Thursday, 28 May 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Azhar Hussain Azmi
  4. Bhool Kar Deti Nahi Gali Shareefon Ki Zuban

Bhool Kar Deti Nahi Gali Shareefon Ki Zuban

بھول کر دیتی نہیں گالی شریفوں کی زباں

ہمارے معاشرے میں چائے اور گل افشانی (گالی) کا چلن اتنا عام یو چکا ہے کہ اگر کوئی ان کا خوگر نہ ہو تو اس کے چال چلن پر شبہ کیا جاتا ہے۔ چائے اور گل افشانی معاشرے میں اس حد تک راسخ ہو چکے ہیں کہ اب ان پر خط تنسیخ نہی کھینچا جا سکتا۔ ان کے بغیر نہ بات بنتی ہے نہ جمتی ہے۔

چھٹتی نہیں ہیں منہ سے یہ کافر لگی ہوئی

اب لوگ باگ گفتگو میں اس روانی سے گل افشانی کر جاتے ہیں کہ اس کے بغیر جملہ نامکمل لگتا ہے۔ میں نے چند ایک کے علاوہ بلا لحاظ عمر سب کو غصے اور خوشی یا بس یونہی گل افشانی کرتا دیکھا ہے۔ کچھ تو گل افشانی کرتے اتنے اچھے اور سچے لگتے ییں کہ:

وہ کہیں اور سنا کرے کوئی

ہمارے ایک محلے دار ہیں چھمن بھائی۔ لوگ ان سے گل افشانی سننے ایسے آتے ہیں جیسے کوئی مشہور نہاری کھانے جا رہے ہوں۔ چھمن بھائی کا پہلے تعارف کرادوں۔ صحت قابل شک ہے۔ ناف سے ذرا نیچے تک بنیان اور اس کے بعد گھنٹوں سے ذرا نیچے تک سوتی کپڑے کی دھاری دار نیکر پہنتے ہیں۔ عام گفتگو میں بہت پیار سے گل افشانی کا بے تحاشا اور با تماشا استعمال کرتے ہیں۔ مزاج برہم ہوں تو چھمن اللغات کھول لیتے ہیں۔ ندرت خیال اور قدرت کلام کے حسین امتزاج سے وہ وہ شاہکار آشکار کرتے ہیں کہ آپ لوٹ پوٹ اور جس کو دی جائیں وہ ہاٹ پاٹ ہو جائے۔ گل افشانی کی وہ وہ لڑیاں پروتے ہیں کہ سامنے والے کو ہار پہنا کر ہی دم لیتے ہیں۔

ایک دن موقع غنیمت جان کر اس عطا کی وجہ پوچھا بیٹھا۔ موڈ میں تھے، بولے: ابا میاں کو دعائیں دو، سکھا گئے۔ میں نے کہا ابا میاں؟ ناراض ہو گئے، بولے: بھائی کہا ناں یہ گل افشانی ہے اور یہ تو ہمارے ابا کا گل تکیہ تھا۔ حس دن گل افشانی نہ ہو سمجھو موڈ آف ہے یا طبیعت خراب۔ اماں کہا کرتی تھیں تمھارے باوا جس دن اول فول نہ بکیں، سمجھو کوئی بات بری لگی ہے۔ ایک مرتبہ دو دن تک گل افشانی نہ کی۔ اماں تو پریشان ہوگئیں۔ مجھ سے بولیں: جا چھمن کسی ڈاکٹر کو دکھا لا۔ مجھے تو لگے ہے آواز ہی بند ہوگئی ہے۔

میں نے کہا اماں کوئی قبض تھوڑی ہوا ہے جو دست آور گولی لے آوں۔

اماں بھی ابا میاں کو خوب جانتی تھیں، بولیں: کم بخت مارے۔ تمھارے باوا کو تو گالیوں کا قبض ہوتا ہے۔ پھر منہ سے کہاں کچھ نکلتا ہے۔

میں نے کہا: کہو تو اچھو پہلوان کو دکھا آوں۔ اماں بولیں: اچھو کو تو رہنے دے۔ وہ تو تمھارے باوا سے بھی دس گالیاں آ گے ہے۔ گالیوں کے دست لگ جائیں گے۔ جگہ جگہ کرتے پھریں گے۔

اس دوران ابا آ گئے، معاملہ سمجھ گئے۔ ایسے تڑاخ سے سسرال والی گل افشانی میں سب کو لپیٹا کہ اماں کا چہرہ کھل اٹھا۔ جان میں جان آئی۔ بولیں شکر ہے۔

میں نے چھمن بھائی سے پوچھا کہ اس گل افشانی کا آغاز کب اور کہاں سے ہوا؟ بولے: ابا کہتے تھے کہ ہمارے پردادا اس کے موجب ہیں۔ خاندان کے بڑے انہیں فخرو گل افشانی کہا کرتے تھے۔ اللہ بخشے اپنے وقتوں میں ایک ہی تھے۔ پر دادا کو شاعری سے بھی غضب کا شغف تھا۔ کہتے تھے صرف غالب نے ہمیں جانا اور سمجھا۔ اکثر ترنگ میں ہوتے تو یہ شعر پڑھتے اور بیچ میں ایک اپنی گل افشانی ضرور کرتے۔

پھر دیکھیے انداز گل افشانی گفتار
رکھ دے کوئی پیمانۂ صہبا مرے آگے

چھمن بھائی نے اس شعبے میں جو اختراع کی ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ وہ ترقی کو بتاتے ہیں۔ کہتے ہیں گل افشانی وہی ہوتی ہے جو اپنے زمانے سے ہم آہنگ ہو، پرانے زمانے کی گل افشانی سے آدمی پرانے زمانے کا لگتا ہے اور نوجوان نسل میں اسے کوئی پذیرائی حاصل نہیں ہوتی۔ اب کمپیوٹرانہ، لیپ ٹاپانہ اور موبائلانہ گل افشانی کا دور دورہ ہے۔

میں نے کہا کہ اس بات کو سب تسلیم کرتے ہیں کہ آپ کی گل افشانی جدیدیت سے بری طرح لیس ہے اور جو لیس ان میں سے نکلتا ہے، اسے کان سنتے ضرور ہیں لیکن سارا لیس زبان میں محسوس ہوتا ہے۔

بات کیونکہ بڑھتی چلی جارہی تھی۔ میں نے ان کے کمال فن کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے بارے میں یہ مشہور ہے کہ جو ایک بار دے دی اس کو دہرایا نہیں۔ کہنے لگے: تم بڑے وہ ہو۔ گل افشانی کا ایک بڑا سبب سامنے والا ہھی ہوتا ہے۔ کتنی گل افشانیاں تو میں سامنے والے کا منہ، گفتگو اور چال ڈھال دیکھ کر بناتا ہوں۔ جس طرح ہر شخص ایک کہانی ہے۔ اسی طرح ہر شخص گل افشانی کی دکان خود کھولے بیٹھا ہے۔ ہم تو بس گل ان کی طرف پھینکتے ہیں اور ایک بات بتادوں گل افشانی ہوتی زبان سے ہے لیکن تمھیں کیا پتہ کہاں کہاں سے کتنا زور لگانا پڑتا ہے۔ یہ جو شاعر ہیں۔ بڑے بڑے شعر کہتے ہیں۔ بھائی ایک گل افشانی کرو تو پتہ چلے۔

میں نے پوچھا کہ کیا گل افشانی سب سے کرتے ہیں؟ کانوں کو ہاتھ لگائے: خاندان گل افشاں کہلاتے ہیں۔ یہ محبت اور پیار تو اپنوں کے لیے ہے۔ اس میں ادب واحترام کا بہت خیال رکھتے ہیں۔ چھوٹے کے منہ نہیں لگتے اور غیر کو منہ لگاتے نہیں۔ اب تم کو ایک قصہ سناتے ہیں۔ ایک مرتبہ میں نے ایک دوست سے گل افشانی کردی۔ گھر آیا تو ابا نے زناٹے دار تھپڑ رسید کردیا۔ میں سناتے میں آ گیا، بولے: چھمن تو نے ہماری عزت خاک میں ملا دی، منہ دکھانے کے لائق نہیں چھوڑا۔ ناک کٹوا دی۔ میں نے کہا: ابا میاں کیا ہوگیا؟ بولے: تو نے دوست سے گل افشانی میں اس کے باپ کا ذکر کیا جبکہ وہ تو انتقال کر گئے ہیں۔ یہ بدتہذیبی ہے۔ اب سوچو کوئی اتنا آسان کام تھوڑی ہے یہ۔

کہنے لگے گرما گرم چائے کی چسکی اور گل افشانی کے پہلے لفظ میں ایک سا مزا ہے۔ بتانے لگے: دادا میاں کہا کرتے تھے کہ گل افشانی اور شہنائی ہر وقت کے لیے موزوں ہے۔ گل افشانی تو ایک ساز ہے جس میں روانی نہ ہو تو سارا مزا کرکرا ہو جاتا ہے۔ میں نے گل افشانی کی اقسام کا پوچھا تو میرے زانو پر ہاتھ مار کر بولے: بڑے پہنچے ہوئے لگتے ہو ورنہ یہ سوال کرنے کے لیے بڑا دماغ چاھیئے۔

اقسام پر بہت مدبرانہ انداز میں گویا ہوئے: تم نے غور کیا ہوگا کہ ہر گل ہر موسم میں نہیں کھلتا۔ اسی طرح ہر گل افشانی ہر موسم کے لیے نہیں ہوتی۔ بندے کے بعد سب سے اہم موسم ہے۔ موسمیاتی گل افشانی گرمیوں میں ٹھنڈک کا احساس اور سردیوں میں گرم لحاف کا کام دیتی ہیں۔ ذرا اور کھلے تو گویا ہوئے کہ اسی طرح واقعاتی، محلاتی، نفسیاتی اور خاندانی گل افشانیان بھی ہوتی ہیں۔ ان تمام گل افشانوں کو انسانی رشتوں اور اعضاء سے منسلک کرکے نئے معنی اور مفہوم پیدا کرنا ہی تخلیقی قوتوں کا امتحان ہے اور خیر سے چھمن نے کبھی منہ کی نہ کھائی، ہر ایک کو کھلائی اور خوب ہی کھلائی۔

میں نے کہا کبھی کوئی جوڑ پڑ گیا ہو، مسکرائے: ایک دو بار کچھ اتائی آئے تھے مگر ہم ٹھہرے خاندانی۔ دو تین کے بعد گھسے پٹے مال پر آگئے۔ میں نے کہا ابے۔۔ مقابلہ کرنے آیا ہے یا مذاق۔ ایسی گل افشانی تو ہمارے ہاں پالنے کے بچے کر لیتے ہیں۔

میں نے پوچھا: کبھی کوئی شاگرد بنایا؟ بولے: آسان سمجھتے ہو اس کام کو۔ ایک پھڑکتی اور مجمع کھینچتی گل افشانی کوئی بچوں کا کھیل ہے اور پھر اس کو ادا کرنا۔ میاں مشق کرنا پڑتی ہے بولنے کی۔ کس لفظ کے بعد وقفہ دینا ہے اور کس لفظ کو کتنا کھینچنا ہے کہ وہ سامنے والے کے دل میں کھنچتا چلا جائے۔ کس محاورے کا ٹانکا لگانا ہے۔ خون تھوکنا پڑتا ہے تب کہیں جا کر اثر پیدا ہوتا ہے ورنہ آج کل تو جس دیکھو بکے جا رہا ہے۔ توھین کر رہا ہے۔ کوئی احترام ہی نہیں رہا اس کام میں۔ ایمان سے جب کسی کو کچی گل افشانی کرتے دیکھتا ہوں، دل خون کے آنسو روتا ہے۔ میاں اس کام میں بھی خاندانی لوگ کہاں رہے ہیں جس کو دیکھو منہ مار رہا ہے۔ ابا میاں کہتے تھے چھمن ڈرو اس وقت سے جب دنیا میں اس طرف خاندانی لوگ نہ رہیں۔ دادا اور ابا میاں کے زمانے میں تو گل افشانی کے مقابلے ہوتے۔ دور دور سے دعوت نامے آتے۔ اب تو قدر داں ہی نہ رہے۔

میں نے چلتے چلتے مشہور شعر سنایا

بھول کر دیتی نہیں گالی شریفوں کی زباں
یہ کمینوں کی علامت ہے ذلیلوں کا نشاں

میرے کاندھے پر بہت گالیانہ قسم کا ہاتھ رکھتے ہوئے کہا: یہ تو جو انٹرویو لے رہا تھا۔ اس لیے خاموش تھا۔ ورنہ تیری تو میں ایسی ایسی تیسی کرتا کہ تو ایک منٹ بھی یہاں نہیں ٹکتا۔ اپنا منہ دیکھا ہے تو نے۔ میں سمجھ گیا کہ اب بوچھاڑ ہوا چاھتی ہے اس لیے چلتا بنا۔

About Azhar Hussain Azmi

Azhar Azmi is associated with advertising by profession. Azhar Azmi, who has a vast experience, has produced several popular TV campaigns. In the 90s, he used to write in newspapers on politics and other topics. Dramas for TV channels have also been written by him. For the last 7 years, he is very popular among readers for his humorous articles on social media. In this regard, Azhar Azmi's first book is being published soon.

Check Also

Ibrahimi Dabao Aur Muslim Dunya

By Fatima Tayyab Singhanvi