Bante Hain?

By Mohsin Khalid Mohsin