Thursday, 07 May 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Basharat Ali Chaudhry
  4. Mukalma

Mukalma

مکالمہ

مکالمہ کوئی" دھونس" نہیں ہوتا۔۔ کوئی "کٹر" نظریات کی "برین واشنگ" نہیں ہوتی۔۔ کسی بات کو ہر صورت "قبول" اور ہر صورت میں"رد" کرنے کا مزاج نہیں ہوتا بلکہ یہ "افہام و تفہیم" کی ایک کوشش ہوتی ہے۔۔ یہ مختلف نظریات کو پرکھنے کی سبیل ہوتا ہے۔۔ یہ ذہن کے بند "دریچوں" کو کھولنے کا ایک طریق ہوتا ہے۔۔ یہ کچھ سننے اور کچھ سنانے کی ایک پر مغز "داستان" ہوتا ہے۔۔

یہ مختلف افکار کے افراد کے ذہنوں میں "ازخود" پنپنے والے سوالات کے جوابات کی نئے انداز اور نئی تحقیقات کی روشنی میں ترسیل و تفہیم کی ایک کوشش ہوتا ہے یا سوسائٹی میں بسنے والے لوگوں کے ذہنوں میں اٹھنے والے "ابہامات" و اشکالات کے ازالہ کی ایک "سعی" ہوتا ہے اور اس کا ہونا جہاں "مختلف الفکر" احباب کو قریب ہونے کا موقع فراہم کرتا ہے وہیں ذہنوں میں پائے جانے والے قدیم خیالات کو عصر حاضر کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے کیوں کہ قران اور دین اب ختم نبوت کے بعد "غیر مبدل" یعنی بدلنے والا نہیں۔۔ اب شریعت و صاحب شریعت کے احکامات نے قیامت تک افراد معاشرہ کی راہنمائی کرنی ہے اور ہدایت کا سرچشمہ کوئی اور نہیں صرف یہی ہیں تو وقت کے بدلتے ہوئے رجحانات و افکار کے مطابق معانی و مفاہیم کی وسعت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے آپ کو "اپ ٹو ڈیٹ" کرنا ضرورت بھی ہے اور منہج نبوت ﷺ سے سیکھنے کا ایک طریق بھی ہے۔۔

اس طرح کے "مکالمے" سے اخلاقی قدروں کو مضبوطی ملتی ہے۔۔ وسعت قلبی کی راہ ہموار ہوتی ہے۔۔ قوت برداشت اور سیکھنے کے عمل کو "مہمیز" ملتی ہے۔ ترقی کے امکانات روشن ہوتے ہیں۔ "خیالات قدیمہ" کو" افکار جدیدہ" کی روشنائی ملتی ہے اور معاشروں کو سنوارنے کی کوششیں رنگ لاتی ہیں۔ بس نیت خالص اور طلب صادق ہو تو وہ بھی خوش ہوتے ہیں جو "صادق" بھی ہیں اور "امین" بھی ﷺ۔

مکالمے مشاورت بھی ہوتے ہیں اور مشاورت میں "اکٹھ" خیر کے دروازے ضرور کھولتا ہے۔۔ اب مناظرانہ روش کو ترک کرنے کو ہی اچھا گردانا جاتا ہے۔ باہمی افہام و تفہیم کی وقعت بڑھ گئی ہے اس سے از خود بدلنے کی راہ ہموار ہوئی ہے۔ سوچ کو نئے انداز ملے ہیں۔ تکفیریت کے خاتمے ہوئے ہیں۔ قوم کو یکجتی کے انداز سے واقفیت ملی ہے۔۔ مذاہب اور مکاتب فکر کو "اتحاد" کی دولت میسر آنے کے امکانات بڑھ گئے ہیں نفرتیں ختم کرکے محبتیں بانٹنے کی عادتیں فروغ پا رہی ہیں۔۔ اللہ کرئے یہ سلسلہ چلتا رہے۔۔

گزشتہ دنوں ایسے ہی ایک مکالمے میں شرکت کا موقع ملا۔۔ مکالمے کے موضوعات گو "دقیق" تھے لیکن اس کو سمجھنے کی کوشش ضرور کی۔ بلکہ اب تو مکالمے کو گزرے دس دن گزر گئے لیکن اس میں ہونے والے کلام و سوالات کے جوابات میں تشنگی کے باقی رہنے نے مطالعہ کی طرف ابھارا ہے۔ اب نئی کتب و رسائل کو تلاشنے اور صاحبان علم و حکمت کے در کی خاک چھاننے کی جستجو بڑھ گئی ہے ماہر اقبالیات ڈاکٹر علی وقار قادری لاہور سے بطور خاص تشریف لائے۔

میرپور گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج اور میرپور یونیورسٹی آف سائنس و ٹیکنالوجی کے پروفیسرز، ڈاکٹرز، وکلاء اور طلباء نے شرکت کی۔ فتنہ الحاد کے بڑھتے ہوئے رجحانات کی بیخ کنی اور تعلیمات صوفیاء پر اعتراضات کے علمی محاکمہ جیسے موضوعات کو زیر بحث لایا گیا۔ احباب نے سوالات بھی پوچھے بلکہ اپنی آراء و مطالعاتی ذوق کا بھی اظہار کیا اور نسل نو کے لئے اپنے درد کا ذکر بھی کیا۔ کتب کی تقسیم بھی ہوئی "اکل و شرب" کے بندوبست سے بھوک کا مداوع بھی ہوا۔۔

اب جب "سوشل میڈیائی" مفکرین کی بہتات ہے۔۔ یو ٹیوبر داعین کی کثرت ہے۔۔ نیم ملاوں کی غیر منطقی باتیں ہیں۔۔ صوفیاء کے روپ میں شعبدہ باز میدان عمل میں ہیں۔۔ علم و حکمت سے نابلد پلانٹڈ شر پسند ہیں اور ان کے ناپاک عزائم ہیں۔۔ امت کو تفرقہ میں ڈالنے والے اور "اتحاد قومی" کو سبوتاژ کرنے والے ہیں تو ایسے حالات میں اس طرح کے مکالمے ہونے چاہیے۔۔ نئے موضوعات سے آگاہی ملے گی۔۔ "متضاد الخیال" افراد بھی مل کر کام کریں گے۔۔ اصول تو قران میں موجود ہیں مفہوم یہ ہے

"جہاں اتفاقات و مشترکات ہوں مل کر کر لیں جہاں اختلافات ہوں وہ الگ سے کر لیں"

لیکن تصادم، نفرت، کردارکشی، رعونت اور جھگڑا و فساد کی اجازت نہیں۔۔ "صرف میں ہی درست ہوں مجھے ہی مانا جائے" والا رویہ انسانی نہیں بلکہ شیطانی ہے اس سے بچنا ضروری ہے۔۔ اب ڈاکٹر علی وقار قادری فکری، مذہبی سیاسی اور روحانی اعتبار سے باقی سکالرز سے ممکن ہے مختلف ہوں مگر انہوں نے ضد نہیں کی۔ معتدلی کے ساتھ فکری اعتبار سے مخالف کو بھی "کورٹ" کیا۔ احترام کے دامن کو ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔۔

یہی مشرب اہل علم و صوفیاء کا ہے وہ دوسرے کے ساتھ اختلاف کے باوجود بھی زبان کے استعمال میں حد سے نہیں بڑھے۔۔ نفرتیں نہیں بانٹیں۔۔ محبتوں کے سودے ہی کیے۔۔ آج اس مزاج و کردار کی ضرورت ہے۔۔ شاندار مکالمے کے انعقاد پر محمد عاصم اکرام ایڈووکیٹ، محمد مقصود مغل، محمد امتیاز حسینی اور ٹیم منہاج القرآن کا شکر گزار ہوں اور ان سب اہل علم کا بھی ممنون ہوں جو میری دعوت پر اس مکالمہ کا حصہ بنے اور مجھے دعاوں سے نوازا۔۔ اللہ کرئے ان کی دعاوں سے میرے جیسے گناہگار کی بخشش کا سامان بھی ہو جائے اور رب کی رحمت مجھ پے بھی سایہ فگن ہو کر بھلے بھلے کروا دے آمین۔

جئے میں ویکھاں عملاں ولے
تے کج نہیں میرے پلے

جئے ویکھاں تیری رحمت ولے
تے بھلے ں ھلے بھلے

(مفہوم ہمارے اعمال رب کی رحمت کے بغیر کچھ نہیں اگر رحمت میسر ہو تو ہمارا بھی کام بن جائے اور وارے نیارے ہو جائیں)

Check Also

Guy Goma

By Mubashir Ali Zaidi