Kitab Tehzebon Ki Maa: Aflatoon Ki Jamhuria (4)
کتاب تہذیبوں کی ماں: افلاطون کی "جمہوریہ" (4)

انسانی فطرت اور مثالی ریاست کا خواب، افلاطون کے تصور میں ایک ہی تصویر کے دو رُخ تھے۔ وہ سیاست کو صرف طاقت کی جنگ نہیں، بلکہ ایک اعلیٰ اخلاقی و عقلی تربیت کا نتیجہ سمجھتا تھا۔ جس وقت چانکیہ ہندوستان میں حکمرانی کی عملی حکمتِ عملی ترتیب دے رہا تھا اور جب میکاولی صدیوں بعد اٹلی میں اقتدار کا فلسفہ رقم کر رہا تھا، اُس سے بھی پہلے افلاطون نے یونان میں ایک ایسی ریاست کا خواب دیکھا جو عقل، انصاف اور اخلاقی برتری پر قائم ہو۔ "دی ریپبلک" صرف ایک فلسفی کی تحریر نہیں، بلکہ وہ آئینہ ہے جس میں صدیوں کے سیاسی فلسفے نے خود کو پہچانا ہے اور آج بھی جدید جمہوریتیں، آمریتیں اور ادارے اس کی روشنی میں خود کو ناپتے ہیں، چاہے انہیں اس کا شعور ہو یا نہ ہو۔
افلاطون کی "ریاست" درحقیقت مکالمات کی شکل میں ایک فکری بحث ہے، جس میں سقراط مرکزی کردار کی صورت سوالات اٹھاتا ہے اور دوسرے کرداروں کے ذریعے افلاطون اپنے خیالات کو آہستہ آہستہ قاری کے سامنے کھولتا ہے۔ یہ کتاب ایک سوال سے شروع ہوتی ہے: انصاف کیا ہے؟ اور پھر یہ سوال ریاست، فرد، تعلیم، آرٹ، اخلاق اور روح تک پھیلتا چلا جاتا ہے۔ اس کی خوبی یہی ہے کہ یہ سوالات کا ایک ایسا سفر ہے جو ہر قدم پر قاری کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔ وہ سوچ جو آسان نہیں، مگر گہری، خاموش اور بعض اوقات بےرحمانہ بھی ہے۔
افلاطون کے نزدیک ایک ریاست کی کامیابی اس پر نہیں کہ وہاں کتنی دولت ہے یا کتنی فوج، بلکہ اس پر ہے کہ وہاں کس قسم کے انسان بستے ہیں اور وہ کتنی عقل، تربیت اور انصاف کے اصولوں پر عمل کرتے ہیں۔ وہ کہتا ہے کہ اگر ہر فرد وہی کام کرے جس کے لیے وہ قدرتی طور پر موزوں ہے اور دوسرے کے کام میں دخل نہ دے، تو یہی اصل انصاف ہے۔ گویا ریاست کی فلاح کا راز فرد کی فطرت کو پہچاننے اور اسی فطرت کے مطابق اس سے کام لینے میں ہے۔ افلاطون کے نزدیک فطرت اور تربیت ایک ہی سکے کے دو رُخ ہیں اور ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ افراد کو اس قابل بنائے کہ وہ اپنی فطری صلاحیت کو مکمل طور پر بروئے کار لا سکیں۔
افلاطون ریاست کو تین طبقات میں تقسیم کرتا ہے: حکمران، محافظ اور کاریگر۔ حکمران وہ ہوتے ہیں جن میں فہم، عقل اور طویل مدتی سوچنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ محافظ وہ ہیں جو ریاست کے دفاع اور نظم و ضبط کے نگہبان ہوتے ہیں، ان میں جذبہ، ہمت اور فرمانبرداری ہوتی ہے۔ کاریگر، جن میں کسان، تاجر، مزدور، فنکار وغیرہ شامل ہیں، ریاست کی بنیادی اقتصادی بنیاد کو سنبھالتے ہیں۔ ہر طبقہ اگر اپنی حد میں رہے، دوسروں کے دائرے میں نہ مداخلت کرے اور اپنے فرائض انجام دے، تو افلاطون کے نزدیک یہ انصاف کی مثالی صورت بن جاتی ہے۔
حیرت انگیز بات یہ ہے کہ افلاطون کے اس ماڈل میں جمہوریت یا عوامی رائے کی وہ بالادستی نظر نہیں آتی جو آج کی دنیا میں مقدس تصور کی جاتی ہے۔ بلکہ وہ جمہوریت کو خطرناک سمجھتا ہے، کیونکہ اس میں اکثر جاہل اور غیر تربیت یافتہ افراد کو فیصلہ کرنے کا اختیار مل جاتا ہے، جو آخرکار کسی غیر فہمی یا جذباتی لہر کا شکار ہو کر ریاست کو برباد کر سکتے ہیں۔ افلاطون کی ریاست میں اقتدار کا مستحق صرف وہی ہے جو تعلیم، عقل، فہم اور قربانی کی کڑی تربیت سے گزر چکا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ وہ حکمران کے لیے فلسفی ہونا ضروری قرار دیتا ہے، وہ مشہور جملہ "جب تک دنیا کے فلسفی بادشاہ نہ بنیں، یا بادشاہ فلسفی نہ ہوں، اس وقت تک فلاح ممکن نہیں"، اسی کتاب کا خلاصہ ہے۔
افلاطون کی نظریاتی ریاست میں تعلیم کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ وہ تعلیم کو صرف معلومات کی منتقلی نہیں بلکہ روح کی تربیت سمجھتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ بچوں کو ابتدا ہی سے موسیقی، ریاضی، جسمانی تربیت اور فلسفے میں مہارت دی جائے تاکہ ان کی روح سچ، خیر اور خوبصورتی کی پہچان حاصل کرے۔ اس کی تعلیم انسان کو محض ہنر مند نہیں بناتی، بلکہ باکردار، بافہم اور متوازن شخصیت بناتی ہے۔ ریاست کی کامیابی اسی شعوری تعلیم سے جڑی ہے۔
اس کتاب کا ایک اور پہلو، جو اسے تمام دیگر سیاسی دستاویزات سے ممتاز کرتا ہے، وہ یہ ہے کہ یہ روحانی اور اخلاقی سطح پر سیاست کو دیکھتی ہے۔ افلاطون کے نزدیک ایک فاسد انسان کبھی اچھا حکمران نہیں بن سکتا، کیونکہ وہ انصاف، رحم اور حقیقت سے بے بہرہ ہوتا ہے۔ لہٰذا حکمرانی صرف ایک صلاحیت نہیں، بلکہ ایک روحانی آزمائش بھی ہے۔ وہ حکمران جو ذاتی لالچ، جذباتی ردعمل، یا غیر تربیت یافتہ فیصلوں سے ریاست کو چلاتا ہے، افلاطون کے خیال میں وہ نہ صرف اپنی ذات کو، بلکہ پوری قوم کو گمراہی کی طرف لے جاتا ہے۔
لیکن "ریاست" پر تنقید بھی کم نہیں ہوئی۔ اس کی طبقاتی تقسیم کو بعض نے ظلم قرار دیا، اس کے خیالات کو غیر جمہوری سمجھا گیا اور اس کے خواب کو غیر عملی قرار دیا گیا۔ بعض ناقدین کہتے ہیں کہ افلاطون ایک ایسی مثالی دنیا کی بات کرتا ہے جو انسان کی حقیقت سے بہت دور ہے، جہاں ہر فرد کو ایک مخصوص دائرے میں محدود کر دیا جاتا ہے اور آزادیِ فکر، انتخاب اور اظہار پر قدغن لگائی جاتی ہے۔ وہ تو یہاں تک کہتا ہے کہ فنکاروں اور شاعروں کو ریاست سے نکال دینا چاہیے کیونکہ وہ حقیقت کے بجائے محض جذبات اور سراب بیچتے ہیں۔ یہ بات آج کے دور میں ناقابلِ قبول لگتی ہے، لیکن اُس زمانے میں یہ حقیقت کے قریب تھی۔
اگر چانکیہ نے حکمران کو عملی تدبیروں کا ماہر بنانے کی کوشش کی، اگر میکاولی نے اسے فریب اور چالاکی سکھائی، تو افلاطون نے اسے خود اپنے نفس پر حکمرانی کی دعوت دی۔ اگر ارتھ شاستر اور دی پرنس نے دشمن کو شکست دینا سکھایا، تو ریپبلک نے انسان کو خود سے جیتنے کا راستہ دکھایا۔ یہی وہ بنیادی فرق ہے جو مغربی سیاسی فکر میں افلاطون کو ارسطو سے بھی مختلف بناتا ہے اور مشرقی سیاسی دانش سے بھی ممتاز۔ وہ اقتدار کو آخری مقصد نہیں سمجھتا، بلکہ صرف ایک ذریعہ، تاکہ انسان کو اس کے حقیقی خیر تک پہنچایا جا سکے۔
افلاطون کی ریاست مذہب پر نہیں بلکہ عقل، تربیت اور انصاف پر استوار ہے۔ وہ فرد کے بجائے "روح" کو مرکز بناتا ہے۔ وہ طاقت کو نہیں بلکہ علم کو حکمرانی کا معیار مانتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگرچہ اس کی ریاست کبھی حقیقت میں کہیں قائم نہ ہوئی، مگر اس کا اثر آج تک قائم ہے۔ جدید سیاسی فلسفہ، عدالتی نظام، تعلیم کا نظریہ اور اخلاقیات کی بحث، سب افلاطون کی فکری رہنمائی سے متاثر ہیں۔ گویا اس نے نہ صرف ایک کتاب لکھی بلکہ ایک فکری چراغ روشن کیا جو ہزاروں سال سے جل رہا ہے۔
یونانی فلسفے سے لے کر اسلامی فکر، یورپی نشاۃ ثانیہ سے لے کر جدید ریاستی علوم تک، جہاں کہیں بھی "اچھے انسان" کی تلاش ہے، وہاں افلاطون کی گونج سنائی دیتی ہے۔ آج کے حکمران، ادارے اور دانشور اگر اس کی تحریر کو صرف پڑھیں نہیں بلکہ اس میں جھانکیں، تو شاید انہیں اقتدار کے پیچھے چھپے فرض، اخلاق اور خود احتسابی کا اصل مفہوم سمجھ آ جائے۔

