21wi Sadi Mein Nasri Nazm Ke Imkanaat
اکیسویں صدی میں نثری نظم کے امکانات

اکیسویں صدی میں نثری نظم کے امکانات پر گفتگو کرتے ہوئے سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ نثری نظم محض عروضی پابندیوں سے آزادی کا نام نہیں بلکہ ایک ایسی شعری ہیئت ہے جو داخلی آہنگ، علامتی ساخت، تہہ دار معنی اور تصویری اظہار کے ذریعے شاعری کی روح کو نثر کے سانچے میں منتقل کرتی ہے۔ اردو ادب میں اس صنف کے آغاز سے لے کر آج تک اس پر بحث ہوتی رہی ہے کہ آیا نثری نظم واقعی شاعری ہے یا محض شاعرانہ نثر۔
اکیسویں صدی میں جب انسانی تجربہ اپنی پیچیدگیوں کے اعتبار سے پہلے سے کہیں زیادہ متنوع اور غیر وسعت پذیر ہو چکا ہے تو نثری نظم کی افادیت اور امکانات مزید نمایاں ہو گئے ہیں۔ جدید دنیا کے مسائل اور انسانی باطن کے نئے اضطرابات نے اس صنف کو ایک ایسی تخلیقی فضا عطا کی ہے جس میں اس کے امکانات نہ صرف وسیع ہوئے ہیں بلکہ مستقبل میں اس کے مستحکم ہونے کے آثار بھی روشن دکھائی دیتے ہیں۔
نثری نظم کی بنیادی قوت اس کی ساختی آزادی ہے۔ غزل اپنی داخلی موسیقیت اور رمزیت کے باوجود موضوعاتی وحدت کی پابند نہیں اور اکثر منتشر احساسات کی شاعری بن جاتی ہے۔ پابند نظم اور آزاد نظم اگرچہ فکری تسلسل کی حامل ہو سکتی ہیں مگر بحر اور آہنگ کی پابندیاں ان کے اظہار کو ایک خاص نظام میں محدود رکھتی ہیں۔
نثری نظم اس کے برعکس شاعر کو یہ آزادی دیتی ہے کہ وہ خیال کو اس کی فطری ہیئت میں برت سکے۔ یہی سبب ہے کہ جدید انسان کے منتشر شعور، شکستہ تجربے اور نفسیاتی الجھنوں کو نثری نظم زیادہ براہِ راست اور زیادہ مؤثر انداز میں بیان کر سکتی ہے۔
عبدالسمیع اپنی کتاب "اردو میں نثری نظم" میں نثری نظم کو جدید عہد کے پیچیدہ شعور کا نمائندہ قرار دیتے ہیں اور لکھتے ہیں کہ "نثری نظم کا وجود محض ہیئتی تجربہ نہیں بلکہ جدید انسان کے بدلے ہوئے ذہنی اور تہذیبی سانچے کا ادبی اظہار ہے"۔
یہی وجہ ہے کہ نثری نظم نے روایتی نظم کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے اپنے لیے جگہ بنائی کیونکہ اس نے اظہار کے لیے وہ وسعت فراہم کی جو جدید حسیت کا تقاضا تھی۔
اکیسویں صدی بنیادی طور پر ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل ثقافت، مصنوعی ذہانت، ماحولیاتی بحران، شناختی سیاست، عالمی ہجرت، تنہائی اور نفسیاتی انتشار کی صدی ہے۔ یہ تمام مسائل اپنی نوعیت میں پیچیدہ اور کثیر سطحی ہیں۔ ان کی ترجمانی کے لیے ایسی شعری صنف درکار ہے جو خطی بیانیے کی پابند نہ ہو بلکہ خیال کو بکھراؤ تضاد اور تہہ داری کے ساتھ قبول کر سکے۔ نثری نظم چونکہ اپنی ساخت میں fragmentary consciousness یعنی منتشر شعور کو سمیٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے اس لیے یہ عصرِ حاضر کے تجربات کو نہایت موزوں پیرائے میں بیان کر سکتی ہے۔
مثلاً جدید انسان کی ڈیجیٹل تنہائی کو اگر غزل میں بیان کیا جائے تو وہ استعارے کی سطح پر محدود ہو سکتی ہے مگر نثری نظم میں شاعر اس تجربے کو بیانیہ علامت، مکالمے اور تصویری پیکرکے امتزاج سے زیادہ ہمہ گیر انداز میں پیش کر سکتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ آج کے نوجوان شعرا نثری نظم کو بطورِ خاص ترجیح دے رہے ہیں کیونکہ یہ صنف ان کے تجربات کے لیے زیادہ قدرتی اور لچک دار فضا فراہم کرتی ہے۔
انیس ناگی نے نثری نظم کو ایک ایسا اسلوب قرار دیا تھا جس میں ہر طرح کے تخلیقی تجربے کی گنجائش موجود ہے۔ اس خیال کو بعد کے ناقدین نے بھی تقویت دی اور یہی بات آج نثری نظم کی سب سے بڑی طاقت بن چکی ہے۔
نثری نظم اب صرف عشقیہ یا داخلی واردات کی شاعری نہیں رہی بلکہ سماجی، سیاسی، تہذیبی اور وجودی موضوعات کی بھرپور ترجمان بن چکی ہے۔
یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا نثری نظم دیگر شعری اصناف سے بہتر انداز میں جدید عہد کی ترجمانی کر رہی ہے۔ اس کا جواب مطلق نفی یا اثبات میں دینا ممکن نہیں کیونکہ ہر صنف کی اپنی فنی حدود اور امکانات ہوتے ہیں۔ غزل اب بھی جذبے کی تہذیب اور اختصار کی معراج ہے۔ پابند نظم اب بھی رزمیہ یا اجتماعی موضوعات کے لیے موزوں ہے۔ آزاد نظم اب بھی آہنگی اور بیانیے کے امتزاج کی حامل ہے۔ تاہم اگر بات جدید انسان کے منتشر باطن، غیر یقینی مستقبل اور شکستہ حقیقت کی ہو تو نثری نظم اپنی ساختی آزادی اور داخلی وسعت کے باعث ان سب سے زیادہ لچک دار اور معاصر صنف محسوس ہوتی ہے۔
ثروت حسین، افضال احمد، سید زاہد ڈار، انجم سلیمی، تنویر انجم، فرحت عباس شاہ، نصیر احمد ناصر اور محسن خالد محسن وغیرہ جدید شعرا کی نثری نظموں نے ثابت کیا ہے کہ یہ صنف محض فیشن نہیں بلکہ سنجیدہ تخلیقی اظہار کا موثر وسیلہ ہے۔ پنجاب یونیورسٹی میں منعقدہ ایک علمی نشست میں افضال احمد سید نے ثروت حسین کی نثری نظم کو "اردو نثری نظم کا مینی فیسٹو قرار دیا تھا" جس سے اس صنف کی ادبی سنجیدگی اور نظریاتی بنیاد کا اندازہ ہوتا ہے۔
اکیسویں صدی میں سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے بھی نثری نظم کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ مختصر مگر تہہ دار تحریر کی جو روایت سوشل میڈیا پر مقبول ہوئی ہے اس نے نثری نظم کی قبولیت میں اضافہ کیا ہے۔ جدید قاری طویل بیانیے کے بجائے مختصر مگر معنی خیز متن کو ترجیح دیتا ہے۔ نثری نظم اپنی اختصاریہ ساخت اور فکری تہہ داری کے باعث اس نئے قاری کے مزاج سے مطابقت رکھتی ہے۔ اگرچہ اس سے سطحی نثری تحریروں کو بھی نثری نظم کہہ دینے کا رجحان پیدا ہوا ہے مگر اس کے باوجود اصل تخلیقی نثری نظم کی اہمیت کم نہیں ہوئی۔
تنقیدی سطح پر بھی نثری نظم نے اپنے لیے سنجیدہ مباحث پیدا کیے ہیں۔ اردو نظم 1960 کے بعد اور دیگر تنقیدی مباحث میں نثری نظم کی شعریات اسلوب اور فنی تقاضوں پر مستقل گفتگو موجود ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ صنف اب محض تجرباتی مرحلے میں نہیں بلکہ نظریاتی اور فنی سطح پر مستحکم ہو رہی ہے۔
نثری نظم کے سامنے بعض خطرات بھی موجود ہیں۔ سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ ہر بے وزن اور منتشر تحریر کو نثری نظم سمجھ لیا جاتا ہے۔ حالاں کہ نثری نظم کے لیے بھی شعری جوہر لازم ہے۔ اس میں داخلی آہنگ، تصویریت، علامتی ربط، معنوی تہہ داری اور تخلیقی وحدت ضروری ہے۔ اگر یہ عناصر موجود نہ ہوں تو متن نثری نظم نہیں محض شکستہ نثر رہ جاتا ہے۔
نثری نظم کی کامیابی صرف اس کی ہیئت پر نہیں بلکہ تخلیق کار کی فنی مہارت پر منحصر ہے۔
مستقبل کے حوالے سے یہ سوال اہم ہے کہ کیا نثری نظم اپنی مستقل اور جداگانہ جگہ بنانے میں کامیاب ہو جائے گی۔ موجودہ ادبی صورتِ حال کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ نثری نظم اس مرحلے سے گزر چکی ہے جہاں اس کے وجود پر سوال اٹھائے جاتے تھے۔ اب سوال اس کے جواز کا نہیں بلکہ اس کے معیار کا ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ صنف نے اپنی جگہ بنا لی ہے۔ جب کسی ادبی ہیئت پر وجودی بحث ختم ہو جائے اور فنی مباحث شروع ہو جائیں تو اس کا مطلب ہے کہ وہ صنف ادبی روایت کا حصہ بن چکی ہے۔
مستقبل میں نثری نظم کی کامیابی کے امکانات اس لیے بھی روشن ہیں کہ نئی نسل کا ذہن بیانیہ اختلاط intertextuality اور hybrid اظہار کا عادی ہو چکا ہے۔ نثری نظم میں فلسفہ، نفسیات، تاریخ، سیاست اور شخصی تجربہ سب ایک ساتھ جذب ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ صنف روایت اور جدیدیت کے درمیان ایک تخلیقی پُل بن سکتی ہے۔ اگر اردو ادب کا مستقبل کثیر جہتی اور بین المتونی اظہار کی طرف جاتا ہے تو نثری نظم اس کا اہم ترین وسیلہ ثابت ہوگی۔
یوں کہا جا سکتا ہے کہ اکیسویں صدی نثری نظم کے لیے امکانات کی صدی ہے۔ یہ صنف جدید انسان کے داخلی انتشار، خارجی بحران، تہذیبی بے سمتی اور وجودی سوالات کو بیان کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ اگرچہ یہ دعویٰ درست نہیں کہ نثری نظم دیگر تمام شعری اصناف سے بہتر ہے مگر یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ عصرِ حاضر کے پیچیدہ اور غیر متعین ڈھانچے پر مبنی تجربات کی ترجمانی میں اس کی استعداد غیر معمولی ہے۔ اپنی فنی پختگی، تنقیدی قبولیت اور تخلیقی وسعت کے باعث نثری نظم مستقبل میں اردو شاعری کی ایک مستقل اور مستحکم صنف کے طور پر مزید مضبوط ہوگی۔
ادب کی تاریخ یہی بتاتی ہے کہ جو صنف اپنے عہد کے شعور کی ترجمان بن جائے اسے روکا نہیں جا سکتا۔
نثری نظم نے یہ مرحلہ بڑی حد تک طے کر لیا ہے۔ اب اس کی بقا کا انحصار اس پر نہیں کہ ناقد اسے مانتے ہیں یا نہیں بلکہ اس پر ہے کہ تخلیق کار اسے کس فنی سطح پر برتتے ہیں۔ اگر اہلِ قلم اس صنف کے فنی تقاضوں کو سمجھتے ہوئے اسے برتیں تو بعید نہیں کہ آنے والے زمانے میں نثری نظم اردو شاعری کے مرکزی دھارے میں غزل اور آزاد نظم کے شانہ بشانہ کھڑی دکھائی دے گی۔

