Kitab Tehzebon Ki Maa: The Prince Aur Arthashastra Ka Taqabli Tajzia (3)
کتاب تہذیبوں کی ماں: "دی پرنس" اور"ارتھ شاستر" کا تقابلی تجزیہ (3)

انسانی فطرت ایک ایسی چیز ہے جو صدیوں میں بدلتی نہیں، صرف اس کا اظہار مختلف انداز میں سامنے آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے دو مختلف خطوں سے تعلق رکھنے والے دو مفکرین، چانکیہ (عرف کوٹیلیہ) اور نکولو میکاولی، ایک دوسرے سے پندرہ سو سال سے زائد کے فرق کے باوجود، حکمرانی، طاقت، جنگ اور سیاست کے بارے میں تقریباً ایک جیسا نظریہ رکھتے ہیں۔ ایک نے قدیم ہندوستان کے موریہ سلطنت کے قیام میں فکری بنیاد فراہم کی، دوسرے نے نشاۃ ثانیہ کے اٹلی کو سیاسی خود فہمی دی۔ چانکیہ کی ارتھ شاستر اور میکاولی کی دی پرنس دو مختلف تہذیبوں کا عکس ہیں، مگر ان میں اقتدار کے فلسفے کی وہ مماثلتیں پائی جاتی ہیں جو کسی حد تک حیرت انگیز بھی ہیں اور چشم کشا بھی۔
ارتھ شاستر کا بنیادی مقصد ایک مثالی ریاست کی تعمیر اور حفاظت ہے۔ چانکیہ بادشاہ کو ایک "راجہ رشی" کا درجہ دیتا ہے، یعنی ایسا حکمران جو دانشور بھی ہو، عملی بھی اور روحانی فہم بھی رکھتا ہو۔ لیکن یہ مثالی صورت صرف اخلاقی وعظ پر نہیں، بلکہ خالص عملیت پسندی، سازشی ذہانت، مالیاتی چابک دستی، خفیہ ایجنسیوں کی مہارت اور دشمنوں کی چالوں کو سمجھنے پر مبنی ہے۔ اسی طرح دی پرنس میں میکاولی بھی ایک ایسے شہزادے کی بات کرتا ہے جو رحم، صداقت، دیانت، یا فیاضی جیسے اوصاف سے زیادہ اپنے اقتدار کو محفوظ رکھنے کی اہلیت سے جانا جاتا ہے۔ میکاولی کے نزدیک نیکی وہی ہے جو اقتدار بچا لے اور بدی وہ جو اقتدار چھین لے اور یہ نکتہ چانکیہ کے عملی سیاسی اصولوں سے بھی میل کھاتا ہے۔
دونوں مفکر اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں کہ انسان کی فطرت بنیادی طور پر خودغرض، خوفزدہ، مفاد پرست اور جلد فریب کھانے والی ہے۔ اسی لیے دونوں کا مشورہ ہے کہ حکمران کو ان انسانی کمزوریوں سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ چانکیہ کہتا ہے کہ "رعایا کو یوں قابو میں رکھو جیسے مچھلی پانی میں قابو میں رکھی جاتی ہے" یعنی احتیاط اور مہارت کے ساتھ۔ میکاولی کہتا ہے کہ عوام کو خوش رکھو، مگر ضرورت پڑنے پر ان کی پسند کی پروا نہ کرو۔ دونوں مشورہ دیتے ہیں کہ حکمران کو اچھا بننے کا دکھاوا کرنا چاہیے، لیکن اندر سے موقع پرست ہونا چاہیے۔ میکاولی کا مشورہ ہے کہ اگر تم نیک ہو، مگر تمہارا پڑوسی بد، تو تم تباہ ہو جاؤ گے، اس لیے تمہیں اس کی زبان سمجھنی پڑے گی۔ چانکیہ کہتا ہے کہ اگر دشمن دھوکہ دے تو تمہیں اس سے دو قدم آگے رہنا چاہیے، نہ صرف جنگ میں بلکہ سفارت میں بھی۔
دی پرنس اور ارتھ شاستر دونوں جنگ کو ناگزیر حقیقت کے طور پر دیکھتے ہیں۔ میکاولی کہتا ہے کہ ایک شہزادہ ہمیشہ جنگ کے فن میں مہارت رکھے اور امن کے زمانے میں بھی جنگ کے لیے تیار رہے۔ چانکیہ دند نیتی یعنی طاقت کی پالیسی پر زور دیتا ہے اور چار طریقوں، سام، دام، دنڈ، بھید، یعنی مصلحت، رشوت، سزا اور راز داری کو دشمنوں سے نمٹنے کے بنیادی ہتھیار سمجھتا ہے۔ ان چاروں اصولوں میں سے اگر کوئی بھی کارآمد ہو سکتا ہو تو بادشاہ کو ہچکچانا نہیں چاہیے۔ میکاولی کی سوچ بھی کچھ مختلف نہیں، اگر دھوکہ دینا کامیاب حکمتِ عملی ہو تو سچ بولنے کی کوئی اخلاقی اہمیت باقی نہیں رہتی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں ہی کتابیں مذہب کو ایک اسٹریٹجک ہتھیار سمجھتی ہیں، نہ کہ کوئی روحانی مشن۔ چانکیہ مذہب کا احترام ضرور کرتا ہے، مگر اسے ریاستی نظم و نسق اور عوامی اطمینان کا ایک ذریعہ سمجھتا ہے۔ وہ مذہب کو حکمرانی کے حق میں استعمال کرنے کی تلقین کرتا ہے۔ میکاولی بھی یہی کہتا ہے کہ شہزادہ ایسا ظاہر کرے جیسے وہ دیندار ہے، خواہ وہ اندر سے نہ ہو، کیونکہ عوام دینداری سے متاثر ہوتے ہیں۔ دونوں ہی دانشور مذہب کو روحانی نجات سے زیادہ سیاسی استحکام کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔
ارتھ شاستر اپنے دائرے میں بہت وسیع ہے، یہ نہ صرف حکمرانی بلکہ معیشت، تعلیم، جاسوسی، اخلاقیات، زراعت، فوج، عدلیہ اور حتیٰ کہ جنس و شادی جیسے معاملات پر بھی ہدایات دیتی ہے۔ یہ مکمل ریاستی سائنس ہے۔ دوسری طرف دی پرنس نسبتاً مختصر اور خاص طور پر اقتدار کے حصول و بقا پر مرکوز ہے۔ وہ نہ مالیاتی پالیسی پر گفتگو کرتا ہے، نہ سماجی ڈھانچے پر، بلکہ ایک ہی نکتہ پر زور دیتا ہے: "طاقت حاصل کرو اور اسے قائم رکھو"۔ گویا وہ ایک عملی سیاسی نسخہ ہے جو اقتدار کے ہنر سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے لکھا گیا ہے، جبکہ ارتھ شاستر حکمرانی کے تمام شعبوں کا انسائیکلوپیڈیا ہے۔
اگرچہ دونوں کتابیں طاقت کو اہم ترین تصور کرتی ہیں، لیکن طاقت کی نوعیت کو دونوں تھوڑا مختلف دیکھتے ہیں۔ چانکیہ کے نزدیک طاقت ایک وسیع تر ریاستی نظام کے تحت ہے، جو نیک حکمرانی، اخلاقی نظم اور عوامی فلاح سے مشروط ہے۔ اس کی طاقت عقل، نظم اور خفیہ نظام سے آتی ہے۔ میکاولی کے نزدیک طاقت کی بنیاد عوام کی رائے نہیں، بلکہ خوف اور دھوکے کی ذہانت ہے۔ وہ ایک فرد، شہزادے، پر توجہ مرکوز رکھتا ہے، جو تنہا پورے اقتدار کا محور ہے۔
ایک اور قابلِ غور فرق یہ ہے کہ چانکیہ کے نزدیک حکمرانی ایک دینی و اخلاقی ذمہ داری بھی ہے۔ وہ بار بار حکمران کو تنبیہ کرتا ہے کہ رعایا کے مفاد کے خلاف کوئی اقدام نہ کرے، ورنہ ریاست بکھر جائے گی۔ وہ بادشاہ کو روزانہ خود احتسابی کا مشورہ دیتا ہے اور اس پر زور دیتا ہے کہ وہ اپنی کمزوریوں پر قابو پائے۔ میکاولی کا اس طرف کوئی خاص زور نہیں، وہ شہزادے سے صرف ایک ہی تقاضا کرتا ہے: ریاست بچاؤ، خواہ جیسے بھی بچانی پڑے۔
تاہم، دونوں مفکرین میں جو چیز سب سے زیادہ مشترک ہے وہ حقیقت پسندی ہے۔ دونوں یوٹوپیائی نظریات سے گریز کرتے ہیں۔ وہ دنیا کو جیسا ہے، ویسا مانتے ہیں، نہ جیسا ہونا چاہیے۔ ان کے نزدیک کامیابی، اخلاص سے زیادہ چالاکی پر منحصر ہے۔ ان کی کتابیں تلخ سچ بولتی ہیں، جسے سننے کے لیے دل بھی وسیع چاہیے اور آنکھیں بھی کھلی۔ اس حقیقت پسندی نے انہیں تنقید کا نشانہ بھی بنایا، مگر یہی چیز انہیں ناقابلِ فراموش بھی بناتی ہے۔
اگر آج کا قاری ان دونوں کتابوں کو ایک ساتھ پڑھے تو وہ یہ پائے گا کہ دنیا کے مشرق و مغرب میں طاقت کا کھیل ہمیشہ سے ایک ہی اصول پر چلتا رہا ہے: عقل، فریب، منصوبہ بندی اور بے رحمانہ حقیقت پسندی۔ فرق صرف اسلوب، زبان اور تہذیبی سیاق کا ہے۔ چانکیہ سنسکرت میں لکھتا ہے، میکاولی اطالوی میں، چانکیہ "مہاراج" سے بات کرتا ہے، میکاولی "پرنس" سے، مگر دونوں کی گفتگو کا مرکزی نکتہ ایک ہی ہے: "طاقت ہی حکمرانی کی اصل روح ہے اور حکمران کو وہ سب سیکھنا چاہیے جو اسے محفوظ رکھے، چاہے وہ اخلاقی ہو یا غیر اخلاقی"۔

