Friday, 17 July 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Anjum Kazmi
  4. 128 Di Daal Roti, Sher Khaye Ga Qaum Di Boti

128 Di Daal Roti, Sher Khaye Ga Qaum Di Boti

128 دی دال روٹی، شیر کھائے گا قوم دی بوٹی

مسلم لیگ ن نے موجودہ حکومت میں نئی نسل کو بھرپور موقع دیا ہے، وفاق میں رانا افضل اور پرویز ملک کے صاحبزادے شامل ہیں جبکہ ایک "تحفہ" ڈی جی خان سے بھی شامل کیا ہے، آئے روز وہ ٹی وی ٹاک شوز میں بیٹھ کر "یبلیاں" مارتا ہے جس کے بعد موصوف کی جگ ہنسائی تو ہوتی ہے، شریف خاندان کا تمسخر بھی خوب اڑتا ہے، جی وہ "تحفہ" وزیر ممملکت حذیفہ رحمان ہے، یوں تو وہ ہر بار کسی سینئر صحافی سے الجھ پڑتے ہیں اور دلیل ایسی نکالتے ہیں کہ میر کا شعر ان پر ہی صادق آتا ہے۔۔ اندھے کو اندھیرے میں بہت دور کی سوجی۔۔

چند روز ہوئے ان کا ایک ٹی وی شو میں فرمانا تھا کہ وہ 128روپے میں کھانا کھا لیتے ہیں اور ساتھ آدھی کول ڈرنک بھی پیتے ہیں، اس مہنگائی کے سونامی میں ان کی اس بات نے نئی بحث چھیڑ دی کہ اتنے پیسوں میں بندہ پیٹ بھر کر روٹی کیسے کھا سکتا ہے؟ جس پر وہ بعد میں وضاحتیں دینے لگے کہ ایک سو روپے کی ہاف پلیٹ دال، 28 روپے کی دو روٹیاں، یعنی 14-14 روپے کی دو روٹیاں۔۔

اب یہ معلوم نہیں کہ انہوں نے یہ کھانا کہاں سے منگوایا تھا، سینٹ کے کیفے ٹیریا سے کھایا ہوگا پھر تو یہ بہت مہنگا کھایا ہے کیونکہ سُنا ہے کہ سینٹ کے کیفے ٹیریا روٹی ایک یا دو روپے کی ملتی ہے پھر باقی پیسے کہاں خرچ ہوگئے اور اگر انہوں نے کھانا کسی رہڑھی سے منگوایا ہے تو اس کو لانے کیلئے سرکاری گاڑی بھیجی ہوگی، ڈرائیور اور ملازم گئے ہوں گے، اب اتنی گرمی میں ڈرائیور اور ملازم تو بغیر اے سی کے گاڑی میں نہیں گئے ہوں گے کیونکہ پٹرول سرکار کا سڑتا ہے اور سرکار کا مال سرکاری ملازمین باپ کا مال سمجھ کر اڑاتے ہیں۔

اب کوئی عقل کا اندھا ہی ہوگا جو کہ 128روپے کے کھانے کیلئے ایک ہزار روپے کا پٹرول پھونک دے، حذیفہ رحمان کو پورا قصہ سنانا چاہئے تھا کہ وہ انہوں نے 128 کب، کیسے اور کہاں کھایا، فرض کریں وزیر مملکت نے سڑک پر جاتے ہوئے گاڑی رکوا کر کسی رہڑھی والے سے ہاف پلیٹ دال اور دو روٹیاں لے کر وہیں کھڑے ہوکر کھالی ہوں تو پھر سوال یہ ہے کہ ان کے ساتھ جو ڈرائیور اور ملازم تھے ان کو بھوکا کیوں رکھا، مجھے تو یقین نہیں آتا کہ وزیر مملکت نے ایسا کیا ہو۔

حذیفہ رحمان نے اپنے کیئریر کا آغاز ایک صحافی کے طور پر کیا، شروع میں ان کی چند ایک خبریں نظر سے گزریں پھر وہ ایک روز اچانک یا حادثاتی طور پر کالم نگار بن گئے، 2012ء میں جب روزنامہ دنیا شروع ہوا تو میں نے بطور شفٹ انچارج گوجرانوالہ، سرگودھا اور فیصل آباد جوائن کیا، لاہور کے آؤٹ سٹیشن کا انچارج تھا، تب ان کا کالم روزنامہ دنیا میں چھپنا شروع ہوا۔

برہان الدین ہمارے سی این ای (چیف نیوز ایڈیٹر) تھے، جن کو ہم پیار سے بابا جی کہتے ہیں، ان کے ساتھ نوائے وقت میں طویل عرصہ کام کیا، ایک دن میں کام میں مصروف تھا تو باباجی کی آواز آئی، شاہ جی، آپ کے وسیب کے مہمان آئے ہیں، میں نے پیچھے مڑکر دیکھا تو ان کے ساتھ ایک لونڈا کھڑا تھا، باباجی نے تعارف کرایا کہ شاہ جی کا تعلق بھی ملتان سے ہے تب صحافت میں مجھے 18سال ہوچکے تھے اور موصوف کے ایک دو کالم بھی پڑھ چکا تھا جس سے ان کی صلاحیتوں کا اندازہ ہوگیا تھا کہ موصوف نے سالوں کا سفر دنوں میں کیسے طے کرلیا کیونکہ پاکستان کے معروف صحافی عباس اطہر المعروف شاہ جی کی ایک بات 1994ء میں پلے باندھ لی تھی کہ اخبار میں چھپی خبر اپنی قیمت خود بتاتی ہے۔

سلام، دعا کے بعد موصوف نے لمبا تعارف کرایا اور کہنے لگے کہ آپ دنیا میں جتنا بھی مشہور ہو جائیں اگر آپ کے علاقے کے لوگوں کو علم نہ ہو تو چس نہیں آتی، میں نے اخلاقی طور پر ہاں میں ہاں ملا دی تو انہوں نے کہا ایک ریکویسٹ ہے کہ میرا کالم ملتان میں ضرور شائع کیا کریں تاکہ علاقے میں بھی میری شہرت ہو۔

موصوف کی بات سن کر میں حیران رہ گیا کہ یہ صحافی کیسے بن گیا؟ میں نے جواب دیا کہ حذیفہ صاحب آپ کالم نگار ہیں تو آپ کو اخبار کے طریقہ کار کا علم ہونا چاہئے، پہلی بات تو یہ ہے یہ نیوز روم ہے اور یہاں رات کو صرف نیوز ہی بنتی ہیں، کالم کا شعبہ الگ ہے جسے ایڈیٹوریل کہتے ہیں، یہ ایڈیٹوریل ایڈیٹر کی مرضی ہے کہ وہ کس کا کالم کب اور کہاں شائع کرے، آپ رات دس بجے نیوز روم آئے ہیں تو اس وقت تو ایڈیٹوریل صفحہ چھپ چکا ہے کیونکہ ایڈیٹوریل دن میں بنتا ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ اتنے باخبر صحافی ہیں اور آپ کو اپنے ادارے کے بارے میں ہی معلومات نہیں ہیں کہ ابھی تک روزنامہ دنیا ملتان سے شروع ہی نہیں ہوا تو آپ کا کالم ملتان میں کیسے شائع کیا جاسکتا ہے، میری بات سن کر حذیفہ رحمان نے فوری مجھ ہاتھ ملایا اور نکل گئے۔

کالم نگاری سے پہلے اور بعد میں بھی اور اب تک موصوف شہبازشریف کے منظور نظر ہیں اور کم عمری میں ہی اتنے بڑے عہدے پر پہنچ گئے، 14-15 سال کی محنت اور تجربہ کاری کے بعد وہ فرماتے ہیں کہ وہ تو مزدوروں کے ساتھ بھی بیٹھ کر روٹی کھا لیتے ہیں، بالکل درست کہا وہ ایسے کرسکتے ہیں کیونکہ موصوف نے جن کو اپنا گرو بنایا ہے وہ شوبازی میں پاکستان کی سیاست میں اپنا ثانی نہیں رکھتے، ان کے گرو وزیراعلی تھے اور پہلوان کو چت کردیتے تھے، کراچی کے ایک ہوٹل میں گلوکار سے مائیک لیکر خود گانا شروع کردیتے تھے، لمبے بوٹ پہن کو وہ بارش کے پانی میں بھی کود جاتے تھے اب ان کا شاگرد مزدوروں کیساتھ بیٹھ کر روٹی کھا لیتا ہے تو کوئی نئی بات نہیں، یہ بھی استاد کی سکھائی ہو شوبازی ہی ہے۔

حذیفہ رحمان کی مزدوروں کیساتھ کھانا کھانے کی بات بھی ہضم نہیں ہورہی کیونکہ ایک سینئر صحافی نے ٹویٹ کی تھی کہ موصوف کچھ بھی نہیں تو پھر وہ کس حیثیت سے ڈی جی خان جاتے ہوئے پولیس کا پروٹوکول لے رہے ہیں، اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ شہبازشریف وزیراعلی تھے اور انہوں نے بچے کی دلی خواہش پوری کردی، پروٹوکول کا تب اتنا شوق تھا تو اب تو ماشاءاللہ عہدہ بہت بڑا ملا ہے تو کیسے ممکن ہے کہ وہ مزدوروں کیساتھ بیٹھ کر کھانا کھا لیں۔

موصوف مجھے یہ بھی بتا دیں کہ 14روپے کی روٹی کہاں سے ملتی ہے، پنجاب میں مسلم لیگ ن والوں کی ماں کی حکومت ہے اور روٹی کی قیمت 17روپے ہے جبکہ اکثر مقامات پر 20روپے کی ملتی ہے، ان کو 14روپے کی روٹی کیسے مل گئی، اگر وہ یہ راز فاش کردیں تو شاید مجھ سمیت کئی غریبوں کا بھلا ہو جائے، ٹی وی پر بیٹھ پر عوام کو گمراہ کرنا حکومتی عہدیداروں کو زیب نہیں دیتا، اس جدید دور میں عوام نہ اب اندھے رہے ہیں اور نہ ہی بولے۔۔

پنجاب میں آٹے کا بحران شروع ہوچکا ہے، تندور ایسوسی ایشن نے نان کی قیمت 30روپے سے بڑھا کر 40روپے اور روٹی کی قیمت 20روپے کرنے کا اعلان کردیا ہے تو اب وزیرمملکت بتائیں گے کہ 14روپے کی روٹی کہاں سے ملے گی، لاہور میں کسی تھڑے کے ہوٹل پر بھی چلے جائیں تو دال کی ہاف پلیٹ 150روپے کی ملتی ہے، موصوف کا سو روپے کی ہاف پلیٹ کس نے دیدی، یہ بھی تو بتائیں۔

مسلم لیگ ن کے شریف حکمرانوں نے 5سالوں میں عوام کی زندگی اجیرن تو معمولی لفظ ہے جہنم بنا کر رکھ دی ہے، عوام حکمرانوں سے تنگ آچکے ہیں مگر ان کے ارکان اسمبلی کہتے ہیں اگر ہم پٹرول سو روپے لٹر بھی مہنگا کردیتے تو عوام نے کیا کرلینا تھا، وزیرمملکت کہتا ہے کہ 128روپے کی دال روٹی کھالی یعنی عوام پھدو ہیں جو کم پیسوں سے گزارا نہیں کرتے، مسلم لیگ ن کبھی اتنی ظالم نہیں تھی جتنی ان پانچ برسوں میں ہوئی ہے، مجھے ابراہیم مغل جو زراعت سے وابستہ رہنما ہیں کا وہ فقرہ کانوں میں گونجتا رہتا ہے جو انہوں نے 2013کے الیکشن کے موقع پر ایک ٹی وی شو میں کہا تھا۔۔

دساں دی دال
پنچا دی روٹی

شیر کھائے گا
قوم دی بوٹی بوٹی

اس وقت تو یہ نہیں ہوسکا مگر اب لگتا ہے شیر نے اپنے پنجے عوام کی گردنوں میں گاڑ دیئے ہیں اور دانت بھی تیز کرلئے ہیں تاکہ وہ قوم کی بوٹی بوٹی سکون سے پانچ سال بیٹھ کر کھائے کیونکہ شیر اب خونخوار ہوچکا ہے۔

Check Also

Faisla Karna Seekhein

By Sarfraz Saeed Khan