1.  Home
  2. Blog
  3. Azhar Hussain Bhatti
  4. Khuda Ki Rassi

Khuda Ki Rassi

خدا کی رسی

پوری حویلی کسی دُلہن کا روپ دھارے جگمگ جگمگ کر رہی تھی۔ ہر طرف رونقیں تھیں، شہنائیوں کی گونج تھی اور خوشیاں تھیں۔

آج ملک شہاب کے بڑے بیٹے ملک شاہزیب کی مہندی تھی۔ ڈھول کی تاپ پہ گاؤں کی سکھیاں رقص کر رہی تھیں جبکہ مردانے کی طرف ملک شاہزیب کی گھبرو یار دوست ناچنے کودنے میں مگن تھے۔ اِدھر رات کی تاریکی بڑھی تو اُدھر مہمانوں کا بھی رش کم ہوا۔ آہستہ آہستہ پورا پنڈال ہی خالی ہوگیا اور اب ملک شاہزیب کے چند گنے چنے دوست ہی باقی رہ گئے تھے۔

جب ہر طرف ہُو کا عالم ہوا تو یہ سارے دوست اپنی حویلی کی پچھلی طرف چلے گئے جہاں ایک اور محفل اُن کے انتظار میں تھی۔

اَرے یار کیا ہی خوبصورت شے لائے ہو آج تم۔ ملک شاہزیب کمرے میں داخل ہوتے ساتھ ہی اپنے دوست وِکی کی تعریف کرتے ہوئے بولا۔

کیسے نہ لاتا یار، آخر ہمارے جگری دوست کی شادی ہے کوئی مذاق تھوڑی نا ہے۔ وِکی نے اُس دِلنشیں کا دوپٹہ اتارتے ہوئے کہا۔

وہ واقعی بلا کی خوبصورت لگ رہی تھی، تیکھے نین نقش، اجلی رنگت اور قیامت ڈھاتی ادائیں پورے ماحول کو پاگل کر رہیں تھیں۔ پھر سنگیت شروع ہوا اور گانے کے ساتھ ہی اس ماہ وِش کا مر مریں بدن بھی ناچنے لگا۔ پھر نوٹوں کی بوندیں چھم چھم گرنے لگیں، وہ سب بھی شراب کی نشے میں ہلکورے کھانے لگے۔ شراب اور نوٹوں کی بارش میں اضافہ ہوتا گیا اور پھر ساڑھے تین بجے کے قریب ملک شاہزیب اُسے لے کر الگ کمرے میں چلا گیا۔ جہاں پانچ دس منٹ کی دھماچوکڑی ہوئی اور پھر ایک فائر کی آواز نے اندر کا سارا شور ہی ختم کر دیا۔ ساتھ ہی ملک شاہزیب گالیاں نکالتا ہوا باہر آیا اور غصے میں بولا کہ سالہ ہیجڑا تھا، سو مار دیا میں نے۔

ملک شاہزیب کو شروع دن سے ہی اِن خواجہ سراؤں سے خدا واسطے کا بیر تھا، جہاں دیکھتا آپے سے باہر ہو جایا کرتا تھا۔ یہ اس کا کوئی پہلا قتل نہیں تھا بلکہ اس سے پہلے بھی وہ چار خواجہ سراؤں کو موت کے گھاٹ اتار چکا تھا۔ اس کے غصے کی وجہ سے آج کی یہ محفل اپنے منطقی انجام کو بہت جلدی پہنچ گئی تھی۔

ملک شاہزیب پچیس سالہ خوب رو نوجوان تھا، چونکہ اس کے خون میں وڈیروں اور امیری والے جراثیم تھے اسی لیے وہ ضدی اور غصے والا تھا۔ اس کی ماں بہت نیک دل خاتون تھیں، وہ اسے بہت سمجھایا بھی کرتی کہ پتر یہ خواجہ سراء وہ ہیں جن کے بس میں کچھ نہیں ہوتا، در در کی ٹھوکریں، معاشرے کی بدسلوکیاں اور لوگوں کے طنز طعنے سنتے ہی زندگی گزرتی ہے ان کی۔ وہ جو بھی بنتے ہیں یا کرتے ہیں اس میں اُن کا کوئی قصور نہیں ہوتا۔ یہ خدا کی مرضی ہے اور وجہ بھی وہی جانتا ہے کہ وہ اِن کو پیدا کیوں کرتا ہے۔ تو پتر اِن کو کچھ نہ کہا کر۔ اِن کی بد دعاؤں سے ڈر اور اللہ سے اچھے کی دعا کیا کر۔

لیکن ماں کے اتنا سمجھانے کے باوجود بھی ملک شاہزیب کے کان پہ جوں تک نہیں تھی رینگتی بلکہ اس معاملے میں بجائے کم ہونے کے اس کا غصہ بڑھا ہی تھا۔

ملک شاہزیب کی شادی بڑی دھوم دھام سے ہوئی تھی اور شادی سے فارغ ہوتے ساتھ ہی وہ لوگ ہنی مون کے لیے لندن بھی روانہ ہو گئے تھے۔

دن یونہی پر لگائے اڑتے رہے، گزرتے رہے اور شاہزیب کو اللہ نے دس سال بعد ایک بیٹے سے نوازا جس کی خوشی میں پورے گاؤں کو کھانا کھلایا گیا، دیگیں بانٹی گئیں اور غریبوں میں کپڑے بھی تقسیم کیے گئے۔ لڑکے کا نام ملک سجاول رکھا گیا۔ جو کہ گھر بھر کی رونق تھا دادا اور دادی کی آنکھوں کا تارا بھی۔ نوکر چاکر سب ہی تو اس کی خدمت میں جتے رہتے تھے ہر وقت۔

ملک سجاول بڑی نازک طبیعت کا مالک تھا۔ اسے نوکروں سے عجیب رغبت تھی وہ ان پہ رعب جھاڑنے کی بجائے ان سے پیار محبت سے پیش آتا تھا بلکہ اس بات سے یکسر بےخبر کہ وہ لوگ نوکر ہیں وہ ان کے گھروں میں بھی چلا جایا کرتا تھا۔ وہ ملازموں کے ہم عمر بچوں کے ساتھ بہت زیادہ وقت بتاتا تھا جس کی وجہ سے اسے اکثر ڈانٹ بھی پڑ جاتی تھی لیکن وہ لاڈلا ہونے کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے باز نہیں آتا تھا۔

گاؤں کی پڑھائی ختم ہوئی تو اسے دور شہر کے ایک کالج میں داخل کروا دیا گیا۔ جہاں اس نے ہوسٹل میں رہنا ہوتا تھا اور اب مہینوں بعد ہی گھر چکرلگتا تھا اس کا۔

ملک سجاول کالج کی چھٹیوں میں بھی بہت کم گھر آتا تھا۔ وہ ایسا کرنے کے لیے بہت سے بہانے بنا لیتا تھا۔ وہ کالج بھی نہیں ہوتا تھا۔ کوئی نہیں جانتا تھا کہ وہ ان چھٹیوں میں کہاں جاتا ہے یہی نہیں وہ یہاں ہوسٹل میں بھی اکثر راتوں کو غائب رہا کرتا تھا۔

***

نیامت پور کے چوہدری بشیر گھر فنکشن تھا اور وہ ملک شاہزیب کا گُوڑا یار بھی تھا اس لیے ملک شاہزیب کو جانا پڑا ورنہ اس بار ملک شاہزیب کا جانے کا بالکل بھی دل نہیں تھا کیونکہ وہاں خواجہ سراؤں کی محفل تھی اور ملک شاہزیب کو ان سے چڑ تھی۔ لیکن بادل نخواستہ اسے شرکت کرنی پڑی۔

محفل کا انتظام باہر کھیتوں میں کیا گیا تھا۔ جہاں پورے ایک ایکڑ کو مہنگی آرائش و زیبائش سے سجایا گیا تھا۔ رات بارہ بجے محفل کا آغاز ہوا اور ایک ایک کرکے سارے خواجہ سراء اسٹیج پہ آتے گئے اور محفل کا درجہ حرارت گرم کرنے لگے۔ یار ملک تمہیں ایک بات بتاؤں؟ آج یہاں ایک ایسا خواجہ سراء بھی موجود ہے جس نے بہت جلد ان کی دنیا میں اپنا نام بنایا ہے۔ ارے مکھن ہے مکھن، وہ شکل، عقل اور اپنی اداؤں سے ایسے دل موہ لیتا ہے کہ پوچھو ہی مت اور کمال کی بات یہ کہ وہ خواجہ سراء لگتا ہی نہیں ہے۔ اُسے دیکھ کر کوئی بھی دھوکہ کھا سکتا ہے۔ نام بھی ویسا ہی ہے "چاندنی"۔

بڑی مشکلوں سے بکنگ ملی ہے آج اس کی۔ تمہیں لازمی ملواؤں گا چاندنی سے۔ ملک شاہزیب چوہدری بشیر کی باتیں سن کر وہاں سے اٹھا اور جانے کیا سوچ کر چوہدری کے حویلی کیطرف چلا گیا، وہاں ایک کمرے سے ملک شاہزیب کو چیخنے چلانے کی آوازیں سنائی دیں، کہ پلیز مجھے چھوڑ دو جبکہ دوسرا شخص بول رہا تھا کہ نہیں"چاندنی" آج تمہیں مجھ سے کوئی نہیں بچا سکتا۔ میں تمہیں جان سے مار ڈالوں گا۔

ملک شاہزیب کے دل میں جانے کیا آئی کہ اس نے کمرے کا دروازہ کھول دیا اور دیکھا کہ سامنے چوہدری بشیر کا لڑکا ہاتھ میں پستول تھامے کھڑا تھا جبکہ دوسری طرف خواجہ سراء "چاندنی" کی شکل میں اُس کا اپنا بیٹا "ملک سجاول" عجیب سے حلیے میں فرش پہ جھکا ہاتھ جوڑے اپنی زندگی کی بھیک مانگ رہا تھا۔

Check Also

Out Of The Box

By Javed Chaudhry