Jadeed Urdu Nazm Mein Nasri Nazm Ki Surat e Haal
جدید اُردو نظم میں نثری نظم کی صورتحال
اُردو شاعری کی روایت بہت قدیم اور مضبوط ہے۔ ابتدا میں غزل اور قصیدہ جیسی اصناف زیادہ مقبول تھیں۔ بعد میں نظم نے اپنی جگہ بنائی۔ بیسویں صدی میں آزاد نظم اور پھر نثری نظم سامنے آئی۔ ابتدا میں نثری نظم کو سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا، لیکن وقت کے ساتھ اس نے اپنی اہمیت منوا لی۔ اکیسویں صدی میں نثری نظم ایک مؤثر اور مقبول صنف کے طور پر موجود ہے۔ جدید شاعر اسے اپنے احساسات، تجربات اور سماجی مسائل کے اظہار کے لیے استعمال کر رہا ہے۔
نثری نظم ایسی نظم ہے جو روایتی وزن، بحر، قافیہ اور ردیف کی پابندی سے آزاد ہوتی ہے۔ یہ بظاہر نثر کی شکل میں لکھی جاتی ہے، مگر اس میں شعری فضا، علامت، استعارہ، داخلی آہنگ اور جمالیاتی حسن موجود ہوتا ہے۔ یہ عام نثر سے مختلف ہوتی ہے کیونکہ اس میں جذبے کی شدت، خیال کی گہرائی اور زبان کا تخلیقی استعمال شامل ہوتا ہے۔
اُردو میں نثری نظم کا باقاعدہ آغاز بیسویں صدی میں ہوا۔ اس صنف کو متعارف کروانے اور مضبوط بنانے میں چند اہم شعرا کا کردار نمایاں ہے، جن میں خاص طور پر ن م راشد اور میرا جی ہیں۔ ان شعرا نے روایت سے ہٹ کر اظہار کے نئے راستے تلاش کیے۔ ابتدا میں ناقدین نے اعتراض کیا کہ یہ شاعری نہیں بلکہ نثر ہے، لیکن بعد میں تنقیدی سطح پر اسے قبول کیا گیا۔
اکیسویں صدی کی نثری نظم میں موضوعات کا دائرہ بہت وسیع ہوگیا ہے۔ جدید شاعر اب صرف محبت یا رومان تک محدود نہیں رہا بلکہ وہ اپنے عہد کے اجتماعی اور انفرادی مسائل کو بھی اپنی تخلیق کا حصہ بنا رہا ہے۔ دہشت گردی، جنگ، مہنگائی، بے روزگاری، سیاسی بحران، شناخت کا مسئلہ، ہجرت کا کرب، عورت کے حقوق، شہری زندگی کی بے چینی اور ٹیکنالوجی کے اثرات جیسے موضوعات نثری نظم میں نمایاں طور پر دکھائی دیتے ہیں۔ اس طرح نثری نظم موجودہ دور کی حقیقی تصویر پیش کرتی ہے اور اپنے عہد کے دکھ سکھ کو براہِ راست بیان کرتی ہے۔
جدید نثری نظم کی ایک اہم خصوصیت اس کی زبان کی سادگی ہے۔ آج کا شاعر مشکل اور ثقیل الفاظ کے بجائے عام فہم اور رواں زبان استعمال کرتا ہے۔ پیچیدہ تراکیب اور غیر مانوس استعارات کم ہو گئے ہیں، جس کی وجہ سے نظم قاری کے زیادہ قریب آ گئی ہے۔ اس سادہ اسلوب نے نثری نظم کو نوجوان نسل میں بھی مقبول بنایا ہے کیونکہ قاری بغیر کسی دقت کے مفہوم تک پہنچ جاتا ہے۔
نثری نظم میں داخلی خودکلامی کا رجحان بھی نمایاں ہے۔ جدید شاعر اکثر اپنے باطن سے مکالمہ کرتا ہے اور اپنے اندر کے خوف، سوالات، خواہشات اور الجھنوں کو لفظوں میں ڈھالتا ہے۔ اس طرزِ اظہار میں ایک ذاتی اور اعترافی انداز ملتا ہے جو قاری کو شاعر کی داخلی دنیا سے جوڑ دیتا ہے۔ یوں نثری نظم صرف خارجی حالات کا بیان نہیں بلکہ باطنی کیفیات کی عکاسی بھی بن جاتی ہے۔
علامت اور استعارہ بھی نثری نظم کا اہم حصہ ہیں، تاہم اکیسویں صدی میں ان کا انداز نسبتاً واضح اور قابلِ فہم ہوگیا ہے۔ پہلے بعض اوقات علامتیں بہت پیچیدہ اور مبہم ہوتی تھیں، لیکن اب شاعر ایسی علامتیں استعمال کرتا ہے جو قاری کی روزمرہ زندگی سے قریب ہوں۔ اس طرح نظم میں معنویت بھی قائم رہتی ہے اور ابلاغ بھی متاثر نہیں ہوتا۔
اکیسویں صدی میں خواتین شعرا کی بھرپور شمولیت نے نثری نظم کو نئی جہت دی ہے۔ عورت کے مسائل، اس کی شناخت، اس کی جدوجہد اور اس کے خواب نثری نظم کا اہم موضوع بن گئے ہیں۔ خواتین شعرا نے اپنے تجربات کو کھلے اور بے باک انداز میں بیان کیا ہے، جس سے نثری نظم میں نسائی شعور اور مزاحمت کی ایک مضبوط آواز سنائی دیتی ہے۔
سوشل میڈیا نے بھی نثری نظم کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اب شاعر اپنی تخلیقات رسائل یا کتابوں تک محدود رکھنے کے بجائے براہِ راست سوشل میڈیا کے ذریعے قارئین تک پہنچا رہا ہے۔ فیس بک، واٹس ایپ اور دیگر پلیٹ فارمز نے نوجوان شعرا کو اظہار کا آسان ذریعہ فراہم کیا ہے۔ اس کے نتیجے میں نثری نظم کا دائرہ وسیع ہوا ہے اور اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے۔
کشور ناہید نسائی شعور کی مضبوط آواز ہیں۔ انہوں نے عورت کی خودمختاری، معاشرتی جبر کے خلاف مزاحمت اور اپنی شناخت کے مسئلے کو نہایت بے باک انداز میں پیش کیا۔ ان کی نثری نظم میں عورت کسی کمزور کردار کے طور پر نہیں بلکہ ایک باشعور اور بااعتماد شخصیت کے طور پر سامنے آتی ہے۔
میں نے اپنے ہاتھوں کی لکیروں کو
خود پڑھنا سیکھ لیا ہے
اب مجھے کسی فال گیر کی ضرورت نہیں
میں جانتی ہوں
میرا راستہ میری مرضی سے نکلے گا
فرحت عباس شاہ بنیادی طور پر رومانوی اور روحانی لہجے کے شاعر ہیں، مگر انہوں نے نثری نظم میں بھی انسانی جذبات اور رشتوں کی نزاکت کو خوبصورتی سے پیش کیا ہے۔ ان کی شاعری میں محبت محض جذباتی کیفیت نہیں بلکہ ایک روحانی تجربہ بن کر سامنے آتی ہے۔ وہ سادہ زبان میں گہری بات کہنے کا ہنر رکھتے ہیں۔ ان کی نثری نظموں میں دل کی کیفیات، انسانی تعلقات کی نرمی اور باطنی سکون کی تلاش جیسے موضوعات ملتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کا کلام عام قارئین میں بھی مقبول ہے۔
محبت
کسی کاغذ پر لکھی ہوئی شرط نہیں
یہ تو دل کے اندر
خاموشی سے جلنے والا چراغ ہے
جسے لفظوں کی ہوا بھی بجھا نہیں سکتی
حسنین جمال نئی نسل کے نمائندہ شعرا میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ صحافتی پس منظر بھی رکھتے ہیں، اس لیے ان کی نظموں میں سماجی اور سیاسی شعور نمایاں نظر آتا ہے۔ ان کی نثری نظم شہری زندگی کی پیچیدگیوں، میڈیا کے اثرات اور جدید انسان کی ذہنی الجھنوں کی عکاسی کرتی ہے۔ وہ اپنے عہد کی حقیقتوں کو براہِ راست بیان کرتے ہیں اور قاری کو سوچنے پر مجبور کرتے ہیں۔ ان کے ہاں جدید معاشرے کی بے حسی اور تیز رفتار زندگی کا عکس صاف دکھائی دیتا ہے۔
اس شہر میں
ہر شخص کے ہاتھ میں ایک اسکرین ہے
اور ہر اسکرین پر
کوئی نہ کوئی چیخ رہا ہے
مگر اصل خاموشی
ہمارے اندر بسی ہوئی ہے
پروین شاکر اگرچہ بنیادی طور پر غزل کی شاعرہ تھیں، لیکن انہوں نے آزاد اور نثری انداز میں بھی اظہار کیا۔ ان کی شاعری میں نسائی حساسیت، محبت کی لطافت اور داخلی جذبات کی نرمی ملتی ہے۔ انہوں نے عورت کے احساسات کو ایک نئے اور باوقار انداز میں پیش کیا۔ ان کی زبان شگفتہ اور نرم ہے اور وہ چھوٹے سے منظر میں بھی گہرا جذبہ پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ اسی وجہ سے وہ آج بھی نئی نسل میں مقبول ہیں۔
بارش کی پہلی بوند
جب میرے چہرے پر گری
تو یوں لگا
جیسے کسی پرانی دعا نے
مجھے پھر سے یاد کر لیا ہو
معاصر شعرا میں محسن خالد محسنؔ کا نام بھی اہمیت رکھتا ہے۔ ان کی نثری نظم میں جدید انسان کی داخلی ٹوٹ پھوٹ، معاشرتی بے حسی، وقت کی بے رحمی اور وجودی خلا جیسے موضوعات نمایاں ہیں۔ وہ روزمرہ زندگی کے عام مناظر سے علامتی مفہوم پیدا کرتے ہیں۔ ان کے ہاں داخلی خودکلامی کا عنصر مضبوط ہے، جس کے ذریعے وہ اپنے باطن کی کیفیات کو بیان کرتے ہیں۔ ان کی زبان سادہ مگر معنی خیز ہے اور وہ پیچیدہ بات کو عام فہم انداز میں پیش کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان کی نظموں میں خاموش احتجاج اور فکری گہرائی پائی جاتی ہے، جو قاری کو سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔
دن
اپنا دسترخوان بچھاتا ہے
اور ہم
اپنے حصے کی روٹی چن لیتے ہیں
مگر بھوک
ہمیشہ کسی اور سمت سے
جنم لیتی رہتی ہے
یہاں بھوک کو صرف جسمانی نہیں بلکہ روحانی اور سماجی خلا کی علامت بنایا گیا ہے۔ ایک اور مثال:
کمرے کی دیوار پر لگی گھڑی
مجھ سے زیادہ بے چین تھی
وہ ہر لمحہ
مجھے یاد دلاتی رہی
کہ وقت
کسی کا انتظار نہیں کرتا
یہ نظم وقت کے دباؤ اور انسان کی بے بسی کو ظاہر کرتی ہے
اکیسویں صدی کی نثری نظم مختلف فکری اور فنی جہتوں پر پھیلی ہوئی ہے۔ کشور ناہید نے نسائی شعور کو طاقت دی، فرحت عباس شاہ نے محبت اور روحانیت کو نئی معنویت دی، عباس تابش نے سادگی میں جذبے کی شدت کو سمویا، حسنین جمال نے شہری اور سماجی مسائل کو موضوع بنایا، پروین شاکرنے نسائی لطافت کو اجاگر کیا اور محسن خالد محسن نے داخلی کرب اور وجودی سوالات کو علامتی انداز میں پیش کیا۔ یوں یہ تمام شعرا مل کر جدید اردو نثری نظم کو ایک زندہ، متنوع اور بامعنی صنف کے طور پر سامنے لاتے ہیں، جو اپنے عہد کی بھرپور ترجمانی کرتی ہے۔
اکیسویں صدی میں نثری نظم کی صورتحال نہایت مضبوط ہے۔ یہ صنف جدید انسان کے داخلی کرب، سماجی مسائل اور نفسیاتی پیچیدگیوں کو بیان کرنے کا مؤثر ذریعہ بن چکی ہے۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں کہ نثری نظم نہ صرف اُردو شاعری کا اہم حصہ ہے بلکہ اکیسویں صدی میں یہ اظہار کا ایک مضبوط اور وسیع میدان بن چکی ہے۔

