Sindh Mein Talaba Ki Hazri Ko Monitor Karne Ka Pehla Digital Nizam Mutaraf
سندھ میں طلبہ کی حاضری کو مانیٹر کرنے کا پہلا ڈیجیٹل نظام متعارف
عصر حاضر میں سائنس و ٹیکنالوجی خصوصاً انٹرنیٹ ٹیکنالوجی اپنے عروج پر پہنچ رہی ہے ہر گزرتے دن کے ساتھ ساتھ نئی نئی دریافتیں سامنے آرہی ہیں۔ جس سے بنی نوح انسان کو فوائد حاصل ہورہے ہیں۔ اب جھوٹ، بے ایمانی، فریب اور دھوکہ دہی کا زمانہ گیا انسان جھوٹ بول سکتا ہے مگر ٹیکنالوجی سے مزین نظام غلط نہیں ہوسکتا۔ دیکھا جائے تو یہ سب انٹرنیٹ ٹیکنالوجی کا کمال ہے ہم دیکھتے ہیں کہ ایک زمانہ تھا کہ موبائل سم گلیوں، کوچوں اور فٹ پاتھ پر مل جاتی تھیں جو بغیر قومی شناختی کارڈ اور بغیر بائیومیٹرک کے باآسانی مل جاتی تھیں جس کا نتیجہ یہ نکل رہا تھا کہ عوام نے اس کا غلط استعمال شروع کردیا تھا جس سے معاشرے میں مسائل پیدا ہو رہے تھے کال "ٹیرس" نہیں ہوتی تھی اور ٹریس بھی ہو جائے تو بندے کا کوئی آتا پتہ نہیں ملتا تھا خصوصاً خواتین کو کال کرکے تک کیا جاتا تھا یا ایک عرصہ تک نامعلوم کال سے فون کیا جاتا تھا کہ آپ کا بڑا انعام نکلا ہے اس نمبر پر کال کریں جس سے کئی لوگ بیوقوف بنے۔
لہذا حکومت نے ان کالز کا قلع قمع کیا اور پھر حکومت نے فیصلہ کیا کہ بغیر بائیومیٹرک کے کوئی بھی سم نہیں نکالی جاسکتی دیکھا جائے تو بے نام سم دہشتگردی میں بھی استعمال ہوتی تھی اب موبائل سم کا غلط استعمال تقریباً ختم ہوگیا ہے اگر کوئی نادان استعمال کرتا بھی ہے تو فوراً پکڑا جاتا ہے۔ دیکھاجائے تو اب قومی سلامتی کے حوالے سے جتنے بھی شعبے ہیں ان میں بائیومیٹرک کروانا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ خصوصاً جب سے "نادرا" نے اپنا سسٹم شروع کیا ہے جس کے تحت جو بھی قومی شناختی کارڈ بناتا ہے اس کو دونوں ہاتھوں کی دس انگلیوں کے فنگر پرنٹ اور چہرے کی تصاویر کھینچی جاتی ہے۔ جس کا فائدہ یہ ہو ا کہ ایک طرف کمپیوٹرئز ڈیٹا بیس تیار ہوجاتا ہے تو دوسری طرف اس "ڈیٹا بیس"کی مدد سے کئی جرائم پیشہ افراد کو "سی سی ٹی وی" میں واردات کی جو ویڈیو بنتی ہے اس کا"نادرا" کے ڈیٹا بیس سے پہنچانا جاتا ہے جس کی مدد سے کئی جرائم پیشہ افراد اور سنگین جرائم میں ملوث افراد کو پکڑا گیا ہے اور ان کو قانون کے مطابق سزائیں ہوئیں ہیں۔
اسی طرح قومی پاسپورٹ بناتے وقت بھی ہر بندے کی بائیومیٹرک کی جاتی ہے تاکہ فول پروف نظام اپنایا جاسکے۔ ایک وقت تھا کہ لوگ پاسپورٹ پر تصویر تبدیل کرکے امریکہ یا دوسرے یورپی ممالک چلے جاتے تھے لیکن جب سے بائیومیٹرک نظام آیا ہے تب سے اس قسم کی جعلسازی ناممکن ہوگئی ہے اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ بینکنگ کے شعبہ میں اکاؤنٹ کھولتے وقت کئی بے قاعدگیاں ہورہی تھیں فیک اکاؤنٹ کی بھرمار تھی لوگ دوسروں کے اکاؤنٹ استعمال کررہے تھے لہذ اب بنک اکاؤنٹ کھولنے کے لیے بھی بائیومیٹرک ضروری قراردی گئی ہے۔ اس لیے صرف وہی شخص اکاؤنٹ کھول سکتا ہے جس کی بائیومیٹرک ڈیٹا پہلے سے درج ہو۔
اس کے علاوہ ہماری عدالتوں میں جو بھی مقدمہ دائر کرتا ہے اس کو بھی بائیومیٹرک کروانا لازمی ہوتی ہے۔ اب موٹروہیکل ٹیکس کا نظام آن لائن کردیا گیا ہے اب عوام کو موٹروہیکل ٹیکس کے لیے نیشنل بنک کی مخصوص برانچوں میں لائن لاگ کر ٹیکس جمع کروانے سے جان چھوٹ گئی ہے۔ آن لائن ٹیکس جمع کروانے سے ایک طرف عوام کا قیمتی وقت بچتا ہے تو دوسری طرف سندھ حکومت کو ٹیکس دینے کے رجحان میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے کیونکہ بہت سے ایسے افراد بھی ہیں جن کے پاس ٹیکس جمع کروانے کے لیے وقت نہیں ہے یا آفس سے چھٹی نہیں ملتی جو وہ وقت پر ٹیکس جمع کروائیں لیکن اب آئن لائن سسٹم سے باآسانی ٹیکس جمع ہوجاتا ہے۔
دیگر شعبوں سندھ میں گاڑیوں کی خرید و فروخت اور ٹرانسفر میں بھی کئی بے قاعدگیاں ہورہی تھیں کئی گاڑیوں کی جعلی فائل بن گئی تھیں۔ چوری کی گاڑیوں کے جعلی کاغذات بنا کر خریدی اور بیچی جارہی تھیں ان تمام معاملات کی روک تھام کرنے کے لیے محکمہ ایکسائز حکومت سندھ نے اہم قدم اٹھاتے ہوئے گاڑیوں کی رجسٹریشن اور ٹرانسفرز کے لیے بائیومیٹرک تصدیق لازمی کردی ہے۔ اب تمام نئی اور پرانی گاڑیوں کو رجسٹریشن یا ٹرانسفر کے عمل کے دوران بائیومیٹرک تصدیق لازمی ہوگی۔ نیز نئی پالیسی کے تحت تبدیلی تین مرحلوں میں نافذ ہوگی ہے۔ لہذا ڈیجیٹلائزیشن کے بعد نئی گاڑیوں کی رجسٹریشن کے لیے بائیومیٹرک تصدیق لازمی ہوگئی ہے، دوسری طرف گاڑیوں کی خرید کرنے والوں کی بائیومیٹرک تصدیق ہوگی اور تیسرے طرف گاڑی فروخت کنندہ اور خرید کنندہ دونوں کی بائیومیٹرک تصدیق کی جائے گی، دیکھا جائے تو سندھ حکومت کا محکمہ ایکسائز تمام عمل کو مزید شفاف بنانے کے لیے کام کررہا ہے اور ابھی یہ صرف شروعات ہیں حکومت سندھ اس بات کو یقینی بنانا چاہتی ہے کہ صوبہ سندھ عوامی خدمات میں ڈیجیٹالائزیشن کے حوالے سے آگے بڑھے۔
اس تناظر میں اگر ہم ماضی میں جائیں تو محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن میں اس اصلاحات سے پہلے بھی صوبے بھر میں گاڑیوں کی رجسٹریشن کا جدید نظام متعارف کیا تھا جس میں گاڑیوں کی رجسٹریشن لے لیے سیکورٹی فیچرڈ "ایم وی آر" اسمارٹ کارڈ کا اجراء کیا گیا تھا۔ واضح رہے کہ سیکورٹی فیچرڈ "ایم وی آر" اسمارٹ کارڈ کے ذریعے نہ صرف رجسٹریشن ہوسکے گی بلکہ ہمیشہ کے لیے تحفظ بھی حاصل ہوگا یعنی کوئی جعلی کاغذات نہیں بنا سکے گا۔ دوسری طرف پرانی بک کاغذ کی ہوتی تھیں جو وقت کے ساتھ ساتھ بوسیدہ ہوجاتی تھیں اس لحاظ سے دیکھا جائے تو اسمارٹ کارڈ بہت بہتر ہے اگرچہ اسمارٹ کارڈ بھی لوگوں سے گم ہوجاتا ہے یا چھن جاتا ہے چونکہ اس کا ڈیٹا محفوظ ہوتا ہے اس لیے کھوئے ہوئے کارڈ کا ڈوپلیکیٹ کارڈ بن جاتا ہے۔ لہذا گاڑیوں کے مالکان اب پرانی رجسٹریشن بک کی جگہ اب سیکورٹی فیچرڈ اسمارٹ کارڈ استعمال کرسکیں گے۔ مذکورہ کارڈ کے اجراء سے جعلی رجسٹریشن بک کا مکمل خاتمہ ہوگیا ہے اور اب قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے گاڑی کی ملکیت کا تعین آسان ہوگیا ہے۔ صوبہ سندھ میں گاڑیوں کی رجسٹریشن اور ٹرانسفر میں بائیومیٹرک تصدیق شفافیت کو فروغ دینے میں اہم سندھ میل ثابت ہوا کیونکہ بائیومیٹرک تصدیق سے خریداروں اور فروخت کنندگان کی شناخت ہورہی ہے اور گاڑیوں کی غیرقانونی منتقلی اور شہریوں کو دھوکہ دہی یا فراڈ سے بچانے میں مدد مل رہی ہے۔
اس تناظر میں دیکھا جائے تو سندھ حکومت اپنے محکموں کو آہستہ آہستہ ڈیجیٹلائزیشن کی طرف لے جارہی ہے ابھی حال ہی میں سندھ حکومت کی طرف سے ای-چالان کا سسٹم نافذ کیا گیا ہے جس سے قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں پر بھاری جرمانے عائد کیے جارہے ہیں اگر چہ عوام کی طرف سے ان بھاری جرمانوں کو قبول نہیں کیا جارہا لیکن پھر بھی سندھ حکومت پرعزم ہے کہ آہستہ آہستہ عوام قانون کی پاسداری کرنے پر آجائیں گے۔ حقیقت ہے کہ عوام نے بھی رانگ سائڈ گاڑی یا موٹر سائیکل چلانے یا سگنل تورنے کی قسم کھائی ہوئی ہے اسی طرح بغیر لائسنس کے گاڑی یا موٹرسائیکل چلانے بھی بہت عام سی بات تھی جس کے نتیجے میں مسلسل حادثات رونما ورہے تھے حکومت کے پاس اس کے علاو ہ کوئی آپشن نہیں تھا کہ وہ کوئی فول پروف نظام لے کر آئے دوسرے طرف جو چالان کا پیسہ حکومت کو جانا چاہیے تھا وہ آدھا پولیس والوں کی جیب میں جاتا تھا۔
گذیشتہ دنوں سندھ حکومت نے ایک اور انقلابی تعلیمی اقدام اٹھایا جس کے تحت سندھ میں طلبہ کی حاضری کو مانیٹر کرنے کا پہلا ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا گیا۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ اسکول ایجوکیشن کے پروجیکٹ کے تحت SAMRSکا افتتاح کیا۔ یعنی "اسٹوڈنٹ اٹینڈنس مانیٹرنگ اینڈ ریڈریس سسٹم"۔ پروگرام میں وزیر تعلیم سید سردار شاہ، ورلڈ بینک کی کنٹری ڈائریکٹر، سیکریٹری اسکول ایجوکیشن اور ورلڈ بینک کے اعلیٰ عہدہ دار اور اساتذہ نےشرکت کی۔ واضح رہے کہ یہ پاکستان میں اپنی نوعیت کا پہلا مربوط ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہے جو طلبہ کی حاضری کو اسکول کی سہولیات، اساتذہ کی کارکردگی اور تعلیمی نتائج سے جوڑتا ہے۔ اس کا بنیادی مقصد ڈیٹا پر مبنی فیصلے کرنا یعنی آن لائن حکومت کو پتہ رہے گا کہ کتنے بچے اسکول آرہے ہیں اور کتنے نہیں آرہے، نیزتعلیمی چیلنجز کی نشاندہی بھی ہوگی یعنی اگر بچے اسکول نہیں آرہے توبروقت مداخلت کرکے طلبہ کے اسکول چھوڑنے کی شرح (Dropout) کو کم کرنا ہے۔
ابتدائی طور پر اسےسندھ کے 12 اضلاع کے 600 اسکولوں میں نافذ کیا گیا ہے اور اسے مزید وسعت دینے کا منصوبہ بھی ہے۔ جن میں 120 پرائمری، 480 مڈل، 79 ہائی اسکول شامل ہیں۔ اس وقت لاکھوں بچوں اور بچیوں کا اندراج ہوچکا ہے۔ اسکولز میں حاضری کا ڈیٹا پر"سیمرز" رپورٹ مرتب کرے گا۔ ڈیٹا مرتب کرنے کے بعداب تک جوغیر حاضری کی بڑی وجوہات سامنے آئی ہیں ان میں بیماری 44٪، گھریلو مجبوری 21٪، فیملی ایمرجنسی 16٪ شامل ہیں۔ لہذا اب حاضری میں بہتری آرہی ہے۔ اس نظام کی بدولت اسکول ڈراپ آؤٹ میں نمایاں کمی بھی آئی ہے اب کوئی بچہ نظام سے باہر نہیں ہر طالبعلم کا ریکارڈ شناخت سے منسلک ہے اس کے علاوہ اسکول مینجمنٹ اور لیڈرشپ میں ڈیجیٹل نظام کا نفاذ ہوگا "ریفارم سپورٹ یونٹ" کی نگرانی میں مکمل مانیٹرنگ اور شفاف نظام رائج ہوگا۔
"سیمرز" نظام کے تحت طلبہ و اساتذہ کی حاضری، رجسٹریشن اور گریڈ پروموشن کوبھی ڈیجیٹلائزیشن کیا گیا ہے۔ اس نظام کے ذریعے طلبہ اور اساتذہ کی حاضری، رجسٹریشن اور نگرانی آن لائن ممکن ہوگی۔ اس میں جیو-فینسنگ اور آف لائن موڈ جیسی خصوصیات شامل ہیں اور یہ طلبہ کی شناخت کو نادرا کے بی-فارم نمبرز سے بھی جوڑتا ہے۔ Geo-fence اور آف لائن موڈ کے ساتھ نظام کی مکمل سسٹم کام کرے گا جس سے غیر حاضر طلبہ کی وجوہات کی نشاندہی اور بروقت اصلاحی کارروائی ہوگی۔
دراصل اس سسٹم کو نافذ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے سندھ کے سرکاری تعلیمی شعبے کو متعدد بنیادی چیلنجز کا سامنا رہا ہےاور عالمی ادارہ بھی بار بار اس بات پر زور دے رہے تھے کہ کسی طرح سے ڈراپ آئوٹ کو کم کیا جائے۔ طلبہ کی اسکول سے غیر حاضری خصوصاً لڑکیوں کی اور بڑی عمر کے طلبہ کا تعلیمی نظام سے ڈراپ آؤٹ (اسکول چھوڑ دینا) ایک سنگین مسئلہ رہا ہےکیونکہ روایتی کاغذ پر مبنی حاضری کا نظام غیر حاضری کی حقیقی وجوہات کی بروقت نشاندہی کرنے یا مؤثر مداخلت کرنے میں ناکام رہا تھا۔ اسکول کی سطح پر ڈیٹا کی دستیابی یا تو تھی ہی نہیں یا وہ ناقابلِ اعتبار تھا۔
شفاف مانیٹرنگ کا کوئی مربوط نظام نہ ہونے کی وجہ سے سندھ حکومت کے لیے حقیقی زمینی حقائق کی بنیاد پر فیصلے کرنا ناممکن تھا۔ اسی طرح اسکول کی عمارت کی حالت، پانی، بیت الخلا، بجلی جیسی بنیادی سہولیات کی صورتحال اور اساتذہ کی حاضری کی مانیٹرنگ کا عمل بھی غیر مؤثر تھا۔ نتیجے کے طور پروسائل کی تقسیم اور اساتذہ کی کارکردگی میں جوابدہی کا فقدان تھا۔ اس سسٹم کو خاص طور پر ان خامیوں دور کرنے اور ایک مضبوط، شفاف اور مؤثر نظامِ تعلیم قائم کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ جو ایک کثیر الجہتی حل کے طور پر کام کرے گا۔ جو محض حاضری ریکارڈ کرنے سے کہیں زیادہ کام کرتا ہےیعنی یہ طلبہ کی حاضری کے ساتھ ساتھ اسکول کی بنیادی معلومات، اساتذہ کی بائیو میٹرک حاضری اور اسکول مانیٹرنگ سسٹم کو یکجا کرتا ہے۔
مذکورہ سسٹم میں ہر طالب علم کی شناخت کو نادرا کے ذریعے تصدیق شدہ B-فارم نمبر سے جوڑا گیا ہے اور اسے ایک منفرد ڈیجیٹل آئی ڈی (QR کوڈ) تفویض کیا گیا ہے۔ اس سے ہر بچے کا درست اندراج یقینی ہوتا ہے اور کسی بھی بچے کے "نظام سے باہر" رہنے کا امکان ختم ہو جاتا ہےکیونکہ اس سے دور دراز کے علاقوں میں بھی حاضری ریکارڈ کی جا سکتی ہے۔ نیز ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرز اور اعلیٰ حکام کے لیے ایک ریئل ٹائم ڈیش بورڈ فراہم کیا جاتا ہےجہاں وہ حاضری کا تجزیہ، اسکول کی کارکردگی اور اہم اشاریوں کا مشاہدہ کر سکتے ہیں۔
ڈیجیٹل سسٹم صرف طلبہ کی حاضری تک محدود نہیں ہےبلکہ یہ اسکول میں موجود بنیادی سہولیات جیسے بیت الخلا، پانی، بجلی کی دستیابی اور یہاں تک کہ اساتذہ کی حاضری کو بھی ٹریک کرتا ہے، جو کہ پہلے سے موجود "High-Risk Student Identification" بائیو میٹرک نظام سے مربوط ہے۔ اس طرح اگر کسی اسکول میں طلبہ کی غیر حاضری زیادہ ہے، تو ڈیش بورڈ پر فوری طور پر یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ کیا اس کی وجہ استاد کی غیر حاضری ہے یا اسکول میں کسی بنیادی سہولت کا فقدان۔ اس جدید سسٹم کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ قیاس آرائیوں کے بجائے ڈیٹا پر مبنی فیصلہ سازی کو فروغ دےگا۔
اس کی خاص بات یہ ہے کہ سسٹم کی جانب سے مہیا کردہ آن لائن جو مواد درج ہورہا ہوگا اس سے ادارہ درج ذیل کام کر سکتے ہیں۔ مثلاً شفاف مانیٹرنگ ڈیش بورڈاعلیٰ حکام کو ایک مرکزی ڈیش بورڈ تک رسائی حاصل ہے جہاں وہ صوبائی، ضلعی اور یہاں تک کہ اسکول کی سطح پر حاضری کے رجحانات، ڈراپ آؤٹ کی شرح اور دیگر اہم تعلیمی اشاریوں کا مشاہدہ کر سکتے ہیں۔ جب ڈیٹا یہ بتاتا ہے کہ کن اسکولوں میں بنیادی سہولیات مثلاً فرنیچر یا بیت الخلاکی کمی کی وجہ سے حاضری کم ہےتو حکومت اپنا مختص کردہ بجٹ ان اسکولوں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے زیادہ مؤثر طریقے سے استعمال کر سکتی ہے۔
روایتی نظام میں جب تک کوئی طالب علم مستقل طور پر غائب نہیں ہو جاتا حکام کو اس کے ڈراپ آؤٹ ہونے کا علم نہیں ہوتا تھا۔ موجودہ سسٹم نے اس نقطہ نظر کو یکسر بدل دیا ہے۔ High-Risk Student Identification ایک سوفٹ وئیر ہے جو طلبہ کی غیر حاضری کے نمونوں کا تجزیہ کرتا ہے۔ اگر کوئی طالب علم ایک مقررہ مدت کے دوران غیر حاضر رہتا ہےتو نظام اسے "ہائی رسک طالب علم" کے طور پر نشان زد کر دیتا ہے۔ جیسے ہی کوئی طالب علم ہائی رسک کے طور پر نشان زد ہوتا ہے اسکول انتظامیہ "اصلاحات سپورٹ یونٹ" اور ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی کو فوری الرٹ جاری کیا جاتا ہے۔ یہ الرٹ انہیں فوری طور پر مداخلت کرنے کی اجازت دیتا ہے۔
استاد والدین سے رابطہ کرتا ہے اور غیر حاضری کی وجہ جانتا ہے۔ غیر حاضری کی وجہ کو جیسے بیماری، گھریلو مجبوری، فصل کٹائی، یا آمد و رفت کا مسئلہ ریکارڈ کیا جاتا ہے۔ اس معلومات کی بنیاد پر حکام طالب علم کو دوبارہ اسکول لانے کے لیے خصوصی اقدامات کرتے ہیں خواہ وہ ٹرانسپورٹ کی فراہمی ہو، والدین کو آگاہی ہویا دیگر سماجی تعاون وغیرہ۔ جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ بروقت مداخلت کا نظام مؤثر طریقے سے کام کر رہا ہے۔ شفاف مانیٹرنگ اور بروقت مداخلت کی بدولت اسکول ڈراپ آؤٹ کی شرح پر قابو پانے میں نمایاں مدد مل رہی ہےجس کا حتمی مقصد" کوئی بچہ نظام سے باہر نہیں" کو یقینی بنانا ہے۔ SAMRS کے طریقہ کارنے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ٹیکنالوجی صحیح نیت اور پائیدار حکمت عملی کے ساتھ مل کر سندھ کے تعلیم کے شعبے میں طویل عرصے سے موجود خامیوں کو دور کر سکتی ہے اور حقیقی تعلیمی انقلاب کی بنیاد رکھ سکتی ہے۔
اس جدید سسٹم نے نہ صرف اسکول انتظامیہ بلکہ والدین اور مقامی لوگوں کو بھی جوابدہی کے دائرے میں شامل کرکے تعلیمی شعبہ کو ایک نیا رخ دیا ہے۔ جس کے تحت جب کوئی طالب علم غیر حاضر ہوتا ہےتو والدین کو SMS یا دیگر ذرائع سے فوری اطلاع بھیجی جاتی ہے۔ یہ عمل والدین کو اپنے بچے کی تعلیمی سرگرمیوں میں زیادہ فعال طور پر شامل ہونے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ اس سے والدین اور اسکول کے درمیان تعاون بڑھتا ہےاور والدین کو اپنے بچے کی غیر حاضری کی وجوہات پر فوری توجہ دینے کی ترغیب ملتی ہے۔ اس کے علاوہ حاضری کے اعداد و شمار ضلعی حکام کے ساتھ ساتھ مقامی منتخب نمائندوں جیسے یونین کونسل کے ممبران کے ساتھ بھی شیئر کیے جا سکتے ہیں۔
یہ معلومات مقامی قیادت کو یہ سمجھنے میں دے سکتی ہے کہ ان کے علاقے کے اسکولوں میں حاضری کیوں کم ہے اور وہ ڈراپ آؤٹ کو کم کرنے کے لیے کون سے سماجی مداخلتیں کر سکتے ہیں۔ SAMRS کے ذریعے جمع کردہ ڈیٹا صرف تعلیمی منصوبہ بندی تک محدود نہیں ہے بلکہ اس میں وسیع تر سماجی اثرات مرتب کرنے اور دیگر حکومتی شعبوں کے ساتھ ربط پیدا کرنے کی زبردست صلاحیت موجود ہے۔ اس کے ڈیٹا کو آسانی سےصحت اور غذائیت کے پروگراموں سے منسلک کیا جا سکتا ہے۔ مثلاً اگر کسی مخصوص علاقے یا اسکول میں بیماری کی وجہ سے غیر حاضری کی شرح اچانک بڑھ جاتی ہےتو صحت حکام وہاں فوری طور پر طبی امداد یا آگاہی کی مہم چلا سکتے ہیں۔ مزید برآں یہ نظام ان بچوں کی نشاندہی میں بھی مددگار ثابت ہو سکتا ہے جو مشقت یا کسی دیگر چائلڈ پروٹیکشن کے مسئلے کی وجہ سے مستقل طور پر غیر حاضر ہیں۔
SAMRS لڑکیوں کے تعلیمی وظائف یا دیگر مالی امدادی پروگرامز کو حاضری کے ڈیٹا سے جوڑ کر زیادہ شفاف اور مؤثر بنا سکتا ہے۔ مثلاً اسٹوڈنٹس کی حوصلا افزائی کے لیےیہ مقابلہ رکھا جاسکتا ہے کہ وظیفہ صرف ان طلبہ کو دیا جائے گا جن کی حاضری کا معیار مقررہ حد کو پورا کرتا ہوجس کا فائد یہ ہوگا کہ وسائل کا ضیاع رکے گا اور تعلیم کے لیے ترغیب بڑھے گی۔ SAMRS کی کامیابی جسے وزیر اعلیٰ نے "قومی سطح پر قابل تقلید ماڈل" قرار دیا ہے دوسرے صوبوں کو بھی اسی طرح کے مربوط ڈیجیٹل نظام اپنانے کی ترغیب دے سکتی ہے۔ یہ نہ صرف پورے پاکستان میں تعلیمی اعداد و شمار کے معیار کو بہتر بنائے گا بلکہ وفاقی سطح پر تعلیمی پالیسیوں کی منصوبہ بندی کو بھی تقویت دے گا۔
"اسٹوڈنٹ اٹینڈنس مانیٹرنگ اینڈ ریڈریس سسٹم" کا نفاذ ناصرف سندھ کے تعلیمی شعبے کے لیے ہی ایک بڑی پیش رفت ہے بلکہ یہ پورے پاکستان اور جنوبی ایشیا کے ان علاقوں کے لیے ایک قابل تقلید ماڈل کی حیثیت رکھتا ہے جہاں تعلیم میں شفافیت اور جوابدہی ایک بڑا چیلنج ہے۔ SAMRS نے یہ ثابت کیا ہے کہ کس طرح ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے انتہائی بنیادی مسائل جیسے کہ طلبہ کی غیر حاضری اور ڈراپ آؤٹ کو حل کیا جا سکتا ہے۔ اس کا مربوط طریقہ کارجو حاضری، سہولیات، اساتذہ کی کارکردگی اور اصلاحی کارروائی کو ایک چھتری کے نیچے لاتا ہے پاکستان کے دیگر صوبوں کو بھی اسی طرح کے جامع نظام بنانے کی ترغیب دے سکتا ہے۔
ورلڈ بینک اور گلوبل پارٹنرشپ فار ایجوکیشن جیسے بین الاقوامی ترقیاتی اداروں کی جانب سے اس منصوبے کی حمایت اور تعریف اس بات کا اشارہ ہے کہ یہ نظام عالمی معیار کے مطابق ہے۔ یہ سندھ حکومت کے اس دعوے کو تقویت دیتا ہے کہ یہ ماڈل دنیا کے دیگر ترقی پذیر خطوں میں بھی لاگو کیا جا سکتا ہے۔ منصوبے کے تحت جلد ہی یونیسیف (UNICEF) کی مدد سے مزید اضلاع میں توسیع کی جائے گی تاکہ سندھ کے تمام 40,000 سے زائد سرکاری اسکولوں میں اس نظام کو نافذ کیا جا سکے علاوہ ازیں SAMRS کو صوبے کے بچوں کی ویکسینیشن (Immunization) کے ریکارڈ اور صحت کے معائنے کے ڈیٹا سے منسلک کرنے کی تجویز زیر غور ہے
یہ سسٹم اگرچہ ایک انقلابی نظام ہے لیکن سندھ صوبے میں اس کے مکمل نفاذ کے دوران کئی عملی چیلنجز بھی درپیش ہیں۔ ہمیں ان حقیقتوں کا بھی علم ہونا چاہیے اور حقیقتاً ان چیلنجز پر قابو پانا ہی اس منصوبے کی پائیداری کی کامیابی ہے۔ ان میں چند کا ذکر کرنا ضروری ہے سندھ کے دور دراز اور دیہی علاقوں میں بہت سے اسکول اب بھی بجلی اور مستحکم انٹرنیٹ کی سہولت سے محروم ہیں۔ اگرچہ سسٹم میں آف لائن موڈ کی خصوصیت شامل ہےلیکن ڈیٹا کو مرکز پر آپ لوڈ کرنے کے لیے بالآخر انٹرنیٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی طرح بجلی کی عدم دستیابی اسمارٹ فونز یا دیگر ڈیجیٹل آلات کو چارج رکھنے میں بھی رکاوٹ بنتی ہے۔
بہت سے اساتذہ خصوصاً پرانے اور دیہی علاقوں کے اساتذہ جدید ڈیجیٹل آلات اور سافٹ ویئر کے استعمال سے ناواقف ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح اس کے کامیاب استعمال کے لیے اساتذہ اور اسکول منتظمین کی ایک بڑی تعداد کو مؤثر طریقے سے تربیت دینے کے لیے ایک بڑے پیمانے پر تربیتی پروگرام کی ضرورت ہےنیز تربیت کو مستقل بنیادوں پر دہرانا بھی ضروری ہے تاکہ مہارت کو برقرار رکھا جا سکے۔ اس سسٹم کو استعمال کرنے کے لیے اسکولوں کو اسمارٹ فونز یا ٹیبلٹس کی ضرورت ہوتی ہے۔ سندھ کے تمام 40,000 سے زائد اسکولوں میں ان آلات کی فراہمی ان کی دیکھ بھال اور وقت کے ساتھ ساتھ ان کے ٹوٹ پھوٹ یا چوری کو روکنا ایک اہم مالی اور انتظامی بوجھ ہوسکتا ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین جناب بلاول بھٹو زرداری کے وژن پر عمل کرتے ہوئے سندھ حکومت خدمت میں سب سے آگے ہے۔ کیونکہ عوام کو سہولیات کی فراہمی حکومت سندھ کی اولین ترجیع ہے اور سندھ حکومت کا مقصد بھی تمام شہریوں کی بہتر خدمت ہے۔ اسی لیے سندھ حکومت ضروری اصلاحات لارہی ہے نیزسندھ حکومت اپنے اداروں کو عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق ڈھال رہی ہے کیونکہ اس وقت پوری دنیا کا نظام کمپیوٹر، انٹرنیٹ اور سیٹیلائیٹ سے منسلک ہے اور دنیا بھر کے سافٹ ویئرز انٹرنیٹ سے چل رہے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ موجودہ سسٹمنہ صرف ایک انتظامی آلہ ہے بلکہ یہ اس عزم کا اعلان ہے کہ سندھ حکومت ٹیکنالوجی اور شفافیت کے ذریعے اپنے تعلیمی نظام کی قسمت بدلنے کے لیے سنجیدہ ہے۔ "کوئی بچہ نظام سے باہر نہیں" کے وژن کے ساتھ SAMRS کا مقصد ہر طالب علم کی شناخت، اندراج اور اس کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔

