Monday, 13 April 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Dr. Uzma Noreen
  4. Kuch Nasri Nazm Ke Baare Mein

Kuch Nasri Nazm Ke Baare Mein

کچھ نثری نظم کے بارے میں

نثری نظم اردو ادب کی جدید اور نہایت اہم صنفِ سخن ہے جس نے روایتی شاعری کی ہیئت، بحر، قافیہ اور ردیف کی پابندیوں سے نکل کر اظہار کے لیے ایک نئی راہ پیدا کی۔ یہ صنف بظاہر نثر کی شکل میں لکھی جاتی ہے لیکن اس کے باطن میں شعریت، آہنگ، علامت، استعارات، موسیقیت، جذبے کی شدت اور جمالیاتی وحدت موجود ہوتی ہے۔ نثری نظم کا مطالعہ جدید اردو ادب کے فکری و فنی ارتقا کو سمجھنے کے لیے ناگزیر ہے۔

نثری نظم کا بنیادی تصور مغربی ادب خصوصاً فرانسیسی ادب سے اردو میں منتقل ہوا۔ انیسویں صدی میں فرانسیسی شعرا نے روایتی شعری سانچوں سے انحراف کرتے ہوئے ایسی شاعری تخلیق کی جو نثر کی صورت میں تھی مگر اس میں شعری خصوصیات بدرجہ اتم موجود تھیں۔ فرانسیسی شاعر "شارل بودلیئر، آرتھر رمبو اور اسٹیفان مالارمے" کو عالمی سطح پر نثری نظم کے اولین معماروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ان کے شعری تجربات نے بعد ازاں دنیا کی دیگر زبانوں کو متاثر کیا اور بیسویں صدی میں اردو شاعری تک بھی یہ اثر پہنچا۔

بیسویں صدی کے وسط میں ہوا جب جدیدیت کی تحریک کے زیرِ اثر شعرا نے روایت سے بغاوت کرتے ہوئے اظہار کے نئے سانچے تلاش کیے۔ ترقی پسند تحریک کے بعد جب جدیدیت نے اردو ادب میں جگہ بنائی تو شاعر کے لیے یہ احساس شدت اختیار کر گیا کہ روایتی بحور اور کلاسیکی ساخت جدید انسان کے منتشر تجربے کو پوری طرح سمیٹنے سے قاصر ہیں۔ اسی احساس نے آزاد نظم، معرّا نظم اور پھر نثری نظم کو جنم دیا۔

اردو نثری نظم کے آغاز کے حوالے سے ادبی دنیا میں سب سے زیادہ جس نام پر اتفاق کیا جاتا ہے وہ میرا جی ہے۔ اگرچہ بعض ناقدین ابتدائی تجربات کی نسبت اور لوگوں کی طرف بھی کرتے ہیں، تاہم اردو میں نثری نظم کو بطور ایک باقاعدہ شعری صنف متعارف کرانے، اس کی نظری اساس فراہم کرنے اور اس کے عملی نمونے پیش کرنے کا سہرا عمومی طور پر میرا جی کے سر باندھا جاتا ہے۔ میرا جی نے فرانسیسی اور انگریزی ادب کا گہرا مطالعہ کیا تھا اور مغربی جدید شاعری کے اسلوب، علامت نگاری اور نفسیاتی تہہ داری سے متاثر تھے۔ ان کے ہاں شعری اظہار کی وہ صورت سامنے آئی جس نے اردو شاعری کو نئی سمت عطا کی۔

میرا جی کا اصل نام محمد ثناء اللہ ڈار تھا۔ وہ 1912ء میں لاہور میں پیدا ہوئے۔ ان کا شمار اردو ادب کے ان منفرد تخلیق کاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے نہ صرف شاعری کی ہیئت میں انقلاب برپا کیا بلکہ اردو تنقید، تراجم اور ادبی فکر میں بھی گراں قدر اضافہ کیا۔ میرا جی نے زندگی بھر روایت شکن اور غیر روایتی طرزِ زیست اختیار کیے رکھا۔ ان کی شخصیت میں داخلیت، تنہائی، نفسیاتی الجھن، جنسی اور روحانی کشمکش، وجودی اضطراب اور علامتی تخیل نمایاں تھا۔ یہی عناصر ان کی نثری نظموں میں بھی شدت سے جلوہ گر ہوتے ہیں۔

میرا جی کی نثری نظموں کا بنیادی وصف یہ ہے کہ وہ محض بے وزن نثر نہیں بلکہ شعری تجربے کی ایک نئی جمالیاتی تشکیل ہیں۔ ان کے ہاں جملے اگرچہ نثری ساخت رکھتے ہیں لیکن ان میں داخلی آہنگ، تصویریت، صوتی تناسب، علامتی کثافت اور جذباتی ارتعاش موجود ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ناقدین نے واضح کیا ہے کہ نثری نظم کو عام نثر سے ممتاز کرنے والی چیز اس کی "شعریت" ہے، نہ کہ ظاہری ہیئت۔

نثری نظم کے آغاز پر ادبی حلقوں میں شدید اختلاف بھی پیدا ہوا۔ روایت پسند ناقدین نے ابتدا میں اسے نظم ماننے سے انکار کیا۔ ان کے نزدیک شاعری کے لیے وزن اور بحر بنیادی شرط تھی، اس لیے نثری نظم محض "منثور شاعری" یا "شاعرانہ نثر" قرار دی گئی۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ جب اس صنف میں معیاری تخلیقات سامنے آئیں تو اسے اردو ادب میں ایک مستقل صنف کی حیثیت حاصل ہوگئی۔ آج نثری نظم اردو شاعری کی معتبر اصناف میں شمار ہوتی ہے۔

میرا جی کے بعد جن شعرا نے نثری نظم کو فروغ دیا ان میں وزیر آغا، زاہد ڈار، افتخار جالب، سلیم احمد، عمیق حنفی، عباس تابش، افضال احمد سید، احمد حمیش، انیس ناگی اور بعد کے دور میں کشور ناہید، فہمیدہ ریاض اور دیگر جدید شعرا شامل ہیں۔ ان تخلیق کاروں نے نثری نظم کو صرف ایک تجربہ نہیں رہنے دیا بلکہ اسے فکری، تہذیبی اور جمالیاتی سطح پر وسعت بخشی۔

نثری نظم کی فنی خصوصیات درج ذیل ہیں:

اول یہ کہ اس میں بحر اور وزن کی پابندی نہیں ہوتی، مگر داخلی آہنگ ضرور موجود ہوتا ہے۔

دوم یہ کہ اس میں قافیہ و ردیف ضروری نہیں ہوتے۔

سوم یہ کہ علامت، استعارہ اور تصویریت کا استعمال کثرت سے ہوتا ہے۔

چہارم یہ کہ نثری نظم اختصار اور معنوی تہہ داری کی حامل ہوتی ہے۔

پنجم یہ کہ اس میں جذبے کی شدت اور شعری فضا قائم رہتی ہے۔

ششم یہ کہ اس کی ساخت وحدتِ تاثر پر مبنی ہوتی ہے۔

میرا جی کی نثری نظموں میں انسان کی باطنی دنیا، خواب، لاشعور، جنس، تنہائی، خوف، وجودی سوالات اور تہذیبی جبر نمایاں موضوعات کے طور پر سامنے آتے ہیں۔ ان کی نثری نظم محض اظہار نہیں بلکہ ایک نفسیاتی اور علامتی کائنات ہے۔

بطور نمونۂ کلام میرا جی کے اس اسلوب کا ایک نمائندہ اقتباس ملاحظہ ہو:

"رات کے سنسان جنگل میں

جب ہوا درختوں کے جسم سے لپٹ کر روتی ہے

اور چاند اپنی ٹوٹی ہوئی کرنیں

زمین کے زخموں پر رکھ دیتا ہے

میں اپنے اندر کے اندھیرے سے پوچھتا ہوں

کیا روشنی صرف ایک دھوکا ہے؟"

(یہ اقتباس میرا جی کے نثری اسلوب کی نمائندہ کیفیت کو ظاہر کرتا ہے اور ان کے طرزِ احساس کی مثال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔)

اس نمونے میں دیکھا جا سکتا ہے کہ عبارت نثر کی صورت میں ہے لیکن اس میں شعری فضا، آہنگ، تصویریت، علامت اور داخلی موسیقیت پوری قوت سے موجود ہے۔ یہی نثری نظم کا بنیادی حسن ہے۔

اردو نثری نظم کے ارتقا میں میرا جی کا کردار صرف بانی یا بنیاد گزار کا نہیں بلکہ ایک نظریہ ساز اور عملی معمار کا بھی ہے۔ انہوں نے اردو شاعری کو یہ احساس دیا کہ شعریت کا انحصار صرف وزن پر نہیں بلکہ تخلیقی شدت، لسانی ترتیب، علامتی نظام اور جمالیاتی وحدت پر بھی ہوتا ہے۔ ان کی اس جدت نے آنے والی نسلوں کے لیے اظہار کی نئی راہیں کھولیں۔

اگرچہ نثری نظم پر آج بھی بحث جاری ہے کہ آیا یہ مکمل شاعری ہے یا نہیں، لیکن عملی حقیقت یہ ہے کہ اس صنف نے اردو ادب میں اپنی جگہ مستحکم کر لی ہے۔ جدید انسان کے منتشر تجربے، نفسیاتی پیچیدگی، شہری تنہائی، سیاسی بے معنویت اور وجودی کرب کو بیان کرنے کے لیے نثری نظم ایک مؤثر وسیلہ ثابت ہوئی ہے۔ یہی سبب ہے کہ معاصر اردو شاعری میں اس کا استعمال مسلسل بڑھ رہا ہے۔

مختصراً یہ کہا جا سکتا ہے کہ نثری نظم اردو ادب کی جدید شعری حسیت کا نتیجہ ہے۔ اس کی جڑیں مغربی ادبی تحریکوں میں ہیں مگر اردو میں اسے باقاعدہ شعری صنف بنانے کا سہرا میرا جی کے سر ہے۔ انہوں نے اس صنف کو نہ صرف متعارف کرایا بلکہ فنی اعتبار سے اس کی بنیادیں مضبوط کیں۔ نثری نظم نے اردو شاعری کو روایت کی حدود سے نکال کر جدید انسانی تجربے کے زیادہ قریب کر دیا اور اظہار کی نئی جمالیات پیدا کیں۔ اس اعتبار سے میرا جی کا نام اردو نثری نظم کی تاریخ میں ہمیشہ بنیادی حیثیت رکھے گا۔

Check Also

Kuch Nasri Nazm Ke Baare Mein

By Dr. Uzma Noreen