Thursday, 30 April 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Dr. Uzma Noreen
  4. Kya Aurat Tareef Ki Bhooki Hai?

Kya Aurat Tareef Ki Bhooki Hai?

کیا عورت تعریف کی بھوکی ہے؟

عورت کے بارے میں یہ جملہ اکثر سننے کو ملتا ہے کہ وہ تعریف کی بھوکی ہوتی ہے۔ اگر کوئی اس کے حُسن کی تعریف کرے، اس کے لباس کو سراہے، اس کی آواز کو خوشبو سے تشبیہ دے یا اس کی موجودگی کو چاندنی رات کہہ دے تو وہ خوش ہو جاتی ہے۔ اس خیال کو صدیوں سے مردانہ سماج نے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا ہے اور طنز کے طور پر بھی۔ سوال یہ ہے کہ کیا واقعی عورت صرف تعریف کی بھوکی ہے یا یہ ایک ایسا بیانیہ ہے جو اس کے گرد جان بوجھ کر بُنا گیا تاکہ اسے جذباتی طور پر کمزور ثابت کیا جا سکے۔

عورت انسان ہے اور ہر انسان اپنی قدر چاہتا ہے۔ ہر دل یہ خواہش رکھتا ہے کہ اسے اہم سمجھا جائے، اس کے وجود کو محسوس کیا جائے اور اس کی موجودگی کو نظر انداز نہ کیا جائے۔ تعریف دراصل صرف لفظ نہیں بلکہ توجہ کی علامت ہے۔ جب ایک عورت اپنی تعریف سُن کر خوش ہوتی ہے تو اکثر وہ حُسن کی نہیں اپنی موجودگی کی تصدیق سن رہی ہوتی ہے۔ اسے یہ احساس ملتا ہے کہ وہ دیکھی جا رہی ہے سُنی جا رہی ہے اور اس کی اہمیت ہے۔

اردو ادب میں عورت کے حُسن کو ہمیشہ ایک بڑے موضوع کے طور پر پیش کیا گیا۔ شاعروں نے اس کی زلف کو رات، آنکھ کو مے، لب کو گلاب اور چہرے کو چاند کہا۔ میرؔ نے محبوب کی گلی کو عبادت گاہ بنایا اور غالبؔ نے حُسن کے ایک اشارے پر فلسفہ کھڑا کر دیا۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ تعریف مرد نے کی اور الزام بھی مرد نے دیا۔ ایک طرف عورت کو حُسن کا استعارہ بنایا گیا دوسری طرف اسے کہا گیا کہ وہ تعریف کی بھوکی ہے۔ گویا آئینہ بھی وہی بناتا ہے اور پھر چہرے کو قصوروار بھی ٹھہراتا ہے۔

لوک داستانوں میں بھی یہی منظر ملتا ہے۔ ہیر رانجھا ہو یا سوہنی مہینوال عورت کے حُسن کا چرچا ہمیشہ نمایاں رہا۔ ہیر کی خوبصورتی صرف اس کی پہچان نہیں بلکہ اس کی آزمائش بھی بنی۔ حُسن کو نعمت بھی کہا گیا اور فتنہ بھی۔ عورت کی تعریف کی گئی لیکن اسی تعریف کے ذریعے اسے محدود بھی کیا گیا۔ جیسے کسی پنجرے کو سونے کا بنا دیا جائے تاکہ قید خوبصورت لگے۔

دیگر مذاہب اور تہذیبوں میں بھی عورت کے بارے میں ایسے خیالات ملتے ہیں۔ یونانی داستانوں میں ہیلن کے حُسن کو جنگ کی وجہ بنایا گیا۔ بائبل میں حوا کو فریب اور خواہش کی علامت بنا کر پیش کیا گیا۔ برصغیر کی روایت میں بھی عورت کے سنگھار اور تعریف کو شک کی نگاہ سے دیکھا گیا۔ گویا عورت اگر خوبصورت ہے تو خطرہ ہے اور اگر اپنی خوبصورتی سے آگاہ ہے تو مزید بڑا خطرہ ہے۔

اصل مسئلہ تعریف کی خواہش نہیں بلکہ جھوٹی تعریف ہے۔ عورت کو بچپن سے یہ سکھایا جاتا ہے کہ تم خوبصورت ہو تو قابل قبول ہو۔ اگر تمہاری رنگت اچھی ہے اگر چہرہ دلکش ہے اگر جسم ایک مخصوص معیار پر پورا اترتا ہے تو تم پسند کی جاؤ گی۔ یہ سماج کا بنایا ہوا پیمانہ ہے۔ اسی لیے عورت اکثر تعریف میں اپنی قیمت تلاش کرنے لگتی ہے۔ وہ سمجھتی ہے کہ اگر کسی نے اسے حسین کہا تو شاید وہ واقعی قیمتی ہے۔

یہ جھوٹی تعریف ایک میٹھا زہر ہے۔ شروع میں یہ خوشی دیتا ہے لیکن آہستہ آہستہ خود اعتمادی کو دوسروں کے لفظوں کا محتاج بنا دیتا ہے۔ جب عورت اپنی پہچان صرف تعریف میں ڈھونڈنے لگتی ہے تو وہ آئینے کی قیدی بن جاتی ہے۔ پھر ہر دن ایک امتحان بن جاتا ہے۔ آج کسی نے تعریف نہ کی تو دل بجھ گیا۔ کسی نے کسی اور کو زیادہ خوبصورت کہہ دیا تو انا زخمی ہوگئی۔

بہت سے مرد عورت کی اس کمزوری کو سمجھتے ہیں اور اسے استعمال کرتے ہیں۔ جھوٹی تعریف محبت کا لباس پہن کر سامنے آتی ہے۔ تم سب سے الگ ہو، تم جیسی کوئی نہیں، تمہاری مسکراہٹ نے زندگی بدل دی جیسے جملے اکثر دل جیتنے کے لیے نہیں بلکہ دل پر قبضہ کرنے کے لیے بولے جاتے ہیں۔ عورت جب جذبات کے دروازے کھولتی ہے تو بعض اوقات سامنے والا صرف تماشائی ہوتا ہے۔ وہ تعریف کے پھول دیتا ہے اور بدلے میں اعتماد، عزت اور کبھی پوری زندگی لے لیتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اردو ادب میں کئی جگہ عورت کو خبردار بھی کیا گیا۔ پروین شاکرنے لکھا:

وہ تو خوشبو ہے ہواؤں میں بکھر جائے گا
مسئلہ پھول کا ہے پھول کدھر جائے گا

یہ صرف محبت کی بات نہیں بلکہ اس احساس کی بھی تصویر ہے کہ عورت اکثر لفظوں کی خوشبو میں حقیقت بھول جاتی ہے۔ تعریف اگر سچی نہ ہو تو وہ خوشبو نہیں دھواں بن جاتی ہے۔

عورت کی یہ خواہش ناجائز نہیں۔ ہر انسان چاہتا ہے کہ اسے سراہا جائے۔ مسئلہ صرف یہ ہے کہ تعریف کس بنیاد پر ہو۔ اگر عورت کی عقل، محنت، کردار اور صلاحیت کی تعریف ہو تو یہ اس کی تعمیر کرتی ہے۔ لیکن اگر صرف جسم، حُسن اور ظاہری شکل کو مرکز بنایا جائے تو یہ اسے ایک شے بنا دیتی ہے۔ وہ انسان سے منظر بن جاتی ہے۔

آج کی عورت پہلے سے زیادہ باشعور ہے۔ تعلیم نے، تجربے نے اور وقت نے اسے بہت کچھ سکھایا ہے۔ وہ اب صرف تعریف سن کر فیصلہ نہیں کرتی۔ وہ جانتی ہے کہ ہر خوبصورت جملہ سچ نہیں ہوتا۔ سوشل میڈیا کے دور میں اس نے یہ بھی دیکھ لیا ہے کہ تعریف بازار کی سب سے سستی چیز ہے۔ ایک تصویر پر ہزار تعریفیں مل سکتی ہیں لیکن مشکل وقت میں ایک سچا ساتھ کبھی نصیب نہیں ہوتا۔

آج بہت سی عورتیں اپنی قدر کو لائکس اور کمنٹس میں ناپتی ہیں۔ آج بھی حُسن کے مصنوعی معیار ان پر مسلط ہیں۔ کریمیں، فلٹرز اور فیشن کی صنعت انہیں مسلسل یہ احساس دلاتی ہے کہ تم ابھی مکمل نہیں ہو۔ پہلے خود کو بدلو پھر تعریف پاؤ۔ یہ ایک نہ ختم ہونے والا چکر ہے۔

محاورہ ہے کہ "منہ میٹھا کرو اور کام نکالو"۔ یہی حال جھوٹی تعریف کا ہے۔ بہت سے تعلقات صرف لفظوں کی چاشنی پر کھڑے ہوتے ہیں۔ جب حقیقت کی دھوپ پڑتی ہے تو سب پگھل جاتا ہے۔ عورت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ تعریف اگر کردار سے اٹیچ نہ ہو تو وہ ریت پر لکھی تحریر ہے۔

Check Also

Fitrat Ya Tarbiat?

By Umar Farooq