Thursday, 07 May 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Dr. Uzma Noreen
  4. Kya Shayaron Ne Aurat Ko Be Waqoof Banaya Hai?

Kya Shayaron Ne Aurat Ko Be Waqoof Banaya Hai?

کیا شاعروں نے عورت کو بے وقوف بنایا ہے؟

عورت صدیوں سے شاعری کا سب سے خوبصورت اور سب سے زیادہ استعمال ہونے والا استعارہ رہی ہے۔ شاعر نے جب حُسن کی بات کی تو عورت سامنے آئی، جب محبت کا ذکر کیا تو عورت کا چہرہ اُبھرا، جب وفا کی مثال دی تو عورت یاد آئی اور جب بے وفائی کا شکوہ کیا تو الزام بھی عورت ہی پر رکھا گیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا واقعی شاعروں نے عورت کو سمجھا، یا صرف اسے اپنے تخیل، خواہش اور جذبات کی تکمیل کا ذریعہ بنایا؟ کیا شاعر نے عورت کو ایک مکمل انسان مانا یا صرف ایک محبوبہ، ایک جسم، ایک خواب، ایک خاموش سامع؟

اردو شاعری کی روایت میں عورت اکثر دو صورتوں میں سامنے آتی ہے: یا وہ بے مثال حُسن کی دیوی ہے، یا بے وفا محبوبہ۔ اس کے درمیان جو اصل عورت ہے، جو سوچتی ہے، تھکتی ہے، فیصلہ کرتی ہے، مزاحمت کرتی ہے، وہ بہت کم دکھائی دیتی ہے۔ شاعر نے اس کے ہونٹوں کی تعریف کی، آنکھوں کی قسمیں کھائیں، زلفوں کو رات کہا، رخسار کو چاند بنایا، مگر اس کے ذہن، اس کے خوف، اس کی محرومی اور اس کے خواب کو کم ہی موضوع بنایا۔

میر تقی میرؔ نے کہا تھا:

نازکی اس کے لب کی کیا کہیے
پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے

یہ شعر حُسنِ بیان کی مثال ہے، مگر یہاں بھی عورت ایک جسمانی حُسن کے پیکرکے طور پر موجود ہے۔ اس کی شخصیت نہیں، صرف اس کے لب ہیں۔ مومن خان مومن نے بھی محبوب کے حُسن کو ایک فکری کائنات بنایا:

تم میرے پاس ہوتے ہو گویا
جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا

یہاں محبوب ایک جذباتی سہارا ہے، پھر بھی وہ ایک تصور ہے، ایک حقیقی عورت نہیں۔ اکثر شاعر عورت کو اپنے احساسات کی زمین بناتے ہیں، مگر اسے اپنی آواز کم دیتے ہیں۔

پدرسری سماج میں شاعر بھی اسی معاشرتی تربیت کا حصہ ہوتا ہے۔ وہ عورت کو اسی طرح دیکھتا ہے جو سماج نے اسے سکھایا ہوتا ہے۔ چنانچہ محبت کے نام پر عورت کو خواب دکھانا، تعریف کے نام پر اس کے جسم کو مرکز بنانا اور خوشامد کے ذریعے اسے اپنی خواہش کی طرف مائل کرنا ایک عام ادبی روایت بن گئی۔ شاعر نے عورت سے کہا کہ تم چاند ہو، پھول ہو، خوشبو ہو، مگر یہ کم کہا کہ تم عقل ہو، ارادہ ہو، اختیار ہو۔

فیض احمد فیض نے کہا تھا:

رات یوں دل میں تری کھوئی ہوئی یاد آئی
جیسے ویرانے میں چپکے سے بہار آ جائے

یہ خوبصورت شعر محبت کی لطافت رکھتا ہے مگر محبوب پھر بھی ایک احساسی شے ہے، ایک داخلی منظر، نہ کہ اپنی آزاد ہستی رکھنے والی عورت۔ عورت اکثر شاعر کے دل کی کیفیت ہے، خود اپنی ذات نہیں۔

سیمون بواری نے کہا ہے: "عورت پیدا نہیں ہوتی، بنا دی جاتی ہے"۔ یہی بات شاعری پر بھی صادق آتی ہے۔ شاعر نے عورت کی ایک مخصوص تصویر بنائی: نازک، محتاج، شرمیلی، خاموش، منتظر۔ پھر معاشرہ اسی تصویر کو اصل عورت سمجھنے لگا۔ عورت کو بتایا گیا کہ تمہاری اصل طاقت تمہارا حُسن ہے، تمہاری کامیابی کسی مرد کی محبت حاصل کرنا ہےاور تمہاری عزت خاموشی میں ہے۔

اسی لیے بہت سی عورتیں محبت کو اپنی مکمل شناخت سمجھنے لگیں۔ شاعر نے انہیں یہ خواب دکھایا کہ اگر کوئی مرد ان کی آنکھوں، زلفوں اور مسکراہٹ کی تعریف کرے تو یہی سب سے بڑی قبولیت ہے۔ جسم کی تعریف کو محبت سمجھ لیا گیا اور شخصیت کی نظراندازی معمول بن گئی۔

احمد فرازؔ نے کہا:

سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں
سو اس کے شہر میں کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں

یہاں بھی عورت ایک منظر ہے، ایک دیدنی شے، جسے "دیکھا" جا رہا ہے۔ دیکھنے والا مرد ہے، دیکھی جانے والی عورت۔ یہ طاقت کا ایک خاموش رشتہ ہے۔ عورت موضوع نہیں، معروض بن جاتی ہے۔

فیمینسٹ نقاد کشور ناہید نے بارہا کہا کہ "مرد شاعر نے عورت کو یا تو محبوبہ بنایا یا ماں، مگر انسان کم سمجھا"۔ کشور ناہید کی شاعری اسی روایت کے خلاف احتجاج ہے۔ وہ کہتی ہیں:

ہم گناہ گار عورتیں
کہ سچ کا پرچم اُٹھا کے نکلیں

تو جھوٹ سے شاہرائیں اٹی ملیں

یہ صرف ایک نظم نہیں، صدیوں کی ادبی منافقت کے خلاف اعلان ہے۔ عورت کہتی ہے کہ میں تمہارے تخیل کی خاموش تصویر نہیں، میں بولتی ہوئی حقیقت ہوں۔

فیض احمد فیضؔ نے نسبتاً مختلف زاویہ دیا۔ انہوں نے عورت کو صرف رومانوی پیکر نہیں بنایا بلکہ سماجی دکھ سے جوڑا:

مجھ سے پہلی سی محبت میرے محبوب نہ مانگ

یہاں شاعر محبوب سے کہتا ہے

اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سِوا

یہ شعر محبت کو جسمانی حُسن سے آگے لے جاتا ہے اس کے باوجود عورت کی اپنی آواز مکمل طور پر سامنے نہیں آتی۔

اصل مسئلہ یہ نہیں کہ شاعروں نے عورت کی تعریف کیوں کی، مسئلہ یہ ہے کہ تعریف اکثر ایک چال بھی بن جاتی ہے۔ خوشامد کبھی کبھی محبت نہیں بلکہ اختیار حاصل کرنے کا ذریعہ ہوتی ہے۔ جب عورت کو مسلسل بتایا جائے کہ تم صرف اپنے حُسن کی وجہ سے قیمتی ہو، تو وہ اپنی عقل، صلاحیت اور خودمختاری کو پیچھے چھوڑنے لگتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں شاعری جذباتی حُسن سے نکل کر سماجی فریب بن جاتی ہے۔

فلسفی نطشے نے عورت کے بارے میں کئی سخت آرا دیں، جن پر بہت تنقید ہوئی۔ اس نے عورت کو ایک "پیچیدہ معمہ" کہا۔ دراصل مسئلہ یہ تھا کہ اس نے بھی عورت کو ایک آزاد انسان کم، ایک مرد کے تجربے کے حوالے سے زیادہ دیکھا۔ مشرقی شاعری میں بھی یہی مسئلہ رہا۔ عورت اپنی تعریف خود نہیں لکھتی، اس کی تعریف مرد لکھتا ہے۔

پروین شاکرنے اس روایت کو توڑا۔ انہوں نے عورت کو محبوبہ نہیں بلکہ خود بولنے والی ذات بنایا۔ وہ لکھتی ہیں:

وہ تو خوشبو ہے ہواؤں میں بکھر جائے گا
مسئلہ پھول کا ہے پھول کدھر جائے گا

یہاں عورت صرف موضوع نہیں، سوال بھی ہے۔ اس کی بے بسی بھی ہے، اس کی آگہی بھی۔ پروین شاکرنے بتایا کہ محبت صرف تعریف نہیں، اس میں عدم تحفظ، تنہائی اور خودی کی جنگ بھی شامل ہے۔

یہ کہنا بجا نہیں ہوگا کہ سبھی شاعروں نے عورت کو بے وقوف بنایا۔ بیشتر شاعروں نے سچی محبت بھی لکھی، عورت کے دکھ کو سمجھا اور اس کے وقار کو تسلیم بھی کیا۔ مجموعی ادبی روایت میں عورت اکثر مرد کی خواہش کا عکس بنی رہی۔ اسے محبت کے خواب زیادہ دیے گئے، حقیقت کا شعور کم۔

آج کی عورت اب صرف شعر کا مصرع نہیں بننا چاہتی، وہ پوری نظم لکھنا چاہتی ہے۔ وہ چاہتی ہے کہ اس کے چہرے سے زیادہ اس کی رائے دیکھی جائے، اس کے جسم سے زیادہ اس کی جدوجہد سمجھی جائے۔ وہ جان چکی ہے کہ ہر تعریف محبت نہیں ہوتی، ہر خوشامد احترام نہیں ہوتی اور ہر شاعر سچا عاشق نہیں ہوتا۔

شاعری اگر عورت کو صرف آئینہ بنائے گی تو وہ ایک دن اس آئینے کو توڑ دے گی۔ کیونکہ عورت کو تعریف نہیں، پہچان چاہیے۔ اسے خواب نہیں، برابری چاہیے۔

ادب کی اصل ذمہ داری یہی ہے کہ وہ عورت کو محبوبہ نہیں، مکمل انسان لکھے۔

Check Also

Do Qisam Ke Log

By Rauf Klasra