Arastu Aur Iski Siasat (5)
ارسطو اور اس کی "سیاست" (5)

اگر افلاطون فلسفے کی دنیا کا خواب دیکھنے والا شہزادہ تھا، تو ارسطو اس خواب کا زمینی تجزیہ کرنے والا حقیقت پسند دانشور تھا۔ افلاطون آسمان میں ستاروں کی روشنی ڈھونڈتا تھا، مگر ارسطو زمین پر لوگوں کی فطرت، ان کے رویوں، ان کی معیشت اور ان کے سیاسی نظام کا مشاہدہ کرتا تھا۔ اگر افلاطون نے مثالی ریاست کا نقشہ تخیل سے بنایا تو ارسطو نے حقیقی ریاستوں کا مشاہدہ کرکے ان کے اصول اخذ کیے۔ یہی وجہ ہے کہ ارسطو کی کتاب "Politics" محض خیالی ریاست کا خاکہ نہیں بلکہ سینکڑوں ریاستوں کے مشاہدے، تقابل اور تجزیے پر مبنی وہ سیاسی دستاویز ہے جسے جدید علومِ سیاست کی بنیاد کہا جا سکتا ہے۔
ارسطو کے نزدیک انسان ایک "معاشرتی حیوان" ہے، یعنی وہ فطرتاً سماج میں جینے کے لیے پیدا ہوا ہے۔ تنہا زندگی، ارسطو کے نزدیک یا تو کسی درندے کی ہے یا دیوتا کی، انسان کی نہیں اور چونکہ انسان سماج میں رہتا ہے، لہٰذا وہ نظم، قانون اور حکومت کا تقاضا کرتا ہے۔ یوں سیاست ارسطو کے ہاں انسانی فطرت کا ایک فطری اور لازمی ارتقا ہے۔ وہ اسے انسان کی اخلاقی تکمیل کا ذریعہ بھی سمجھتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ بہترین زندگی وہی ہے جو ریاست کے دائرے میں ہو اور بہترین ریاست وہی ہے جو اپنے شہریوں کو اخلاقی اور ذہنی تکمیل کی طرف لے جائے۔
ارسطو ریاست کو صرف طاقت یا حکم کا ڈھانچہ نہیں سمجھتا، بلکہ وہ ایک اخلاقی تنظیم ہے جو خیرِ عامہ کے لیے وجود میں آتی ہے۔ وہ کہتا ہے کہ خاندان انسان کی ابتدائی اکائی ہے، پھر کئی خاندان مل کر ایک گاؤں بناتے ہیں اور پھر گاؤں مل کر شہر یا ریاست بناتے ہیں۔ گویا ریاست، فطرت کا ایک درجہ بہ درجہ سفر ہے، جو خاندان سے شروع ہوتا ہے اور شہری اخلاقیات تک پہنچتا ہے۔ اس نے پہلی بار معاشی، سماجی اور سیاسی طبقات کا عملی مشاہدہ کیا اور یہ تسلیم کیا کہ انسان مختلف رجحانات، ضروریات اور طبقات میں تقسیم ہوتے ہیں۔ یہی تقسیم جب نظم و ضبط اور انصاف کے ساتھ منظم ہو، تو ایک کامیاب ریاست تشکیل پاتی ہے۔
ارسطو کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ اس نے مثالی ریاست پر زور دینے کے بجائے مختلف ریاستی نظاموں کا تقابل کیا۔ اس نے تین بنیادی طرزِ حکومتوں کو پہچانا: بادشاہت، اشرافیہ اور جمہوریت۔ پھر ان کی بگڑی ہوئی صورتیں بھی واضح کیں: بادشاہت جب مطلق العنان ہو جائے تو ظلم میں بدل جاتی ہے، اشرافیہ جب صرف اپنے مفاد کا سوچے تو "اولیگارکی" بن جاتی ہے اور جمہوریت جب ہجوم کے جذبات کے تابع ہو جائے تو ہجومیت بن جاتی ہے، جسے آج ہم پوپولزم کہتے ہیں۔ ارسطو نے متوازن ریاست کی حمایت کی، جہاں مختلف طبقات کو نمائندگی حاصل ہو، قانون بالادست ہو اور درمیانہ طبقہ غالب ہو۔ وہ کہتا ہے کہ سب سے مستحکم حکومت وہی ہوتی ہے جہاں درمیانہ طبقہ طاقت میں ہو، کیونکہ وہ نہ تو زیادہ طاقتور ہوتا ہے کہ ظلم کرے، نہ ہی اتنا کمزور کہ اپنے حقوق سے دستبردار ہو جائے۔
ارسطو نے ریاست کو ایک اخلاقی استاد بھی سمجھا۔ اس کے نزدیک ریاست کا مقصد صرف تحفظ یا انصاف فراہم کرنا نہیں بلکہ شہریوں کو اعلیٰ زندگی گزارنے کے قابل بنانا ہے۔ وہ تعلیم کو ریاست کی اہم ترین ذمہ داری سمجھتا ہے اور کہتا ہے کہ تعلیم صرف بچوں کو روزگار کے لائق بنانا نہیں، بلکہ انہیں اچھا انسان بنانا ہے۔ اگر ریاست اپنے شہریوں کو محض قانون کے تابع بناتی ہے، مگر ان کی اخلاقی تربیت نہیں کرتی، تو وہ ایک کمزور ریاست ہے۔ ارسطو کا فلسفہ آج کے تعلیمی نظاموں کے لیے ایک زبردست آئینہ ہے، جو اکثر صرف ہنر پر زور دیتے ہیں مگر انسانیت، تہذیب، یا شہری شعور کی تربیت بھول جاتے ہیں۔
ارسطو کے مشاہدات کی ایک حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس نے عورت، غلام اور مختلف طبقات پر کھل کر بحث کی۔ آج اس کی بہت سی باتیں غیر متوازن یا قدامت پسند لگتی ہیں، مگر اپنے زمانے کے لحاظ سے وہ ایک حیران کن فکری آزادی کا مظہر تھے۔ وہ غلامی کو ایک فطری چیز مانتا تھا اور عورت کو مرد کے مقابلے میں کمزور قرار دیتا تھا اور یہی وہ پہلو ہیں جہاں جدید انسانی حقوق کے علمبردار ارسطو پر تنقید کرتے ہیں۔ مگر یہاں یہ بات بھی ذہن میں رکھنی چاہیے کہ ارسطو نے جو کچھ کہا، وہ اپنے دور کی ریاستوں، معاشروں اور مشاہدات پر مبنی تھا، نہ کہ ایک لازوال الہامی سچائی۔ ارسطو حقیقت سے نظریہ اخذ کرتا ہے، خواب سے نہیں۔
ارسطو نے معاشیات پر بھی بحث کی، وہ کہتا ہے کہ دولت کمانا انسان کی ضرورت ہے، مگر اس کا مقصد صرف ذخیرہ کرنا نہیں، بلکہ اسے ایک اچھی زندگی کے لیے استعمال کرنا ہے۔ اس نے بیوپار، سود اور محنت کی قدر پر بحث کی۔ وہ اعتدال پسندی کا قائل تھا۔ وہ کہتا تھا کہ کوئی چیز اگر اپنی فطری حد سے بڑھ جائے تو فساد بن جاتی ہے۔ یہی اصول اس نے سیاست، معیشت، حتیٰ کہ اخلاقیات پر بھی لاگو کیا۔ گویا اعتدال، توازن اور درمیانی راہ، ارسطو کے ہاں صرف فلسفہ نہیں بلکہ عملی زندگی کا بنیادی اصول ہے۔
افلاطون کی طرح، ارسطو بھی مذہب کی بالادستی کا قائل نہیں، بلکہ وہ عقل، مشاہدے اور تجربے پر یقین رکھتا ہے۔ اگر افلاطون کا فلسفہ "کیا ہونا چاہیے" کے گرد گھومتا ہے، تو ارسطو کا تجزیہ "کیا ہوتا ہے" کے دائرے میں رہتا ہے۔ اس کی سیاست صرف خواص کے لیے نہیں، بلکہ عوام کی ضروریات اور کمزوریوں کو بھی مدنظر رکھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ افلاطون کے خواب کو فلسفہ مانا گیا، مگر ارسطو کے مشاہدے کو سائنس، سیاسی سائنس۔
ارسطو نے استاد کے خواب کو زمین پر اُتار کر دکھایا اور یہی وجہ ہے کہ اسے "پہلا سیاسی سائنسدان" کہا جاتا ہے۔ اگرچہ اس کی کئی باتیں آج متنازع ہو چکی ہیں، مگر اس کی فکر آج بھی زندہ ہے۔ ریاست کا مقصد کیا ہو؟ قانون کا مقام کیا ہو؟ طاقت کو کس طرح متوازن رکھا جائے؟ تعلیم کس کے ہاتھ میں ہو؟ اخلاق اور سیاست کا رشتہ کیا ہو؟ ، یہ سب سوالات ارسطو نے چودہ صدیوں پہلے اٹھائے اور آج بھی یہی سوال ہر سنجیدہ ریاست، دانشور اور معاشرے کے سامنے موجود ہیں۔

