Maryam Ne Punjab Ki Siasi Tareekh Badal Kar Rakh Di Hai
مریم نے پنجاب کی سیاسی تاریخ بدل کر رکھ دی ہے

حکومت یا جمہوریت کا ہمارے ہاں کارکردگی سے کوئی خاص تعلق نہیں رہا مگر مسلم لیگ کے کام دیکھیں تو پنجاب کی تاریخ میں بڑے بڑے نوابوں نے حکومت کی ہے لیکن اتنے تھوڑے سے عرصے میں حیران کن تبدیلی دیکھنے کو نہیں ملی۔ جس میں صفائی کے نظام سے لے کر بدمعاشوں کی صفائی تک سب اپنی مثال آپ ہیں۔ ہر کام میرٹ پر ہو رہا ہے۔
سیاسی حکومتیں ہمیشہ با اثر لوگوں کو خوش کرنے کی کوشش کرتی رہی ہیں۔ اصلاحات محض اپنے مفادات کے لئے کی جاتی رہی ہیں۔ کوئی بھی ایسا کام نہیں کیا جاتا تھا جس سے مقبولیت میں فرق آئے لیکن مریم کی حکومت نےایسی کسی بھی مصلحت کو آڑے نہیں آنے دیا۔
سی ٹی ڈی نے ہاف فرائی اور فل فرائی کی اصطلاح متعارف کروا کر بدمعاشی کی چیخیں نکلواتے ہوئے بڑے بڑوں کو سیدھا کر دیا ہے اور صورت حال یہ ہے کہ پنجاب میں جس بھی کمیٹی یا ٹربیونل کے بعد سی ٹی ڈی کی گاڑی یا لوگو نظر آجائے وہاں انصاف کے یقینی ہونےکا اعتماد سب ماضی کے خدشات کو ملیا میٹ کر دیتا ہے۔
آجکل جدھر بھی دیکھو ریحاب سنٹرز اور نفسیاتی مسائل کی کلینکس نظر آتے تھے جن سے بظاہر تو خدمت کا تاثر ملتا تھا مگر در حقیقت یہ منشیات کی تباہی کی منہ بولتی تصویر تھے یہاں تک کہ تعلیمی ادارے تعلیم کا گہوارہ ہونے کی بجائے منشیات کا گڑھ بن چکے تھے۔ نوجوانوں کو لا شعوری طور پر اس لعنت کا شکار کیا جا رہا تھا۔ منشیات فروشوں کے خلاف آپریشن نے نوجوان نسل کے اندر ایک نئی امید قائم کی ہے۔
حالیہ پراپرٹی پروٹیکشن ایکٹ نے تو مفاد پرستوں اور عام عوام کے درمیاں ایک ریفرنڈم کا کام کیا ہے۔ اسے ایک کیس سٹڈی کے طور پر یاد کیا جائے گا۔ اس نے بڑی بڑی طاقتوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے وہ خواہ جہالت پر مبنی عورتوں کو ان کے جائیداد سے محروم کرنے کی رسومات ہوں یا بے کسوں کی زمینوں پر قبضے کرکے بڑے بننے کی شیطانی چالیں ہوں سب کی ہوا نکل گئی ہے۔ حتیٰ کہ تنگ نظری کی شکار وکالت ہو یا عدالت ہر کسی کو اپنی اپنی پڑی ہوئی ہے۔
اس ایکٹ کے حق میں عوام اور صحافت کی آواز نے سیاسی مخالفین کی بھی نیندیں حرام کر دی ہیں اور ان کو اپنی جھوٹے بیانیوں پر مبنی سیاسی کھیل خراب ہوتا ہوا دکھائی دینے لگا ہے کیونکہ مریم نے جو سیاسی ہدف قائم کر دیئے ہیں ان کا مقابلہ کسی کے بس کی بات ہی نہیں۔
مریضوں کو ان کے دروازے پر ڈاکٹر اور دوائیاں مہیا کرنا کوئی آسان نہیں اور نہ ہی بلا سود قرضے دے کر فارغ نوجوانوں کو باروزگار بنانا معمولی کام ہے۔ اب نہ ہی لیپ ٹاپ سے تعلیم اور شعور کو عام ہوتا ہوا دیکھ کر ان کو ورغلانے کی کوئی امید باقی بچی ہے۔ اگلے سال کو نوجوانوں کے نام کیا جا رہا ہے جس میں نہ صرف انہیں دی جانے والی ڈیجیٹل سکلز کو مزید بہتر کیا جائے گا بلکہ انہیں اندرون ملک روزگار کے ساتھ ساتھ بیرون ملک روزگار تک رسائی کے لئے پوری پوری راہنمائی اور بندوبست کیا جائے گا، پرواز کارڈ کا اجراء بھی اسی منصوبے کا حصہ ہے۔

