Pakistan Ki Jameat Mein Urdu Ki Surat e Haal
پاکستان کی جامعات میں اردو کی صورتحال

پاکستانی جامعات میں اردو کی موجودہ صورتحال ایک عجیب تضاد کی کہانی ہے۔ ایک طرف اردو اس ملک کی قومی زبان اور شناخت کا نشان ہے اور عوامی رابطے کا سب سے مضبوط وسیلہ بھی تو دوسری طرف اعلیٰ تعلیمی اداروں میں اس کی حیثیت بتدریج کمزور ہوتی جا رہی ہے۔ یہ صورتِ حال صرف تعلیمی پالیسی کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک وسیع، سماجی اور فکری بحران کی علامت بھی ہے۔
جامعات میں اردو کی تدریس کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ سرکاری جامعات میں اردو بطور مضمون کسی نہ کسی صورت میں موجود ہے البتہ نجی جامعات میں اس کی موجودگی نہ ہونے کے برابر ہے۔ حالیہ تعلیمی پالیسیوں میں تبدیلیوں کے بعد یہ صورتحال مزید پیچیدہ ہوگئی ہے کیونکہ اعلیٰ تعلیمی سطح پر اردو کو لازمی مضمون کے طور پر شامل کرنا ضروری نہیں رہا۔ اس کے نتیجے میں اردو ایک اختیاری اور کم اہم مضمون میں تبدیل ہو رہی ہے، جس کا براہِ راست اثر طلبہ کی دلچسپی اور رجحان پر پڑ رہا ہے۔
اردو کی تدریس کے میدان میں جو کام ہو رہا ہے، اس میں کچھ مثبت پہلو بھی ہیں۔ مختلف ادارے جیسے"مقتدرہ قومی زبان" اردو کے فروغ، معیار بندی اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگی کے لیے سرگرم ہے۔
اسی طرح "اردو سائنس بورڈ" سائنسی اور فنی علوم کو اردو میں منتقل کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ اردو محض ادبی زبان نہ رہے بلکہ علم کی زبان بھی بن سکے۔ تاہم یہ کوششیں محدود دائرے میں ہیں اور ان کا اثر جامعات کی مجموعی پالیسی پر واضح طور پر نظر نہیں آتا۔
مسئلہ صرف نصاب کا نہیں بلکہ تدریسی طریقۂ کار کا بھی ہے۔ اردو کی تدریس اب بھی زیادہ تر روایتی انداز میں ہو رہی ہے جہاں تحقیق، تنقید اور جدید لسانی علوم کو وہ اہمیت نہیں دی جاتی جو دی جانی چاہیے۔ اساتذہ خود اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل وسائل اور تحقیقاتی رجحانات کو نصاب میں شامل کرنے کی ضرورت ہے۔ جب تک تدریس کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں کیا جائے گا، اردو طلبہ کے لیے پرکشش مضمون نہیں بن سکتی۔
اساتذہ کی شکایات بھی کم اہم نہیں ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اردو کو وہ ادارہ جاتی اہمیت نہیں دی جا رہی جو ایک قومی زبان کو ملنی چاہیے۔ اساتذہ کی بھرتیوں میں کمی، تحقیقی فنڈز کی قلت اور ترقی کے مواقع کا محدود ہونا ان کے بڑے مسائل ہیں۔ کئی اداروں میں اردو ڈیپارٹمنٹ محض رسمی حیثیت رکھتے ہیں، جہاں نہ تو جدید تحقیق کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے اور نہ ہی طلبہ کو عملی میدان سے جوڑا جاتا ہے۔
حکومتی سطح پر اردو کے فروغ کے لیے بیانات تو بہت دیے جاتے ہیں لیکن عملی اقدامات کم نظر آتے ہیں۔ ادارے قائم کیے گئے، لغات تیار کی گئیں، جیسے "اردو لغت بورڈ" کراچی نے ایک جامع لغت کی تیاری پر کام کیا مگر وسائل کی کمی اور انتظامی مسائل نے ان اداروں کی کارکردگی کو متاثر کیا۔
اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ پالیسی اور عمل کے درمیان ایک واضح خلا موجود ہے۔
اردو زبان کو درپیش مسائل میں سب سے بڑا مسئلہ انگریزی کی بالادستی ہے۔ اعلیٰ تعلیم، تحقیق اور ملازمت کے مواقع زیادہ تر انگریزی سے وابستہ ہیں۔ اس لیے طلبہ اردو کی بجائے انگریزی کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ سائنسی اور تکنیکی مواد کی کمی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ اگرچہ کچھ ادارے اس خلا کو پُر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، مگر یہ کام ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے۔
ایک اور اہم مسئلہ یہ ہے کہ اردو کو محض ادبی زبان سمجھ لیا گیا ہے۔ جامعات میں اردو کا تعلق زیادہ تر شاعری، افسانہ اور تنقید تک محدود ہے، جبکہ اسے سائنسی، سماجی اور معاشی علوم کی زبان بنانے کی سنجیدہ کوشش کم نظر آتی ہے۔ اس محدود دائرے نے بھی اردو کے دائرۂ اثر کو کم کیا ہے۔
اس کے باوجود اردو کا مستقبل تاریک نہیں ہے۔ اردو بولنے اور سمجھنے والوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ یہ زبان آج بھی پاکستان میں رابطے کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔ زبان کی ترقی کا انحصار اس بات پر ہے کہ اس کے بولنے اور لکھنے والوں کی تعداد بڑھے اور اسے عملی زندگی میں استعمال کیا جائے۔ اگر اردو کو تعلیم، تحقیق اور معیشت کے شعبوں میں فعال طور پر شامل کیا جائے تو اس کا مستقبل روشن ہو سکتا ہے۔
ڈیجیٹل دور میں بھی اردو کے لیے نئے امکانات پیدا ہو رہے ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی، سوشل میڈیا اور مصنوعی ذہانت کے میدان میں اردو کی موجودگی بڑھ رہی ہے لیکن ابھی بہت کام ہونا باقی ہے۔ اگر جامعات اس سَمت میں سنجیدہ اقدامات کریں تو اردو نہ صرف زندہ رہ سکتی ہے بلکہ ترقی بھی کر سکتی ہے۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو پاکستانی جامعات میں اردو ایک نازک مرحلے سے گزر رہی ہے۔ یہ زوال کا شکار ہے اور نہ ہی ترقی کی طرف گامزن۔ یہ ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں درست پالیسی، جدید تدریس اور سنجیدہ علمی رویہ اسے نئی زندگی دے سکتا ہے۔ قابلِ غور بات یہ کہ اگر ایسا نہ ہوا تو اردو محض ایک جذباتی علامت بن کر رہ جائے گی، جس کا عملی کردار مزید محدود ہوتا جائے گا۔
اردو کو زندہ رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ اسے محض زبان نہیں بلکہ علم، تحقیق اور ترقی کا ذریعہ سمجھا جائے۔ جب تک جامعات اس حقیقت کو تسلیم نہیں کرتیں۔ اردو کی موجودہ صورتحال میں حقیقی تبدیلی ممکن نہیں۔

