Thursday, 07 May 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Dr. Uzma Noreen
  4. Pakistani Maon Ki Na Ehli

Pakistani Maon Ki Na Ehli

پاکستانی ماؤں کی نااہلی

پاکستانی معاشرے میں بچوں کی تربیت کے حوالے سے ایک سوال بار بار ابھُرتا ہے کہ کیا واقعی مائیں اپنے بچوں کی تربیت میں کوتاہی کر رہی ہیں یا یہ مسئلہ اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ سچ یہ ہے کہ کسی ایک فریق کو مکمل ذمہ دار ٹھہرانا آسان تو ہے مگر درست نہیں۔ ماں بچے کی پہلی درسگاہ ضرور ہوتی ہے لیکن آج کا بچہ صرف ماں کی گود تک محدود نہیں رہا۔ اس کے گرد ایک پوری دنیا موجود ہے جو اس کی سوچ، اس کے رویے اور اس کے مزاج کو مسلسل تشکیل دے رہی ہے۔ سوشل میڈیا کی یلغار نے اس عمل کو اور بھی تیز کر دیا ہے۔

یہ کہنا کہ پاکستانی ماؤں نے بچوں کو بگاڑ دیا ہے ایک سطحی تجزیہ ہے۔ مائیں آج بھی اپنی استطاعت کے مطابق بہترین کوشش کرتی ہیں مگر ان کے سامنے چیلنجز کی نوعیت بدل چکی ہے۔ پہلے تربیت کا دائرہ محدود تھا گھر، محلہ اور سکول۔ اب بچے کے ہاتھ میں موبائل ہے اور موبائل کے اندر ایک ایسی دنیا ہے جہاں ہر طرح کا مواد بغیر کسی فلٹر کے موجود ہے۔ ماں چاہے جتنی بھی محتاط ہو اگر بچے کو بغیر نگرانی کے ڈیجیٹل آزادی دی جائے گی تو اس کے اثرات کو مکمل طور پر روکنا ممکن نہیں رہتا۔

سوشل میڈیا کی لت ایک نفسیاتی مسئلہ بن چکی ہے۔ بچے اسکرین کے سامنے گھنٹوں بیٹھے رہتے ہیں اور حقیقت سے کٹتے جاتے ہیں۔ یہاں ماں کا کردار ضرور اہم ہے مگر اسے تنہا ذمہ دار نہیں کہا جا سکتا۔ بہت سے گھروں میں ماں خود بھی اسی سوشل میڈیا کلچر کا حصہ بن چکی ہے۔ وہ خود مصروف ہے تو بچے بھی مصروف ہو جاتے ہیں۔ یوں ایک خاموش فاصلہ پیدا ہوتا ہے جو وقت کے ساتھ گہرا ہو جاتا ہے۔ یہ فاصلہ صرف ماں کی غفلت نہیں بلکہ پورے معاشرے کی بدلتی ترجیحات کا نتیجہ ہے۔

بچوں میں بدتمیزی اور بے ادبی کا بڑھتا ہوا رُجحان بھی ایک سنجیدہ مسئلہ ہے۔ اس کی کئی وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ گھر کا ماحول ہے۔ اگر بچے کے سامنے والدین ایک دوسرے سے سخت لہجے میں بات کریں گے تو بچہ بھی وہی سیکھے گا۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ بچوں کو ضرورت سے زیادہ آزادی دی جا رہی ہے اور اس آزادی کے ساتھ ذمہ داری نہیں سکھائی جا رہی۔ تیسری وجہ تعلیمی اداروں کا بدلتا ہوا کردار ہے جہاں اخلاقی تربیت پر توجہ کم ہوگئی ہے اور محض نمبروں کی دوڑ رہ گئی ہے۔ چوتھی وجہ میڈیا ہے جہاں زبان اور رویوں کی ایک ایسی تصویر پیش کی جا رہی ہے جو حقیقت سے دور اور اکثر منفی ہوتی ہے۔

نشہ آور ادویات اور دیگر جسمانی عوارض کی طرف بچوں کا مائل ہونا ایک خطرناک رجحان ہے۔ اس میں بھی کئی عوامل شامل ہیں۔ دوستوں کا دباؤ ایک بڑی وجہ ہے۔ جب بچہ ایسے حلقے میں شامل ہو جائے جہاں غلط عادات کو فیشن سمجھا جاتا ہو تو وہ بھی اس طرف مائل ہو جاتا ہے۔ دوسری وجہ ذہنی دباؤ ہے۔ آج کا بچہ مقابلے کی دوڑ میں تھک چکا ہے۔ اسے سکون نہیں ملتا اور وہ وقتی راحت کے لیے غلط راستے اختیار کر لیتا ہے۔ یہاں والدین خصوصاً ماں کو بچے کی ذہنی کیفیت کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔

اکیسویں صدی میں تربیت کا انداز پوری طرح بدل چکا ہے۔ اب سختی سے زیادہ حکمت کی ضرورت ہے۔ بچے کو ڈانٹ کر یا مار کر وقتی طور پر قابو میں لایا جا سکتا ہے مگر اس عمل سے بچے کے دل میں بغاوت پیدا ہو جاتی ہے۔ بہتر یہ ہے کہ بچے کے ساتھ براہ راست دوستانہ انداز میں بات کی جائے، اسے سنا جائے اور اسے یہ احساس دلایا جائے کہ وہ اہم ہے۔ جب بچہ خود کو قابل قدر سمجھے گا تو وہ خود کو بہتر بنانے کی کوشش کرے گا۔

ڈیجیٹل دور میں بچوں کو مکمل طور پر سوشل میڈیا سے دور رکھنا ممکن نہیں اس لیے ضروری ہے کہ انہیں اس کا صحیح استعمال سکھایا جائے۔ ماں باپ خود مثال بنیں۔ اگر والدین خود ہر وقت موبائل میں مصروف رہیں گے تو بچے کو روکنا بے معنی ہو جاتا ہے۔ گھر میں ایسے اصول بنائے جائیں جہاں سب کے لیے ایک ہی ضابطہ ہو۔ مثلاً کھانے کے وقت موبائل کا استعمال نہ ہو یا رات کے مخصوص وقت کے بعد اسکرین بند کر دی جائے۔

بچوں کے ساتھ وقت گزارنا سب سے مؤثر طریقہ ہے۔ یہ وقت صرف نصیحت کا نہیں بلکہ محبت اور تعلق کا ہونا چاہیے۔ کہانیاں سنانا، مشترکہ کھیل کھیلنا اور فطرت کے قریب لے جانا ایسے طریقے ہیں جو بچے کے اندر توازن پیدا کرتے ہیں۔ جب بچہ حقیقی دنیا کی خوبصورتی کو محسوس کرے گا تو مصنوعی دنیا کی کشش کم ہو جائے گی۔

نشہ آور ادویات سے بچاؤ کے لیے صرف ڈر کا ماحول کافی نہیں۔ بچے کو آگاہی دینا ضروری ہے۔ بچے کو سادہ انداز میں بتایا جائے کہ یہ چیزیں جسم اور ذہن کو کیسے نقصان پہنچاتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ بچے کو ایسے مثبت مشاغل کی ترغیب دی جائے جہاں وہ اپنی توانائی کو درست سمت میں استعمال کر سکے۔ کھیل، موسیقی اور تخلیقی سرگرمیاں بچے کو منفی راستوں سے دور رکھتی ہیں۔

ماں کا کردار اب بھی مرکزی ہے مگر اسے تنہا نہیں چھوڑا جا سکتا۔ باپ کو بھی برابر کا شریک ہونا ہوگا۔ اسکول کو بھی اپنی ذمہ داری نبھانی ہوگی اور معاشرے کو بھی اپنی اقدار کو دوبارہ زندہ کرنا ہوگا۔ تربیت ایک مشترکہ عمل ہے جس میں ہر فرد کا کردار اہم ہے۔

بچوں کی بدتمیزی کو صرف ان کی غلطی سمجھنا بھی درست نہیں۔ یہ دراصل ایک علامت ہے کہ کہیں نہ کہیں کوئی خلا موجود ہے۔ یہ خلا محبت کا بھی ہو سکتا ہے، توجہ کا بھی اور رہنمائی کا بھی۔ جب یہ خلا پُر ہو جاتا ہے تو بچے کا رویہ خود بخود بہتر ہونے لگتا ہے۔

اکیسویں صدی کا بچہ سوال کرتا ہے۔ وہ اندھی تقلید نہیں کرتا۔ اس لیے اس کی تربیت کے لیے دلیل اور محبت دونوں کی ضرورت ہے۔ اگر اسے صرف حکم دیا جائے گا تو وہ ردِ عمل دکھائے گا۔ اس کے برعکس اگر اسے منطقی انداز میں سمجھایا جائے گا تو وہ قبول کرے گا۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں جدید تربیت کامیاب ہو سکتی ہے۔

میں یہ کہنا چاہتی ہوں کہ پاکستانی ماؤں کو موردِ الزام ٹھہرانے کی بجائے ہمیں پورے نظام پر نظر ڈالنی چاہیے۔ مائیں آج بھی اپنے بچوں کے لیے سب سے زیادہ فکر مند ہیں مگر انہیں گردو پیش کے تعاون کی ضرورت ہے۔ اگر ہم ایک ایسا ماحول بنا سکیں جہاں محبت، احترام اور ذمہ داری کو اہمیت دی جائے تو ہمارے بچے نہ صرف مہذب ہوں گے بلکہ ایک صحت مند اور متوازن زندگی بھی گزار سکیں گے۔

Check Also

Dehshat Gardon Ki Muzammat Ghair Mashroot Karen

By Amir Khakwani