Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Asif Masood
  4. Kitab Tehzebon Ki Maa: Novel Maa Aik Kitab, Aik Ehad, Aik Inqilab (18)

Kitab Tehzebon Ki Maa: Novel Maa Aik Kitab, Aik Ehad, Aik Inqilab (18)

کتاب تہذیبوں کی ماں: ناول "ماں" ایک کتاب، ایک عہد، ایک انقلاب (18)

ادب کبھی محض الفاظ کا مجموعہ نہیں ہوتا، وہ اپنے عہد کی روح، اس کے تضادات، اس کے خواب اور اس کے زخم اپنے اندر سموئے ہوتا ہے۔ روسی ادیب میکسم گورکی کا شہرۂ آفاق ناول "ماں" اسی نوع کی ایک تخلیق ہے، جو محض ایک کہانی نہیں بلکہ ایک پورے عہد کی دھڑکن ہے۔ یہ ناول اس زمانے میں لکھا گیا جب روس میں انقلابی ہلچل اپنے عروج کی طرف بڑھ رہی تھی، جب ظلم اور استحصال کے خلاف آوازیں دبائی بھی جا رہی تھیں اور ابھر بھی رہی تھیں۔ گورکی نے اس ناول میں ایک عام عورت کی کہانی کے ذریعے اس غیرمعمولی عہد کی تصویر کشی کی، مگر اس تصویر میں جو سچائی تھی، وہ اُس وقت کی ریاستی سنسرشپ کے لیے ناقابلِ برداشت تھی۔ یہی وجہ تھی کہ "ماں" جیسا شاہکار اپنے ہی وطن میں شائع ہونے کی اجازت نہ پا سکا اور اسے اپنی پہلی سانسیں کسی اور سرزمین پر لینا پڑیں۔

سن 1907ء میں اس ناول کی پہلی مکمل اشاعت انگریزی ترجمے کی صورت میں امریکا میں ہوئی، جو اپنے آپ میں ایک دلچسپ اور معنی خیز واقعہ ہے۔ نیویارک کے جریدے "ایپلٹن میگزین" میں اسے قسط وار شائع کیا گیا اور پھر "ڈی ایپلٹن اینڈ کمپنی" نے اسے کتابی شکل دی۔ اس ترجمے کا سہرا ایزابل ایف ہیپگڈ کے سر جاتا ہے، جنہوں نے روسی ادب کو مغربی دنیا تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس ایڈیشن کے پیش لفظ میں چارلس ایڈورڈ رسل نے نہ صرف ناول کی اہمیت کو اجاگر کیا بلکہ اس کے پس منظر میں کارفرما انقلابی جذبات کی بھی وضاحت کی۔ یوں "ماں" نے اپنی پہلی باقاعدہ پہچان ایک ایسے معاشرے میں حاصل کی جو خود بھی صنعتی اور سماجی تبدیلیوں کے دور سے گزر رہا تھا اور جہاں اس کہانی کی بازگشت کو سمجھنے والے موجود تھے۔

اسی برس 1907ء میں ناول کا مکمل روسی متن پہلی بار برلن سے شائع ہوا، جو اس بات کی علامت ہے کہ ادب کی سرحدیں سیاسی پابندیوں سے کہیں وسیع ہوتی ہیں۔ یہ اشاعت روسی مہاجر پبلشر کے ذریعے ممکن ہوئی، کیونکہ خود روس میں اس کی اشاعت پر پابندی تھی۔ یہ ایک عجیب مگر حقیقت پسندانہ منظرنامہ تھا کہ ایک روسی ادیب کی روسی زبان میں لکھی گئی کتاب اپنے ہی ملک میں ممنوع تھی اور اسے اپنے قارئین تک پہنچنے کے لیے جلاوطنی کا راستہ اختیار کرنا پڑا۔ بالآخر 1917ء کے انقلاب کے بعد، جب روس کی سیاسی فضا میں بنیادی تبدیلی آئی، تب جا کر "ماں" کو اپنے وطن میں شائع ہونے کی اجازت ملی۔ یوں یہ ناول نہ صرف انقلاب سے پہلے کی فضا کا عکاس تھا بلکہ خود بھی اس انقلابی سفر کا حصہ بن گیا۔

وقت کے ساتھ ساتھ "ماں" نے مختلف زبانوں اور ثقافتوں میں اپنا سفر جاری رکھا اور 1956ء میں یہ اردو زبان میں ایک نئے روپ کے ساتھ سامنے آیا۔ اس ترجمے کا اعزاز سیّد محمد مہدی کو حاصل ہے، جنہوں نے براہِ راست روسی زبان سے اس ناول کو اردو کے قالب میں ڈھالا۔ یہ ترجمہ ماسکو سے شائع ہوا اور اس میں "کوکرینکسی" کے نام سے معروف مصوروں کی تخلیق کردہ تصاویر شامل تھیں۔ "کوکرینکسی" دراصل تین فنکاروں، مخائل کوپریانوڤ، پورفیری کریلوف اور نکولائی سوکولوف، کا مشترکہ قلمی نام تھا، جو ایک ہی دستخط کے ساتھ اپنی فنکارانہ شناخت قائم کیے ہوئے تھے۔ ان تصاویر نے ناول کی فضا کو مزید گہرا اور مؤثر بنا دیا اور قاری کو نہ صرف الفاظ بلکہ بصری انداز میں بھی اس کہانی کا حصہ بنا دیا۔

بعد ازاں 1987ء میں اس ناول کا ایک نظرِ ثانی شدہ ایڈیشن ماسکو کے "رادوگا اشاعت گھر" سے شائع ہوا، جس میں ایک "پس لفظ" کا اضافہ بھی کیا گیا۔ یہ ایڈیشن اس بات کا ثبوت تھا کہ "ماں" جیسی تخلیق وقت کے ساتھ پرانی نہیں ہوتی بلکہ ہر دور میں نئے معنی پیدا کرتی ہے۔ پھر 2022ء میں پاکستان کے شہر جہلم سے "بک کارنر" نے اسے "ورلڈ وائیڈ کلاسکس" سیریز کے تحت شائع کیا، جہاں اسے نہایت خوبصورتی سے پیش کیا گیا، تصاویر، تعارف اور جدید اشاعتی معیار کے ساتھ۔ یوں ایک صدی سے زائد عرصے پر محیط یہ سفر اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ سچا ادب نہ صرف زندہ رہتا ہے بلکہ ہر دور میں خود کو نئے قارئین کے لیے معنی خیز بناتا رہتا ہے۔

"ماں" دراصل ایک عورت کی کہانی ہے، مگر یہ عورت صرف ایک کردار نہیں بلکہ ایک علامت ہے، بیداری کی، مزاحمت کی اور اس شعور کی جو ظلم کے اندھیروں میں روشنی کی تلاش کرتا ہے۔ میکسم گورکی نے اس کردار کے ذریعے یہ دکھایا کہ انقلاب صرف میدانوں میں نہیں، دلوں میں بھی برپا ہوتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ یہ ناول سنسرشپ کی دیواریں توڑ کر مختلف زبانوں اور ملکوں میں پہنچا اور آج بھی پڑھا جاتا ہے۔ یہ محض ایک کتاب نہیں، ایک مسلسل جاری مکالمہ ہے، انصاف، شعور اور انسانیت کے حق میں۔

Check Also

Umeed Ki Khamosh Tehreek

By Aftab Alam