Sunday, 15 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Akhtar Sardar Chaudhry
  4. Muhabbat Ka Youm e Shahadat Ya Maghrabi Tehzeeb Ki Alamat?

Muhabbat Ka Youm e Shahadat Ya Maghrabi Tehzeeb Ki Alamat?

محبت کا یومِ شہادت یا مغربی تہذیب کی علامت؟

ہر سال 14 فروری کو دنیا کے بیشتر مغربی اور سیکولر معاشروں میں ویلنٹائن ڈے بڑے جوش و خروش سے منایا جاتا ہے۔ نوجوان لڑکے اور لڑکیاں ایک دوسرے سے محبت کا اظہار کرتے ہیں، سرخ گلاب پیش کیے جاتے ہیں، مہنگے تحائف دیے جاتے ہیں اور سوشل میڈیا محبت بھرے پیغامات سے بھر جاتا ہے۔ بظاہر یہ دن رومانس، جذبات اور تعلقات کی خوشی کا دن لگتا ہے۔ مگر ایک مسلمان معاشرے میں اس دن کے حوالے سے شدید فکری، مذہبی اور اخلاقی اختلاف موجود ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ ویلنٹائن ڈے نہ تو ہمارا مذہبی تہوار ہے اور نہ ہی اس کی بنیاد اسلامی اقدار پر۔ اسلام محبت کو ایک پاکیزہ اور فطری جذبہ مانتا ہے، لیکن اس کے اظہار کے لیے واضح حدود و قیود بھی متعین کرتا ہے۔ بدقسمتی سے آج ہمارے معاشروں میں ویلنٹائن ڈے کے نام پر جو کچھ ہوتا ہے، وہ اکثر اسلامی تعلیمات، مشرقی روایات اور اخلاقی اقدار سے ٹکراتا نظر آتا ہے۔

بہت سے مذہبی اور سماجی حلقے اسے فحاشی، بے راہ روی اور آزادانہ جنسی تعلقات کے فروغ کا ذریعہ قرار دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان، سعودی عرب، ایران، ملائیشیا اور انڈونیشیا جیسے مسلم ممالک میں اس کے خلاف آوازیں بلند ہوتی رہی ہیں۔ بعض جگہوں پر تو سرکاری سطح پر پابندیاں بھی عائد کی گئیں۔ کیا محبت کسی مخصوص دن کی محتاج ہے؟

اگر ویلنٹائن ڈے نہ ہوتا تو کیا دنیا میں محبت کا اظہار ختم ہو جاتا؟ بالکل نہیں۔ محبت انسانی فطرت کا حصہ ہے جو ہر دور اور ہر تہذیب میں موجود رہی۔ ہماری اپنی ثقافت اس کا زندہ ثبوت ہے۔ ہیر رانجھا، سسی پنوں، سوہنی مہینوال، مرزا صاحباں جیسی عظیم داستانیں، صوفیانہ شاعری، لوک گیت اور کلاسیکی ادب، یہ سب محبت کی گہرائی اور پاکیزگی کی گواہی دیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ آج کا ویلنٹائن کلچر زیادہ تر ایک محدود، مالی طور پر مستحکم طبقے تک محدود رہ گیا ہے۔ مہنگے ریستوران، تحائف، پارٹیز اور عیاشی، یہ سب ایک عام آدمی کی دسترس سے باہر ہیں۔ کیا محبت صرف امیروں کی جاگیر ہے؟ ہرگز نہیں۔ سچی محبت دل سے نکلتی ہے، جیب سے نہیں۔

ویلنٹائن کی اصل کہانی جس شخص کے نام پر یہ دن منایا جاتا ہے، اس کی اصل کہانی آج کے جشن سے بالکل مختلف ہے۔ سینٹ ویلنٹائن تیسری صدی عیسوی کا ایک پادری تھا۔ روایت کے مطابق رومی شہنشاہ کلاؤڈیئس دوم (یا بعض روایات میں مارکس آریلیئس) نے فوج کے لیے زیادہ سپاہیوں کی ضرورت کے پیشِ نظر نوجوانوں کی شادیوں پر پابندی لگا دی تھی۔

ویلنٹائن نے اس فیصلے کو غیر انسانی قرار دیا اور خفیہ طور پر نوجوان جوڑوں کی شادیاں کروائیں۔ جب یہ بات سامنے آئی تو اسے گرفتار کر لیا گیا۔ قید کے دوران اس کی جیلر کی بیٹی سے دوستی ہوئی اور کہا جاتا ہے کہ اس نے اسے خطوط لکھے۔ بالآخر 14 فروری 270ء کے قریب اسے شہید کر دیا گیا۔ رومَن کیتھولک چرچ آج بھی اس دن کو سینٹ ویلنٹائن کے یومِ شہادت کے طور پر یاد کرتا ہے۔ یعنی یہ دن دراصل محبت کا یومِ شہادت ہے، شادی کے رشتے کو تحفظ دینے اور غیر انسانی قانون کے خلاف مزاحمت کا دن۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا آج ہم اسی روح کے مطابق اس دن کو منا رہے ہیں، یا اس کے بالکل برعکس؟

دنیا بھر میں ویلنٹائن ڈے کا رنگ۔ فن لینڈ میں اسے "دوستوں کا دن" کہا جاتا ہے جہاں محبت صرف صنفِ مخالف تک محدود نہیں، بلکہ تمام رشتوں کی قدر کی جاتی ہے۔ برطانیہ میں یہ روایت سترھویں صدی سے خطوط کے تبادلے سے شروع ہوئی۔ امریکہ اور یورپ میں یہ دن اکثر جنسی آزادی اور ہم جنس پرستی کے فروغ سے بھی جوڑا جاتا ہے۔ بھارت میں انتہا پسند گروہ اس کے خلاف سرگرم رہتے ہیں اور جوڑوں کو زبردستی شادی کرانے کی دھمکیاں دیتے ہیں۔ پاکستان میں صورتحال ملی جلی ہے، شہری علاقوں میں پھولوں، کارڈز اور تحائف کی فروخت بڑھ جاتی ہے، جبکہ مذہبی حلقے اسے مغربی یلغار قرار دیتے ہیں۔

اصل مسئلہ تاریخ یا دن کا نہیں، نیت اور عمل کا ہے۔ اگر محبت پاکیزہ ہو، حدود میں رہے اور ذمہ داری کے ساتھ ہو تو وہ قابلِ احترام ہے۔ میں اپنے دوستوں سے کھلے دل سے کہہ سکتا ہوں کہ "مجھے تم سے محبت ہے"۔ کیونکہ یہ محبت خلوص، احترام اور انسانیت پر مبنی ہے۔ ویلنٹائن خود شادیوں کا حامی تھا۔ اگر ہم واقعی اس کی روح کو زندہ کرنا چاہتے ہیں تو بہتر یہ ہے کہ ویلنٹائن ڈے کو "یومِ شادی" یا "یومِ ذمہ دارانہ محبت" میں تبدیل کر دیا جائے۔

حکومت اور معاشرہ مل کر ایسا ماحول بنائے جہاں محبت کرنے والے جوڑے شادی کے بندھن میں بندھ سکیں۔ سخت اخلاقی اور قانونی شرائط کے ساتھ۔ یہی اس تنازع کا سب سے دیرپا اور مثبت حل ہو سکتا ہے۔ آخر میں یہی کہنا چاہوں گا کہ ہمیں مغرب کی اندھی تقلید کے بجائے اپنی اقدار، روایات اور دینی تعلیمات کی روشنی میں ہر چیز کو پرکھنا چاہیے۔ محبت کو بدنام نہ کیا جائے، بلکہ اسے پاکیزگی، ذمہ داری اور احترام کے ساتھ زندہ رکھا جائے۔ کیونکہ سچی محبت نہ کسی دن کی محتاج ہے، نہ کسی کارڈ کی، نہ کسی گلاب کی۔ یہ دل کی گہرائیوں سے ابھرتی ہے اور وہیں رہتی ہے۔

Check Also

Hunar, Mehnat Aur Sarparasti Ke Beech Hammad Sagheer Rawat Ki Kahani

By Iqbal Bijar