Saturday, 28 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Basharat Ali Chaudhry
  4. Professor Safia Akram, Aik Sinf e Aahan Khatoon

Professor Safia Akram, Aik Sinf e Aahan Khatoon

پروفیسر صفیہ اکرم، ایک صنف آہن خاتون

"مردآہن" اور "صنف آہن" کا استعمال اتنا عام بنا دیا گیا ہے کہ ہر مرد و خاتون کی اگر تعریف کرنی پڑے تو لمحہ بھر میں یہ القابات دے دئیے جاتے ہیں۔ ان کی شخصیات ان القابات کی مصداق ہیں یا نہیں۔۔ یہ ادراک کوئی حقیقی انداز میں نہیں کرتا۔۔ اب جس کے پاس وسائل بھی وافر ہوں۔۔ سماجی روابط بھی کثیر ہوں۔۔ خاندانی منصب بھی عمدہ ہو۔۔ سفر میں مشکلات و مصائب بھی نہ ہوں اور پھر وہ کوئی "غیر معمولی" کام کر گزرے تو اچنبھے کی بات نہیں۔۔ لیکن اگر صلاحتیں تو ہوں۔۔ سماجی تعلقات ناپید ہوں۔۔ خاندانی اعتبار سے بھی نا آشنائی ہو اور کام کرنے کے راستے میں ڈھیر سارے مسائل ہوں۔۔ رکاوٹیں ہوں بلکہ ناکام کرنے کے لئے "روڑے اٹکائے جاتے ہوں لیکن پھر بھی" عزم مصمم"، "قوت ارادی "اور "جذبہ ایمانی" سے کوئی فرد ڈٹ بھی جاتا ہے اور غیر معمولی کام بھی کر گزرتا ہے تو وہ بلاشبہ "مرد آہن" اور "صنف آہن" بن جاتا ہے۔۔ ایسا ہی ایک جانا پہچانا نام پروفیسر صفیہ اکرم صاحبہ کا ہے جو نہ صرف علمی حلقوں میں" شہرت تامہ" رکھتی ہیں بلکہ عوامی حلقوں میں بھی جانی جاتی ہیں۔۔

میری ان سے شناسائی سن 88 اور 92 کے درمیان ہوئی جب میں چھٹی یا ساتوں کلاس کا طالب علم رہا اور گولڈن سپیروز سکول سی فور میرپور زیر تعلیم تھا اور سالانہ تقریب تقسیم انعامات میں مختلف ہم نصابی سرگرمیوں میں حصہ لیتا رہا۔ اس وقت میں تلاوت و نعت میں بھی حصہ لیتا، ترانے و قوالیاں بھی گاتا۔۔ ٹیبلو و نظموں پر پرفارمنس بھی میری زندگی کا حصہ رہیں اور تعلیمی سرگرمیوں میں بھی اول تو نہیں دوسرا تیسرا انعام حصے میں ضرور آتا۔۔ اس تقریب میں مہمان خصوصی محترمہ صفیہ اکرم صاحبہ تھیں۔۔ شعور اتنا پختہ تو نہیں تھا لیکن گفتگو و انداز سے کسی شخصیت کے عمدہ و کارگر ہونے کا اندازہ تو لگا سکتا تھا۔

تقریب کے آخر میں جب انعامات کی تقسیم کا مرحلہ آیا تو تعلیمی نتائج میں کامیابی کے بعد مختلف سرگرمیوں میں شمولیت کے باعث بھی ڈھیر سارے انعامات حاصل کیے۔ تو پروفیسر صفیہ اکرم صاحبہ جن کو اس وقت ہم میڈم بولتے رہے ہیں وہ بھی حیران ہوتی کہ "یہ بچہ ابھی انعام لے کر نکلا ہے یہ دوبارہ آگیا انعام لینے"۔۔ بعد ازاں ان کو بتایا گیا کہ اس بچے نے تلاوت و نعت کے علاؤہ قوالی و ٹیبلو میں بھی حصہ لیا تھا اس لئے ہر ایک سرگرمی میں شمولیت کی وجہ سے انعامات کی تعداد بھی بڑھ گئی ہے۔۔ ان لمحات میں بھی ہم نے میڈم صفیہ اکرم کو بڑا حلیم و شفقت والا پایا اور حوصلہ کرنے و دلجوئی کرنے والا پایا۔۔

کون کتنا معتبر ہے؟ کتنے علمی خزینے اپنے "من" میں اتار چکا ہے؟ کس کی "شخصی وجاہت" و "علمی ثقاہت" زیادہ "اثر آفرینی" رکھتی ہے۔۔ کون کتنے "مراتب علمی" سے فیضیاب ہے اور اپنے دامن سے وابستہ افراد کو بھی فیضیاب کر چکا ہے یا کرنے کا فن جانتا ہے؟ ہم نہیں جانتے تھے۔۔ اس کا ادراک تب ہوا جب پروفیسر صفیہ اکرم صاحبہ کی کتاب "دریچے" نظروں سے گزری اور پروفیسر عابد محمود عابد جو "عصر حاضر " کے بظاہر دیکھنے میں سنجیدہ شاعر ہیں لیکن کتابیں مزاحیہ لکھتے ہیں اور اکثر ٹی وی چینلز پے منعقد ہونے والے مشاعروں کی زینت بھی بنتے رہتے ہیں۔ گو میری اپنی طبعیت میں زرا متانت و سنجیدگی ہے لیکن عابد محمود عابد کی کتب کا مطالعہ ماحول کو "کشت و زعفران " بنانے میں بڑا مددگار ثابت ہوتا ہے۔۔ میں تنہا بیٹھا کئی "ثانیے" مخظوظ ہوتا رہتا ہوں بہرحال عابد محمود عابد صاحب کا شکریہ کہ انہوں نے مجھے دوبارہ ایک نابغہ روزگار ہستی سے جوڑ دیا۔

اب ان کی کتاب" دریچے" میرے سامنے ہے تو چشم تصورات میں گولڈن سپیروز سکول میں انکی موجودگی اور اپنے سر پر "دست شفقت" کے لمس کو محسوس کر سکتا ہوں۔۔ کتاب کا عنوان "دریچے" بھی اس کے اندر پائے جانے والے علمی مواد کے اعتبار سے موزوں ہے۔۔ اس کتاب نے میرے ذہن کے بند دریچوں کو واہ کیا۔ سوچ و خیال کو نئی جہتیں فراہم کیں۔۔ فکر و آگاہی کی خیرات تقسیم کی۔۔ عمل پر ابھارنے کے کئی نت نئے زاویوں سے شناسائی بخشی۔۔ سرورق پے لکھی" آزاد نظم" نے شعری ذوق کو جلا بخشی۔۔ لیکن انتساب پڑھ کر "دل ناتواں" کو غمناک پایا۔۔ کسی قریبی کو کھونے کا دکھ تب ہی سمجھ آتا ہے جب کوئی خود اس کرب سے گزرتا ہے۔۔ پروفیسر صفیہ اکرم نے اپنے قیمتی بچوں کو کھویا۔۔ میں نے گزشتہ دنوں اپنی ہی گود میں آخری سانسیں لیتی اپنی ماں کو کھویا۔۔ لیکن رب کی رضا ہی دلاسہ ہے۔۔ دکھ اور غم ہرے رہتے ہیں لیکن سر رب کی بارگاہ میں تسلیم خم ہی رہتا ہے۔۔ اللہ ان کے بچوں کو زریعہ شفاعت بنائے اور ہماری والدہ کو اپنی جوار میں جگہ دے اور ان کو سنگت مصطفی ﷺ اور سنگت سیدہ کائنات حضرت فاطمتہ الزہرا علیھا السلام میسر آئے۔۔

دریچے کا پہلا مضمون ہی موجودہ دور کے اساتذہ کو جھنجھوڑنے کے لئے کافی ہے جہاں استاد کے احترام بابت قرآنی و نبوی ﷺ سے راہنمائی کا ذکر ہوا وہیں پر استاد کے فرائض کی بابت بھی سیر حاصل گفتگو ہوئی۔۔ پروفیسر صفیہ اکرم صاحبہ نے اپنے ذاتی تجربات سے استاد کی "اثر آفرینی"کے بارے میں جس احسن انداز میں ذکر کیا سو فیصد درست ہے اور ایسے تجربات ہم بھی اپنی زندگی میں کر چکے ہیں۔ بطور خاص یہ مضمون "دعوت فکر" ہے جس کو سمجھنے سے متعلم و معلم کے بیچ خلا کو ختم کرکے تعلم کے مرحلے کو بہتر بنایا جاسکتا ہے۔

پروفیسر صفیہ اکرم کے مضامین میں آپ بیتی بھی ہے اور جگ بیتی بھی۔۔ سفرنامے میں بھی ہیں اور شعری ذوق کی تسکین کے لئے سامان بھی۔۔ تدریسی زندگی کے نشیب و فراز بھی ہیں اور انتھک محنت کے نتیجے میں ملنے والے ثمرات کی داستان بھی۔۔ عمدہ الفاظ کا چناؤ بھی ہے اور جذبات کی انگیخت بھی۔۔ اصلاح طلب پہلو بھی ہیں اور بارگاہ الٰہی و مصطفوی ﷺ کے ادب کے قرینے بھی سکھائے گئے ہیں۔۔ کبھی آپ کی تحریر میں لگتا ہے "نثری شاعری" ہے اور کبھی آزاد نظم میں "شعری نثر"۔۔ ہر دو اصناف میں مجھے بڑا نظم نظر آیا۔۔ اب یہ مکتب کی کرامت ہے یا نگاہ ولی کی تاثیر۔۔ یا زندگی بھر کی جدو جہد کا ماحصل۔۔ لگتا یہی ہے کہ "رب کی رحمت کا حصار" آپ کے حصے میں بھی آیا ہے۔۔

سفر حج ہو یا شمالی علاقہ جات کی جھیل "سیف الملوک" ہر دو اسفار میں قاری ذرا "انہماک" سے پڑھے تو لگتا ہے وہ خود بھی اس سفر میں شامل ہے۔ کیف و مستی، جذب و اشتیاق، واردات روحانی اور عشق و وارفتگی کے ملے جلے احساسات سے اس کے "من" میں بھی جیسے تازہ گلاب کھل گئے ہوں۔۔ آنکھوں کو لذت دیدار سے فیضیابی کے بعد اشکباری میسر آئی ہو۔۔ محبوب حقیقی سے پیار کو جیسے "بڑھاوا" مل گیا۔۔ عبد و معبود کے رشتے کو جیسے پھر سے استواری کی سیبل مل گئی ہو۔ "در یار" پر حضوری کی جیسے کیفیات پھر سے عود آئی ہوں۔۔ یہ کتاب لمحہ لمحہ وسیع تر تجربات کے تناظر میں راہنمائی بھی فراہم کرتی ہے

بہرحال! پروفیسر صفیہ اکرم صاحبہ کے لئے دعا گو ہوں کہ اللہ ان کو صحت والی زندگی عطا فرمائے اور جو انہوں نے اپنے بچوں کے غم و تکالیف برداشت کیں ان کے بدلے ان کو اخروی نعمتوں سے مالا مال فرمائے آمین اور ان کو رب کی رضاء حاصل ہو اور بارگاہ مصطفوی ﷺ اور بارگاہ سیدہ کائنات سلام اللہ علیہا کے در سے وابستگی سے فیضیابی ملے اور ہم جیسے طالب علموں کو اہل علم کے در سے خیرات ملنے کا سلسلہ ہمشیہ جاری رہے۔۔

Check Also

Jahan Gandagi, Wahi Zindagi

By Syed Mehdi Bukhari