Saturday, 04 April 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Ali Hassan
  4. Hormuz Se Washington Tak Jhatka

Hormuz Se Washington Tak Jhatka

ہرمز سے واشنگٹن تک جھٹکا

بین الاقوامی سیاست کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ طاقت صرف ہتھیاروں، معیشت یا فوجی برتری کا نام نہیں بلکہ دانشمندانہ قیادت، دوراندیش حکمتِ عملی اور متوازن فیصلوں کا مجموعہ ہوتی ہے۔ United States طویل عرصے سے ایک ایسی عالمی طاقت کے طور پر سامنے آیا ہے جس نے نہ صرف عالمی نظام کی تشکیل میں مرکزی کردار ادا کیا بلکہ اپنی کرنسی، عسکری قوت اور سفارتی اثر و رسوخ کے ذریعے دنیا کے بیشتر خطوں پر اثر انداز بھی رہا۔ مگر حالیہ برسوں میں ایسے فیصلے بھی سامنے آئے ہیں جنہوں نے اس طاقت کے تاثر کو کمزور کرنے میں اہم کردار ادا کیا، خاص طور پر مشرقِ وسطیٰ میں Iran اور Israel کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں۔

یہ تنازع محض دو یا تین ممالک کے درمیان ایک روایتی جنگ نہیں بلکہ ایک پیچیدہ جیوپولیٹیکل کشمکش ہے، جس میں مفادات، نظریات، معیشت اور عالمی طاقت کا توازن سب کچھ شامل ہے۔ امریکہ کا اسرائیل کے ساتھ قریبی اتحاد کسی سے پوشیدہ نہیں اور یہی اتحاد اکثر اسے خطے میں ایک فریق کے طور پر پیش کرتا ہے، نہ کہ ایک غیر جانبدار ثالث کے طور پر۔ اس پس منظر میں جب ایران کے ساتھ کشیدگی شدت اختیار کرتی ہے تو امریکہ کا براہِ راست یا بالواسطہ کردار ناگزیر ہو جاتا ہے۔

اس تمام صورتحال میں سب سے زیادہ تنقید جس پہلو پر کی جا رہی ہے، وہ امریکی قیادت کا طرزِ فیصلہ سازی ہے، خصوصاً Donald Trump کے دور میں۔ ایک ایسے وقت میں جب خطہ پہلے ہی عدم استحکام کا شکار تھا، ایران کے خلاف بغیر واضح، قابلِ تصدیق ثبوت کے حملہ ایک ایسا قدم تھا جسے کئی ماہرین نے عجلت پسند اور غیر حکمتِ عملی پر مبنی قرار دیا۔ نہ صرف یہ کہ اس فیصلے سے قبل مکمل ادارہ جاتی مشاورت کا فقدان نظر آیا بلکہ روایتی اتحادیوں کو بھی اعتماد میں لینے کی سنجیدہ کوشش دکھائی نہیں دی۔ یہ طرزِ عمل ایک سپر پاور کے لیے غیر معمولی سمجھا جاتا ہے۔

اس فیصلے کے پس منظر میں ایک مفروضہ بھی کارفرما دکھائی دیتا ہے کہ ایران کی قیادت کو نشانہ بنانے یا کمزور کرنے سے فوری طور پر داخلی انتشار پیدا ہوگا اور ممکنہ طور پر "regime change" کی راہ ہموار ہو جائے گی۔ تاہم یہ اندازہ زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا تھا۔ علی خامینا ای کی قیادت میں قائم نظام محض ایک فرد پر منحصر نہیں بلکہ ایک منظم ریاستی ڈھانچے اور نظریاتی بنیادوں پر قائم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شدید دباؤ اور قیادت کو نقصان پہنچنے کے باوجود ایران نے نہ صرف اپنی مزاحمتی صلاحیت برقرار رکھی بلکہ ایک منظم اور مؤثر ردعمل بھی دیا۔

ایران کی جانب سے ممکنہ طور پر آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی دھمکی یا اقدام عالمی معیشت کے لیے ایک بڑا دھچکہ ثابت ہو سکتا تھا، کیونکہ دنیا کی ایک بڑی مقدار میں تیل اسی راستے سے گزرتا ہے۔ اس صورتحال نے نہ صرف عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافہ کیا بلکہ امریکہ سمیت کئی ممالک کی معیشتوں پر براہِ راست اثر ڈالا۔ مہنگائی میں اضافہ، ایندھن کی قلت اور معاشی دباؤ وہ عوامل ہیں جنہوں نے امریکی عوام کو بھی اس جنگ کے اثرات سے محفوظ نہیں رہنے دیا۔

مزید برآں، اس کشیدگی نے عالمی طاقتوں کے درمیان توازن کو بھی متاثر کیا۔ روس، جو پہلے ہی مغربی پابندیوں کا سامنا کر رہا تھا، اس صورتحال سے فائدہ اٹھانے کی پوزیشن میں آ گیا۔ تیل کی عالمی قلت نے روسی توانائی کی مانگ میں اضافہ کیا، جس سے اسے بہتر قیمتیں حاصل ہوئیں۔ اسی طرح چائنہ کے لیے بھی یہ ایک موقع تھا کہ وہ متبادل مالیاتی نظام کو فروغ دے اور عالمی تجارت میں ڈالر کی اجارہ داری کو چیلنج کرے۔ اگر تیل کی تجارت مستقبل میں دیگر کرنسیوں میں منتقل ہوتی ہے تو یہ امریکی معیشت کے لیے ایک طویل المدتی خطرہ بن سکتا ہے۔

مشرقِ وسطیٰ میں قائم امریکی فوجی اڈے، جو بظاہر سیکیورٹی اور استحکام کے لیے بنائے گئے تھے، اس تنازع میں خود ایک ہدف بن گئے۔ ایران کی جانب سے ان اڈوں پر حملوں یا دباؤ نے یہ ظاہر کیا کہ جنگی میدان میں صرف طاقت کافی نہیں بلکہ تیاری، حکمتِ عملی اور زمینی حقائق کی درست سمجھ بھی ضروری ہے۔ اس تناظر میں یہ سوال اہمیت اختیار کر جاتا ہے کہ کیا امریکہ نے اس ممکنہ ردعمل کا مکمل اندازہ لگایا تھا؟

ان تمام عوامل نے امریکہ کے روایتی اتحادیوں کے ساتھ تعلقات پر بھی اثر ڈالا۔ اٹلی، جرمنی، برطانیہ اور آسٹریلیا جیسے ممالک میں پالیسی ساز حلقوں کی جانب سے امریکی فیصلوں پر تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ یہ صورتحال مغربی اتحاد کے اندر موجود دراڑوں کو نمایاں کرتی ہے اور اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ یکطرفہ فیصلے طویل المدتی شراکت داریوں کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔

ٹرمپ کی مجموعی سفارتی حکمتِ عملی بھی اس تنقید سے محفوظ نہیں رہی۔ ان کے بعض بیانات، جیسے دیگر ممالک کے حوالے سے غیر روایتی یا متنازعہ مؤقف، نے نہ صرف عالمی سطح پر بحث کو جنم دیا بلکہ امریکہ کی سفارتی سنجیدگی پر بھی سوالات اٹھائے۔ اس طرزِ قیادت کو بعض حلقے "غیر متوازن" اور "ادارہ جاتی نظم سے ہٹ کر" قرار دیتے ہیں، جس کے اثرات صرف خارجہ پالیسی تک محدود نہیں بلکہ داخلی سیاست اور عوامی رائے پر بھی پڑتے ہیں۔

حالیہ عوامی سرویز میں امریکی قیادت کی مقبولیت میں کمی بھی اسی تناظر کا ایک اہم پہلو ہے۔ جب خارجہ پالیسی کے فیصلوں کے اثرات براہِ راست عوام کی زندگیوں، خصوصاً مہنگائی اور معاشی دباؤ، پر پڑتے ہیں تو عوامی ردعمل بھی تبدیل ہوتا ہے۔ یہ ایک جمہوری نظام میں ایک فطری عمل ہے، جو حکمرانوں کو اپنے فیصلوں پر نظرِ ثانی پر مجبور کرتا ہے۔

دوسری جانب، ایران کی مزاحمت نے ایک مختلف بیانیہ پیش کیا ہے۔ شدید دباؤ، اقتصادی پابندیوں اور عسکری خطرات کے باوجود، اس نے جس طرح اپنے دفاع کو برقرار رکھا اور ردعمل دیا، اسے بعض تجزیہ کار "ریاستی استقامت" کی مثال قرار دیتے ہیں۔ یہ پہلو اس مفروضے کو چیلنج کرتا ہے کہ صرف فوجی برتری ہی جنگ کا فیصلہ کرتی ہے۔

آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان یہ کشیدگی صرف ایک علاقائی تنازع نہیں بلکہ عالمی طاقت کے توازن، معاشی مفادات اور قیادت کے فیصلوں کا عکاس ہے۔ یہ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ طاقت کے زعم میں کیے گئے غیر محتاط فیصلے نہ صرف فوری نتائج بلکہ طویل المدتی اثرات بھی رکھتے ہیں۔ ایک سپر پاور کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی قوت کو دانشمندی، تحمل اور جامع حکمتِ عملی کے ساتھ استعمال کرے، کیونکہ بصورتِ دیگر یہی طاقت اس کی کمزوری میں تبدیل ہو سکتی ہے۔

About Ali Hassan

Ali Hassan is from Sargodha. He is doing BS International Relations and political science from university of lahore sargodha campus. He is interested in writing on different political and social issues.

Check Also

Yahoodi Ho To Bari, Falasteeni Ho To Phansi

By Wusat Ullah Khan