Thursday, 02 April 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Azhar Hussain Azmi
  4. Bachpan Ki Eid Bhi Kya Eid Thi

Bachpan Ki Eid Bhi Kya Eid Thi

بچپن کی عید بھی کیا عید تھی

ساری زندگی کراچی میں گزری۔ ہر تہوار یہیں منایا۔ ایک دو بار ملک سے باہر عید منائی تو وطن سے دوری اور غربت کا احساس ہوا، کبھی آنکھیں نم ہوئیں تو کبھی دل نے کہا کس نے کہا تھا آنے کو؟ اداسی سی اداسی تھی لیکن جب آپ کراچی کے باسی ہوں تو اداسی کیسی۔ کوئی بھی تہوار ہو لگتا ہے پورا شہر ایک دوسرے سے خوش ہے۔ یہاں آج بھی لوگ گلے ملتے ہیں تو گلے مٹاتے ہیں۔ دل ملاتے ہیں۔ کدورت کو محبت سے بدل دیتے ہیں کہ محبت کا کوئی بدل نہیں۔

بچپن میں والد صاحب کے ساتھ بازار جاتے اور کپڑے جوتے لے آتے۔ چاند رات کو گھر میں عجب خوشی کا سماں ہوتا۔ صبح نئے کپڑے پہن کر نماز عید پڑھنے جانے اور اس کے بعد عیدی ملنے کا شدت سے انتظار ہوتا۔ بچوں میں "کتنی عیدی ملی" کا مقابلہ ہوتا۔ پرانے محلے میں تھے تو تین بھائی اور ایک بہن تھی۔ بہن بہت چھوٹی تھی۔ میں اور مجھ سے چھوٹا بھائی پھر بھی بڑے تھے۔ چھوٹا تو بہت چھوٹا تھا۔ ہم بھی جو والدین نے دلا دیا، خاموشی سے لے لیا، کبھی ضد نہ کی۔ ویسے بھی لڑکوں کا کیا ہے۔ سفید شلوار قمیض، پینٹ شرٹ اور جوتے۔ فیشن کی وبا نہ چلی تھی۔ برانڈڈ کا تو کوئی تصور ہی نہ تھا جو کچھ تھا ابا برانڈڈ تھا۔ اس لیے کہاں کا رونا دھونا۔ ویسے بھی تربیت کچھ ایسی نہ تھی کہ کسی کی حرص کرتے۔ یہ تربیت آج تک کام آ رہی ہے اور ہم اپنے والدین کو دعائیں دیتے ہیں۔

عید کی نماز پڑھنے والد اور دونوں چچاوں کے ساتھ جایا کرتے۔ گھر آتے تو دودھ چاول جس میں چھوارا پڑا ہوتا، کھاتے۔ جس کا مزا آج بھی زبان کو یاد ہے۔ عیدی بھی کیا تھی۔ آٹھ آنے بہت سے بہت روپیہ۔ جو پارٹی روپیہ دیتی ہم اس کی راہ تکتے اور جب وہ پارٹی آ جاتی تو اسے ٹکٹکی باندھ کر تکا کرتے کہ کب جیب ہاتھ میں جائے اور روپیہ ہمارے ہاتھ آئے۔ والدہ پوری طرح ہماری عید کمائی پر نظر رکھتیں۔ اوقات سے زیادہ ہاتھ میں پیسے ہوں تو یہ کہہ کر لے لیتیں: اچھا یہ پیسے تمہارے ہیں اور جو ہم نے آن کے بچوں کو پیسے دیئے ہیں۔ وہ کس حساب میں؟ ہم اتنے سادہ بلکہ احمق تھے کہ بے چوں و چراں مان لیا کرتے۔ اس پر والدہ ایک ڈیل اور دیتیں کہ اگر تم ایک دو روپے کے علاوہ سارے پیسے میرے پاس رکھوا دو تو میں اس میں کچھ پیسے ملا کر نیا بیڈ یا ہاکی لا دوں گی اور ہم ایک دو روپے سے کچھ زیادہ کی ڈیل کرکے ساری عیدی والدہ کو دے دیا کرتے۔

اب اس زمانے میں کھانے پینے کی اتنی چیزیں کہاں ملتی تھیں۔ قلفی والا ٹن ٹن کرتا آ گیا اور ہم ٹنا ٹن اس کی طرف دوڑتے۔ آٹھ آنے کی بڑی والی قلفی آ جایا کرتی تھی۔ عید چھوٹی ہوتی مگر ہم سب سے بڑی کھوئے ملائی والی قلفی لیتے۔ فلفی دینے سے پہلے وہ ایک جار میں اسے ڈالتا جس کبھی تو ملائی والا دودھ یا پھر رنگین پسا ہوا کھوپرے ہوتا۔

چھوٹا منہ بڑی قلفی وہ کھانے کے دوران ہی بہہ نکلتی۔ پہلے ہاتھ کی آستینوں پر آتی۔ زیادہ پگھلتی تو شرٹ پر عید ملنے آ جاتی۔ صاف کرنے کی کوشش کرتے تو اور پھیل جاتی اور شرٹ پر بڑا سا نشان بن جاتا جو کچھ دیر بعد پاپڑی کا روپ دھار لیتا۔ ہونٹ اور ہاتھ چپچپے ہو جاتے۔ یاد تو نہیں لیکن پلاسٹک کا چشمہ اور گھڑی بھی خریدی ہوگی جسے بڑی معصومانہ شان سے لگایا ہوگا۔

دوپہر کو کھانے پر کچھ اچھا ہی پکتا۔ کھانے سے زیادہ غریب کی خوشی یہ ہوتی کہ اس کے بعد چپکے سے باہر جا کر کولڈ ڈرنک پینی ہے۔ یہ عید کی سب سے بڑی عیاشی ہوتی۔ کبھی گولا گنڈے والا آ جاتا تو اس پر بھی ہاتھ صاف کرتے۔ گولے گنڈے پر سارے نیلے پیلے شربت ڈالنے کے بعد اوپر سے گاڑھا دودھ ڈال دیا جاتا، مزا ہی آجاتا۔ پہلے زبان سے اس کو چاٹتے اس کے بعد گولے گنڈے کھاتے کم اور گراتے زیادہ۔ نتیجے کے طور پر ڈانٹ پڑنا لازمی تھی۔

گولا گنڈا کھاتے میں اس وقت بہت عجب یخ بستہ گزرتی کہ جب ندیدے پن سے بہت سارا برف منہ میں رکھ لیتے۔ اندر دانت اور گال ٹھنڈ سے کڑکڑا اور ہم ہڑبڑا جاتے۔ کچھ سیکنڈ تو سمجھ میں نہ آتا کہ کریں کیا۔ کبھی گال پھلائیں تو کبھی برف کو منہ میں ادھر ادھر گھمائیں لیکن پھر سیٹنگ ہو ہی جاتی۔ برف اتنا مائل بہ پگھل و کرم ہو جاتا کہ حلق سے اتار لیا جائے۔

سہ پہر تک پاپڑ والا، گڑیا کے بال والا اور بنگالی چورن والا بھی آ جاتا جس کی انار دانے والی چٹنی اور کالا چورن ایسا ہوتا کہ لکھتے ہوئے بھی منہ میں پانی آ رہا ہے۔ کچھ بچے اس سے ایک پانی بھرے مرتبان سے زندہ مچھلیاں بھی خرید لیا کرتے مگر ہم اس چکر میں کبھی نہ پڑے۔ شام تک جیسے جیسے جیب خالی ہوتی جاتی، کسی عیدو چچا یا خالو کے آنے کی آس بڑھتی جاتی۔ کبھی نصیب جاگ جاتے تو کبھی امید کا سورج ڈوب جاتا۔

مایوسی گناہ تھی۔ دوسرے دن ہمیں ایک کھانے پر مدعو کیا جاتا۔ ہمیں اندازہ تھا کہ بات آٹھ آنے سے زیادہ آگے نہ بڑھتے گی مگر ہم اس پر بھی خوش تھے اور کبھی کبھی آٹھ آٹھ آنسو نہ بہاتے۔ دوسرا دن وزیروں والا ہوتا۔ تیسرا دن آتا تو ہم فقیر الدولہ بن جاتے۔ دو دن کی عیاشی کے بعد پھر اندھیری رات، اب والدہ سے مطالبہ ہوتا کہ ہماری جمع شدہ عیدی واپس کی جائے۔ بہت شور کرنے پر آٹھ آنے یا روپیہ دے دیا جاتا۔ کبھی ایسا بھی ہوتا کہ دو دن کی فضول خرچی پر پیسوں کی جگہ ڈانٹ پڑ جاتی۔ صاف کہہ دیا جاتا: کتنے پیسے کھاو گئے۔ کوئی حد ہوتی ہے۔ اس بچے کو دیکھو، تمہارے برابر ہے اور سارے عیدی ماں کو دے دی۔ ایک تم ہو بس جو آئے الا بلا کھا کر ختم کرو۔

ویسے دنیا کی ہر ماں کا یہ خیال ہوتا ہے کہ عیدی کے پیسوں سے کھائی جانے والی چیز سے طبعیت خراب ہو جاتی ہے۔ دوسرے بچے سے تقابل کا یہ ڈول کبھی تو ہمارے سر میں اتر جاتا لیکن کبھی نہیں تو پھر آپ کو تو معلوم ہے۔ ماں بہت محبت کرتی ہے لیکن اس کے دو ہاتھ بھی تو ہوتے ہیں جو بآسانی ہم تک پہنچ سکتے ہیں۔

About Azhar Hussain Azmi

Azhar Azmi is associated with advertising by profession. Azhar Azmi, who has a vast experience, has produced several popular TV campaigns. In the 90s, he used to write in newspapers on politics and other topics. Dramas for TV channels have also been written by him. For the last 7 years, he is very popular among readers for his humorous articles on social media. In this regard, Azhar Azmi's first book is being published soon.

Check Also

Rait Ki Deewar Aur Awami Mazaq

By Peer Intizar Hussain Musawir